مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا


zafar kakarمحترم جناب عامر خاکوانی صاحب! خاکسار کو یاد ہے ایک جگہ آپ رقمطراز تھے کہ آپ کا بیس سالہ صحافتی تجربہ ہے۔ یہ فقیر اس دشت کی سیاہی سے یکسر محروم ہے اس لئے آپ کو جواب دینا مبتدی کا منصب نہیں ہے۔ جناب فیض اللہ خان کی عشوہ طرازیوں کو آپ نے جس طرح تحسین سے نوازا ، اس پر چند سوال اٹھانے کی جرات کر بیٹھا۔ آپ نے تفصیلی جواب سے نواز کر خاکسار کے قد میں اضافہ کیا۔ اب بھی جواب نہ سمجھیں، سوال ہی سمجھ کر نظر شفقت عطا کیجیے۔

سوال سے پہلے مگر آپ کے شذرات کے آخری بجھتے مگر سلگتے شعلوں پر اگر اجازت ہو تو “وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے”۔ آپ نے لکھا کہ خاکسار کے چند دلائل کمزور اور بچگانہ حد تک سادہ ہیں اور ساتھ میں آپ نے لکھا ’ کمال ہی کر دیا خان جی آپ نے۔ مبالغہ کی انتہا ہوتی ہے‘۔ جہاں تک بچگانہ کی بات ہے تو جب آپ نے صحافت میں قدم رکھا ہو گا اس وقت یہ خاکسار غالباً اٹھویں یا نویں جماعت کا طالبعلم رہا ہو گا اس لئے بچگانہ کو آپ کی سخن پردازی سمجھ کر سر تسلیم خم ہے۔ البتہ خان جی کا سابقہ اس خاکسار کو ٹھیٹ فیصل آبادی جگت لگی مگر ایک تو آپ کے بڑے پن کے خیال سے دل دو نیم ہوا چاہتا ہے اور دوسرے جیسے آپ کو شعر یاد نہیں رہتے اس فقیر کو جگت اور لطیفہ کبھی یاد نہیں رہتا اس لئے اس کو بھی ایک سرزنش سمجھ کر مضطر خیر آبادی کے اس مصرعہ ’ مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا ‘ کی نذر کر دیتا ہوں۔

جہاں تک مبالغہ کی کھینچا تانی ہے اس پر کلام ہو سکتا ہے مگر تھوڑا حیرت زدہ ہوں کہ کل فیض اللہ خان کی پرکین گفتنی بھی آمادہ داد تھے اور آج وصی بابے کی حذرآرائی پر بھی لہلوٹ۔ خاکسار کو قوی امید ہے کہ اس دوئی میں بھی ضرور انٹا غفیل قسم کا اعتدال پوشیدہ ہو گا ورگرنہ تو ظالم مومن نے لکھا تھا ’لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا‘۔ آپ کی حیرت میری گزارشات پر بجا ہے۔ بعض باتوں پر سب کو ہی کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے۔ مجھے بھی ہوتی ہے جب آپ دائیں بازو کے لئے اسلامسٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو میرے ذہن میں طارق علی کی کتاب پر موجود بش کا داڑھی اور پگڑی زدہ چہرہ یاد آ جاتا ہے۔ آتے ہیں دلیل کی طرف۔ عرض کیا کہ خاکسار ایک مبتدی ہے اور اہل علم سے جانا ہے کہ تجزیاتی تحریر پردہ عنکبوت سے ڈھکا غار ہے۔ اس غار میں جھانکنے کے لئے کسی بزاخفش کی سر ہلائی ( آل از ویل) پر تکیہ کرنے سے بہتر ہے کہ حالات، واقعات، مشاہدات ، حقائق اور جغرافیائی سچائیوں کا ” بیرو میٹر“ لگا کر رائے قائم کی جائے۔ جیسے آپ نے فرمایا کہ آپ نے طنزاً کہا کہ پاکستانی ایجنسیاں قابل معافی نہیں وغیرہ وغیرہ (حالانکہ یہ خاکسار حقیقتاً سمجھتا ہے کہ ان کے کرشمات قابل معافی سہی لیکن ان کو معافی تو مانگ لینی چاہیے)۔ اسی طرح اس خاکسار نے بھی طنزاً لکھا کہ نوے کے عشرے کے افغانستان کے حالات میں اگر جہاد جائز تھا اور مسلمانوں کے خلاف جائز تھا تو آج کے پاکستان کے حالات میں ناجائز کیوں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ خاکساروہاں رہتا ہے جہاں سے قندھار پہنچنے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا وقت آپ کو اپنے دفتر سے انارکلی جاتے ہوئے لگتا ہے۔ افغان مہاجرین کے ساتھ اس خاکسار کا بچپن گزرا ہے۔ ایک ٹینس ریکیٹ یا ایک سپورٹس بائک خریدنے کے لئے تورخم جانا اس پٹی کے لوگوں کا معمول ہے۔ وہاں جو بیتی اس کے چشم دید لوگوں کے ساتھ زندگی بیتی۔ جس زمانے میں اصلی والے مجاہدین کی مدد پر دنیا کمربستہ تھی ہم این ایل سی کے پیلے ٹرکوں میں لفٹ لے کر سکول جاتے تھے۔ جن طالبان پر لاہور اور اسلام آباد سے قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں ان کو ان گنہگار کانوں نے مساجد اور مدارس میں نئی بھرتیوں کے لئے جوش خطابت دیتے خود سنا ہے۔ حد یہ ہے کہ امریکہ کے حملے کے بعد ہمارے گاﺅں کی خواتین نے طالبان کے لئے چندے میں اپنے زیورات اتارے کر دئے تھے اور یہ خاکسار جہاں ملازمت کرتا تھا اس ادارے کے ایک سیکیورٹی گارڈ کے بیٹے نے خودکش دھماکے میں اپنی جان دے دی۔ اس جغرافیائی قربت اور چشم دیدگی کے بعد خاکسار کو اتنی اجازت تو ملنی چاہیے کہ وہ قندھار کا نقشہ کھینچ سکے۔

چلیں اس راوی الاولون کو چھوڑ کر ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی شائع کردہ رپورٹ برائے افغانستان 1994 کو ایک نظر دیکھ لیجیے کہ قندھار میں پرانے مجاہدین کی جنگ کے باوجود زیادہ لوگ قتل ہوئے یا پھر پاکستان میں گزشتہ ایک عشرے میں زیادہ قتل ہوئے۔ حیرت یہ ہے کہ جہاد بدامنی کو جواز بنا کر شروع ہوتا ہے۔ چلیں اگر ایسا ہی ہے اور یہی سند جواز ہے کہ قندھار اور کابل میں بدامنی تھی تو بتایا جائے شمالی افغانستان میں مکمل امن کے باوجود وہاں جہاد کیوں شروع ہوا؟ مدعا کی طرف آتا ہوں۔ خاکسار کا مقدمہ یہ ہے کہ جس مذہبی بیانیے کو افغان طالبان کے لئے ٹھیک سمجھا گیا اور جہاد کے فتوے دلائے گئے عین اسی بنیاد پرپاکستانی طالبان نے ریاست کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔ انہی لوگوں میں سے چند نے ٹی ٹی پی کے جہاد کے لئے انہی الفاظ میں فتوے جاری کیئے۔

خاکسار اس فکری بعد پر حیرت زدہ ہے کہ ایک ہی بیانیے سے جنم لینے والا جہاد ایک جگہ ٹھیک اور دوسری جگہ غلط کیسے ہو سکتا ہے؟ جہاں تک آپ کے طالبان سے متعلق فکر کا تعلق ہے تو بصد ہزار احترام خاکسار اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ کیوں قاصر ہے وجوہات پیش کیے دیتا ہوں۔ درحقیقت پاک افغان طوطا چشمی کی تاریخ اتنا پامال موضوع ہے کہ قلم اٹھاتے ہوئے دل روتا ہے۔ جن لوگوں نے بھی قلم اٹھایا وہ واضح نہیں کر پائے کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ آپ نے اس موضوع پر بارھا قلم اٹھایا اورخاکسار آپ کا ایک مستقل قاری ہے۔ اب دیکھیے آپ کیا لکھتے ہیں۔ حوالہ یا دنہیں لیکن ’پاکستانی طالبان‘ جیسے کسی عنوان کے تحت آپ نے لکھا تھا ’پاکستانی طالبان اور افغانی طالبان کا فہم دین ایک جیسا ہے۔ اسلام کے ایک خاص بے لچک اور سخت گیر تعبیر و تشریح کے دونوں قائل ہیں‘۔

یہی وہ مدعا ہے جو خاکسار عرض کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایک خاص تعبیر و تشریح کے مسلح گروہ کو ایک ریاست میں بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کا حق حاصل نہیں ہے مگر آپ ہی اس کو جہاد کہتے رہے ہیں۔ آپ ملا عمر کو مرد کوہستانی کا خطاب دیتے ہیں۔ آپ طالبان کو فریڈم فائٹرز لکھتے ہیں۔ آپ مگر پاکستانی طالبان کو دہشت گرد لکھتے ہیں۔ پھر آپ تیرہ اکتوبر 2012 کے کالم ’ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کیوں کیا گیا‘ میں لکھتے ہیں۔ ’ طالبان (افغان) کی تحریک اصلاً جنگجو سرداروں یا وار لارڈز کے خلاف تھی۔ طالبان کی کامیابی کا پاکستان میں بھی نوٹس لیا گیا۔ نصیر اللہ بابر وزیر داخلہ تھے، انہوں نے ان طالبان کی حمایت کی، ممکن ہے کچھ اسلحہ یا مالی مدد بھی فراہم کی ہو۔ آئی ایس آئی کا اس میں اس حد تک ہی ہاتھ تھا‘۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا، جب بلوچستان میں این ڈی ایس کی مداخلت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے پیچھے را اور این ڈی ایس کا ہاتھ دیکھا جاتا ہے تو یہ خاکسار سوچتا ہے کہ کہ کوئی جیتیندر سنگھ یا کوئی گلالی خان بھی تو ہاتھ میں بندوق تھامے وڈھ اور وزیرستان کی پہاڑوں میں جنگ نہیں لڑتے۔ اتنی ہی مدد کی جاتی ہے جتنی اس ’ممکن‘ میں کی گئی تھی۔

آگے چلتے ہیں۔ آپ بیس دسمبر 2012 کے کالم ’ پاکستانی طالبان چند اہم فکری مغالطے ‘ میں رقمطراز ہیں۔ ’ حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا افغان طالبان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ حکیم اللہ محسود اور ٹی ٹی پی کی موجودہ قیادت میں سے کوئی کبھی افغان طالبان کا حصہ رہا نہ ان کے ساتھ کبھی لڑا۔ نہ وہ افغان طالبان یا ملا عمر کی ڈسپلن کا حصہ رہے ہیں۔ ‘ خیال آیا کہ شاید بیت اللہ محسود کو آپ بھول گئے اور یہ بھی بھول گئے کہ 2004 میں نیک محمد کی موت کے بعد افغان طالبان کے پانچ سرکردہ لوگ جن میں ملا داد اللہ شامل تھے بیت اللہ محسود کو ملا عمر کا گورنر برائے محسود علاقہ مقرر کیا تھا۔ اور بیت اللہ نے علی الاعلان ملا عمر کی بعیت کی۔ اب تعلق اس کو بھی نہیں کہتے تو جانے کس کو کہتے ہیں۔

پاکستانی طالبان کی طرف آتے ہیں۔ ستمبر 2013 میں پشاور چرچ میں دھماکے بعد جند الحفصہ کی طرف سے ذمہ داری قبول کی گئی مگر آپ اپنے کالم ’آخری آپشن ہمیشہ باقی رہتا ہے‘ مورخہ اٹھائیس ستمبر میں زور دے کر اس معاملے سے عصمت اللہ معاویہ کو بری کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں اور یہاں تک لکھتے ہیں کہ، ’ عصمت اللہ معاویہ مذاکرات کا اولین حامی تھا وہ اس کو وہ اس کو سبوتاژ کیوں کرے گا؟‘ ساتھ میں آپ نے فرمایا، ’ یہ سب بڑا معنی خیز ہے۔ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے‘۔ حکیم اللہ کی موت پر آپ نے لکھا۔ ’ حکیم اللہ کی اپنی ایک شخصیت اور خاص طرز کا مزاج تھا۔ آسان لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اپنے مثبت اور منفی پہلو تھے‘۔ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حق میں آپ نے اوپر تلے کئی کالم لکھ ڈالے۔

ان باتوں پر خاکسار کو کوئی اعتراض نہیں ہے اگر آپ اپنے کالم ’ فیصلہ کن وار‘ مورخہ بیس دسمبر 2014 میں یہ نہ لکھتے ، ’ سب سے پہلے ہمیں یہ طے کر لینا چاہیے کہ ان دہشت گردوں کی کسی بھی قسم کی حمایت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان درندوں کی اصل قوت ہمارے سماج میں موجود ان کے فکری، نظریاتی حامی اور طرفدار ہیں‘۔ آگے چل کر آپ لکھتے ہیں۔ ’ دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والوں کی ایک قسم وہ ہے جو اگر مگر، چونکہ چنانچہ اور مختلف عذر کے بنا پر قاتلوں اور دہشت گردوں کو سپورٹ کرتی ہے۔ ان کا بھی پوری قوت اور سختی سے محاسبہ اور محاکمہ کرنا چاہیے۔ اب سرخ لکیر کھینچی جا چکی ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی حامی یا مخالف۔ درمیان میں منافقت کی جگہ نہیں رہی۔ ‘

جب آپ عصمت اللہ معاویہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود اس میں سازش ڈھونڈھنے لگتے ہیں اور معاویہ کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب آپ حکیم اللہ محسود کی شخصیت میں خاص طرز کی طرحداری اور مثبت پہلو تراشتے ہیں۔ جب آپ مذاکرات کے حق میں جی جان سے لکھتے ہیں اور پھر جب آپریشن ضرب عضب شروع ہوتا ہے تو آپ لکیر کھینچ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا حامی یا مخالف تو خاکسار اتنا ہی کہہ سکتا ہے کہ یا مرشد! آ کی وا؟ بردارانہ عرض ہے کہ نہ آپ کی تضحیک مقصود ہے اور نہ وضاحت درکار ہے۔

عرض یہ ہے کہ جن خامیوں کا اظہار آپ نے آجکل افغان طالبان کے بارے شروع کیا ہے یہی بات ہم شروع سے کہتے رہے ہیں۔ جو چیز پاکستان میں پاکستانیوں کے لئے غلط ہے وہی افغانستان میں افغانوں کے لئے غلط ہے۔ جب آپ ’مزید مغالطے‘ مورخہ تیرہ اگست 2015 کے کالم میںیہ لکھتے ہیں، ’پاکستانی طالبان نے پچھلے کئی برسوں میں فورسز کے سینکڑوں ہزاروں جوان شہید کئے۔ آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملے کئے۔ حتی کہ پنڈی کے ایک مسجد میں دہشت گردی کر ڈالی۔ ظاہر ہے، پاکستانی فورسز کے ان نام نہاد طالبان کے بارے میں کیا سوچ اور احساسات ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کا مرکزی حصہ اور اہم ترین جنگی گروپ ہے۔ اس گروپ کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ وجہ یہی رہی کہ وہ پاکستانی ریاست کے مخالف نہیں بلکہ جہاں موقع ملا مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔ ‘ حضور والا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خوشی اپنی جگہ مگر افغانیوں سے بھی کبھی پوچھیے کہ کابل میں والی بال میچ کے دوران پچاس معصوم انسانوں کے چیھتڑے ہوا میں اڑتے دیکھ کر ان کے کیا احساسات ہیں؟ بالکل یہی احساسات ہیں جو پشاور اے پی ایس کے بعد آپ کے تھے۔ دوسروں کے گھر میں کانٹوں کی آبیاری سے اپنے آنگن میں کبھی پھول نہیں کھلا کرتے۔ سلامت رہیے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

17 thoughts on “مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا

  • 26-01-2016 at 11:45 am
    Permalink

    ظفر صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں. خاکوانی صاحب حمید گل کے مداح ہیں ان سے ایسے موضوعات پر کسی علمی و عقلی دلیل کی توقع عبث ہے. یہ لاہور میں بیٹھ کر خود کو افغان امور کا دانشور سمجھ بیٹھے ہیں حالانکہ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے بولدک اور تیرا نقشے میں بھی نہیں دیکھا ہو گا. بلکہ شاید میدان اور تیرا کا نام بھی نہیں سنا ہو گا.

  • 26-01-2016 at 1:38 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب کا مسلہ یہ ہے کہ وہ بے معنی اعتدال کا شکار ہیں جس کو آپ نے کمال مہارت سے انٹا غفیل اعتدال کہا ہے.اس اعتدال میں وہ اوریا مقبول صاحب کی طرح اسلام پسندوں سے سند جواز چاہتے ہیں. اس ملک میں ویسے بهی اسلام پسندی کا غلغلہ خوب بکتا ہے خاکوانی صاحب یہی بیچ رہے ہیں. بیچ بیچ میں وہ فرانس کی ڈی پی لگانے جیسی لبرل حرکت بهی کر جاتے ہیں تاکہ صحافت کی دنیا میں ان کا شمار ایک نیم روشن خیال سا بهی رہے

  • 26-01-2016 at 2:12 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب نے تو یہی لکھا کہ ان کے خیال میں افغان طالبان بھی اتنے ہی قصور وار اور متشدد ہیں جتنے کہ پاکستانی قبائلی علاقے میں قیام پزیر دہشت گرد ۔ اس کے باوجود ان کے پرانے کالموں کے حوالے دے دے کر ان کو مطعون کرنا کسی طور بھی درست نہ تھا ۔ مصنف کو خاکوانی صاحب کی فیس بک پر حالیہ پوسٹ دیکھنا چاھئے جس میں وہ افغان طالبان کی حمایت سے ہاتھ اٹھا رہے ہیں ۔ خاکوانی صاحب لکھتے ہیں
    میرے خیال میں‌جو لوگ افغان طالبان کی پچھلے برسوں سے حمایت کرتے چلے آئے ہیں، انہیں بھی افغان طالبان کی حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں کی مذمت کرنی چاہیے۔ یہ ان کا اخلاقی، شرعی فرض ہے۔ کوئی اور کرے یا نہ کرے، ان سطور کے مصنف نے اپنا موقف پوری وضاحت وصراحت سے بیان کر دیا ہے۔ ہم افغان طالبان کی حمایت صرف اللہ کے لئے کر رہے تھے کہ وہ قابض افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں، اب جب وہ غلطی کریں گے تو ہم احکامات خداوندی کے تحت ہی ظلم کی مخالفت اور مذمت کریں گے اور اپنی بریت کا اعلانیہ اظہار کریں گے۔
    https://www.facebook.com/maamirhashim.khakwani/posts/1177908702236610
    لیکن اس کے باوجود بھی کسی کو اس کے پرانے بیانیہ پر طعنے مارے جائیں اور انجوائے کیا جائے تو یہ کسی طور بھی مناسب طرز عمل نہ تھا

  • 26-01-2016 at 2:15 pm
    Permalink

    ویسے فاضل مصنف نے میرا جغرافیہ تو غلط کر دیا ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں کہ تورخم سے قندھار جانا ان کے لئے ایسا ہی ہے جیسے خاکوانی صاحب کے لئے اپنے دفتر سے انار کلی جانا ۔۔ شائد مصنف سمجھ رہے کہ خاکوانی صاحب کا دفتر کراچی میں ہے اور رہائش لاہور میں ہے ۔ ۔ ۔ ہم نے تو ابھی گوگل سے دوبارہ دیکھا ہے ۔ تورخم سے قندھار تو ہزاروں میل دور ہے ۔

  • 26-01-2016 at 2:37 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب دراصل آپ سے یہ ساری تفصیلی معلومات لینا چاہتے تھے انکو آگے کام آئے گی 😀
    خیر بہترین جواب

  • 26-01-2016 at 2:38 pm
    Permalink

    اعجاز اعوان صاحب! اوپر والے کمنٹ پر میںتفصیلی جواب دے چکا ہوں۔ اب اس بحث میں مزید جانے کا کیا فائدہ۔ خاکوانی صاحب نے اگر رجوع کیا ہے تو اچھی بات ہے۔ خاکوانی صاحب نے قندوز پر طالبان کے قبضے کے لکھا تھا امریکہ کے نکلنے کے بعد طالبان افغان آرمی کو شاندار پسپائی سے دو چار کریں گے جس سے فاضل مصنف کو لگتا ہے کہ انگڑائیاں ہنوز جوان ہیں۔مدعا یہ ہے کہ آپ طالبان کو امریکہ سے جوڑ کر ان کو سند جواز بخشنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ ان کی اٹھان کے بارے میں کمال بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چونکہ، چنانچہ کی جلو میں ایک گروہ کو ریاست میں جہاد جیسے مقدس فریضے کا جواز بخشنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    فاضل مصنف کے جغرافیہ کا امتحان لینے سے پیشتر آپ کو جان لینا چاہیے تھا کہ فاضل مصنف پشین میں رہتا ہے جہاں سے بولدک اٹہتر کلومیٹر ہے اور ایک گھنٹے میں پہنچنا بہت آسان ہے۔ فاضل مصنف کا یہ بھی تجربہ ہے کہ ایبٹ روڈ سے انارکلی جاتے ہوئے تین کلومیٹر کا سفر ایک گھنٹہ میں طے ہوا تھا۔فاضل مصنف کا آبائی وطن توبہ کاکڑی ہے جہاں سے قندھار بارڈر گھوڑے پر بیس منٹ میں عبور کیا جا سکتا ہے۔

  • 26-01-2016 at 2:46 pm
    Permalink

    فاضل مصنف کو خیال آیا کہ تورخم کا لفظ تو فاضل مصنف نے لکها ہی نہیں ہے

    • 26-01-2016 at 6:25 pm
      Permalink

      ہم صبح سے تورخم کا جغرافیہ تلاش کرتے پھر رہے ہیں اور آپ کا فرمان ہے کہ تورخم کا لفظ لکھا ھی نہیں ۔ یہ دیکھئے جناب
      مسئلہ یہ ہے کہ خاکساروہاں رہتا ہے جہاں سے قندھار پہنچنے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا وقت آپ کو اپنے دفتر سے انارکلی جاتے ہوئے لگتا ہے۔ افغان مہاجرین کے ساتھ اس خاکسار کا بچپن گزرا ہے۔ ایک ٹینس ریکیٹ یا ایک سپورٹس بائک خریدنے کے لئے تورخم جانا اس پٹی کے لوگوں کا معمول ہے۔ وہاں جو بیتی اس کے چشم دید لوگوں کے ساتھ زندگی بیتی۔ جس زمانے میں اصلی والے مجاہدین کی مدد پر دنیا کمربستہ تھی ہم این ایل سی کے پیلے ٹرکوں میں لفٹ لے کر سکول جاتے تھے۔

      • 26-01-2016 at 7:54 pm
        Permalink

        جناب عالی۔ پاک افغان بارڈ ر چوبیس سو کلومیٹر کی پٹی پر پھیلا ہوا ہے۔یہ بلوچستان قصبے ماکی سے شروع ہو کر چاغی تک آتی ہے جس کی دوسری جانب سیستان اور میر آباد اور دیشو ہیں۔چاغی سے یہ ہوتے ہوئے زورا چا، عیسی چا اور چمن تک جاتی ہے۔ جس کے اس پار لنڈے، کونو اور سپن بولدک آتے ہیں۔ میرا علاقہ پشین ہے جہاں سے سپن بولدک اٹہتر کلومیٹر ہے۔ چمن سے یہ توبہ اچکزئی اور توبہ کاکڑی تک جاتی ہے اور وہاں سے یہ ژوب تک جاتی ہے۔ دوسری جانب ملا والی، باڑہ ، تنگا، اور سنگ ہیں۔ پاکستان میں یہ پٹی ژوب سے ہوتے وانا، میران شاہ اور اوپر پاڑا چنار تک جاتی ہے جس کے دوسری غزنی اور خوست آتے ہیں۔ امید ہے اب آپ کو اندازہ ہو گیا کہ یہ خاکسار کیا کہہ رہا تھا۔آپ مجهے کہاں تورخم میں تلاش کر رہے ہیں

  • 26-01-2016 at 2:58 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب اور اعوان صاحب جیسے اہل علم جانے معصومیت پر یا لاعلمیت کی بنا پر اس بیانیے کے وکیل ہیں جو جرنیلوں کا تخیلق کردہ ہے۔ آپ میں سے جانے کیس کو اتفاق ہوا ہے یانہیں کہ خاکوانی صاحب نے حمید گل کی موت پر کیا دکھ انگیز کالم لکھا تھا۔ کل کو یہ اسد درانی کو بھی عظیم شخصیت قرار دین گے جنہوں نے الجزیرہ پر بیٹھ کر کہا تھا کہ اے پی ایس جیسے واقعات ملکی مفاد میں کولیٹرل ڈیمیج ہیں۔کمال یہ ہے کہ یہ حضرات جنرل کے بیانیے پر قائم ہیں اور خوش بھی ہیںکہ جہاد کی حمایت کر کے دین کی خدمت کر رہے ہیں

  • 26-01-2016 at 3:12 pm
    Permalink

    ظفر اللہ بھائی مجھے خوشی ہو گی اگر خاکوانی صاحب یا اعوان صاحب نے توبہ کاکڑی کا نام سنا ہوا تھا

  • 26-01-2016 at 4:55 pm
    Permalink

    بھائی اعجاز اعوان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے یہ کمنٹ کر رہا ہوں، جزاک اللہ برادرم ، اللہ خوش رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے۔
    رہا جواب درجواب کا معاملہ تو بھائی میری طرف سے دلی معذرت قبول فرمائیے۔ میں اس ایشو پر بہت زیادہ لکھ چکا ہوں، بار بار ایک ہی بات کو دہرانا ٹھیک نہیں لگتا، پھر اگر درجنوں بار کی پوسٹوں میں‌لکھنے کے بعد بھی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تو یہ تفہیم کا معاملہ نہیں، زاویہ نظر کا فرق ہے، ایسے میں مزید توانائی کھپانے کا کم از کم میرے پاس کوئی جواز نہیں۔
    ویسے بھی ظفراللہ خان نوجوان آدمی ہیں، ان کے ساتھ بحث میں‌الجھنا مجھے مناسب نہیں لگ رہا، ان کے قلم سے کوئی تلخ جملہ نکل جائے تو مجھے ناگوار گزرے گا، میرا کوئی فقرہ انہیں پسند نہیں‌آئے گا اور وہ اسے بھی ٹھیٹ فیصل آبادی جگت قرار دے دیں گے۔
    کم علمی، کم فہمی یقینآمیری ہی ہوگی، لیکن مجھے یوں‌ لگا کہ اس بحث کو آگے بڑھانے کے لئے ایشو کو بہت زیادہ کھول کر بیان کرنا پڑے گا۔ کسی سنجیدہ مکالمے میں میں چند باتیں پہلے سے فرض کر کے آگے بڑھا جاتا ہے کہ ان کی وضاحت کی ضرورت نہیں، مخاطب کی ان پر نظر ہوگی۔ جب ایسا محسوس نہ ہو رہا ہو تو پھر تلخی پیدا کرنے کے بجائےخاموشی سے الگ ہوجانا ٹھیک ہوتا ہے۔ اگر کبھی برادرم وجاہت مسعود نے اس موضوع پر قلم اٹھایا تو اپنا نقطہ نظر ان کے سامنے ضرور رکھیں‌گے۔جیتے رہیے، خوش رہیے۔

  • 26-01-2016 at 6:32 pm
    Permalink

    آپ کا احترام سر آنکھوں پر لیکن کچھ گزارشات میری بھی سن لیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص اس فکری اپچ میں مبتلا ہے کہ اس نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کرنا بلکہ سمجھانا ہے۔ عرض کر چکا ہوں کہ خاکسار مبتدی ہے۔ وجاہت صاحب کی علمی قد کا شائبہ تک نہیں لگا یہ سوال تو اس خاکسار کا حق بنتا ہے کہ اے پی ایس کے ظلم پر رونے والے افغان والی بال میچ میں خودکش دھماکہ کرنے والوں کن بنیادوں پر مجاہدین لکھتے ہیں؟ لیکن چونکہ آپ نے درخود اعتناءنہیں جانا اس لئے اس بحث کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ البتہ گلہ رہے گا ایک خود کو ایک خاص ذہنی بلندی سطح پر متمکن سمجھ کر آپ دوسروں کی رائے کو بچگانہ کہہ جاتے ہیں۔ اگر اتنی ہی بچگانہ رائے تھی تو پہلا جواب لکھنے ضرورت کیوں پیش آئی؟ پھر جب اس تمسخر پر ہم گلہ کرتے ہیں تو آپ کمال بے نیازی سے فرما جاتے ہیں کہ جب وجاہت مسعود لکھیں گے تب آپ جواب دیں گے۔پہلے بھی اظہار کر چکا ہوں کہ آپ کا صحافتی تجربہ میری آدھی عمر سے زیادہ ہے لیکن ہم اتنے بھی پھسڈی واقع نہیں ہوئے کہ ہتھیلی پر دھرا سچ نظر نہ آئے یا جگت سمجھ نہ سکیں۔ آ پ ضرور اس وقت لکھیں جب وجاہت مسعود لکھیں گے لیکن کم ازکم دوسروں کی رائے کو خود فریفتگی کی نظر تو نہ کیا کریں۔ کم ازکم خاکسار کو ایک اچھا قاری ہونے کی داد تو دے جاتے۔ سلامت رہیں۔

    • 26-01-2016 at 7:59 pm
      Permalink

      برادرم آپ کو نہ صرف اچھا قاری بلکہ اچھا لکھاری ہونے کی داد دے چکے ہیں۔ بات کسی خاص ذہنی بلندی پر متمکن ہونے کی نہیں، نہ ہی آپ کو پھسڈی قرار دینے کی ہے۔ اللہ آپ کے علم میں‌اضافہ فرمائے، برکت عطا فرمائے۔ بات یہ ہے کہ بار بار دہرائی باتیں کتنی بار لکھی جائیں۔ اپنی وال پر سینکڑوں بار ایسا کیا۔ یہی اعجاز اعوان جنہوں‌نے اوپر کمنٹ کیا تھا، ان سے پوچھئیے کہ ہماری برداشت کتنی ہے اور دوسروں کی رائے کو خواہ وہ خود کو مبتدی قرار دینے پر تلا ہو، اس سے کس قدر طویل مکالمے ہوتے رہے۔ یہ تکرار مگر کوفت میں‌مبتلا کر دیتی ہے۔

  • 26-01-2016 at 7:01 pm
    Permalink

    yedebeza actually afghan Taliban are killing afghan and pakhtoon and are the B team of agencies this is the reason they are keeping soft corner for them
    there should be no two opinion about the Taliban weather they are the afghan Taliban are Pakistani Taliban they are just terrorest…

  • 26-01-2016 at 7:04 pm
    Permalink

    بہتر ہوتا کہ خاکوانی صاحب کم ازکم اپنے فکری” رسائل و مسائل“ میں بار بار کی تبدیلی پر جواب دے جاتے۔ ہزاروں افغانوں کو تہہ تیغ کرنے بعد اب ان کو اپناموقف کو بدلنے کا خیال آیا۔ ان کی یہ فکری تبدیلی بھی اس وقت کی ہے جب اسٹیلشمنٹ نے کہا کہ ان کی پالیسی دہشت گردی کے خلاف بدل چکی ہے جبکہ والی میچ کے جس واقع کی طرف ظفر اللہ خان نے اشارہ کیا ہے وہ بہت پہلے کا ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ نہ خاکوانی صاحب کا رویہ ان کے پہلے جواب ستائش کے قابل تھا اور نہ اب ہے۔کم عمری کا یہ مطلب قطعی نہیں ہوتا کہ زیادہ عمر والا خود افلاطون سمجھنا شروع کر دے۔ واضح نظر آ رہا ہے کہ خاکوانی صاحب سے آنے بن رہی ہے اور نہ جانے کی۔اس مکالمے کا کم ازکم یہ فائدہ تو ہوا کہ قاری کو معلوم ہو گیا کہ دلیل کی جنگ میں کون کہاں کھڑا ہے۔

  • 27-01-2016 at 2:38 am
    Permalink

    خاکسار بھی عامر ہاشم خاکوانی کا بڑا مداح ہے،ان کے لکھنے کے انداز کی وجہ سے،انکی دھیمی شخصیت کی وجہ سے اور ان کے کسی بھی بات کے غصہ نہ کرنے کی وجہ سے۔ موضوعاتی اعتبار سے ان کے کئی مضامین سے اتفاق بھی ہے،مگر وہ جس طرح کبھی افغان طالبان کو سپورٹ کرتے ہیں،کبھی مولانا مسعود اظہر کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں،کبھی دہشت گردی کے معاملے میں اگر مگر کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو بحثیت ایک عام قاری اس سے شدید اختلاف محسوس ہوتا ہے۔ خاکسار نے بھی اپنی گذارشات ان کے فیس بک پیج کے کامنٹس میں لکھیں،لیکن انہوں نے یا تو اسکا جواب ہی نہ دیا ،یا اسکو کہہ دیا کیا خاکسار نے کمال سادگی سے یہ سب لکھ دیا ہے۔ بحث در بحث کے ہم بھی قائل نہیں لیکن قاری کے سوال کا تسلی بخش جواب دینا چاہیے۔
    میرا ایک سادہ سا موقف ہے،اگر کسی کو برا لگتا ہے تو معذرت
    دہشت گردی کی جس لپیٹ میں اس وقت ہم ہیں،اور جس طرح معصوم بچوں کی جانوں کی قربانی قوم دے رہی ہے،ایسے میں ان عناصر کی واضح الفاظ میں مذمت اہل قلم کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے،کجا کہ وہ مختلف طریقوں سے ان عناصر کیلیے نرم گوشے ڈھونڈتے رہیں۔

Comments are closed.