جمہوریت میں ہم کسی طرح بھی آزاد نہیں


\"imtiaz

1980ء تک بیرنیز کی تیکنیکس کو ایک عرصہ ہو چکا تھا۔ امریکی صارفین میں خواہشات پیدا کرنے، ان کی اندرونی خواہشات کو پڑھنے اور انہیں پورا کرنے کے لیے ایک بہت بڑی صنعت وجود میں آ چکی تھی۔ بیرنیز ایک سو سال کا ہو چکا تھا اور اس موقع پر اسے مارکیٹنگ کی دنیا کا فاؤنڈنگ فادر قرار دے دیا گیا۔
دوسری جانب برطانیہ میں بھی یہی انقلاب برپا ہو رہا تھا۔ سابق برطانوی خاتون وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کا 1975ء میں کنزویٹو پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم ہجوم کی انفرادیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم سب غیر مساوی ہیں۔ آسمان والے نے کسی بھی ایک شخص کو دوسرے جیسا نہیں بنایا۔ ہماری نظر میں ہر ایک کو غیرمساوی رہنے اور ہونے کا حق ہے۔ ایک انسان کو، جو وہ چاہے، وہ کام کرنے کا حق ہے اور اپنی کمائی کو جیسے چاہیے، ویسے خرچ کرنے کا حق ہے۔ اور یہی ایک فری اکانومی کا نچوڑ ہے۔ ہماری تمام آزادیوں کا انحصار اسی ایک اس آزادی پر ہے۔‘‘
مارگریٹ تھیچر کا وژن یہ تھا کہ لاکھوں انفرادی انسانوں کی خواہشات کو فری مارکیٹ کے ذریعے پورا کیا جائے۔ برطانیہ کے مشہور اخبار ’’دا سن‘‘ کے سابق مشہور صحافی میتھیو رائٹ لکھتے ہیں کہ تھیچر کی اس پالسیی کے بعد مصنوعات کی تصاویر کو بڑی تعداد میں پرنٹ میڈیا میں شائع کرنا شروع کر دیا گیا۔ سرمایہ کاروں کا اخبارات پر کنٹرول بڑھنے لگا تھا۔ مثال کے طور پر پیزا ہٹ کا اشتہار ہوتا تو ان کی باقاعدہ شرائط ہوتی تھیں کہ اس کو کس جگہ یا ورق پر شائع کیا جائے گا۔ آپ کے لیے اپنی مرضی کے مطابق کوئی چیز چلانا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
میتھیو رائٹ کے مطابق اس وقت تک ایڈیٹوریل صفحات میں اشتہارات شائع کرنا صحافتی کرپشن سمجھا جاتا تھا لیکن تھیچر کے اتحادی، دا سن اور دا ٹائمز کے مالک روپرٹ مرڈوک کے لیے ایسا کرنا جمہوری انقلاب کا حصہ تھا۔
1939ء میں ایڈورڈ بیرنیز نے مستقبل کا جو وژن دیا تھا وہ آج کی دنیا کا سب سے بڑا سچ بن چکا ہے۔ آج کی جمہوریت کے بادشاہ صارفین ہیں۔ نیویارک کے ورلڈ فیئر میں بیرنیز نے اسے ’’ڈیموکریسٹی‘‘ کا نام دیا تھا۔
پبلک ریلیشنز کے مورخ اسٹیورٹ ایوین لکھتے ہیں کہ اب لوگ نہیں بلکہ لوگوں کی خواہشات انہیں کنٹرول کرتی ہیں۔ اس ماحول میں عوام کے پاس فیصلہ سازی کرنے کی طاقت ہی کم بچی ہے، ’’جمہوریت اب فعال شہری ہونے کا نام نہیں رہا بلکہ عوام صرف صارفین بن چکے ہیں۔ اب عوام کو ایسے ہی ڈیل کیا جا رہا ہے، جیسے کہ ایک کتے کو چیزیں فراہم کی جاتی ہیں۔‘‘
تاہم آج کی کنزیمور ڈیموکریسی کا سب سے بڑا مسئلہ دولت کی غیر مساوی تقسیم بنتی جا رہی ہے۔ اس مسئلے کو صرف حکومتی طاقت کے استعمال سے حل کیا جا سکتا ہے لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک سیاستدان اپنی خواہشات کو پس پشت نہیں ڈالیں گے۔ آج بھی امریکی صدارتی انتخابات میں بڑے بڑے تجارتی ادارے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لیے فنڈز مہیا کرتے ہیں تاکہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ان سرمایہ کاروں کے مفادات کا خیال رکھ سکیں۔ دنیا کی ہر جمہوریت میں آج ایسا ہی ہو رہا ہے اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جو اٹھتا ہے، اسے ہر طریقے سے اقتدار سے الگ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اس نظریے سے نکلنا ہوگا کہ انسان خود غرض اور لالچی ہے اور اپنی انفرادیت قائم رکھنا چاہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام میں انسان یہ بھول رہے ہیں کہ انسانی فطرت کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔
میری اپنی ذاتی رائے میں خود کو آزاد سمجھنے والا کوئی بھی انسان آزاد نہیں ہے۔ آپ کو وہی خواہشات پوری کرنے کی آزادی دی گئی ہے، جس میں سرمایہ دار کا فائدہ ہے۔ آپ کسی مذہب کے دائرے میں زندگی گزار لیں یا کسی دوسرے نظام کے دائرے میں، زندگی ہر صورت آپ کو قوانین کے تحت ہی گزارنی ہے۔ مذاہب کے دائرہ کار میں آپ اپنی خواہشات کو محدود کر لیتے ہیں اور مذاہب کے بنائے ہوئے قوانین کی غلامی میں آ جاتے ہیں۔ آج کے جمہوری نظام میں آپ کو مخصوص حد تک آزادی دی گئی ہے، قوانین کی غلامی اس نظام میں بھی لازمی ہے اور اس جمہوری آزادی کے بدلے آپ اپنی خواہشات کی غلامی میں جھکڑے جاتے ہیں۔
بیرنیز کا قول میں دوبارہ لکھوں گا، ’’عوام کی منظم عادات کو تبدیل کرنا، ان کی رائے سازی اور دماغ سازی کرنا جمہوری معاشرے کا ایک اہم عنصر ہے۔ جو معاشرے کے اس ان دیکھے میکنیزم کو کنٹرول کرتے ہیں، اصل میں وہ ہی غائبانہ طور پر حکومت کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ غائبانہ حکومت برسر اقتدار حکومت سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
معاشرے کو منظم جمہوری انداز میں چلانے کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ہم پر حکومت کی جاتی ہے، ہمارے ذہنوں کے سانچے بنائے جاتے ہیں، ہمارے ذوق تشکیل دیے جاتے ہیں اور ہمارے خیالات تجویز کیے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ افراد کر رہے ہوتے ہیں، جن کے بارے میں ہم نے کبھی سنا ہی نہیں ہوتا۔‘‘


اس سیریز کے گزشتہ مضامین پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔