کیا ہم قابلیت کو سمجھنے کے قابل ہیں؟


یہ حقیقت روشن ہے کہ صحیح ماحول اور فضا موجود ہو تو تہذیب کے مقاصد کے لیے ایک ایسا معاشرہ وجود میں آجاتا ہے جو انفرادی اور\"arshad اجتماعی اخلاقیات سے مالا مال ہو تا ہے اور اسی معاشرے کا ہر فرد اور ادارہ جرات اور اصول زندگی کی روشن مثال ہوتا ہے۔
ذرا غور کیجیے جس ماحول اور فضا میں سے ہم لوگ گزر رہے ہیں کیا اس سے ہم کوئی صحت مند معاشرہ اپنی آنے والی نسلوں کو دے سکتے ہیں؟ ایسا معاشرہ جس کی وجہ ہماری کل کی نسل ہمیں عزت و وقار سے یاد کریں؟ ہم جس حال میں رہ رہے ہیں وہ ہمیں بہتر مستقبل کی امید نہیں دیکھا رہا۔
یہ بھی روشن حقیقت ہے اچھے ماضی اور حال ہی ایک اچھے مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ لیکن لگتا ہے ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ ہم اگر پچھلے دس کی اپنی تاریخ دیکھیں اور غور کریں کہ ہم ایسا کیا جس سے ہم بہتر مستقبل بنا سکیں تا کہ آنے والے دنوں میں اس عمل کا اچھے نتائج نکلیں گے۔ تو یقین کریں ہمیں لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے جس پر فخر کر سکیں۔ یہ اشارہ کسی فرد یا ادارے کی طرف اشارہ نہیں ہے یہ تو ایسا سوال ہے جو ہماری قوم کو ایک نئی نوید فکر دے رہا ہے۔
اس سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ ہم سب لوگ جس ماحول کی تسخیر میں آج کل مصروف ہیں اس سے ہم کسی طرح کی تہذیب کو جنم دے رہے ہیں۔ یقین کریں یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے اور زیادہ خوف کی بات یہ ہے ہم ایسے حال اور ماضی قریب پر بڑے خوش ہیں ا۔ ہر کوئی انفرادیت کی نظریہ پر قائم ہے اور کل کی فکر سے بالکل ہی انکاری ہے اور دوسروں کو اسکا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
اس سارے ماحول نے ہمیں اعلی دور قابلیت سے محروم کر رکھا ہے۔ اب ہر طرف اور ہر پیشے میں ہمیں اوسط قابلیت کا سامنا ہے۔ اعلیٰ قابلیت لگتا ہے اب زمانہ قدیم کی بات لگتی ہے۔ دانشور اب نا پید ہو گئے ہیں اور مداری آپ کو گلی گلی میں نظر آر ہے ہیں جو نہ تیتر ہیں اور نہ بٹیر۔ ہاں دکانیں بڑی اونچی ہیں پر پکوان ان کے پھیکے ہیں۔ با شعور لوگ جو اب گنتی
کے ہیں یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہم شاید ترقی یافتہ قوم نہ بن سکیں لیکن ہم ’’ترقی مار‘‘ قوم کا ٹائیٹل ضرور جیت لیں گے۔ ایک بڑی وجہ ہماری کمزوری کی یہ بھی ہے کہ ہم نے قابلیت کو کبھی قابل ہی نہیں سمجھا۔ ہمارے نزدیک ہر چیز کا مقابل موجود ہے۔ اگر کوئی چیز ہمارے ملک میں اچھی نہیں بنتی تو ہم اس کو اچھا بنانے میں وقت ضائع نہیں کرتے بلکہ اس سے بہتر چیز کو امپورٹ کر والیتے ہیں اور اگر چیز امپورٹ نہیں ہو سکتی تو ہم خود باہر چلے جاتے ہیں۔
نہایت افسوس ہوتا ہے جب دیکھتے ہیں کہ وہ قومیں جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئیں آج ان قوموں کی تعریف، وقار اور قابلیت سے پوری دنیا متاثر ہے۔ یہ ان قوموں کی جیت ہے کہ ان کے لیڈروں نے ایک ایسے ماحول کی نشو و نما کی جہاں قابلیت پروان چڑھی جس نے زندگی اور فکر کو فروغ دیا اور تحریک بخشی جس سے انہوں نے اپنی اپنی تہذیبوں کا نام روشن کر کے اعلیٰ زمانہ تخلیق کیا۔
اس میں صداقت نظر آ رہی ہے کہ ہماری موجودہ نسل احمقوں کے ہاتھوں تربیت پا رہی ہے جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں تو ہیں لیکن ان کی قابلیت ایک سوالیہ نشان ہے ۔ اس سے زیادہ پر یشانی کی بات یہ ہے کہ ہماری آئیندہ کی نسل بھی ایسے ہی یا ان سے بھی بڑے احمقوں کے ہاتھوں تربیت پائے گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قابلیت کو سمجھنے کے قابل کرے اور زندگی بہتر معاشرتی اصولوں پر گزارنے کے قابل بنائے۔ آمین

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
ارشد اعوان کی دیگر تحریریں
ارشد اعوان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں