قائداعظم، بھٹو اور عمران کے الیکٹ ایبلز


پاکستان کی مختصر سی تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ پاکستانی عوام کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ انگریز دور کے غلام جاگیرداروں نے آخری لمحے مسلم لیگ کی کشتی پر چھلانگ لگائی تو انہوں نے عوام کی قسمت کو ڈبو دیا۔ جاگیرداروں کو حکمرانی کے ساتھ جڑے رہنا آتا تھا اس لئے وہ تو کامیاب ہو گئے۔ لیکن عام آدمی پہلے قدم پر ہی ناکام ہو گیا۔ قائداعظم کی مسلم لیگ میں آ کر جاگیرداروں کو مسلمانوں کی لیڈری کی سند مل گئی اور یہ موقع بھی کہ ان کی جاگیرداری انگریز کے جانے کے بعد بھی ویسے ہی جاری رہے۔

قائداعظم کی بے وقت موت نے رہی سہی کسر نکال دی۔ سارا نظام ان جاگیرداروں کے ہاتھوں میں چلا گیا اور ان کا گٹھ جوڑ ہو گیا بیوروکریٹوں کے ساتھ، وہ بھی تو عوام کی بجائے انگریز ہی کی خدمت کے لئے تیار کیے جاتے تھے۔ اگر بیچ میں کوئی ایک آدھ سیانا اور مخلص بنگالی سیاست دان تھا بھی تو اسے کچھ کرنے نہ دیا گیا۔ قائد کے نام پر چلنے والی کشتی کے آخری سوار مودودی صاحب کا ٹولہ تھا جن کی مذہبی انتہا پسندی سے فائدہ اٹھایا امریکہ نے اور خمیازہ بھگتا ہم نے۔

قائد اعظم کے جلدی چلے جانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ان کے خیالات اور نظریات کے کئی فرقے بن گئے۔ ہر کوئی اپنی مرضی کے اقتباسات نکال کے لے آتا۔ یہ پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ پاکستان نے چلنا کیسے تھا۔ ایک سیکولر نظام سے لے کر ایک ایسی اسلامی ریاست جس میں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرنا چاہیئے سب کچھ قائد کے فرمودات سے ہی ثابت ہو رہا تھا۔ پاک فوج کے جرنیل اقتدار کے اس کیک میں اپنے حصے کا اندازہ لگا رہے تھے اور امریکہ اس خطے میں اپنےٹھکانے کی تلاش میں تھا۔ اس جنگ کے شروع ہی میں روشن خیال اور عوام ہار گئے۔ قرارداد مقاصد پاس ہو گئی۔

امریکہ کی فکر بجا تھی۔ سوویت یونین زوروں پر تھا۔ چین ایک کیمونسٹ پاور تھی جس کے ساتھ ڈیل کرنا ابھی اس کے تجربے میں نہیں تھا۔ بھارت کے حکمران کسی عدم تحفظ کا شکار نہ تھےاور ان کا جھکاؤ سوویت یونین کی طرف تھا۔ باقی رہ گیا پاکستان۔ امریکہ کی خوش قسمتی تھی کہ اس کو سوویت یونین، چین اور بھارت کے عین درمیان ایک ملک مل گیا جس کے حکمران عدم تحفظ کا شکار تھے اور آپس میں گتھم گتھا تھے۔جاگیردار سیاست دان بھی امریکہ کے ساتھ لا متناہی تعاون میں کچھ کم نہ تھے۔ لیاقت علی خان نے صرف3600 کلومیٹر کا ماسکو کا سفر ٹھکرا کر 11500 کلومیٹر کے واشنگٹن کے سفر کو ترجیح دی۔ لیکن پھر بھی امریکہ نے جرنیلوں کو ترجیح دی کیونکہ ڈکٹیٹرشپ کو مینیج کرنا آسان تھا۔ ایوب خان نے امریکہ کا دورہ کیا۔ پروٹوکول پر بڑے خوش ہوئے اور واپس آ کر مارشل لا لگا دیا۔

امریکہ کا چوائس ٹھیک تھا۔ پاکستان میں فوج کو سب سے اہم ادراہ ٹھہرانا بڑا آسان تھا۔ انڈیا سے دشمنی کا راگ الاپتے رہو اور قوم فوج کی بندگی پر لگی رہے گی۔ پھر ڈکٹیٹرشپ آسان اس لئے بھی ہوتی ہے کہ آپ کو صرف ایک شخص کے ساتھ ڈیل کرنا پڑتی ہے۔ باقی سب تو ماتحت ہوتے ہیں۔ رہا عوام کا مسئلہ تو ان کی کون سوچ رہا تھا۔ حکومت فوج کے پاس چلی گئی۔ وہ اپنی حکومت کو لمبا کرنے کے سارے ہتھکنڈے آزماتے رہے اور عوام غربت اور بے بسی کی دلدل میں پھنستے چلے گئے۔

فوجی حکمران دور اندیش ثابت نہ ہوئے۔ انہیں تو اتنی بھی سمجھ نہیں تھی کہ اپنے سرپلس بجٹ کو کہاں خرچ کرنا ہے جبکہ ملک کا لٹریسی ریٹ جو کہ 1953 میں 18 فیصد تھا کم ہو کر اگلے بیس برس میں 15 فیصد رہ گیا تھا۔ جب تعلیم جیسے صاف نظر آنے والے مسئلے کی طرف توجہ نہ تھی تو سماجی درجہ بندی، نسل پرستی اور لسانی بنیادوں پر تفریق جیسے پیچیدہ مسائل کس کو نظر آسکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک آدھا رہ گیا۔ اور جنگ بھی ہار گئے، عوام جو ساتھ نہ تھے۔ ریاست نے عوام کا خیال نہیں رکھا تھا تو عوام نے ریاست اور حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔

ملک بہت پریشانی کے عالم میں تھا۔ اس وقت کے حکمرانوں کو کچھ عرصے کے لئے واپس پویلین لوٹنا پڑا۔ بھٹو صاحب آ گئے۔ لوگوں کو لگاکہ پیپلزپارٹی اور بھٹو صاحب ایک حقیقی موقع ہیں مگر ایسا نہ تھا۔ بھٹو صاحب کچھ خاص نہ کر سکے۔ بہت جلد ذاتی مفاد عوام اور پاکستان کے مفاد پر ترجیح پا گیا۔ عوام کے مخلص پارٹی رہنما چھوڑ گئے اور ان کی جگہ پھر جاگیرداروں نے لے لی جو آخری لمحے پر بھٹو کی کشتی میں کودے تھے۔ جیسے ان کے بڑے قائداعظم کی کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ بھٹو کی حکومت عوام کی بہتری اور ملک کی ترقی میں بہت کامیاب نہ ہوئی تو جیسے یہ جمہوریت کا قصور ٹھہرا۔

عالمی حالات بدل رہے تھے۔ امریکہ اور سوویت یونین افغانستان کو اپنا اکھاڑا بنانے والے تھے۔اور امریکہ پاکستان کے کندھے پر بندوق رکھ کر یہ جنگ لڑنا چاہتا تھا۔ وہ اپنی فوج سوویت یونین کے مدمقابل لانا نہیں چاہتا تھا۔پاک فوج کے مومن جرنیل نےلبیک کہا اور کمان سنبھال لی۔ مومنجرنیل ہی کی ضرورت تھی۔ کیونکہ لڑائی لادین سوویت یونین کے خلاف تھی۔ جماعت اسلامی نیچرل پارٹنر تھی۔ اپنے ملک اور عوام کے مفاد کو پس پشت ڈال کر یہ لڑائی لڑی۔امریکی ڈالر، صعودی ریال اور پاکستانی نوجوان خرچ ہوئے۔ ایک بھی امریکی فوجی نہیں مرا اور پاکستان برباد ہو گیا۔ کیمونزم تو ختم ہو گیا مگر اب اپنے ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ افغانستان اور پاکستان کی کئی نسلیں برباد ہو گئیں اور تباہی ابھی جاری ہے۔ اس بربادی کو روکنے کی طرف پہلا قدم ابھی اٹھنا ہے۔

نوے کی دہائی آ گئی ساری سیاسی پارٹیاں ایک جیسی ہو گئیں۔ امید کی کرن کہیں نظر نہ آتی تھی۔ مایوسی کے اس دور میں عمران آ گئے۔ کچھ دن ان کا ڈنکا خوب بجا۔ عوام نے ان پر اعتماد کر لیا تھا لیکن عمران خان نے عوام پر اعتماد نہ کیا اور اپنا چھابڑا الیکٹ ایبلز سے بھر لیا۔ وہی چہرے جو پہلے بھٹو کے ساتھ تھے۔

عمران خان کی ذہنی اور نظریاتی پستی بلا کی تھی۔ حمیدگل اور شجاع پاشا ان کے معلم اور گرو نکلے اور طالبان ساتھی اور ہمدرد۔ عوام پہلے حیران ہوئے اور پھر جب جماعت اسلامی کے اتحاد میں پی ٹی آئی کا خیبر پختون خوا ٹیسٹ فیل ہوا تو عوام پریشان ہو گئے۔ ایک اور امید جو ابھری تھی اب ختم ہو چکی تھی اب نہ جانے کب کوئی آئے گا جو عوام کا اعتماد حاصل کر سکے گا۔ ہماری خواہش ہے کہ اب عوام جس پر اعتماد کریں وہ بھی عوام پر اعتماد کرے نہ کہ الیکٹ ایبلز پر۔
Aug 9, 2016

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 176 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “قائداعظم، بھٹو اور عمران کے الیکٹ ایبلز

  • 12/08/2016 at 9:09 am
    Permalink

    buhat buhat umdah

Comments are closed.