کوئٹہ سانحہ – گھر سے مقتل تک


\"Barkatکوئٹہ میں کل کے واقعے نے یوں تو عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی۔ بانکی مون سے لے کر عبداللہ عبداللہ تک سب نے لے دے کر ایک ہی طرز پر اس سنگدلی پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ نجی اور ریاستی میڈیا نے ملکی سطح پر جو ہیجان آمیزی تخلیق کی اس کا بھی جواب نہیں، پل پل ایک ایک دم توڑتے ہوئے شخص کی خبر رکھی، شہدا کی آخری لمحات میں آہ و بکا اور کلمہ طیبہ کا ورد کراتے ہوئے سنایا گیا اور ساتھ میں یہ عندیہ دے دیتے کہ خواتین، کمزور دل والے حضرات اور بچے آہ وبکا سے ممکنہ طور پر ہونے والے نفسیاتی اثرات سے خود کو بچائیں۔ ادھر بلوچستان حکومت کے ترجمان اور وزیر داخلہ آپے سے باہر ہوئے جا رہے تھے، انڈیا اور افغانستان کو للکار رہے تھے، لگتا تھا نسیم حجازی کے ناولوں کے مہان کردار شطرنج کی بساط پر ایک مرتبہ پھر عود آئے ہوں۔ کیا جلالی انداز تھا، ذمہ داری یکدم فکس کرا دی، خود کو پل بھر میں بری الزمہ کرا دیا، اوپر سے ٹی وی چینل کے اینکرز یہ جرح کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہندوستان کا تو بارڈر ملتا ہے لاہور سے، جس وقت لوگ کوئٹہ اور پشاور میں لاشیں اٹھا رہے ہوتے ہیں اس وقت لاہور میں کہیں فیشن شو ہو رہا ہوتا ہےِ، کہیں آرٹ گیلری میں نمائشیں، کہیں کراس بارڈر کبڈی اور امن کی آشا کھیلی جا رہی ہوتی ہے۔

یہاں پر یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ اس سانحے سے متعلق ہماری سول فورس، انٹیلیجنس کی ناکامی کا ہم کیا جواز دیتے ہیں؟ اتنے بڑے پیمانے پر تباہ کاری کا منصوبہ کیوںکر ممکن ہو سکا۔ جب اس منصوبے پر کام ہو رہا تھا اس وقت وہ کونسے کار خیر میں مصروف تھے؟ اگر ان کو صرف وی آئی پیز کی خیر مطلوب ہیں تو سول فورس اور سول انٹیلیجنس وی آئی پیز سے تنخواہ و مراعات وصول کرلیا کریں، عوام کے ادا کردہ ٹیکس پر ان کا کوئی حق نہیں بنتا۔ ویسے بھی اب شہر کوئٹہ میں سیکورٹی سے لے کر ٹریفک تک کا کام ایف سی کے اہلکاروں نے سنبھال لیا ہے۔ وہ ہمہ تن ڈبل سواری سے نمٹنے کے عظیم مقصد سے نمٹ رہے ہیں کہ منکرین سنگل سواری کی گوشمالی بھی تو قومی مفادات کے زمرے میں آتا ہے۔ جس پل یہ سانحہ ہوا ایف سی کی بڑی تعداد بلوچستان یونیورسٹی میں ایک ملکی سطح کا بک فئیر کرا رہی تھی، طلبا و طالبات کے درمیان ذہانت اور یادداشت مضبوط کرانے کے لئے انتظام و انصرام کرا رہی تھی۔ اب انٹیلیجنس فیلئیر کا کیا کیا جائے، لگتا یہ شعبہ بھی ان کو سنبھالنا پڑے گا۔

جب شہر میں قیامت صغرا کا منظر برپا تھا، لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کے منتشر اعضا ڈھونڈ رہے تھے، شہر کی تمام شاہراہیں یکسر بند ہو گئیں، خبر پہنچی کہ مرکز سے جنرل راحیل شریف اور نواز شریف یکے بعد دیگرے کوئٹہ آئیں گے۔ جو جہاں تھا وہیں بیٹھ گیا۔ مجال ہے اڑتی چڑیا بھی پر مار سکے۔ گورنر ہاوس اور سول ہسپتال جس گے گرد پورا شہر گھومتا ہے، کی تمام تر شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ ہزاروں گاڑیاں اور ان کے چلانے والے باہم گتھم گھتا تھے۔ کسی کو ہسپتال جانا تھا تو کسی نے بچوں کو سکول سے لینا تھا۔ المختصر بے اعتدالی، غصے اور اشتعال سے بھپری ہوئی رعایا، موٹی موٹی گالیاں تھوک رہی تھی۔ جس کا بار ہا مطلب یہی نکلتا ہے کہ۔۔۔ کریدتے ہیں جو اب راکھ جستجو کیا ہے یا بڑی دیر کی مہربان آتے آتے۔

\"quetta_hospital_blast_976x549_2\"گھر جانے کی کوئی امید نہ پا کر ہم اس صورت حال میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے دفتر میں محصور ہوکر رہ گئے تھے۔ ٹی وی چینل مستعدی سے نمک پاشی کئے جا رہے تھے، واٹس ایپ اور فیس بک پر سینکڑوں دوست سہمے سہمے اور غیر سیاسی میسجز کر رہے تھے، دلخراش تصاویر کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ لے دے کر صبر جمیل پر ہی بات ختم کرا دیتے تھے، جو دوست کوئٹہ سے بہت دور، اسلام آباد میں رہتے ہیں وہ ناصحانہ رائے دیتے کہ ٹیک کئیر۔۔

ٹیک کئیر کا ہم کیا کرتے کہ یہ ایک ایسا صیغہ ہے جو شاید ابھی تک بلوچستان اور دیگر روایتی معاشروں کے لسانی لاشعور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کیوں کہ اس میں صرف فرد واحد کو خیال رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے، لیکن روایتی قبائلی معاشرے میں ایک (فرد) سب کے لئے اور سب (اجتماع) ایک کی زندگیِ، انا اور حقوق کے لئے لڑتے ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ، پشاور، فاٹا، افغانستان، یمن، اور دیگر قبائلی معاشرے جنگ کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں، کہ یہاں لوگوں کو انفرادی ٹیک کئیر نہیں آتا۔

اس صورت حال میں سول سوسائٹی اور خصوصاََ مقتدرہ سیاسی تنظیموں نے حد درجے کی سادہ لوحی یا سطحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ اور وفاق میں اکلوتے بلوچستانی وزیر حاصل بزنجو نے دھڑام سے ذمہ داری بارڈر سے اس بار فکس کرا دی۔ ان کے اتحادی جو فی الوقت کوئٹہ کے تمام قومی، صوبائی اور بلدیاتی اداروں کی نمائیندگی کر رہے ہیں سرے سے نظر نہیں آ رہے۔ جمہوریت اور وفاقیت کی علامت سمجھے جانے والے فرد جو سامراجیت کے نئے اسالیب اور جمہوریت کے اصل روح پر بھاشن دیتے تھے، جو سامریوں کی ریاکاری اور گمراہی سے پردہ اٹھاتے اور جن کی ایک ایک بات دم عیسی کی مانند اثر کر جاتی، وہ ان حالات میں خود ہی پردہ نشین ہو گئے ہیں۔ ان کی شعلہ نوائی خاندانی مفادات کی بھینٹ چھڑ گئی ہے یا کوئی اور معاملہ ہے اس کا کوئی سرا مل نہیں پا رہا۔

\"quetta_hospital_blast\"ان حالات میں جب راکھ اور خس و خشاک ہی رہ گئے ہوں، خیال رکھا بھی جائے تو کس چیز کا، یہاں تو حسرت تعمیر بھی نہیں، سی پیک سے کوئٹہ اور شمالی بلوچستان کا کیا واسطہ، یہ تو ماسٹر پلان کا حصہ ہی نہیں بلکہ یہ علاقے بشمول دیگر پشتون علاقوں کے وہ خطہ زمین ہے جہاں عالمی دہشت گردی کے ساہوکاروں نے کرائے کے قاتل پیدا کرنے ہیں، یہاں پر مذہب فروشوں نے لاکھوں سربکف فرزندان اسلام تیار کرنے ہیں، کہ زاہد حامدوں، اوریاوں، شیخ رشیدوں نے اکیسویں صدی کا دارالسلام اسی خطے کو ٹھہرایا ہے۔ اب دارالسلام معاشی خود کفالتِ، لبرل سرمایہ دارانہ جمہوری روایات، سیکولرزم، مخلوط تعلیم، فحاشی و عریانی پر مبنی فیشن شوز، کفار عالم کے ساتھ تجارتی، ثقافتی اور تہذیبی رشتے رکھنے کا متحمل تو نہیں ہو سکتا۔

اس لئے یہاں پر سول سوسائٹی کے فعال سماجی ورکرز، قانونی ماہرین اور تنقیدی شعور پھیلانے والے سیاستدانوں کی کوئی جگہ بن ہی نہیں سکتی۔ اگر کوئی ایسی کھیپ تیار ہو بھی جائے تو ان کو لوح جہان سے مٹانے میں کیا تردد ہو سکتا ہے، کہ یہ حرف مکرر کی مانند زندگی کی قرطاس پر واپس نہیں آنے والے اور جو دور سے روشنی کے ان میناروں کو دیکھ رہے تھے، ان کے بھی قدم رک جائیں گے، ہو سکتا ہے وہ ٹیک کئیر کے اصلی مفہوم سے روشناس ہو جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں