عورتیں کسی سے کم نہیں ہیں


\"lubna

کچھ مہینوں‌ پہلے کی بات ہے کہ ایک لڑکی نے پاکستان کے شمالی علاقے سے فیس بک پر میسج بھیجا کہ اس کا چانڈکا میڈیکل کالج میں‌ داخلہ ہوگیا ہے، وہ کافی دور ہے اور کیا اسے جانا چاہئیے یا نہیں۔ معلوم نہیں‌ اسے کیسے پتا چلا کہ میں نے وہاں ‌سے پڑھا تھا۔ میں‌ نے اس کو یہی مشورہ دیا کہ اگر داخلہ مل گیا ہے تو اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور ضرور ڈاکٹر بنیں۔ اس کے بعد کام بھی کریں۔

میں‌ ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہوں۔ کوئی پوچھے کہ اب ہمیں پتا چل چکا ہے آپ بار بار کیوں‌ بتا رہی ہیں تو اس کی ایک وجہ ہے وہ یہ کہ پاکستان میں میڈیکل عملے اور سہولیات کی کمی ہے، اس کی 200 ملین آبادی میں‌ مزید اینڈوکرنالوجسٹ چاہئیں۔ اینڈوکرنالوجی کا فوکس خطرناک بیماریوں‌ اور پیچیدگیوں‌ کو ہونے سے پہلے روکنے سے متعلق ہے۔ ہم جانتے ہیں‌کہ پرہیز علاج سے بہتر ہوتا ہے۔ امید ہے کہ اور لوگ اس فیلڈ میں‌ اسپیشلائز کریں‌ گے۔ ذیابیطس تمام دنیا میں‌ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس سنجیدہ بیماری کو بروقت تشخیص کرنے اور اس کا علاج کرنے سے اس کی پیچیدگیوں‌ سے بچا جا سکتا ہے۔

ایک بات حیرانی کی ہے کہ ہم ایک شخص سے دوستی کرتے ہیں۔ اور پھر ایک اور سے تو وہ لوگ آپس میں‌ دوست نکلتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملتے جلتے خیالات رکھنے والے ایک دوسرے کو مل جاتے ہیں وہ بھی بالکل ایسی جگہوں‌ پر جہاں‌ آپ توقع نہیں‌ کررہے ہوتے۔

\"IMG_4910\"

ایک دن میں‌ اپنی ساس کے ساتھ اوکلاہوما سٹی کے اسپائسز آف انڈیا گئی جہاں‌ ہم لوگ گھوم پھر کر شاپنگ کررہے تھے۔ میں‌ سبزیاں‌ اپنی کارٹ ‌میں‌ ڈال رہی تھی تو آئل کے دوسری طرف سے ایک خاتون کی آواز سنی جو فون پر شائد لانگ ڈسٹنس پر بات کررہی تھیں‌ کیونکہ وہ کافی اونچا بول رہی تھیں۔ وہ اپنی کتاب \”لائف آف کشمیری وومن\” کے بارے میں‌ کسی کو بتا رہی تھیں۔ جب وہ گھوم کر ہماری طرف آئیں‌ اور ان کی بات ختم ہوگئی تو میں‌ نے ان سے کہا معاف کیجئیے گا میں‌ آپ کی آپس کی گفتگو سننا نہیں‌ چاہ رہی تھی لیکن میں‌ نے آپ کی کتاب کے بارے میں سنا اور مجھے اس کو پڑھنے میں‌ دلچسپی ہے اس لیے آپ مجھے اس کے بارے میں ‌بتائیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ میرا نام نائلہ علی خان ہے اور میں‌ یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہوں۔ میں‌ نے ان سے کہا کہ میں‌ بھی نارمن میں‌ کام کرتی ہوں۔ انہوں‌ نے مجھے اپنا کارڈ دیا اور میں‌ نے انہیں‌ اپنا کارڈ دیا۔

پھر ان کی کتاب ایمازون سے آرڈر کی، پڑھی بھی اور اس کے کچھ چیپٹرز کا اردو میں‌ ترجمہ بھی کیا۔ جب کتاب آگئی تو میں‌ نے انہیں‌ کہا کہ نائلہ جی آپ کی کتاب کے دو ترجمے کرنے پڑیں گے ایک آپ کی انگلش ٹو ایزی انگلش اور ایک انگلش ٹو اردو۔ یہ سن کر وہ ہنس پڑیں۔ دیگر انگلش کتابوں‌ کے مقابلے میں‌ لائف آف کشمیری وومن زرا مشکل انگلش میں‌ ہے۔

اس کے بعد ہم لوگ ٹیسٹ آف انڈیا میں‌ لنچ آور میں‌ ملے جہاں‌ وہ دوسری پروفیسر کیتھرین ہابز کے ساتھ آئیں۔ ہم لوگوں‌ نے ساتھ میں‌ کھایا پیا اور گپ شپ کی۔ ایک بار وہ لوگ میرے آفس بھی آئے جہاں‌ ہم نے ساتھ میں‌ لنچ کیا۔ اس طرح‌ ہماری اچھی دوستی ہوتی چلی گئی۔ ہم لوگ دیسی پارٹیوں‌ میں‌ نہیں‌ ملے کیونکہ نہ وہ زیادہ جاتی ہیں نہ میں‌۔ میں‌نے ان سے کہا کہ ہم لوگ تعلیم کے ذریعے اپنے حالات بدلنے میں ‌جتے ہوئے تھے اس لیے فیشن اور پارٹیوں‌ میں‌ دلچسپی نہیں‌ ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ بچپن سے ہر چیز میسر تھی تو ان چیزوں‌کی اہمیت نہیں‌ رہی۔

\"Mary

ہمارے دوست بھی ایک دوسرے کے دوست نکلے مثلاً کیتھرین ہابز نے کہا کہ کیا تم میری فرانسس کو جانتی ہو؟ میں‌ نے انہیں‌ کہا کہ ہاں‌ میں‌ میری فرانسس کو کئی سالوں‌ سے جانتی ہوں‌، وہ میری اچھی دوست بھی ہیں اور پسندیدہ شخصیت بھی۔ انہیں‌ چند سال پہلے ہیومن رائٹس کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ میری فرانسس کی وہ تصویر میری پسندیدہ ہے جس میں‌ ڈی سی میں‌ مظاہرہ کرنے پر ایک پولیس والا ان کو ہتھکڑی لگا کر لے جارہا ہے اور وہ چشمے کے اوپر سے اس کو دیکھ رہی ہیں۔ میری فرانسس 70 سال کی ہیں اور ماحولیات کی حفاظت کی بڑی حامی ہیں۔ اس بارے میں‌ پانچ منٹ بات کر کے ان کو آسانی سے رلایا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی زیادہ باقی نہیں رہی ہے لیکن وہ آنے والے انسانوں‌ کے لیے یہ لڑائی کررہے ہیں۔ ان لوگوں‌ کی حساسیت، ان کی انسانیت، ان کی باضمیری اور بہادری ہی وہ صفات ہیں جن کی وجہ سے میں‌ ان کو بہت پسند کرتی ہوں۔

اس سے پہلے میں‌ نائلہ کو نہیں‌ جانتی تھی۔ نہ ہی ان کی فیملی کو جانتی تھی لیکن پھر فیس بک کے ذریعے اور ان کی کتاب پڑھ کر کچھ معلومات میں‌ اضافہ ہوا۔ ہم لوگ پروفیشنل لوگ ہیں یعنی سارا ہفتہ کام کرتے ہیں۔ چھٹی کے دن چھٹی منانے کے بجائے ہم دونوں نے ہی اپنا وقت اس گفتگو میں‌ صرف کیا اور پھر اس کو لکھنے میں‌ سارا دن لگ گیا۔ اب میں‌سوچ رہی ہوں ‌کہ اس کو انگلش میں لکھ کر بھی چھپنے کے لیے بھیجا جائے تاکہ جن ماؤں‌کے بچے انڈیا اور پاکستانی فوج میں‌ بھی مر رہے ہیں‌وہ بھی دباؤ ‌ڈالیں کہ ہمارے بچے کس لیے مر رہے ہیں اور کب تک مرتے رہیں گے۔ آخر ان ممالک کی کشمیر پالیسی کیا ہے اور مستقبل کے بارے میں وہ کون سے مثبت قدم اٹھا رہے ہیں۔ ہر انسان کی یہ زمہ داری ہے کہ ہم دنیا کو جیسا پائیں اس سے بہتر چھوڑ کر جانے کی کوشش کریں۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ انتہائی ضروری سوشل سروسز کے ادارے ٹھپ پڑے ہوئے ہیں اور ان میں‌ کام کرنے کے لیے اور ملک کی ترقی کے لیے خواتین کو آگے آنے کے مواقع اور حالات فراہم نہیں‌ کیے جارہے۔ انفرادی ترقی تو دور کی بات، ان کو اپنے بنیادی حقوق کے ساتھ زندہ تک رہنے نہیں‌ دیا جارہا۔ ایک کہاوت ہے کہ انسان خود اپنا بستر بناتا ہے جس پر وہ سوتا ہے۔ جو بدحالی ہمارے ملک کی ہے وہ ہماری اپنی بنائی ہوئی ہے۔

برہان وانی کے بارے میں‌ انٹرویو کے بعد ملنے والی فیڈ بیک سے متعلق کچھ جوابات یہ ہیں۔ اس مضمون کا فوکس یہ نہیں‌ تھا کہ انڈیا کو یا اس کی فوج کو کیا کرنا چاہیے۔ اس پر تو کافی دیگر افراد پہلے سے لکھ چکے ہیں۔ اس انٹرویو میں‌ یہ بات جاننے کی کوشش کی گئی کہ عوام انفرادی طور پر اپنے حالات بدلنے کے لیے کیا راستہ اختیار کریں اور نوجوانوں کی توانائی کو کس طرح مثبت راستے پر ڈالا جائے۔ سب سے اہم کام اپنی تعلیم میں‌ اضافہ کرکے قوانین میں‌ تبدیلی لانے سے متعلق ہے۔ ڈاکٹر نائلہ خان کو امریکی شہری کہا گیا۔ وہ انڈین شہری ہیں، وہ امریکی شہری نہیں‌ ہیں۔ میں‌ ایک پاکستانی اور امریکی شہری ہوں۔ پاکستان اور امریکہ دہری شہریت کی اجازت دیتے ہیں لیکن انڈیا دہری شہریت کی اجازت نہیں‌ دیتا۔ اگر آپ کسی اور ملک کی شہریت لے لیں‌ تو انڈیا کی شہریت چھوڑدینی ہوتی ہے۔

خان نام پر بھی اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ ڈاکٹر نائلہ علی خان کا نام خان ان کا شادی شدہ نام ہے۔ ان کے شوہر فیصل خان شہر میں‌ ایک کولیگ ڈاکٹر ہیں، وہ رہوماٹولوجسٹ ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ علی خان کا شادی سے پہلے نام نائلہ علی ماٹو ہوتا تھا۔ کچھ لوگ ان کے نانا کی سیاست پر بھی تنقید کررہے ہیں۔ تاریخی لوگ فرشتے یا شیطان نہیں‌ ہوتے اور ان کو نارمل طریقے سے ہی دیکھنا چاہیے۔ وہ اپنے وقت کے لحاظ سے سوچتے ہیں اور فیصلے کرتے ہیں۔ کچھ فیصلے اور اقدام آگے چل کر فائدہ مند ہوتے ہیں اور کچھ نقصان دہ۔ کشمیر کا مسئلہ ویسے ہی کافی جذباتی ہے اور جتنا ہوسکے اس سے متعلق ٹھنڈے دماغ سے ہی گفت و شنید کی جانی چاہئیے۔ اگر ان کی کسی معاملے میں‌ آپ سے رائے الگ بھی ہے تو ان کو اپنی رائے کا حق ہے جیسے مجھے یا آپ کو اپنی رائے کا حق ہے۔

شیخ ‌محمد عبداللہ کا کشمیر میں‌ لینڈ ریفارم کرنا قابل لائق ہے اور پاکستان کو بھی ایسا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسان ان زمینوں‌ کے مالک بن سکیں‌ جن پر وہ نسل در نسل سے کاشت کاری میں‌ لگے ہوئے ہیں۔ اپنے ملک کے شہریوں‌ کی حالت بہتر کئیے بغیر ہم اپنے ملک کی حالت بہتر نہیں کرسکتے۔ ان کی بیگم اکبر جہاں‌ نے خواتین کی فلاح و بہبود اور تعلیم کے میدان میں‌ جو کام کیے وہ بھی قابل تعریف ہیں۔ ہمیں‌ ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ ایک دن میں‌ نے بی بی سی اردو میں‌ آرٹیکل پڑھا کہ شیخ ‌محمد عبداللہ نے فیض احمد فیض کا نکاح ایلس سے پڑھایا تھا۔ فیض احمد فیض‌ میری پسندیدہ تاریخی شخصیت ہیں۔

\"drlubnamirza2\"

یہ میڈیکل کالج کے دنوں‌ کی بات ہے کہ سارا آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لوگ بے انتہا جمع تھے اور گذرنے کے لیے راستہ نہیں‌ تھا۔ میں‌ نے ان سے کہا کہ میرا نام پکارا جارہا ہے تو انہوں‌ نے ادھر ادھر ہو کر راستہ دے دیا۔ جب میں‌ اسٹیج پر پہنچی تو بے نظیر بھٹو بہت خوش نظر آرہی تھیں۔ انہوں‌ نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ ایک لیڈی آئی ہیں اور پھر انہوں‌ نے میڈل اور ایک لفافہ مجھے دے دیا۔ حالات ایسے ہیں کہ جو لوگ کام کرنا بھی چاہ رہے ہیں ان کی صلاحیتوں‌ سے فائدہ اٹھایا نہیں جا رہا ہے۔ ملالہ نکل جاتی ہے تو سب ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ یہ کیسے آگے نکل گئی۔

ڈاکٹر نائلہ خان کو اوکلاہوما میں‌ لوگ پسند کرتے ہیں۔ ان کے اسٹوڈنٹس جو بھی ان کی کلاس لیتے ہیں سب یہی کہتے ہیں‌ کہ وہ ایک بہترین پروفیسر ہیں۔ میں نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ امریکی شہریت لے لیں‌ اور یہاں اوکلاہوما کی گورنر بننے کے لیے الیکشن میں‌ حصہ لیں ‌کیونکہ میری فالن اچھی گورنر نہیں‌ ہے۔ ہمیں‌ لائق، پروگریسو اور دور اندیش لیڈروں‌ کی ضرورت ہے جو اوکلاہوما کو ایک بہتر ریاست بنانے میں‌ مدد کریں۔ لیکن ان کا دل کشمیر کی فکر میں ہے۔ سینکڑوں‌ کتابیں‌ انہوں‌ نے پڑھ لی ہیں۔ ابھی تک پانچ چھ کتابیں‌ خود لکھ چکی ہیں۔ سینکڑوں آرٹیکلز چھپوا چکی ہیں اور کتنی یونیورٹیوں‌ میں‌ جاکر کشمیر کے مسئلے کے بارے میں‌ آگاہی بڑھانے کے لیے لیکچر دے چکی ہیں۔ نائلہ خان کو اپنی زندگی میں‌ اپنی کشمیری قوم کی زندگی بدل دینے کا جنون ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے وہ کشمیر چلی گئیں اور چھوٹے چھوٹے شہروں‌ اور گاؤں‌ میں‌ جاکر اسکول اور کالج کے اسٹوڈنٹس اور ٹیچروں‌ سے ملیں۔ میں‌ نے ان سے کہا کہ ہمارے ملکوں‌ میں‌ خواتین کو اس طرح‌ اہمیت نہیں‌ دی جاتی جیسا کہ امریکہ میں اور ان کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی کہ آپ لائق اور تعلیم یافتہ ہیں۔ اب بتائیے بینظیر کو جان سے مار دیا ہماری قوم نے اور اندرا گاندھی کو بھی۔ جو بھی مر جائے کوئی نہ کوئی مٹھائی بانٹتا ہے۔ بینطیر کے بچے ان کو یاد کرتے ہوں گے۔ امریکہ میں‌ سیفٹی ہے، یہاں‌ لوگ ہمارے کام سے خوش ہیں اور انہوں‌نے ایک اچھا ماحول فراہم کیا ہوا ہے، صفائی ستھرائی ہے، یہاں‌ ہر ہمارے اچھے گھر ہیں، ہمارے پاس اپنی ضرورت کی ہر چیز ہے اور ہر سہولت ہمیں‌ میسر ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہماری قوم کو زندگی میں‌ اور زندگی کے مسائل حل کرنے میں‌ نہیں‌ بلکہ مارا ماری میں‌ اور توڑ پھوڑ میں‌ زیادہ دلچسپی ہے۔ روزانہ لائبریری کی خاموشی میں‌ سر جھکا کر پڑھائی کرنا اور آٹھ آٹھ گھنٹے بیٹھ کر امتحان دینا مشکل ہے اور آتش بازی اور بھاگ دوڑ نہایت دلچسپ۔ دنیا میں‌ تبدیلی لانا آسان کام نہیں‌ ہے۔ اس میں‌ نسلیں‌ لگ جاتی ہیں‌۔

\"FullSizeRender\"

پچھلی دفعہ جب ہم ملے تو وہ کہنے لگیں کہ اپنے شوہر ڈاکٹر خان سے یہی کہتی ہوں‌ کہ آپ صرف ڈاکٹری کرتے ہیں لبنیٰ‌ کو دیکھیں، اس کو ڈاکٹری سے باہر بھی پڑھنے کا شوق ہے، لکھنے کا بھی شوق ہے، کمیونٹی میں‌ ٹاکس بھی دیتی ہے اور کلچرل ایکٹیوٹیز میں‌ بھی آگے ہے۔ ہمارے بیک گراؤنڈ کی خواتین میں‌ اس طرح‌کی خواتین کم ہیں۔ وہ بات بالکل ٹھیک ہے یقیناً ایسی خواتین کم ہیں کیونکہ ان کو جس طرح‌ اپنی کمیونٹی کی سپورٹ کی ضرورت ہے وہ حاصل نہیں۔ خواتین کو پیچھے رکھا جائے گا تو ہر کوئی ان کے ساتھ پیچھے رہ جائے گا۔

ایک صاحب نے لکھا کہ میں‌ نائلہ کے خاندان سے متاثر ہوگئی ہوں۔ خاندان ان کا متاثر کن ہو یا نہ ہو لیکن ان کے خیالات اور معلومات نہایت متاثر کن ہیں۔ یعنی جو بات جیسے ہے وہ اس کو ویسے ہی آبجیکٹولی سمجھتی ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے بھی مجھے یہی اندازہ ہوا کہ ہمارے خیالات ملتے جلتے ہیں۔ میں‌ خود بھی دنیا کے دیگر ممالک کے انسانوں‌ کے ساتھ چلنے پر یقین رکھتی ہوں۔ دنیا کے کسی بھی بیک گراؤنڈ کے انسان اچھے یا برے ہوسکتے ہیں۔ شیخ محمد عبداللہ کا ہاتھ سے لکھا ہوا تین صفحے کا خط پڑھا جو انہوں‌ نے ایک دوست کو لکھا تھا اس سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ وہ لوگ اپنے زمانے میں‌ کن مشکل حالات کا سامنا کررہے تھے۔ یہ بات وقت کے ساتھ پتہ چلی کہ چاہے میری دوست کولمبیا کی مارتھا ہو یا دبئی کی مونا، ہم لوگ تکثیری ماحول میں‌ وقت گذارنے ،گریجوئیٹ ایجوکیشن حاصل کرنے، دنیا کے مختلف لوگوں ‌کے ساتھ پڑھنے اور کام کرنے سے یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ساری دنیا مل کر ہمارے خلاف کوئی سازش نہیں‌کر رہی بلکہ ہر کوئی اپنی زندگی میں‌مشکلات کا سامنا کررہا ہے، ہر کوئی اپنی جگہ جدوجہد میں‌ لگا ہوا ہے۔ یہ کلیرٹی ایک تحفہ ہے۔

مارتھا کی پی ایچ ڈی تھیسس کا فوکس ان ہسپانوی افراد کی زندگی کے بارے میں‌ تھا جو امریکہ میں اپنی فیملیز کو سپورٹ کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر داخل ہو جاتے ہیں اور بارڈر پر سختی کے باعث بغیر پکڑے واپس نہیں‌ جاسکتے۔ ان میں‌ سے بہت سے لوگوں‌ کو ڈی پورٹ کیا گیا تو ان کے امریکی بچے پیچھے رہ گئے۔ اس نے ان غریب افراد کا کیس ایک انسانی المیے کے طور پر پیش کیا۔ اس موضوع پر ریسرچ سے ہی اس طرح‌ کے واقعات سامنے آئے جن میں بچے اسکول گئے ہوئے ہیں اور ان کو واپس لینے کوئی نہیں‌ آیا کیوں کہ ان کے والدین کو پکڑ کر ملک سے نکال دیا گیا تھا۔ اسی طرح‌ شعور بڑھنے سے ٹلسا میں‌ ایک پولیس والے کو پکڑ کر سزا دی گئی جو غیر قانونی افراد کو روک کر ان کے پیسے نکلوا لیتا تھا۔ نہ ان کے پاس بینک اکاؤنٹ ہوتا ہے اور نہ شناختی کارڈ۔ شکایت کرنے سے بھی وہ ڈرتے تھے کہ ان کو ہی پولیس تھانے میں‌ بند کرے گی اور ڈی پورٹ بھی ہوسکتے ہیں۔ پچھلے سال میں‌ نے دو خواتین کو تھائرائڈ کے کینسر کے ساتھ دیکھا جو امریکہ میں‌ غیر قانونی تھیں۔ ہم لوگوں‌ نے ان کا اچھے طریقے سے علاج کیا اور ہسپتال نے بھی سرجری وغیرہ کے پیسے نہیں‌ لیے۔ ان کو کسی نے جا کر تھانے میں‌ بند نہیں کرایا۔ ہمارا کام مریضوں‌ کی مدد کرنا ہے چاہے وہ کوئی بھی ہوں اور کسی بھی حالات میں‌ ہوں۔

دبئی کی مونا سے میری انٹرنیشنل ہارورڈ کورس کے دوران دوستی ہوگئی تھی۔ وہ لوکل 10 فیصد لوگوں‌ میں‌ سے ہے۔ اس کی ریسرچ کا فوکس مختلف ہیلتھ انشورنس والے لوگوں‌ کی صحت میں فرق دیکھنا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ دبئی میں‌ تنخواہ اچھی ملتی ہے اور امریکہ کی طرح‌ ٹیکس نہیں‌ دینا ہوتا۔ ایک ماسی بھی رکھ سکتے ہیں‌ جو سارا گھر کا کام کرے لیکن میں‌ نے اس کو کہا کہ اتنے سال امریکہ میں‌ رہ کر ہمیں یہاں‌ رہنے کی عادت ہوگئی ہے اور یہی ہمیں‌ اچھا لگتا ہے۔ مونا بہت زہین اور لائق خاتون ہے۔ اس نے ایک ریسرچ پراجیکٹ پر بہت محنت سے کام کیا اور بہت اچھی پریزنٹیشن دی تو میں‌ نے اس سے متاثر ہوکر کہا کہ تمہیں‌ اپنے ملک میں‌ لیڈر ہونا چاہئیے، تم سب ٹھیک کردو گی تو وہ خوب ہنسی اور بولی ہمارے ملک میں‌ بادشاہت ہے اس لیے ایسا بول کر تم مجھے جیل مت کرا دینا۔

جو خواتین یہ مضمون پڑھ رہی ہیں، میں‌ آپ سے یہ کہنا چاہتی ہوں‌ کہ اپنے ذہن میں‌ سے یہ بات نکال دیں‌ کہ آپ میں‌ کوئی کمی ہے۔ آپ میں‌ کمی نہیں‌ ہے۔ آپ دنیا میں‌ کچھ بھی کرسکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آپ محنت کرتی رہیں اور آگے بڑھیں۔ آپ میں‌ سے کتنی ایم بی بی ایس کرکے گھر بیٹھی ہیں؟ چار دوست مل کر اپنا ایڈوکرائن سینٹر اور ذیابیطس سینٹر کھولیں۔ اس سے آپ لوگ پیسے بھی کمائیں‌ گی اور لوگوں‌ کی صحت بھی بہتر ہوگی۔ میں‌ پڑھا دوں‌ گی آپ لوگوں‌ کو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔