عمران خان تحریک: انصاف سے احتساب تک


\"edit\"عمران خان نے تحریک انصاف کے بعد اب تحریک احتساب کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کو پاکستان تحریک انصاف کا نام دیا تھا تا کہ ملک میں عام آدمی کو اس کے حقوق دلوائے جا سکیں۔ وہ ملک میں جاری نظام کو ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پندرہ برس کی محنت کے بعد انہیں بعض نادیدہ قوتوں کی اعانت کی وجہ سے 2013 کے انتخابات سے قبل مقبولیت حاصل ہونا شروع ہوئی اور وہ قومی اسمبلی کی 30 کے قریب نشستیں حاصل کرنے کے علاوہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ ایک بڑی کامیابی تھی جو عمران خان نے تن تنہا صرف اپنی نیک نیتی اور دیانتداری کی شہرت کی وجہ سے حاصل کی تھی۔ اس کے بعد ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ قومی اسمبلی میں موثر اپوزیشن کا رول ادا کریں گے اور خیبر پختونخوا میں ایسے اقدامات کریں گے کہ آئندہ انتخابات میں دوسرے صوبوں کے عوام بھی ان کی پارٹی کو ایک موقع دینے پر تیار ہو جائیں۔ عمران خان یہ محفوظ راستہ اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان کے دل و دماغ میں یہ بات سمائی ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر ہی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ جس دوسری بات پر ان کا یقین پختہ ہے وہ یہ ہے کہ حکومت میں شامل سب لوگ بے ایمان اور بدعنوان ہیں، اس لئے انہیں اقتدار سے ہٹانا بے حد ضروری ہے۔

عمران خان دھن کے پکے اور کسی حد تک ضدی طبیعت کے مالک ہیں۔ یہی ان کی خوبی ہے اور وہ خود اور ان کے حامی اسے ان کی اولالعزمی قرار دیتے ہیں ۔لیکن یہی ان کی سب سے بڑی خامی بھی بن چکی ہے کہ سیاست میں دوسرے گروہوں اور جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ عمران خان کی حالت یہ ہے کہ جن وفادار اور پرخلوص ساتھیوں کی مدد سے انہوں نے تحریک انصاف کا آغاز کیا تھا، وہ یا تو ناراض اور مایوس ہو کر پارٹی سے علیحدہ اور عمران خان سے دور ہو چکے ہیں یا وہ پارٹی میں غیر موثر اور غیر اہم ہو گئے ہیں۔ ان کی بجائے ایسے لوگوں نے عمران خان کے گرد حصار باندھ لیا ہے جو اس فرسودہ نظام کا جزلاینفک ہیں، جسے گرانے کیلئے عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد فلاحی کام کرنے کا راستہ چھوڑ کر سیاست میں قدم رکھا تھا۔ البتہ عمران خان کو خود بھی یہ اندازہ نہیں ہو گا کہ سیاست میں کامیابی صبر آزما کام ہوتا ہے اور اس کیلئے مستقل مزاجی سے کام کرنے اور مصلحت کو ہتھیار بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان بوجوہ ان دونوں صلاحیتوں سے محروم ہیں۔ وہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جن سیاسی قوتوں کے ساتھ اشتراک کی کوشش کرتے رہے ہیں، ان سب کے اپنے سیاسی ایجنڈے تھے جو جلد از جلد حصول اقتدار کے عمران خان کے مقصد سے میل نہیں کھاتے تھے۔ اس لئے ان میں سے کسی گروہ کے ساتھ بھی ان کا مستقل سیاسی اتحاد قائم نہیں ہو سکا۔ یوں بھی وہ گروہ جماعت اسلامی ہو یا علامہ طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے سیاسی مقاصد عمران خان کے عزائم کو کامیاب بنانے میں کارگر نہیں ہو سکتے تھے۔ اس لئے ایسی تمام قوتیں عمران خان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی ایجنڈے کیلئے تو راہ ہموار کرنا چاہتی ہیں لیکن پوری نیک نیتی سے عمران خان کو ملک کا وزیراعظم بننے میں مدد دینے کے قابل نہیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ ایسی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور دوسرے یہ کہ اگر انہیں کبھی سیاسی یا کسی دوسرے طریقے سے اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو وہ عمران خان کو کیوں ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔ اس عہدہ کو زینت بخشنے کےلئے ان کے پاس اپنے امیدوار بھی موجود ہیں۔

بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے ملک میں تبدیلی کے اصول کو اپنی ذات سے یوں منسلک کر لیا ہے کہ انہیں خود اپنے سوا کوئی ایسا رہنما نظر نہیں آتا جو ان کا مقصد پورا کر سکے۔ اس طرح وہ اصولی لڑائی لڑنے کی بجائے ذاتی کامیابی کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے ہیں۔ اسی لئے اصول کی سربلندی کےلئے کام کرنے والے ساتھی علیحدہ ہو گئے اور اقتدار کے ذریعے ذاتی مفاد حاصل کرنے کے خواہشمندوں نے ان کو اپنا لیڈر بنا کر کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ وہ بدستور انہیں کامیابی کا یقین دلاتے ہیں اور اس طریقے سے درحقیقت اپنی ہوس اقتدار کی تکمیل چاہتے ہیں۔ عمران خان اس شعوری اور فکری صلاحیت سے محروم نظر آتے ہیں جو تبدیلی کے فلسفہ کی کامیابی کےلئے ضروری ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اقتدار کی لنکا سر کرنے کےلئے ایک فوجی آمر سے بھی ہاتھ ملایا، ا نتہا پسند قوتوں کے ساتھ مل کر بھی چلنے کی کوشش کی، دھاندلی کا شور بھی مچایا اور اب احتساب کی تحریک لے کر میدان میں اترے ہیں۔

عمران خان کی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بدعنوانی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اسے حل کئے بغیر مکمل کامیابی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ اسی طرح ایک اصول ہے جو ان کی پارٹی کے نام کا حصہ بن چکا ہے کہ انصاف کے حصول کے بغیر معاشرے میں تبدیلی اور ہم آہنگی پیدا ہونا مشکل ہے۔ لیکن جس طرح انہوں نے انصاف اورتبدیلی کو ذاتی سیاسی اقتدار سے مشروط کر دیا ہے ، اسی طرح وہ احتساب کے اصولوں کو بھی افراد میں مجسم کرنے کی غلطی کر رہے ہیں جو درحقیقت ان کی اصولی تحریک کےلئے سم قاتل بن رہی ہے۔ پہلے انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ناانصافی کی علامت بنا کر ان کی علیحدگی کو انصاف عام کرنے کےلئے ضروری سمجھا۔ افتخار چوہدری کے عہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں انصاف حاصل کرنےکےلئے احتساب کا نعرہ مل گیا ۔ اور اب انہیں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کی شکل میں بدعنوانی کے بت دکھائی دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر یہ بت گرا لئے جائیں اور ان کی جگہ وہ ا خود قتدار کے منصب پر فائز ہو جائیں تو ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا، بدعنوانی کا خاتمہ ہو جائے گا اور راوی چین ہی چین لکھے گا۔

یہ خواب دیکھتے اور دکھاتے عمران خان یہ بھول جاتے ہیں کہ دیومالائی داستانوں کے راوی اور سیاسی دنیا کی حقیقتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ معاشرتی اور سماجی برائی کسی ایک شخص کے جانے سے یا کسی نئے کے آنے سے ختم نہیں ہو سکتی۔ اس کےلئے ایک نظام استوار کرنے اور اس کے اصولوں کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کے پاس یہ پیچیدگی سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کا وقت نہیں ہے۔ وہ اس کا آسان حل تلاش کرتے ہیں کہ نواز شریف کو اقتدار سے ہٹا کر ، بدعنوانی کے الزام میں جیل بھیج دو تو برائی خود ہی ختم ہو جائے گی۔ اگرچہ نعروں سے خوش ہونے والے بہت سے لوگ اس سادہ مگر ناقابل فہم دلیل کو مانتے ہوئے عمران خان کی حمایت میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں لیکن پرامن انقلاب کے ذریعے تبدیلی لانے، انصاف فراہم کرنے اور احتساب کرنے کا خواب مسلسل گہنا رہا ہے۔ اقتدار کی منزل پانے کی جلدی میں عمران خان اور ان کی مقبولیت سے اپنے عزائم کی تکمیل چاہنے والے ان کے ساتھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس تکلیف دہ سچائی کو سمجھنے پر آمادہ بھی نہیں ہیں۔ اسی لئے آج جب عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی قیادت میں لوگوں کے ہجوم کو پشاور کے زکوڑی پل کے قریب ’’تحریک احتساب‘‘ کےلئے جمع کیا گیا تو یہ ایک ایسے سفر کا آغاز تھا جو بالآخر دائرے کا سفر ثابت ہو گا۔ عمران خان سارے طمطراق کے ساتھ جتنا بھی زور لگا لیں، جتنا بھی دوڑ لیں اور جتنا چاہیں سفر طے کر لیں، آخر میں وہ خود کو زکوڑی پل کے قریب کنٹینر پر ہی کھڑا پائیں گے کیونکہ ذات کے حصار کا سفر انسان کو زیادہ فاصلہ طے کرنے کا موقع نہیں دیتا۔

اگست 2014 سے دسمبر 2014 تک انتخابی دھاندلی کے خلاف شروع ہونے والے دھرنے کی کہانی ایک ایسے ہی ناکام سفر کی کہانی ہے۔ جس طرح مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا، اسی طرح ایک لیڈر ایک ناکامی کے بعد وہی غلطی دہرانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ سبق سیکھتے ہوئے نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حیرت ہے عمران خان جس طریقہ کار میں ڈیڑھ برس پہلے بری طرح ناکام ہو چکے ہیں، اسی پر پورے جوش و خروش سے دوبارہ عمل کرنے پر بضد ہیں۔ وہ ایسا کرتے ہوئے یہ سوچنے کی صلاحیت سے بھی محروم نظر آتے ہیں کہ دھرنے کے دوران جس اسمبلی کو انہوں نے عوامی خواہشات کی قاتل قرار دے کر، اس گمان میں استعفے دیئے تھے کہ اس انتظام کو لپیٹ کر وہ اپنے اقتدار کا پھریرا لہراتے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوں گے ۔۔۔۔۔۔ اسی کی رکنیت بحال کروانے کےلئے انہیں ایڑیاں رگڑنی پڑی تھیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھی استعفوں کی لاج رکھتے ہوئے مستعفی ہو کر ضمنی انتخاب لڑنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکے تھے۔ وہ ایک بار پھر اسی استحصالی نظام کا حصہ بن چکے تھے جسے گرانے کےلئے انہوں نے کنٹینر پر ڈیرا ڈالتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ خواہ سب میرا ساتھ چھوڑ جائیں، میں حکومت کے استعفیٰ سے پہلے اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا۔ چشم فلک نے دیکھا کہ عمران خان نے اپنا بستر بھی گول کیا، کنٹینر کو الوداع بھی کہا اور ملک میں نواز شریف کی حکومت بھی برقرار رہی۔

اب وہ اسی ہتھکنڈے کو نئے طریقے سے آزمانے کےلئے میدان میں اترے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ابھی تحریک احتساب کا آغاز ہؤاہے۔ وقت کے ساتھ حکومت پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔ وزیراعظم کے گرد حصار تنگ ہوتا رہے گا۔ ان کے استعفیٰ سے پہلے یہ تحریک ختم نہیں ہو گی۔ ہو سکتا ہے عمران خان اپنے اعلان میں مخلص ہوں اور وہ ریلیاں اور جلوس نکالتے رہیں لیکن شواہد تو یہی بتاتے ہیں ان کا ہر اٹھنے والا قدم ان کی اپنی سیاسی ناکامی کی طرف جا رہا ہے۔ بہتر ہوتا کہ وہ دوسروں کی کوتاہیوں کو ازبر کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے اپنی غلطیوں پر غور کرتے، ان سے سبق سیکھتے اور 2018 کے انتخابات میں زیادہ کامیابی حاصل کرنے کی تیاری اور منصوبہ بندی کرتے۔ موجودہ طریقہ کار عمران خان کو ملک میں سیاسی تنہائی کا شکار کر دے گا اور ان پر بھروسہ رکھنے والے مزید لوگ ہر آنے والے دن کے ساتھ ان سے مایوس ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 622 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali