تحفظ نبوت کانفرنس اور مولانا وحید الدین خان


\"amir‎ایک دن مولانا صاحب سے دو عالم ملاقات کے لیے آئے – اُن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ آج کل جگہ جگہ ‎\”تحفظ نبوت کانفرنس\” ہو رہی ہے – میں اِس قسم کی کانفرنسوں کو بالکل بے معنی سمجهتا هوں – یہ ایسا ہی ہے جیسے \” تحفظ آفتاب کانفرنس\” منعقد کی جائے –

‎سورج براه راست خدا کی طاقت سے قائم ہے ، اِس کے لئے تحفظ کانفرنس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں – اِسی طرح نبوت کی حفاظت بهی خدا نے اپنے ذمہ لے رکهی ہے – اس کے لئے بهی یہ ضرورت نہیں کہ تحفظ کانفرنس منعقد کی جائے –

‎مسلمانوں کی اصل ذمہ داری پیغام نبوت کی پیغام رسانی ہے – یعنی پیغمبر نے اپنے بعد جو دین چهوڑا ہے اُس کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچانا- موجوده زمانہ کے مسلمان دعوت نبوت کا کام نہیں کرتے، البتہ وه تحفظ نبوت کانفرنسیں کر رہے ہیں – اِس قسم کا فعل مسلمانوں کی اصل مسئولیت کا کسی بهی درجہ میں بدل نہیں –

‎مولانا وحیدالدین خان

ڈائری 5 دسمبر 1989

تحفظ نبوت ، ایک مخصوص قسم کی ذہنیت کے ملاؤں کا مسئلہ ہے۔ یہ ان کی سیاسی ضرورت ہے۔ان کی بقا اسی میں ہے کہ اُس عظیم ہستی ﷺ کا نام استعمال کر کے مسلمانوں کا استحصال کریں۔ یہ استحصال اپ کو صرف انڈو پاک کے علاقے میں ملےگا۔ یہ ملاؤں کا پرانا حربہ ہے۔ ھمارے ‎رسول ﷺ کو کسی تحفظ کی ضرورت نہیں۔ ھماری کیا جرآت کہ ھم دنیا کے سارے انسانوں سے عظیم انسان کو تحفظ دے سکیں؟ کیا ھمارے جیسے گناہ گار لوگوں کی اتنی اوقات ہے کہ ہم لوگ ان کا تحفظ کر سکیں؟ ان کا تحفظ خدا نے کیا ہے اور رہتی دنیا تک خدا ہی کرے گا۔

پندرہ سو سال پہلے اسلام صرف ایک ہستی یعنی حضرت خدیجہ سے شروع ہوا اور آج مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ ھمارا مذہب محفوظ اور سلامت ہے۔ اور پھل پھول رہا ہے۔ اور یہ پھلنا پھولنا اج کل کے ملاؤں کی کوششوں کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خدا کا وعدہ ہے اس مذہب کی حفاظت کا۔

خدا کا محبوب ﷺ پوری دنیا کے لیے رحمت ہیں،

پوری دنیا کے لیے امن کی علامت ہیں،

پوری دنیا کے لیے محبت اور در گزر کی علامت ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ھم انسانوں کو تو یہ تحفظ حاصل ہے کہ وہ عظیم ہستی ﷺ ہمارے محافظ ہیں۔ اور اخرت میں ہماری خدا سے بخشش کروا دیں گے، کجا کہ ہم ان کا تحفظ کریں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ موجودہ صورت میں ہم کیا کریں؟ کیا تلواریں اٹھا کر تمام لوگوں کا قتل عام شروع کر دیں؟ ہا پھر اپنے رسولﷺ اور خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ اس سلسلے میں اوپر بیان کی ہوئی مولانا وحید الدین کی بات ہمارے لیےایک بہترین راہ عمل ہے ۔ انہوں نے بلکل صحیح کہا ہے کہ\” مسلمانوں کی اصل ذمہ داری پیغام نبوت کی پیغام رسانی ہے – یعنی پیغمبر نے اپنے بعد جو دین چهوڑا ہے اُس کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچانا- موجوده زمانہ کے مسلمان دعوت نبوت کا کام نہیں کرتے، البتہ وه تحفظ نبوت کانفرنسیں کر رہے ہیں – اِس قسم کا فعل مسلمانوں کی اصل مسئولیت کا کسی بهی درجہ میں بدل نہیں ۔\”

یہ بات پڑھنے کے بعد یہ سوال بھی اٹھتا ہے کیا ھم لوگ مولانا صاحب سے زیادہ صاحبِ علم ہیں؟

یا پھر

مذہب کے نام پر بیوپار کرنا چاہتے ہیں؟

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

4 thoughts on “تحفظ نبوت کانفرنس اور مولانا وحید الدین خان

  • 07-08-2016 at 2:11 pm
    Permalink

    فیس بک پہ جناب حسن الیاس کی ایک پوسٹ کو اور اس پر موجود مختلف لوگوں کی رائے کو پورا ایک کالم بنا دیا اور” ہم سب ” نے اسے آپ کے نام سے شائع بھی کردیا ۔ کالم نگاری کرنے کے لیے یہ فیس بکی سرقہ بہت کامیاب ہے ۔۔ داد وصول کیجئے۔

  • 07-08-2016 at 4:52 pm
    Permalink

    محترم کامران عثمانی صاحب ۔ مولانا وحیدالدین خان صاحب کا کہا ہوا میں نے محترم محمد حسن صاحب کے پیج پر پڑھا۔ اپ نیچے دیے ہوۓ لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں میرے لکھے ہوۓ کمنٹنس بھی شامل ہیں۔ اصل میں اپ کا بھی تعلق ان لوگوں میں سے ہے جو مزہب کا نام لے کر مسلمانوں کا استحصال کرتے ہیں اور جب جواب نہیں بن پاتا تو لوگوں پر سرقہ کا الزام لگا دیتے ہیں۔ مولانہ کے کہے ہوۓ کو چھوڑ کر باقی سب میرے اپنے الفاظ ہیں۔ شکریہ اپ کی نظر کرم کا

    ‏https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=10153801392168730&id=735043729

  • 07-08-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    یہ اگست چار 2016 کا لنک ہے ۔ جس میں نے اپنے کمنٹس اگست 05′ 2016 کو رات سوا بارہ بجے پوسٹ کیے

    عثمانی بھائ دلیل کا جواب دلیل کے زرہعے دیا جاتا ہیے نہ کہ الزام لگا کر۔

  • 07-08-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    محترم کامران عثمانی صاحب اگر اتنی اپ میں ہمت ہیے تو اپنے اصلی والی فیس بک ائ ڈی سے بات کریں۔ میں منتظر ہوں۔

Comments are closed.