کوئٹہ: غیرت مندوں کی زبان بندی کر دی گئی ہے


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

ملالہ کو گولی مار دی گئی۔ طالبان پر الزام لگا۔ طالبان کے حامی غیرت مندوں نے فوراً کہا کہ ملالہ تو ہے ہی ڈرامہ، وہ تو ایجنٹ ہے۔ اسے گولی نہیں لگی ہے۔ پھر فوٹو شاپ کی افواہوں کے ذریعے یہ پیغام پھیلایا گیا کہ یہ نرا جھوٹ ہے۔ اور بین السطور یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اسے ہیلی کاپٹر میں سی ایم ایچ پشاور لے جانے والے فوجی، وہاں اس کا علاج کرنے والے، صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، چیف آف سٹاف وغیرہ سب جھوٹے ہیں اور اس ڈرامے کے کردار ہیں۔ سچے تو بس ملک بھر میں صرف غیرت مند صالحین ہی ہیں۔ دو ایک روز کے بعد طالبان نے ملالہ کو گولی مارنے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

اس پر غیرت مندوں نے شور مچایا کہ ’کیا ثبوت ہے کہ ایک ننھی بچی پر یہ حملہ طالبان نے کیا ہے؟‘ یہ تو ’کسی‘ نے خود ہی ان کی طرف سے فون کر کے ان پر ذمہ داری ڈال دی ہے۔ یہ پہلو انہوں نے نظرانداز کیا کہ اتنے اہم بیان کی تصدیق کرنے کے طریقے ہوتے ہیں۔ بڑے صحافی آواز پہچانتے ہیں۔ ان تک پیغام پہنچانے کے مخصوص چینل ہوتے ہیں۔ مگر نہیں، یہ تو سب ڈرامہ تھا۔ طالبان سب سے اچھے تھے، اور ان سے لڑنے والے برے تھے۔ اچھے غیرت مندوں کو تو اچھے لوگ ہی اچھے لگتے ہیں۔

پھر حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت ہوئی۔ غیرت مندوں کا غم سے برا حال ہو گیا۔ بے اختیار چیخ اٹھے کہ حکیم اللہ محسود شہید ہے اور اس کی فورس سے لڑ کر اپنی جان دینے والے پاکستانی فوجی شہید نہیں ہیں، یعنی دوسرے لفظوں میں مردار ہیں۔ اس پر تو پاک فوج کو بھی اس کی مخالفت میں بیان جاری کر کے اظہار افسوس کرنا پڑ گیا تھا۔

پھر آرمی پبلک سکول کا سانحہ ہوا۔ اس پر اتنا شدید عوامی ردعمل ہوا کہ غیرت مندوں کو خود ہسپتال جا کر زخمیوں کی عیادت کرنی پڑی۔ گو کہ ابھی بھی وہ یہی کہتے تھے کہ ’کیا ثبوت ہے کہ یہ خودکش دھماکہ طالبان نے کیا ہے؟‘۔ طالبان ذمہ داری لے لے کر مر گئے، لیکن غیرت مند نہ مانے۔

اب کوئٹہ کے سانحے میں بلوچستان کی قتل و غارت پر پہلی مرتبہ ملک گیر عوامی سوگ کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ یہ وکیلوں کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ صرف ملی یکجہتی کونسل کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ عوام کا معاملہ بن چکا ہے۔ وہاں سے آنے والی تصاویر نے دل دہلائے ہیں۔ لوگوں کو غمگین کیا ہے۔ اس مرتبہ طالبان نے ذمہ داری قبول کی ہے تو کسی گوشے سے کسی فوٹوشاپ والے غیرت مند کو آواز بلند کرنے کی جرات نہیں ہوئی ہے کہ ’کیا ثبوت ہے کہ یہ خودکش دھماکہ طالبان نے کیا ہے؟‘۔

اس غمگین فضا میں یہی ایک بڑی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے کہ اب عوام میں طالبان کا دفاع کرنے والے کم ہو رہے ہیں۔ ان کو خود بھی احساس ہونے لگا ہے کہ کون مار رہا ہے اور کس کو مار رہا ہے۔ ان کو کم از کم یہ پتہ چل گیا ہے کہ خواہ یہ دہشت گردی بھارتی ’را‘ کے کہنے پر کی جا رہی ہو یا کسی برادر اسلامی ملک کی ایجنسی اس کے پیچھے ہو، مگر دہشت گردی کرنے والے پاکستانی ہی ہیں۔ عوامی دباؤ نے ان طالبان کے حامی غیرت مندوں کی زبان بند کر دی ہے۔ عوام اب اپنے دشمن کے بارے میں اسی طرح یکسو ہوتے رہیں گے تو معاملات بہتری کی طرف ہی جائیں گے۔ لیکن عوام کے علاوہ حکومت اور فوج بھی یکسو ہوں گے تو پھر ہی کچھ بات بنے گی اور ہم پشاور اور کوئٹہ جیسے سانحات سے محفوظ ہوں گے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 917 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar