کالم محفوظ ہے، باقی کچھ نہیں بچا


\"fakhraہر روز سوچتی ہوں آج شام \”ہم سب\” کے لیے کچھ لکھوں گی۔

امجد صابری قتل ہو جاتا ہے تو میں ڈر جاتی ہوں اس ملک میں کسی خوش رہنے اور خوش رکھنے والے کی جگہ نہیں ہے، میں احباب میں سے بہت اچھے لوگوں کو میسجز لکھتی ہوں اپنا بہت خیال رکھیں آپ جیسے لوگ محفوظ نہیں ہیں۔

پنجاب میں بچے دھڑا دھڑ اغوا ہو رہے ہیں ،خوف کے مارے اپنے تمام احباب اور رشتے اروں کو فون اور واٹس ایپ پر پیغامات بھیجتی ہوں۔

بچے اکیلے نہ چھوڑیں، ملازموں کے ساتھ نہ جانے دیں، بچوں کے ساتھ ہر دم کوئی نہ کوئی رہے، بچے محفوظ نہیں ہیں

پھر خبریں آتی ہیں کہ کراچی کو ایک بارش لے ڈوبی، کراچی میں کوڑے کے وہ ڈھیر ہیں کہ ان کا تعفن ہماری جمہوریت کی مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے۔ سوچتی ہوں آج تو کراچی پر ہی لکھوں گی، صفائی نصف ایمان ہے، کیوں رکھیں ہم اپنے گھر اور شہر گندے۔ ہماری صحت محفوظ نہیں ۔کچھ لکھنے کے کئے کراچی کی تازہ ترین صورت حال دیکھنے کو ٹی وی آن کرتی ہوں تو خبر آتی ہے راولپنڈی میں عورتوں کو چھریاں مارنے والا گروہ سرگرم ہوگیا۔ انیس عورتوں پر نا معلوم افراد حملہ کر چکے ہیں۔ دن بھر کی سخت ملازمت سے یا شاید رات بھر کی نائٹ ڈیوٹی سے لوٹتی آنکھوں میں نیند اور دماغ میں بچوں کے ناشتوں کی فکر میں گھلتی عورتیں تاریک گلیوں میں نہ جانے کس کی چھری کا نشانہ بن جائیں، کون جانتا ہے؟

اور میں پھر فون پر پیغامات لکھنے لگ جاتی ہوں۔

میں جو رات گیارہ بجے میٹھا کھانے کو دل چاہے تو ٹیکسی پکڑ کر صدر کی کسی بیکری پہنچ جانے والی، کس طرح باہر جاؤں گی۔ میں محفوظ نہیں۔ کیا خبر ٹیکسی والا مجھے چھری بھونک دے یا بیکری والا، یا بیکری سے میری ہی طرح میٹھا یا نمکین خرید کے نکلتا شخص مجھے مار ڈالے۔ میں گھر بیٹھ جاتی ہوں، چھپ جاتی ہوں۔ اور سب کو چھپ جانے کا کہتی ہوں۔

میرا کالم نہیں لکھا جاتا۔ کیونکہ میں میسجز لکھنے میں مصروف ہوں۔ ہم محفوظ نہیں ہیں ۔عورتیں محفوظ نہیں ہیں ۔

اگلے دن میں سنتی ہوں جاسوسی کے الزام میں ملک بدر کیا گیا امریکی شہری ملک میں بے دھڑک داخل ہوگیا ۔ اور مجھے خوف آتا ہے کہ میرا ملک اور اس کے ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں ہیں۔

نامور وکیل کی ٹارگٹ کلنگ ہو جاتی ہے اور میں ڈر جاتی ہوں کہ میرے ہمسایوں اورواقف کاروں میں کتنے ہی لوگ وکیل ہیں ۔میں پیغام لکھتی ہوں دوستو اپنا بہت خیال رکھیں وکیل محفوظ نہیں ہیں۔

آرمی پبلک سکول ، مدرسے، مہران بیس اور دیگر حساس نوعیت کے حاثات کو کافی وقت گزر گیا ہے سو ان کے لئے مجھے ڈر نہیں لگتا۔

وکیل مقتول وکیل کی میت اٹھا کر ہسپتال لے جاتے ہیں اور دھماکہ ہو جاتا ہے۔ میڈیا کے نمائندے، نامور وکیل ، عالی دماغ وکیل مر جاتے ہیں۔ اور میں پیغام لکھتی رہ جاتی ہوں دوستو اب ہسپتال اور مردہ خانے بھی محفوظ نہیں ہیں۔

اس حادثات کی بھیڑ میں ڈھنگ سے ہم تو مذمتی پیغامات بھی نہیں لکھ پاتے۔ ہم نہ تو اپنی فوج، نہ عدلیہ، نہ انتظامیہ، نہ حکومت نہ میڈیا کسی سے کچھ کہ نہیں پاتے ۔کوئی سوال نہیں کر پاتے، کسی کا گریبان پکڑ نہیں سکتے کسی سے یہ پوچھ نہیں سکتے کہ کیا اس ملک میں کوئی محفوظ بھی ہے؟ چنانچہ ہم اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو خبردار رہنے اور اپنا بہت خیال رکھنے کے میسجز لکھتے رہ جاتے ہیں، سو میں بھی یہی کرتی ہوں اور میرا کالم نہیں لکھا جاتا۔ میرا کالم محفوظ رہ جاتا ہے اور میری رائے بھی۔ لیکن میں پھر بھی محفوظ نہیں ۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں