زیادہ بچے، خوشحال گھرانہ


\"mobeenسب کسان اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ زمین سے لگاتار دو یا تین فصلیں حاصل کرنے کے بعد اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیداوار در پیداور دینے کے بعد تھکی ماندی دھرتی ماں سکون کی طلبگار ہوتی ہے۔ ورنہ اگلی فصل جاندار نہیں ہوتی- وہ مطلوبہ میعار پر پورا نہیں اتر پاتیں- کمزور اور ناتواں رہ جاتی ہے۔ بیج پھوٹتے ہی نہیں، اگر پھوٹ جاییں تو موسم اور بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے- کمزور رہ جاتے ہیں۔ مر جاتے ہیں۔

 ایسی ہی ایک تھکی ہاری زمین میں ایک خوش عقیدہ کسان نے ایک بیج بویا۔ اسکی امید کے عین برعکس ایک کمزور پودا پیدا ہوا۔ ننھا سا خوبصورت کمزور پودا۔ زندگی کی امید لئے۔ بھڑنے، پھلنے پھولنے کی آرزو لئے۔ لیکن اس کی کمزوری، اور بیماری اس کی راہ میں رکاوٹ بنی کھڑی تھیں۔ کسان نے بڑے جتن کئیے۔ اچھی سے اچھی کھاد ڈالی۔ کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی لیکن وہ پودا مرجھاتا گیا۔ کبھی کبھی ایسا لگتا کہ اس پودے میں جینے کی تمنا دم توڑ چکی تھی۔ لیکن یہ خیال اس وقت فضول لگتا جب ذرا سی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اسے تروتازہ کر دیتا اور وہ اپنی تمام تر کمزوری کے باوجود لہلہا لہلہا جاتا۔ زندگی یقیناً اسے بہت پیاری تھی۔ وہ بھی کھلکھلانا اور لہلھانا چاہتا تھا۔ پودوں کے ایک بہت بڑے ماہر نے کہا کہ اگر اسکو فلاں کھاد ڈالی جائے تو یہ ہرا بھرا ہو جائے گا۔ بہت مہنگی کھاد تھی لیکن کسان اپنی فصل کو مرجھاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ کھاد منگوائی گئی۔ اور جس دن اسے کھاد ڈالنے کے لئے لے جائی گئی وہ پودا اپنی کمزوری اور بیماری کی تاب نہ لاتے ہوے بے جان ہو چکا تھا۔

کسان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ چند لمحوں میں آخر یہ کیا ہو گیا۔ اور پھر کسان پر حقیقت کے دریچے وا ہوے اور اسے یاد آیا کہ یہ سب تو خدا کی مرضی سے ہوا ہے۔ ورنہ پچھلے اتنے مہینوں سے ننھا پودا اتنی شدید کمزوری اور بیماری سے لڑتا رہا ہے اور آخری لمحوں میں، جب وہ کچھ ہریالی کی طرف بھی مایل تھا اور پودوں کے ماہر نے اسے مکمل ہرا بھرا کرنے کے لئے کھاد کا بندو بست بھی کر لیا تھا، وہ یقیناً خدا کی مرضی سے ہی مرجھایا ہے۔ یہ سوچ کر کسان اپنا دکھ بھول گیا اور خدا کی حمد و ثنا میں مصروف ہو گیا۔ لیکن میرے ذہن میں ایک سوال ابھی بھی کلبلا رہا ہے۔ کیا تھکی ہاری دھرتی میں بویا جانے والا بیج بھی خدا کی مرضی تھی؟ ارے ایک ننھا پودا تمہارے غلط فیصلے کی وجھہ سے زندگی کی بہار دیکھنے سے محروم رہ گیا۔ موت سے لڑ تے لڑ تے جب اس کی ہمت جواب دے گئی تو تم سارا کیا دھرا خدا کے کھاتے میں ڈال کر مطمعن ہو گئے۔

۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں