مرے وہ نہیں، تم ہو


\"zunairaایک بار پھر کوئٹہ لہو لہو ہے۔ اس بار ذرا زیادہ لوگ مر گئے ہیں ورنہ بریکنگ نیوز میں کہاں جگہ ملتی بلوچستان کے کسی شہر کو ؟ اب جو سوشل میڈیا پر مغفرت کی دعا پڑھنے اور دعاؤں کی طلبی شروع ہو گئی ہے تو الله الله۔ جس قوم کا 80000 لوگوں کو دیشت گردی میں کھونے کے بعد بھی یہ خیال ہو کہ دعا سے بات بن جائے گی ان کی تاویل پر سر ہی پیٹا جا سکتا ہے۔

 مجھے کسی کے لئے دعا نہیں کرنی نہ کسی کے لئے مغفرت پڑھنی ہے۔ نہ مجھے کسی کو شہید کہنا ہے نہ یہ سمجھنا ہے کہ انھوں نے اس ملک کے لئے قربانی دے دی۔ قربانی اپبی مرضی سے دی جاتی ہے۔ یہ جو ھوا ہے یہ قتل ہے۔ بے ہسی ہے۔ خون خرابہ ہے۔ مصیبت تو یہ ہے کے اس بات پر بولنے پر کہا جاتا ہے کے کسی کے لئے دعا کرنا کم از کم تنقید کرنے تو اچھا ہے ۔ نہیں جناب بالکل اچھا نہیں ہے۔ حسن نثار صحیح کہتا ہے کہ مایوسی پھیلانا جھوٹ پھیلانے سے بہتر ہے۔ مجھے یھی مایوسی پھیلانی ہے۔ کیوں کے 80000 لوگوں کی بلی چڑھانے کے بعد بھی دیوتا خوش نہیں ہو رہے یہ جن کو ہم دیوتا سمجھے بیٹھے ہیں اب سوال پوچھیں ان سے؟

 اب پوچھیں کہ آخر کیا بات ہے ہر تھوڑے دن بعد کوئی نہ کوئی شہر خون میں نہا جاتا ہے۔ سوال پوچھیں کے یہ مذمتی بیان کیا انھوں نے بس لکھ کر رکھ لئے ہیں ہر نیے سانحے پر نکال کر ایک پریس ریلیز کر دی جاتی ہے؟ سوال پوچھیں کہ آخر اتنی جلدی ان کو بیرونی ہاتھ کیسے نظر آ جاتا ہے؟ سوال پوچھیں کہ بیرونی ہاتھ ہے یا اندرونی ہاتھ ہے، نقصان اور ناکامی تو ہماری اپنی ہی ہے تو کون ہے ذمےدار ؟ سوال پوچھیں کہ یہ کیسے بزدل دیشت گرد ہیں جو سوفٹ ٹارگٹس مار رہے ہیں؟ یہ ہارڈ ٹارگٹ کیا ہوتا ہے؟ سوال پوچھیں کہ  کمر ان کی ٹوٹ گئی ہے یا روز ہماری ٹوٹ رہی ہے؟ کون پوچھے گا سوال؟ کون پوچھے گا کہ آخر ہمارا خون اتنا ارزاں کیوں ہے ؟ کون پوچھے گا ؟ وہ جو کل کوئٹہ میں مر گئے یا جو زندہ ہیں لکن مردہ دل اور دماغ کے ساتھ۔ مرے وہ نہیں، مرے تم ہو، مرے ہم ہیں ۔ مغفرت کی دعا اپنے لئے مانگو اور کرو انتظار اپنی باری کا۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “مرے وہ نہیں، تم ہو

  • 09/08/2016 at 9:40 pm
    Permalink

    اسلام علیکم!
    محترمہ،
    یا تو آپ بہت بھولی ہیں یا زمین سے کہیں بہت اوپر کسی یوٹوپیا میں بیٹھی پاکستان پر نظر کرم فرما رہی ہیں.
    اور اس بات پر تو آپ کے بھولپن پر قربان ہی ہو جانے کا جی چاہتا ہے جب آپ اسی عطار کے لونڈے سے دوا کی امید رکھتی ہیں جو اس ساری درماندگی کا باعث ہے.
    محترمہ اس وقت بلوچستان پر انڈیا اور را کے سکہ بند بستہ الف کے ایجنٹوں کی حکومت ہے. اور اوپر والے ان کے بھائی وال.
    خدا مجھے عقل دے…کس قوم کے مرنے کی آپ بات کر رہی ہیں. کون سی قوم؟
    اجی محترمہ یہ تو زومبیوں کا انبوہ ہے جو ستر سالوں سے ایک دوسرے کو چیر پھاڑ رہے ہیں.
    کس یوٹوپیا میں رہ رہی ہیں آپ؟
    توصیف آنجم

Comments are closed.