آزاد قلمدار…. وہ قلم کے دار پہ مصلوب رہا



47625_717330231619526_75980958_nمیں نے پہلی مرتبہ اسے دیکھا تو موٹے موٹے شیشوں سے جھانکتی آنکھوں میں پوشیدہ جذبات کے آتش فشاں کا تاثر بہت زیادہ نمایاں تھا۔ پہلی ملاقات مصدق سانول کے آفس میں ہوئی تھی، مصدق نے تعارف کروایا، مختصر سی بات چیت میں محسوس ہوا کہ جیسے وہ بہت کچھ کہنا، کرنا اور تبدیل کرکے رکھ دینا چاہتا ہے۔
اس کے اندر گویا ایک موجیں مارتا دریا تھا جو صدیوں سے بنجر ذہنوں کو سیراب کرنا چاہتا تھا، اس کے ذہن میں ایک طوفان موجزن تھا، جو تمام فصیلوں کو توڑ کر ان میں صدیوں سے قید شعور کا آزاد کروانے کا عزم رکھتا تھا۔
وہ مجھ سے بہت کم عمر تھا، لیکن جب بھی ملاقات ہوئی، یوں لگا کہ میں ستّر پچھتر برس کے کسی شخص سے مل رہا ہوں۔ لیکن بوڑھے لوگوں پر تو میں نے سکوت طاری دیکھا ہے، یہ عجیب شخص تھا جو باتوں سے، حلیے سے اور خاص طور پر اپنی آنکھوں سے برگزیدہ اور جہاندیدہ دکھائی دیتا تھا، لیکن اپنے ہم عمر نوجوانوں سے کہیں زیادہ جوشیلا تھا، یوں لگتا تھا کہ بجلیاں کڑک رہی ہیں، اور سمندر کی لہریں اس کے قلب و ذہن میں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں۔
یہ آزاد قلمدار تھا…. اس کا اصل نام بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا، مجھے بھی آج ہی معلوم ہوا ہے کہ والدین نے اس کا نام سید امتیاز رکھا تھا، لیکن یہ اس کا امتیاز تھا کہ وہ آزاد سوچ کا مالک اور قلم کا پاسبان رہا۔ اس کی پرزور خواہش تھی کہ میں اردو زبان کے موضوع پر اپنی کتاب کے پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرلوں، لیکن چکی کی مشقت کے بعد نہ تو مشق سخن کے لیے وقت میسر آسکا اور نہ ہی ذہنی یکسوئی۔
ہندوستان میں بولی جانے والی بولی جسے ہندی کہا جاتا ہے، اور پاکستان میں اس بولی کو اردو کا نام دیا گیا ہے، ا±دھر سنسکرت اور اِدھر فارسی و عربی کی آمیزش کرکے اسے جدا کرنے کی ناکام کوششیں تو کی گئی ہیں، لیکن اس کے باوجود پشاور سے کلکتہ تک ہندی فلمیں مقبولِ عام ہیں، اور دنیا بھر میں برصغیر سے تعلق رکھنے والے افراد جس بولی میں ایک دوسرے سے باآسانی مربوط ہوجاتے ہیں، وہ ایک ہی زبان ہیں، ادھر اردو کو اور یہاں ہندی کو اجنبی قرار دینے کی سرتوڑ کوششیں کی گئیں، لیکن دونوں زبانیں ایک ہی ہیں، دونوں کے قواعد ایک ہیں، اور دونوں میں بنیادی نام جیسے بھائی، ماں باپ مشترک ہی ہیں، صرف رسم الخط مختلف ہیں۔ آزاد چاہتا تھا کہ اگلی نسل کو رسم الخط کی زنجیروں سے بھی آزاد کروادیا جائے، اور رومن رسم الخط کو عام کیا جائے۔ اوردلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی اگلی نسلوں میں رومن رسم الخط کا رجحان عام ہے، صرف ہماری نسل کے لوگ اردو یا دیوناگری رسم الخط پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے طور پر اپنے محدود وسائل سے اس ضمن میں کوشش کررہا تھا۔
ایک روز مصدق سانول اردو زبان پر میری ادھوری کتاب کے حوالے سے بات کررہے تھے، طویل بات چیت کے دوران ایک موقع پر میں نے انہیں بتایا کہ خواجہ حسن نظامی کے دور تک تو ا±س بولی کو جو برصغیر میں کشمیر سے کنیاکماری تک رابطے کی زبان ہے، ”ہندوی یا ہندی“ کا ہی نام دیا جاتا تھا، اردو نام کو تو بیسویں صدی میں شہرت حاصل ہوئی۔ میں نے کچھ حوالے بھی دیے۔ اس وقت آزاد بھی اس نشست میں شریک ہوچکا تھا، مصدق سے نشست کے اختتام پر وہ میرے ساتھ ہولیا، ہم اس حوالے سے کئی گھنٹے بات کرتے رہے۔ آزاد کی خواہش تھی کہ اس کتاب کو جلد از جلد شایع ہونا چاہیے، اس لیے میں اس پر نئے سرے سے کام شروع کروں۔ جب بھی اس سے میری ملاقات ہوتی، وہ اس حوالے سے کوئی نہ کوئی بات ضرور کیا کرتا تھا۔
پھر مصدق سانول کے ساتھ زندگی نے وفا نہ کی تو ہم جو ان کی وفا کے سہارے پر کھڑے تھے، ٹوٹنے اور بکھرنے لگے، آزاد کو چپ لگ گئی تھی، اب وہ بہت کم بات کیا کرتا تھا۔ پھر اس کے پروں کو باندھنے کی کوشش کی جانے لگی۔
یاد رہے کہ مصدق کی خواہش تھی، اردو زبان کو مذہبی اجارہ داروں کے شکنجے سے آزاد کرایا جائے۔ اس زبان میں ہر موضوع اور ہر شعبے پر مواد کا بھرپور ذخیرہ جمع کرکے ہی اس کی بقا کا سامان کیا جاسکتا ہے۔ اس مشن میں آزاد کے ساتھ مجھے بھی شامل کرکے انہوں نے میری عزت افزائی فرمائی تھی۔
آزاد قلمدار جیسے لوگ مغرب میں پیدا ہوں تو سینکڑوں نہیں تو درجنوں کتابوں کے مصنف ضرور ہوتے ہیں، اور اس کم عمری میں یوں بے چارگی اور اذیت کی موت نہیں مرجاتے، اس طرز کے لوگ جن میں توانائی کے ذخائر موجود ہوں، وہ ترقی یافتہ دنیا میں کسی نہ کسی سطح پر اگلی نسل کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہوتے ہیں۔
میں اس جانب بیشتر مواقع پر نشاندہی کرچکا ہوں کہ ہمارے ملک میں زندگی کے ہر شعبے میں قدم قدم پر عدم تحفظ کا احساس اس قدر شدید ہوتا جارہا ہے کہ ہمارے بیشتر لوگ ایسے امراض میں مبتلا ہوکر موت سے ہمکنار ہورہے ہیں، جن کا علاج دریافت ہوئے بھی نصف صدی گزر چکی ہے۔ آزاد کی عمر مرنے کی ہرگز نہیں تھی، اس کی موت کا ذمہ دار ہمارا معاشرہ ہے، جس کا چہرہ منافقت کی غلاظت سے اب کریہہ المنظر ہوتا جارہا ہے۔
آزاد بلاگ ایڈیٹر کے فرائض انجام دیتا تھا، اس کا نام شاید ہی کہیں کسی جگہ پبلش ہوا ہو،لیکن عجیب بات ہے کہ اسے دہشت گردوں کی جانب سے فون پر دھمکیاں ملنے لگیں، ایک تو مصدق نہیں رہے تھے، جن کے جانے سے سچ پوچھیے تو ہم یتیم ہوچکے تھے، اوپر سے کسی کے ساتھ جب ایسی صورت حال ہو، تو آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس کی کیا کیفیت ہوگی۔ وہ ڈرنے والوں میں سے نہیں تھا، لیکن جب انسان کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو، اور اس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہوں تو کسی کا بھی آزاد کی مانند غصے سے برا حال ہوجائے گا۔ شاید جن لوگوں نے اس کو اس تناو¿ بھری صورتحال سے دوچار کیا تھا، شاید وہ بھی جانتے تھے کہ اس طرح سے اسے راہ سے ہٹانا آسان ہوگا۔
کل جب سے میں نے دوستوں کو آزاد قلمدار کی وفات کی اطلاع دی ہے، مسلسل تعزیتی فون آرہے ہیں، کئی ایک کی تو فون پر روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں، میں بس ہمت بندھاتا رہا، مصدق کے بعد یہ دوسرا بڑا صدمہ ہے، میری کون ہمت بندھائے گا؟
جس ادارے میں آزاد نے مصدق کے ساتھ کام کیا تھا، اس کے اراکین کو تو آزاد کی وفات کے حوالے سے کوئی خبر پبلش کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی، ویسے بھی جس طرح کے برگر بچے اب اس طرح کے اداروں میں اکھٹا ہوتے جارہے ہیں، وہ صرف ”واو¿…. و¿و¿و¿و¿و¿و¿و¿و¿و¿و¿“کرنا جانتے ہیں، ہائے بھی وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر کرتے ہیں، اردو والی ہائے ان میں سے کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس لیے کہ وہ جس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ا±س کے اکثر افراد نے تو شاید اس ملک کے حقیقی دکھوں اور غموں کی کبھی کوئی جھلک بھی نہ دیکھی ہو، ان کی زندگی تو ترقی یافتہ ملکوں کے دولت مندوں سے بھی زیادہ پرتعیش ہے، کہ انہیں ہرجا ذہنی غلام میسر آجاتے ہیں۔
ایک دوست نے مجھے ابھی میسیج کیا ہے کہ کاش آپ مجھے یہ خبر ہی نہ سناتے…. میں نے جواب دیا ہے کہ کاش یہ خبر ہی نہ ہوتی…. اور خبر یہ ہوتی کہ مصدق اور آزاد کے ساتھ مل کر میں اگلی نسل کے لیے نئی منزلوں کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں۔
یہاں میں اپنا ایک قطعہ آزاد قلمدار کے نام کرنا چاہوں گا۔ شعری ہنر سے ناواقف ہوں، اس لیے اسے پیمانوں سے پرکھنے کے بجائے اس کے مفہوم پر ہی توجہ دیجیے گا، یہ مفہوم آزاد قلمدار کی شخصیت کی بخوبی ترجمانی کررہا ہے:
نہ کوئی لفظ تھا ، نہ ہی کوئی افسانہ تھا
نہ کوئی شہر تھا نہ ہی کوئی ویرانہ تھا
نہ مشت خاک کہ نذر غبار ہو جائے
قلم کے دار پہ رکھا گہر فسانہ تھا


Comments

FB Login Required - comments