سانحہ کوئٹہ پہ اشکبار قوم


\"muhammadraddsبلوچستان کی بیگانگی کی تاریخ بہت پرانی ہے، وقتاََ فوقتاََ اضطراب میں اضافہ ہوتا رہا کبھی زخم لگتے اور کبھی پرانے زخموں سے خون رستا رہا۔ آمریت تو اپنی جگہ جمہوری حکومتیں بھی بلوچستان کے حالات کو شاید سمجھ نہ سکیں یا پھر غفلت کا شکار رہی ہیں۔ خود مختاری اور رائلٹی کو بڑھانے کے مطالبے میں سختی آتی گئی اور پھر اس الجھاؤ سے بیرونی عناصر اپنا فائدہ حاصل کرتے رہے کیونکہ ان کے لئے شاید سازگار حالات تھے۔

افغانستان کی صورت حال کا افغانستان کے بعد اگر کسی ہمسایہ ملک کو نقصان ہوا تو وہ پاکستان ہے۔ فوجی مداخلت کا تجربہ بھی آخر میں کچھ زیادہ دیر پا امن کو یقینی نہ بنا سکا۔ کبھی فرقہ وارانہ کارروائیاں اور کبھی علاقائی، بلوچستان کے حالات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں۔ لیکن اس سب کے نتیجے میں خون انسانوں کا بہا ہے۔ دشمنوں کی سازشیں ہوں یا اپنوں کی ناراضگیاں انسان ہی قتل ہوئے ہیں۔ لاشوں کے انبار لگتے رہے اور ہمارے اقتدار کے رسیا صرف اعداد و شمار پہ ضد لگاتے رہے۔ جن کی گودیں اجڑی ہیں، جن خاندانوں کے کفیل خاک میں جا ملے ان کے درد کا مداوا کون کر سکتا ہے۔ اس قوم کو بیانات اور مذمتوں سے آگے دیکھنا پڑے گا۔ کوئٹہ کے باسی ہوں یا پشاور اور کراچی کے، اذیتوں کے دکھ ایک جیسے ہیں۔ پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان کے عوام کوئٹہ کے بہت نزدیک ہیں، اس دھماکے، ان چیخوں اور سسکیوں کی آوازیں ہر شہری کے کانوں تک گئی ہیں۔ آزمائش کی اس گھڑی میں پورا ملک ایک مرکز ہے۔

قوموں کی تاریخ میں ایسے وقت نے ہی تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ ضرورت اگر کچھ ہے تو وہ \”وژن\” کی ہے، ایسا قومی وژن جو ہماری نسلوں کو اس خونی دور سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ تمام محرومیاں جو نفرتوں کی فضا کو بنا رہی ہیں انہیں سر فہرست رکھ کے ان کے حل کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کے مسئلے کو جتنی اہمیت دی جا رہی ہے شاید وہ ناکافی ہے یا پھر سمت کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا اور فیصلہ سازی میں حقیقی نمائندگی جب تک بلوچ عوام کی نہیں ہو گی معاملات مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ان قربانیوں اور ان جانوں کے نذرانے کو ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ اور جو اس خطے کے لوگوں کے حوصلوں کو آزما رہے ہیں اور بلوچستان کی اندرونی بدامنی سے فائدہ اٹھا کے عدم استحکام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں بھی یہ خبر ہونی چاہئے کہ اس قوم کی ایک نشانی ایسی ہے جو اسے دنیا میں منفرد بنا دیتی ہے،، وہ یہ ہے کہ \” مشکل ترین گھڑی میں پاکستانیوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں\” اس خوبی نے ہمیشہ انہیں ہر محاذ پہ سر خرو کیا۔

پاکستان کا قیام اگر ایک جدو جہد کے نتیجے میں ممکن بنا تو اسے قائم رکھنے کی جدو جہد سے بھی یہ قوم پیچھے نہیں ہٹے گی۔ عام حالات میں بٹے ہوئے لوگ ایسے آزمائیشی موقعے پہ تمام رنجشیں بھلا کر ایک ہو جاتے ہیں۔ یہ امید سحر بھی ہے اور بد امنی کی تاریکی چھٹنے کا یقین بھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں