اسلام آباد سے حیدر آباد تک، سفر اور تصور


صبح کے چار بجے کا الارم لگایا، لیکن اُٹھ نا پائے، بھئی اُٹھتے تو تب نہ جو سوتے۔ رات ایک بجے تک ماں جی کی نصیحتیں سُنیں۔ سفر میں  \"omairاحتیاط کرنا۔ کسی سے کچھ لیکر مت کھانا۔ سامان کا خیال رکھنا، ۔۔۔۔ بھئی ماں تو ماں ہیں۔ بھلے میں تیس کے پیٹے میں داخل ہونے والا ہوں، اور بیگم کو لینے اسلام آباد سے سسرال حیدر آباد جا رہا ہوں، ایک بیٹی کا باپ ہوں لیکن ماں جی کیلئے تو چھوٹا ہی ہوں نا۔ سوچا اب سووں گا تو صبح آنکھ نہ کُھل سکے گی۔ سو ادھر اُدھر کسی طرح وقت گزارا اور تین بج کر پچپن منٹ پر اپنے انہیں شادی شدہ ہاتھوں سے الارم بند کیا۔ بیگ پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی۔ سب ٹھیک پا کر، غسل کرنے غسل خانے میں چھلانگ لگائ۔

پھسلتے ہوئے بچے، اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ کمرے میں کوئی نہیں احتیاطا دیکھا کہ کوئ دیکھ کر یہ نہ کہہ دے کہ بیگم سے ملنے کو باولا ہوا جاتا ہے۔غسل کر کہ تیار ہو کہ باہرسے ٹیکسی لی اور اسٹیشن کو روانہ ہو گئے۔اپنی سیٹ تلاش کی، اور براجمان ہو گئے۔ رفتہ رفتہ باقی لوگ بھی ارد گرد موجود تھے۔کسی خواب کی مانند سب کچھ ہوتا گیا اور چھ بج گئے اور ٹرین چل پڑی۔

شروع میں تو بیگم اور بچی سے ملنے کے موقع کے خیالی پلاو پکائے لیکن چکلالہ کہ اسٹیشن آنے پر چونک کر نگاہ دوڑائ تو پایا کہ ساتھ میں پانچ ہمسفر بمع دو عدد حسین چہرے بھی موجود ہیں۔لمبا سفر تھا سو کچھ نہ کچھ گپ شپ تو لازمی تھی۔ حسیناوں پر نگاہ ڈالتا تو رن مُرید ضمیر اور حسیناوں کی والدہ محترمہ دونوں کی طرف سے جنگ کا اندیشہ تھا سو ساتھ والے بھائیوں گفتگو شروع کی۔ اسی دوران خوبصورت گھاٹیوں سے گزرتی ٹرین جہلم ریلوے اسٹیشن پر رُکی تو سامنے والی حسینہ نے میرے ماتھے پر ازل سے لکھا ہوا \”بھائی\” لفظ پڑھا اور پھر باقاعدہ ادا کرتے ہوئے بولی کہ پانی کی بوتل لا دیں۔ پانی لا کر دینے پر پڑھا گیا سبق دوہراتے ہوئے حسینہ نے شکریہ ادا کیا۔ گویا یہ اُس فیملی سے گپ شپ کا بھی آغاز ہو گیا۔ لاہور تک پہنچتے پہنچتے تو گویا سب ایک فیملی بن چُکے تھے۔ ادب و آداب کے دائرے میں خواتین سے بھی گفتگو، ایک دوسرے کو اپنا اپنا کھانا دینا لینا وغیرہ جاری ہو چکا تھا۔ اور حسیناوں کی والدہ کے قصے بھی شروع ہو چکے تھے جن میں کبھی اُن کی کسی نند نے اُن کی بیٹیوں پر کالا جادو کیا اور کبھی اُن کے معصوم ترین بیٹے پر آوارہ گردی کا جھوٹا الزام لگا۔

گویا چوبیس گھنٹے کیلئے یہ چھ افراد کا کیبن ہی میری دنیا تھا، میری فیملی تھا، میرا وطن تھا، مجھے انہیں کہ دکھ درد بانٹنا اور محسوس کرنا تھے۔ اور اپنی ناقص عقل کو استعمال کرتے ہوئے اچھی رائے بھی دینا تھی۔ میرے یہ ہمسفر افراد اور میرے درمیان جیسے کوئ وقتی لیکن مضبوط رشتہ بن چکا تھا۔ ہم سب مل کر کھا رہے تھے۔ ایک دوسرے کے کام آ رہے تھے۔ اُس کیبن میں آنے والی ہر مشکل، جیسے اماں بی کا کوئ بیگ ادھر اُدھر کرنا، کسی بھائ کو سونے کیلئے وقتی جگہ دیکر خود کو اکڑوں بٹھانا، کیونکہ سونے والے برتھ تو عموما رات کو ہی کھولے جاتے ہیں، میں کام آ رہے تھے۔ہم میں سے کسی کو کوئ غرض نہیں تھی کہ سامنے والے کی ذات کیا ہے، اُس کا مذہب کیا ہے، اُس کا مسلک کیا ہے، اُس کی معاشرتی و مالی حیثیت کیا ہے۔ ہم صرف ایک ساتھ تھے۔

یکایک ایک تیز دودھیا روشنی پھیلی، اور کیبن کا دائرہ پھیلنا شروع ہو گیا۔ پانچ گز کا کیبن پہلے دس کا ہوا، پھر سو کا اور پھر رفتہ رفتہ تا حد نظر ہو گیا۔ اسی تناسب سے افراد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ دور تلک ہزاروں افراد نظر آنے لگے۔ میں ان میں سے کسی کو بھی نہیں پہچانتا تھا۔ ان میں سے کوئ بھی میرا اپنا نہیں تھا۔ لیکن جانے کیوں یہ میرے اپنے تھے۔ یہ سب میرے کیبن کے لوگ تھے، مجھے ان کے غم اور خوشی میں شریک ہونا تھا۔ مجھے ان سے محبت کرنا تھی۔ یہ خیال رکھنا تھا کہ اگر میرے تھوڑے سے تکلیف سے کسی کو کوئی راحت ملتی ہے تو ہر کوشش کروں۔ میں ہی نہیں اس وسیع و عرض کیبن کے باقی ماندہ تمام افراد بھی اسی جذبے سے سرشار تھے۔ آخر ہم سب ہم سفر تھے۔ یہی ہمارا مسلک تھا۔ یہی ہماری ذات تھی۔ یہی ہماری حیثیت تھی یہی ہمارا خاندان تھا۔

اچانک جھٹکا لگا اور میں چونک کر بیدار ہوا، رات ہو چکی تھی اور سب لوگ اپنی اپنی برتھ کھول کر سو چکے تھے سوائے میرے اوپر والے افضل بھائی، کیونکہ جانے کب میری آنکھ لگی اور میں نے اپنا سر اُنکی ران پر رکھ دیا تھا اور وہ اونگھتے ہوئے جاگنے کی کوشش کررہے تھے۔ میں ہڑبڑا کر اُٹھا، اور اُنکا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُنہیں اپنی برتھ کھولنے کو کہا ۔ اُن کے جانے کے بعد پھر میں صبح تک سو نا پایا، اور یہی سوچتا رہا۔ کاش میرا وطن، میرا معاشرہ بھی ایک ٹرین کا کیبن بن جائے۔ اور ہم آپس میں دینی، سیاسی، معاشرتی اور دیگر وجوہ پر لڑنے کی بجائے صرف ہمسفر بن جائیں۔ حیدر آباد کے اسٹیشن پر لگنے والی بریک نے میری تمام خواہشات کو لال جھنڈی دکھائی۔ اور میں اپنے عارضی ہمسفروں کو اللہ حافظ کہتے ہوئے سوچ رہا تھا۔ کہ کب دودھیا روشنی پھیلے گی، کب کیبن بڑا ہوتا ہوتا پورے وطن اور کرہ ارض تک پھیل جائے گا۔ اور کب یہ سب ہمسفر ہمیشہ کیلئے ہمنوا بن جائیں گے۔

جو ہمسفر تو ہیں لیکن اُن سے ہمنوائی نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عمیر علی کی دیگر تحریریں
عمیر علی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں