لبرل ازم انسانی آزادی کا نغمہ ہے


zeeshan hashimہم سب جانتے ہیں کہ لبرل ازم دراصل سیاسی سماجی اور معاشی تنظیم میں انسانی آزادیوں کی اساس پر قائم ایک نظام ہے – یہ سوال عموما اٹھایا جاتا ہے کہ اگر اجتماعی نظام کی مجوزہ بنیاد انسانی آزادیاں ہیں تو انسانی آزادیوں کی کیا بنیاد یا جواز ہے ؟ آئیے اس پہلو سے لبرل ازم کا موقف سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں –

سب سے پہلی بات جسے سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آزادی انسانی ذہن کی بنیادی ضرورت ہے – فرد کو کوئی رائے ما ننے یا نہ ما ننے ، کسی بھی عمل میں تعاون کرنے یا نہ کرنے اور اپنے ذاتی رجحان کی پیروی کرنے کی مطلق آزادی حاصل ہے کیونکہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے- تمام جانداروں میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جو ذہن کے جوہر سے آرستہ ہے ، اور یہ ذہن ہی ہے جو اسے کہنے سننے اورہر طرح کی سرگرمی کا مختار بناتا ہے – ایک فرد کی شخصیت ، اس کا ذہن ، اس کی زندگی، محنت اور پیداوار اس کی ہی ملکیت ہے – کوئی بھی سماجی سیاسی یا معاشی تنظیم جو اسے اس ملکیت سے محروم کرے وہ جبر و ظلم کی بنیاد پر قائم ایک غیر انسانی و غیر مہذب نظام ہے ، جو قابل مذمت اور قابل تحقیر ہے – یہ وہ بنیاد ہے جو شخصی آزادی کو تمام اصولوں پر فوقیت دیتی ہے –

جیسا کہ کہا گیا کہ ایک بہترین سماجی نظام وہ ہے جس میں فرد کو مرکزیت حاصل ہو – اب یہ سوال بھی اہم ہے کہ سماجی نظام سے کیا مراد ہے ؟ سماجی نظام اخلاقی ، سیاسی اور معاشی اصولوں کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جس سے قوانین ادارے اور حکومت تشکیل پاتے ہیں – سماجی نظام تہذیب و تمدن کے قیام میں لازمی ہے – یہ وہ سبق ہے جو انسانیت نے روز اول سے اب تک سیکھا اور دہرایا ہے – سماجی نظام اجتماع میں تمام انسانوں کے درمیان مساوات اور انصاف کو رواج دیتا ہے ، کمزور کو تحفظ دیتا ہے – یہ سماجی نظام ہی ہے جو ایک سماج میں مختلف رجحانات کے افراد کے درمیان تعلقات و تعاون کی بنیادیں فراہم کرتا ہے-

لبرل ازم کا یہ کہنا ہے کہ سماجی نظام کی بنیاد کسی بھی طرح کے جبر پر نہ ہو – اس میں لوگوں کو اینٹوں کی مماثل نہ سمجھا جائے جسے کوئی اتھارٹی ( ریاست یا کوئی اور اجارہ دار طبقہ ) یا مقدس ادارہ ترتیب دیتے پھریں – لبرل سماج کی بنیادیں تمام انسانوں کے درمیان رضا کارانہ تعاون و تبادلہ اور اشتراک باہمی پر ہوتی ہیں-

جیسا کہ کہا گیا کہ ہر انسان کی بنیادی خصوصیت اس کا ذہن ہے – اس کی خرد مندی (rationality ) ہے ، جس سے مراد یہ ہے کہ انسان کوئی بھیڑ بکری یا گائے نہیں جو اپنی جبلیت یا دوسرے لفظوں میں بھیڑ چال کی پیروی کرے – جب ایک بھیڑ کسی مخصوص جبلت کے سبب اگر ایک جانب چل پڑے تو باقی بھیڑوں کی جبلیت بھی یہی ہے کہ وہ سب کی سب بغیر سوچے سمجھے اس بھیڑ کی پیروی میں اس کے پیچھے چل پڑتی ہیں- انسان تمام مخلوقات سے اس لئے مختلف ہے کہ اس کے پاس تنقیدی و تخلیقی جوہر سے مزین ایک ذہن ہے جو اسے ہر عمل کا مختار بھی بناتا ہے اور سوال اٹھانے والا تخلیقی دیوتا بھی – ذہن ہی حقیقتاً اس کے ہر عمل کا رہنما ہے – یہ انسانی شخصیت کی تکمیل کرتا ہے – اسے مہذب و منفرد بناتا ہے – اس سے علم سوچ اور عمل کے ان گنت سوتے پھوٹتے ہیں – انسانیت کی بقا اسی سے ممکن ہو پائی ہے جب انسانی شکاری عہد میں خوراک کے بحران میں مبتلا تھا تو اسی نے زراعت کو پیدا کیا – اور جب زرعی عہد انسانی خواہشات کی تکمیل میں نامکمل تھا تو اسی نے پیداواری علم ، سائنس ، اور صنعت کو پیدا کیا – اس نے فلسفہ کو جنم دیا جس نے حریت فکر و عمل کا ہر میدان میں دفاع کیا اور انسانی تخیل کی وسعت تمام کائنات میں پھیلا دی – ذہن کی یہ تنقیدی و تخلیقی قوت ہی ہے جس نے ارتقا کے بازار کو گرم رکھا ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر انسانی آزادی نیز انسانی حقوق کی عمارت قائم ہے –

یہاں دو نکات کو سمجھنا ضروری ہے ، جو انسانی حقوق کے جواز کو قائم کرتے ہیں – اول اس کی خرد افروزی اور دوم یہ کہ انسان ہر عمل کسی ذہنی جواز یا دلیل کے تحت کرتا ہے- یہ اس کا ذہنی استدلال ہی ہے جو اسے انفرادیت سے آراستہ کرتا ہے . انسان کی خردافروزی اور استدلال پسندی ہی اس کی شخصیت کا بنیادی جوہر ہے اور دونوں کی بنیاد ذہن سے ہی وابستہ ہے –

کوئی بھی نظام جو انسانوں کی آزادی کو محدود مقید یا پابند کرنا چاہے ، اسے انسانوں کے اس بنیادی جوہر (خرد افروزی اور دلیل پسندی ) سے انکار کرنا ہوتا ہے جیسے: لوگ تو نادان ہوتے ہیں ، لوگوں کو کیا پتا ، یہ جاہل ہیں ، یہ ہمیشہ غلط فیصلہ کرتے ہیں ، ان کی اکثریت گمراہ ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ – اور حقیقت یہی ہے کہ ہر جبر کو انسانی آزادی کے اس بنیادی جوہر سے خطرہ ہوتا ہے- انسانی سماجی سیاسی اور معاشی زندگی کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا یہ نا ممکن ہے – انسان ایسے کسی بھی جبر کے خلاف انحراف کرتے ہیں جو ان کی آزادیوں کو قید کرے – یہی سبب ہے ہر وہ نظام جس کی بنیاد جبر پر ہے عارضی ہوتا ہے ، اس میں تسلسل نہیں ہوتا بلکہ عدم استحکام اسے ختم کر دیتا ہے . جب کہ ہر وہ سماج جس کی بنیاد انسانی آزادیوں اور انسانی حقوق پر ہے وہ مسرت و خوشی لاتا ہے، اس میں تسلسل اور استحکام ہے ، مسائل سامنے کرنے کی صلا حیت اور ترقی پسندی کی قابلیت موجود ہوتی ہے-

حقیقت یہی ہے کہ شہریوں کو بالغ نظر سمجھے بغیر جمہوریت ممکن نہیں – سماج میں ہر فرد کو خرد مند اور دلیل پسند سمجھے بغیر تنوع پسند سماج کا قیام ممکن نہیں – پروڈیوسر اور کنزیومر کو ذہین معاشی فیصلوں کا اہل سمجھے بغیر آزاد مارکیٹ قائم نہیں ہو سکتی – ہر فرد کو ذہنی جوہر میں مکمل سمجھے بغیر انسان دوستی اور انفرادیت پسندی پیدا نہیں ہو سکتی – اور دنیا کے تمام نظریات و مذاہب کے ماننے والوں میں حقیقت پسندی کا اقرار کئے بغیر سیکولر ازم ممکن نہیں – حقیقت یہی ہے کہ معاشرہ میں امن ، مساوات ، اخوت ، بردباری ، برداشت ، اور انکسار کی روایات ختم ہو جاتی ہیں اگر ہم تمام انسانوں کی زندگی میں ان دو بنیادی خصوصیات (خرد افروزی اور دلیل پسندی ) کا انکار کر دیں –

قوانین کی دو اقسام ہیں –
ایک : جب قوانین انسانی صلاحیت کے جملہ امکانات کو پابند کر دیتے ہیں – دوسرے لفظوں میں یہ انسانی شخصیت کو قید کر دیتے ہیں-
دوم : جب قوانین انسانی آزادیوں کا تحفظ کرتے ہیں ، ان کی افزائش کرتے ہیں – یہ دوسری قسم کے قوانین لبرل سیاست معیشت اور سماجی بندوبست کی آرزو ہیں-

– انسان جو بھی پیدا کرتا وہ اس کی ذہانت (خرد افروزی اور استدال پسندی ) اور محنت کا نتیجہ ہے جس پر اس کی ملکیت قائم ہے –
– حقوق کا استحصال صرف قوت (پاور ) سے ہی ممکن ہے ، ایک آزاد معا شرے میں کوئی ایک فرد یا گروہ دوسرے فرد یا گروہ پر جبر نہیں کر سکتا – اسے کسی معاہدہ یا تعاون پر مجبور نہیں کر سکتا – جبر کی کوئی بھی صورت (سماج یا کوئی اور ریاستی اتھارٹی ) فرد کی آزادی پر حاوی نہیں ہو سکتی-

– ایک معاشرے میں کسی بھی رائج رائے یا تصور پر اتفاق کرنا آسان ہے ، معاشرہ تب آزاد ہے جب وہ عدم اتفاق کوبھی تحمل برداشت اور رواداری سے سنتا ہے ، اس کی ترویج اور اشاعت پر پاپندی نہیں لگاتا اور اس کے فروغ و ترقی پر کوئی قید نہیں بٹھاتا- ایک کامیاب لبرل معاشرہ کو جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ وہاں کتنی تنقیدی و تخلیقی آزادی حاصل ہے اور تخلیق و پیداوار کے میدان میں کتنے اور کون کون سے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے گئے ہیں – کوئی بھی سرزمین ذہنی طور پر بنجر نہیں ہوتی – اگر ایک معاشرہ تخلیق و پیداوار کے میدان میں ناکام ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں تنقید و تخلیق کے جملہ امکانات کو پابند کر دیا گیا ہے ، اس پر جبر کا پہرہ ہے اور وہاں ترقی و خوشحالی کے امکانات پابند سلاسل ہیں –


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

3 thoughts on “لبرل ازم انسانی آزادی کا نغمہ ہے

  • 26-01-2016 at 12:29 pm
    Permalink

    واہ واہ ….انتہائی عمدہ …ہاشم بیٹا ایسی بہت ساری تحریروں کی ضرورت ہے ، ممکن ہے کم لوگ توجہ کریں کیونکہ عام لوگوں کی دانشورانہ بحث میں زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی ، مگر پاکستانی دانشور و زہین طبقہ کے لئے یہ موضوعات ازحد ضروری ہیں – ہمارے دانشورانہ مکالمہ پر ملا اور کمیونسٹ کا قبضہ ہے اور جس فکر کے سبب مغرب گزشتہ تین صدیوں سے دنیا کی رہبری کا کام کر رہا ہے وہ فکر یہاں عنقا رہی ہے – اب آپ جیسے نوجوان دانشوروں کو پڑھ کر لگتا ہے کہ لبرل بیانیہ پاکستانی علمی فضا میں بھرپور قوت سے آنے کو ہے –

    اب سب کچھ کا کریڈٹ عزیزم وجاہت مسعود کو جاتا ہے ، ایک ضعیف بوڑھا آدمی اب یہ دعا کرنے سے تو رہا کہ اس کی بقیہ زندگی وجاہت پر قربان ،مگر دعاگو ہوں کہ خدا ان انہیں تاعمر مسرت سے نوازے –

  • 26-01-2016 at 4:30 pm
    Permalink

    بہت شکریہ حسین صاحب : آپ کی باتیں بہت حوصلہ بڑھاتی ہیں

  • Pingback: کچھ بات لبرل ازم کی – ہم سب

Comments are closed.