دہشت گردی کی پنیری


\"1-yasir-pirzada\" ایک ڈکٹیٹر نے جنگجوؤں کی پنیری لگائی ، اسے تناور درخت بنایا دوسرے ڈکٹیٹر نے اس درخت کو ’’اچھے اور برے ‘ ‘ کے خانوں میں تقسیم کرکے دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی، نتیجہ آپ کے سامنے ہے ،کوئٹہ میں اکہتر لاشیں ۔ ننگی گالیاں البتہ ہم جمہوریت کو دیں گے اور کسی نئے ڈکٹیٹر کے لئے مارکیٹنگ کریں گے ۔۔۔۔عوام کا کیاہے وہ تو روز مرتے ہیں !

یاد داشت ہماری چونکہ اس سیٹھ کی طر ح کمزور ہے جسے وصولیاں تو یاد رہتی ہیں مگر ادائیگیاں بھول جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ تاریخ کے کچھ سبق دہرا لئے جائیں ۔ دسمبر 1979میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا ، اُس وقت پاکستان میں حکومت کس کی تھی ؟فوجی آمر آنجہانی جنرل ضیا الحق کی ۔ پالیسی کیا وضع کی گئی ؟ سٹریٹیجک ڈیپتھ۔ افغانستان میں لڑائی کیسے لڑی گئی ؟ دنیا بھر سے مذہب کے نام پر جنگجوؤں کو پاکستان کی سرزمین پر تربیت دے کر۔ ہمارا اتحادی کون تھا ؟ امریکہ، جسے اُس وقت ہم کافر نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ہمیں یہی بتایا گیا تھا۔ افغان جنگ کے خاتمے کے بعد کیا اِن تربیت یافتہ جنگجوؤں نے ہتھیار پھینک کر پاکستان میں کھیتی باڑی شروع کر دی تھی ؟ نہیں ۔ پھر اِن کا کیا استعمال کیا گیا ؟ 1989سے لے کر 2001تک اِن بھائیوں کا جو استعمال کیا گیا اُس سے ہم اچھی طرح واقف ہیں اور جس حکمت عملی کے تحت استعمال کیا گیا اس میں دخل اندازی کی اجازت اِس ’’طوائف جمہوریت‘ ‘ سے وابستہ کسی ’’انگوٹھا چھاپ، جاہل، کرپٹ اور سیکورٹی رسک سیاست دان‘ ‘ کو نہیں تھی ۔ 2001میں کس کی حکومت کس کی تھی ؟ ایک جوان رعنا ڈکٹیٹر کی جو پہلے سیّد پرویز مشرف کہلاتا تھا مگر اقتدار سے علیحدگی کے بعد نہ جانے کیوں اس کے نام سے یہ سیّد ہٹا دیا گیا۔ 9/11 کے بعد اس ڈکٹیٹر کی کیا پالیسی تھی ؟ موصوف کا خیال تھا کہ وہ بہت سمارٹ ہیں اور دنیا احمق ہے ، اس لئے انہوں نے ایک نیا فلسفہ تخلیق کیا جس کے تحت اچھے اور برے دہشت گردوں میں تفریق کی گئی ۔ جو دہشت گرد سرحد پار جا کر پھٹتے وہ اچھے کہلائے اور جو ہماری سرحد کے اندر دھماکے کرتے وہ برے کہلائے ۔ تاہم یہ حکمت عملی کارگر ثابت نہ ہوئی ، امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ افغانستان میں کاروائیاں کرکے پاکستان میں پناہ لینے والے جنگجوؤں کے خلاف بھی اسی شدت کے ساتھ کارروائی کی جائے ، اور جب یہ ہوا تو جنگجوؤں نے جواب میں پاک فوج کے خلاف پاکستان میں کارروائیاں شروع کر دیں ،ہمارے جوانوں کے سر کاٹ کر اُن سے فٹ بال کھیلا گیا، اس کے بعد یہ دہشت گردی پولیس اور سول اداروں کے خلاف پھیل گئی ، پھر مارکیٹوں ، درباروں اور مزاروں کی باری آئی اور اب یہ حال ہے کہ سکول اور ہسپتال جسے بد ترین دشمن بھی جنگ میں نشانہ نہیں بناتے اُس دہشت گردی کی زد میں ہے جس کی پنیری ایک فوجی آمر نے لگائی اور دوسرے نے جس کی حفاظت کی ۔ دہشت گردوں کے خلا ف آپریشن ضرب عضب کب شروع ہوا؟ 15جون 2014۔ حکومت کس کی تھی ؟ سول منتخب وزیر اعظم کی جسے ہم آئے روز یہ طعنے دیتے ہیں کہ یہ ’’گلے سڑے ، بوسیدہ اور تعفن زدہ نظام کی پیدا وار ہے ! ‘ ‘

سوالات تو اور بھی بہت ہیں مگر یہ وقت طعنہ زنی کا نہیں ۔ کوئٹہ کے ہسپتال میں جو کچھ ہوا اس پر تو ہٹلر کی روح بھی کانپ اٹھی ہو گی ، ایک ماں کی گود میں اس کا بچہ تھا نہ جانے اس پھول کے کتنے ٹکڑے ہوئے ، کل اکہتر لوگ مارے گئے جن میں سے بیشتر وکلا ہیں جو اپنے ہی ایک ساتھی جسے صبح ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کیا گیا تھا کی لاش وصول کرنے ہسپتال پہنچے تھے ، انہیں کیا خبر تھی کہ وہ خود بھی لاش بن جائیں گے اور ان کی بریکنگ نیوز ٹی وی پر چلے گی ۔ کوئٹہ ، لاہور ، کراچی ، پشاور، چار سدہ ، بنوں ، سوات ، لکی مروت، شبقدر ، مردان، فاٹا ۔۔۔۔۔ہر جگہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کا لہو بہایا گیا، دس برس تک ہم اس عفریت سے آنکھیں چرانے کی کوشش کرتے رہے ، کبھی اسے ڈرون کا رد عمل کہتے کبھی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا شاخسانہ قرار دیتے ۔ دہشت گردوں کے حمایتیوں کی ہر تاویل اس ماں کے سینے پر تازیانے کی طرح لگتی ہوگی جس کا جوان بچہ کسی بم دھماکے میں مارا جاتا ہوگا ، اس بیوہ کا کیا حال ہوتا ہوگا جس کا شوہر وطن کی حفاظت پر مامور تھا اور کسی خود کش بمبار کی بھینٹ چڑھ گیا ، اس بہن کا کیا حال ہوتا ہوگا جس کا بھائی خوبصورت فوجی وردی میں گھر سے گیا ہوگا اور پھر فقط لہو میں ڈوبی ہوئی اس کی وردی واپس آئی ہوگی۔ کوئٹہ میں جاں بحق ہونے والوں کے گھروں میں کیا کہرام مچا ہوگا اس کا سوچ کر ہی انسان لرز اٹھتا ہے ۔ میں نے ٹی وی پر فوٹیج دیکھی جس میں وکلا ہسپتال کے باہر جمع ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ کب وہ اپنے مقتول ساتھی کی لاش وصول کرکے لے جائیں گے ، ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ وہ تھوڑی دیر میں وہ خود ہلاک ہو جائیں گے اور یہ فوٹیج بنانے والا کیمرہ مین بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے گا ، الامان الحفیظ۔

تین باتیں اہم ہیں ۔ پہلی، میڈیا میں اس بات پر تنقید ہو رہی ہے کہ حکومت سوائے مذمت کرنے یا آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم کرنے یا اسے سازش قرار دینے یا دہشت گردوں کی شکست کے بعد اسے بد حواسی میں کی گئی کاروائی قرار دینے کے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتی ۔ فرض کر لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہے ، مگر اس سانحے میں تو دو جواں سال صحافی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ، خبروں سے معلوم ہوا کہ پسماندگان میں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، حکومت اگر کام نہیں کرتی تو میڈیا کے مالکان یا تنظیمیں خود ہی کوئی کام کرلیں ، ان کے لئے کم از کم ایک کروڑ روپے کی امداد اور ان کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کا بندوبست ہونا چاہیے۔ کسی بھی میڈیا ہاؤس یا تنظیم کے لئے یہ معمولی بات ہوگی۔اسی طرح ملک کی وکلا تنظیموں کے پاس بھی فنڈز کی کمی نہیں ، جاں بحق ہونے والے وکلا میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بہت مشکل سے زندگی کی گاڑی کھینچتے تھے ، اب نہ زندگی رہی نہ گاڑی ۔ وکلا تنظیموں کو چاہیے کہ اپنے اِن بھائیوں کے خاندانوں کے لئے ایک فنڈ قائم کرے تاکہ ان کے پسماندگان کو کچھ آسرا ہو سکے ورنہ اس سفاک دنیا میں تو کل کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا کہ کوئٹہ میں اکہتر لوگ مارے گئے تھے۔ دوسری، بلاشبہ کوئٹہ کا واقعہ دل ہلا دینے والا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد سے آج تک دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے ، دہشت گردوں کے عذر خواہ ہمیں یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ خبردار اگر ان کے خلاف آپریشن کیا تو پورے ملک میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی ، شکر ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ تیسری بات، کہیں نہ کہیں اب بھی کچھ نہ کچھ درست طریقے سے نہیں ہو رہا ، نیشنل ایکشن پلان کے چند اہم نقاط تا حال یا تو ایکشن کے منتظر ہیں یا پھر ان پر اُس طریقے سے عمل نہیں ہو رہا جیسے ہونا چاہیے۔ کوئٹہ والے واقعات اِسی بے عملی کا نتیجہ ہیں ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 233 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “دہشت گردی کی پنیری

  • 11/08/2016 at 2:29 am
    Permalink

    محترم، آنکھیں کھول کر دیکھیں؛ سارا کیا دھرا دوسرے ڈکٹیٹر کا ہے۔ 2004 سے قبل TTP کے وجود کا کوئی ثبوت تو پیش کریں یا اس جیسی کوئی دہشتگردی کی واردات کا۔

Comments are closed.