ہم سب والوں کے نام غیرتجریدی خط


محترم وجاہت مسعود صاحب\"rana

بعد از تسلیمات گزارش یہ ہے کہ ہمیں تو کبھی اپنے لکھاری ہونے کا زعم تھا اور نہ کبھی ہوگا، یہ آپ کی اقربا پروری تھی جس نے اس ناچیز کو نگارش کی جسارت بخشی، اب آیئے گزشتہ تحریر کے بارے میں جس کو آپ نے مجرد قرار دے دیا اگر گستاخی کو معاف فرما دیں تو پوچھنے کی اجازت دیجیے!

کیا پاکستان بالخصوص پنجاب میں آئے روز بچوں کے اغوا کے واقعات ایک تسلسل سے نہیں ہو رہے، کیا لوگ اپنے گھروں میں بچوں کے ساتھ قید ہوکر نہیں رہ گئے، کیا لوگ دہشت زدہ ماحول میں زندگی نہیں گزاررہے، کیا ہمارا معاشرہ عدم تحفظ کا شکار نہیں ہے. اس حقیقت کو آپ مجرد کیسے کہہ سکتے ہیں. ایسے خوف زدہ ماحول میں ہم کس چیز کا جشن منائیں؟

دوسرے ناچیز نے پاکستان کے قدرتی حسن کی بات کی تھی کیا شاعروں نے اس کے حسن کے قصیدے نہیں لکھے اور کیا پاکستان میں بسنے والے اپنے ملک کی ان خوبیوں سے ناواقف ہیں اور کیا واقعی ہم لوگ اتنے جاہل ہیں کہ ان کو تحریر کے ساتھ منظرکشی کرکے بھی دینی چاہیے.

تیسری بات میں نے 70 سالہ تنزلی کی تاریخ کا ذکر کیا تھا کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اقوام عالم ترقی کے زینے طے کررہی ہیں اور ہم دائرے میں گھوم رہے ہیں اور کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ گزشتہ 70 برس میں جاپان چین کوریا نے شاندار ترقی کی ہے اور ہم بدقسمت ملک جو پچاس کی دہائی تک ان ملکوں کو قرض دیتے تھے آج ان کے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں.

چوتھی بات ہندوستان کی ترقی کی بات تھی ایک ساتھ آزاد ہونے والے ملک سے آپ کو اپنا تقابل کرنا چاہیے اور اپنی ناکامیوں کی اصلاح کرنی چاہیے.

پانچویں بات جہالت کے خاتمے کیلے کچھ گزارشات تھیں کہ خدارا تعلیمی اور صحت کے معیار کو بہتر کیجئے اس پر مختص بجٹ کو بڑھائیں اور دفاع کے بجٹ میں کمی کیجیے، جمہوریت کے تسلسل کی بات کی تھی، بنیادی انسانی حقوق کی بات کی تھی، ماورائے آئین و قانون اقدامات کی مذمت کی تھی، آپ جیسے صاحب علم و دانش سے تحریر کو مجرد قرار دیے جانے پر کوئی افسوس نہیں، لیکن اگر یہ سب باتیں مجرد ہیں تو حقیقت کیا ہے؟

نہایت ادب کیساتھ خیر طلب

رانا امتیاز احمد خان

محترم بھائی امتیاز احمد، کسی کی تحریر شائع کرنا اقربا پروری نہیں کہلاتا۔ البتہ  کسی تحریر پر تنقید کرنا اقربا پروری کے ضمن میں شمار کیا جا سکتا ہے کیونکہ تنقید میں اپنائیت  کا اشارہ موجود ہوتا ہے۔ مقصد یہی تھا کہ آپ رسمی لب و لہجے کو ترک کر کے بے تکلف اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ آپ کی یہ تحریر سکہ بند اداریے کی بجائے ایک بے ساختہ ردعمل کا انداز لئے ہے۔ یہی تجرید سے انحراف ہے اور اسے ہی دلیل کی تجسیم کہا جائے گا۔ امید ہے کہ آپ ناراض نہیں ہوں گے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 22 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan