یہ رشتہ تو زندگی کی جان ہے


\"Azeem-Ur-Rehman-Usmani\"

ہمارے فیملی ڈاکٹر یعنی خاندانی معالج ایک دلچسپ شخصیت کے حامل انسان ہیں۔ اپنے پیشے میں عالمی سطح کی مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ کچھ عرصے کیلئے وزیر صحت بھی رہے۔ میں نے بچپن سے آپ کو اپنے گھر والو کا مجھ سمیت کامیابی سے علاج کرتے دیکھا اور ہمیشہ مجھے آپ کے مضبوط طرز کلام نے متاثر کیا۔ آپ کی گفتگو میں ذھانت اور اعتماد دونوں آخری درجے میں جلوہ گر نظر آتا۔ پھر ایک روز معلوم ہوا کہ آپ کی زوجہ کا انتقال ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کلینک بند ہے۔ لمبے عرصے بعد جب کلینک کھلا تو میں اپنے والد کیساتھ ان کے پاس علاج کیلئے پہنچا۔

کافی دیر انتظار کے بعد وہ کلینک میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر جھٹکا لگا کہ وہ نہایت قابل رحم نظر آرہے تھے۔ وہ اعتماد جو آپ کی شخصت کا حسن تھا آج مکمل طور پر مفقود ہوچکا تھا اور آپ اپنی چال سے ایک ایسے ٹوٹے ہوئے شکست خوردہ انسان نظر آرہے تھے جو زبردستی سانس لے رہا ہو۔ بولنے کے لئے لب کھولے تو لہجہ ڈبڈبا رہا تھا۔ والد نے ان کی خیریت دریافت کی تو رونے لگے۔ میں حیرت اور صدمے سے اس انسان کو دیکھ رہا تھا جس کے بارے میں مجھے گمان تھا کہ شائد کبھی نہ رویا ہو۔ والد نے انہیں ان کی مضبوط شخصیت یاد دلا کر ہمت بندھائی تو ٹوٹے ہوے لہجے میں والد کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ \”جب بیوی کے ساتھ اتنی طویل عمر گزر جائے تو پھر بیوی صرف بیوی نہیں رہتی بلکہ ماں بھی بن جاتی ہے ۔۔۔ بیٹی بھی ہو جاتی ہے ۔۔۔ بہن بھی بن جاتی ہے ۔۔۔ دوست بھی ہو جاتی ہے۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ دنیا کا ہر قریبی رشتہ اس میں سماجاتا ہے\”
۔
ڈاکٹر صاحب کے یہ دل سے نکلے الفاظ میری یادداشت کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔ ان تمام طنزیہ جملوں، بیشمار جگتوں اور ان گنت لطیفوں کے بیچ جو شادی اور بیوی کے عنوان پر ہم روز سنتے رہتے ہیں۔ یہ سب سے بڑی حقیقت ہے کہ شادی جیسا خوبصورت تعلق اور غمگسار بیوی جیسا بہترین رشتہ اللہ پاک کی بڑی ترین نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہی معاملہ عورت کا شوہر کی جانب ہے کہ غمگسار خاوند جیسا رشتہ اس کے لئے اللہ کی ایک اونچی ترین نعمت ہے۔ مذاق سب اپنی جگہ مگر لازم ہے کہ مرد اپنی بیوی کی اور عورت اپنے شوہر کی سچے دل سے قدر کرے۔ دونوں کو چاہیئے کہ پورے اخلاص سے کوشش کریں کہ کوئی بھی ممکنہ افتراق اس خوبصورت رشتے کو داغدار نہ کر پائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔