دل سے ادا کیا ہوا ’شکریہ راحیل شریف ‘


wisi 2 babaمیں اپنے وطن کے بارے میں ایک جذباتی خطاب کر رہا تھا جب اپنے سامعین دونوں گوروں کو دیکھا تو وہ نہایت انہماک سے حسینوں کی ایک ڈار کی جانب متوجہ تھے۔ سب کچھ بھول کر وہ مقامی حسن کا جائزہ لینے میں غرق تھے۔ ہزاروں گالیاں فی سیکنڈ برامد ہوئی تھیں لیکن سینئر گورے نے کہا ہمارے ملک میں ایک کہاوت ہے کہ گھوڑا گھوڑی کو دیکھ کر ہنہنائے گا نہیں تو پھر وہ گھوڑا ہی نہیں ہے‘۔

تعلیم ان دونوں گوروں نے بھی کسی کھوتی سکول سے حاصل کی تھی اس لئے عین موقع پر وہ ہنہنانے کی انگریزی بھول گئے۔ پہلے بڑے گھوڑے نے کوشش کی پھر چھوٹے نے کچھ یاد نہ آیا تو چھوٹے نے بڑے جذبے سے ہنہنا کر دکھایا۔ بڑے نے بھی اپنا ہنہناتا سر ساتھ ملا دیا۔

ان دونوں کی اس حرکت پر جل کے میں نے آئندہ کے لئے ان کا نام ہی گھوڑے رکھ دیا۔ بڑے گھوڑے نے پھر سنجیدہ ہو کر بتایا کہ دیکھو انسان کو زندگی میں ترجیحات طے کرنی چاہئیں اس لئے مرد کے لئے حسن ہر حال میں پہلی ترجیح ہے اور کام دوسری۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ زبانی بکواس کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ لکھ کر بات کی جائے۔

اپنی لکھی ہر میل کا بروقت جواب موصول کر کے مجھے احساس ہوا کہ گھوڑا اتنا بھی گھوڑا نہیں ترجیحات بھلے اس کی جیسی بھی ہیں لیکن کام کا وہ پورا ہے۔ بڑے گھوڑے کو ایک دن بتا ہی دیا کہ اسے گھوڑا کہتا ہوں تو اس نے خوشی سے ہنہنا کر دکھایا حیرت ہوئی کہ اسے کوئی اعتراض نہیںتھا۔

میں اکثر نیکر (بڑا سا کچھا ) پہن کر گھوڑوں سے ملنے جایا کرتا تھا ایک دن ان سے مل کر پشاور کے لئے نکلنا تھا تو بڑے گھوڑے نے پوچھا کہ آج وردی کیوں پہنی ہے اسے بتایا کہ اپنے گھر جا رہا ہوں تو اس نے کہا نیکر میں کیوں نہیں جاتے تو اسے کہا جا تو سکتا ہوں لیکن…. اسی ’لیکن‘ کو اس نے پکڑ کر ایک سبق دے دیا کہ دیکھو جب تم اپنی مرضی مطابق رہ نہیں سکتے تو پھر سمجھ لو کہ معاشرے میں کوئی سنجیدہ خرابی آ گئی ہے۔ وہ ایک دن چلا گیا لیکن اس کی سکھائی ہوئی باتیں اب بھی یاد کرتا ہوں۔

اب ہم نکے گھوڑے کے وس پڑ گئے تھے یعنی پلے پڑ گئے تھے۔ یہ عجیب و غریب مخلوق تھا۔ صبح سویرے ایک عدد واہیات قسم کی تصویر بھیجا کرتا جسے دیکھ کر آنکھ کھل جاتی۔بستر سے نکل کر کام شام کرنا پڑتا اور سویرے ہی نو دس بجے تک کام مکا کر فارغ ہو کر بیٹھ جاتا۔ نکا گھوڑا ایک دن ایک نئے کولیگ کو میرے بارے میں ترکیب استعمال بتا رہا تھا۔ کہ کس طرح اسے صبح سویرے اٹھانا ہے تصویر کیسی ہو کیسی نہ ہو اور اسے ویڈیو بالکل نہیں بھیجنی۔ حسن کے ششکے کیسے ہوں یہ سب وہ ہاتھ سے بنا کر بتا رہا تھا جب ایک ایک نہایت بزرگ گوری نے ہم کو دیکھ کر انگریزی میں ہمارے لئے پیار بھرا ایک لفظ کہا جس کے بعد والے جملے ہم سننے میں ناکام رہے۔

ہم لوگ بھی ڈھیٹ ہیں۔ گالیاں کھا کر بھی بدمزہ نہ ہوئے۔نکا گھوڑا بھی اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے پاکستان سے جانے لگا تو ہم لوگ الوداعءدعوت میں بیٹھے اسے سن رہے تھے جب وہ کہہ رہا تھا کہ اسے پاکستان یاد آئے گا وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتا۔ ہم نے کہا کہ تمھیں روکنے کو ہم کوئی سازش کریں تو وہ تیار ہوگیا کہ ضرور کرو اگر کر سکتے ہو۔ ہم مختلف قسم کی سازشیں سوچتے رہے اور آپس میں ہنستے رہے۔

اچانک نکے گھوڑے نے پوچھا کہ تم مجھے کیوں روکنا چاہتے ہو سب ہم نے کہا کہ تمھارے ساتھ انڈرسٹینڈنگ ہو گئی ہے شاید اتنی نئے بندے سے نہ بن سکے۔ یہ سن کر وہ سنجیدہ ہو گیا اس نے کہا کہ دوست میرا جو سب سے اچھا باس تھا اس نے مجھے کہا تھا ایک دن کہ ’سنو جس دن ہمارے ادارے کا کوئی بندہ ناگزیر ہو گیا اس دن ہمیں سمجھ جانا چاہئے کہ ہمارے ادارے کو ایک بڑے بحران نے آ لیا ہے‘۔

وہ بھی چلا گیا نیا بندہ آ گیا ہوتے ہوتے وہ پراجیکٹ ہی اختتام کو پہنچا لیکن ایک سبق مل گیا۔

محترم راحیل شریف آپ کے توسیع نہ لینے کے اعلان نے آج ہمیں بتا دیا ہے کہ ہماری فوج ایک مستحکم ادارہ ہے جس کے لئے ہم آپ کو دل سے ’شکریہ راحیل شریف‘ کہتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments