ہم سے قاتل کا ٹھکانا نہیں ڈھونڈا جاتا


وطن عزیز میں ہونے والی ہر دہشت گردی اپنے پیچھے بہت سے چبھتے ہوئے سوالات چھوڑ جاتی ہے لیکن کوئی ان سوالات کو اٹھانے کی\"fazle جرأت نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی سرپھرا ایسی ہمت کر دکھاتا ہے تو اس پر فوراً را، خاد اور نہ جانے کس کس کے ایجنٹ ہونے کے الزامات داغ دئیے جاتے ہیں۔ میڈیا بھی حقائق پوری ڈھٹائی سے چھپاتا ہے۔ نہ صرف حقائق چھپاتا ہے بلکہ بے دردی سے مسخ بھی کرتا ہے۔ ملک کی سلامتی کے ذمے دار سکیورٹی اداروں کی مجرمانہ غفلت اور کوتاہی کو تو سرے سے زیر بحث ہی نہیں لایا جاتا۔ ملک میں کتنے اینٹلی جنس ادارے موجود ہیں اور انھیں کس قدر بے محابا اختیارات اور وسائل حاصل ہیں لیکن اس کے باوجود ابھی تک دہشت گردوں کو مالی اور تکنیکی وسائل فراہم کرنے والے خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب نہیں کیا جاسکا۔ انتہائی حساس مقامات پر جگہ جگہ سکیورٹی چیک پوسٹوں اور بعض جگہوں میں اسلحہ کی شناخت کرنے والے سینسروں کی موجودگی کے باوصف دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہمارے محافظ خود کش حملوں یا پلانٹڈ بم دھماکوں کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ کر بے تحاشا ہوائی فائرنگ کے ذریعے اپنا غصہ ٹھنڈا کرتے ہیں اور بعد ازاں کچھ مشکوک افراد گرفتار کرکے ان کی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ دیتے ہیں اور انھیں بڑے فخر سے میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ وزیرا عظم اور ان کے درباری بیانات داغنا شروع کردیتے ہیں کہ دہشت گرد ہمارے عزائم کمزور نہیں کرسکتے، آخری دہشت گرد کے خاتمہ تک ان کا پیچھا کیا جائے گا۔ سکیورٹی ادارے اہم اجلاس بلاتے ہیں اور ایک نئے عزم کے ساتھ ایک نئے سرچ یا کومبنگ آپریشن کے احکامات جاری کر دئیے جاتے ہیں۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں کے ذمہ داروں کی جانب سے یہ سب کچھ اتنے میکانیکی اور روایتی انداز میں سامنے آتا ہے کہ دہشت گردوں کے عزائم میں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا اور وہ ایک مختصر یا طویل خاموشی کے بعد نیا ہدف ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ کیوں کہ دہشت گرد اقتدار کے ایوانوں اور سکیورٹی اداروں کے مراکز میں بیٹھے ہوئے صاحبانِ اختیار کی نفسیات سے خوب واقف ہیں اور انھیں کسی سانحہ کے بعد مقتدرین کی وقتی بھاگ دوڑ اور رٹے رٹائے بیانات کی حقیقت اچھی طرح سے معلوم ہے۔
کوئٹہ کے سانحہ کے بعد اس بار کچھ شخصیات نے پہلی بار زبان کھولی ہے اور حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں۔
مولانا شیرانی نے بیان دیا ہے کہ ’’دشمن گھر میں ہی ہیں۔ بلوچستان میں کوئی را یا موساد نہیں۔ ہمارے اپنے ہی بنائے ہوئے لوگ ہیں۔ قوم سے جھوٹ نہ بولا جائے۔ مسلح تنظیمیں کس کی ہیں، بتایا جائے؟ اندرونی طاقتیں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ملک کے لیے ہے یا ملک اس کے لیے؟‘‘
میڈیا نے ایک بار پھر محمود خان اچکزئی کے بیان پر آسمان سر پر اٹھا لیا ہے اور انھیں را اور موساد کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں منگل کو نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’’کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے اہل کار جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں اور کسی بھی آدمی کو تلاشی لیے بغیر جانے نہیں دیا جاتا تو پھر بلوچستان ہائی کورٹ کے صدر کو کیسے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور خود حملہ آور سول ہسپتال پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟‘‘ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ’’یہ واقعہ خفیہ اداروں کی ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔‘‘ اُنھوں نے کہا کہ ’’محض بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ پر الزام عائد کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے حکومت کو تمام ممکنہ اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کسی کی ’پراکسی وار‘ تو نہیں لڑ رہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم اس واقعہ کی تحقیقات سکیورٹی اداروں کو سونپیں اور اگر وہ اس میں ناکام رہیں تو پھر ان اداروں کے سربراہوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔‘‘ ان کے مطابق ’’حکومت، فوج اور عدلیہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تجدید عہد کرنا ہوگا۔‘‘ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’’پارلیمان کو اس بارے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس کا صرف یہ کردار نہیں ہونا چاہئے کہ ملک میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہو تو اس میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی جائے۔‘‘
اس سے پہلے اسفندیار ولی خان اور محمود خان اچکزئی کا ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں انھوں نے کوئٹہ میں وکلاء پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ پختونوں کی نسل کشی پر غم و غصے کا اظہار کیا اور اس اَمر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں پختونوں کا ایک گرینڈ جرگہ بلایا جائے جس میں پختونوں کے خلاف جاری دہشت گردی کے خلاف پختون ایکشن پلان بنایا جائے۔
پختون خوا اولسی تحریک کے سربراہ سید عالم محسود نے بھی چند سوالات اٹھائے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’دہشت گردی کی جنگ میں اب تک 60 ہزار بے گناہ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں جن میں 52 ہزار کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے۔ ان میں تین ہزار قبائلی مشران اور آٹھ سو سے زائد سیاسی کارکن اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہوئے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’اب کوئٹہ کے دھماکہ کو کاریڈور پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔ کیا کاریڈور کوئٹہ سے گزر رہا ہے؟ کاریڈور تو پنڈی، لاہور، ملتان، سکھر، حیدر آباد اور کراچی سے گزر رہا ہے۔ کاریڈور میں تو کوئٹہ کی بجائے لاہور کو چین کے شہر کرامے کا جڑواں شہر بنا دیا گیا ہے۔ کاریڈور بھی اسی شہر سے گزر رہا ہے اور یہ شہر ہندوستان کے قریب تر ہے۔ تو پھر کاریڈور کو ناکام بنانے کے لیے کوئٹہ پر کیوں حملہ کردیا گیا ہے؟ کیا ہمارا دشمن اتنا بے وقوف ہے؟‘‘
بی بی سی کے تجزیہ نگار اور ادیب محمد حنیف نے اپنے ایک تازہ کالم میں چند سوالات اٹھائے ہیں۔ آئیں انھیں بھی پڑھتے ہیں۔
’’اِس سے پہلے ہم پوچھ چکے ہیں سکول کے بچے کیوں، ہزارہ کیوں، پارک میں کھیلنے والے بچے کیوں۔ چوں کہ ہمیں کوئی تسلّی بخش جواب نہیں ملا اِس لیے ہم آج پوچھ رہے ہیں کہ وکیل کیوں؟ چند ہفتے پہلے ہی وزارت داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ چھ سالوں میں بلوچستان سے تقریباً ایک ہزار مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔ کِسی نے پلٹ کر یہ بھی نہیں پوچھا کہ کیا یہ سی پیک کے راستے کی صفائی کے کسی منصوبے کا حصّہ ہے؟ کیا اِن ہزار لوگوں کو بھی را نے چن چن کر مارا ہے؟ کیا ہم آپ کو شاباش دیں، شکریہ ادا کریں یا افسوس کریں کہ ہمارا دشمن ہمارے دیس میں دندناتا پھر رہا ہے ۔جِس ملک میں ایک صوبے سے ملنے والی ایک ہزار لاشوں پر آپ سے ایک سوال بھی نہ پوچھا گیا تو کوئٹہ میں اُٹھنے والے 90 سے زیادہ جنازوں پر کتنے دن تک ماتم ہوگا۔‘‘

وقت بدل چکا ہے اور روز اس میں تیزی سے نئی نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اس لیے قوم کو مزید تاریکی میں نہ رکھا جائے۔ سیاست دانوں اور سکیورٹی اداروں کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا۔ انھیں ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے اپنی غیر معمولی کارکردگی دکھانی ہوگی۔ عوام اب محض خالی خولی نعروں اور کھوکھلے بیانات سے بہلنے والے نہیں ہیں۔ جمہوری حکمران عوام کے سامنے جواب دِہ ہیں اور جن سکیورٹی اداروں پر عوام کے خون پسینے کی کمائی صرف ہو رہی ہے اور ان کے سربراہان پرتعیش مراعات لے رہے ہیں، انھیں اپنی ناکامیوں کے لیے را اور موساد کی ایجنسیوں پر الزامات لگانا زیب نہیں دیتا۔ انھیں یا تو سچ مچ دہشت گردوں کی کمر توڑدینی ہوگی یا استعفیٰ دے کر گھر جانا ہوگا۔ ورنہ سوالات اٹھنے کا عمل تیز ہوجائے گا۔ جوابات نہ ملنے پر نفرتوں میں اضافہ ہوگا۔ دلوں میں لاوا پکے گا اور لاوا جب پک جاتا ہے تو پھٹتا ضرور ہے۔

ہم سے قاتل کا ٹھکانا نہیں ڈھونڈا جاتا

ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منا لیتے ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں