کیا ہمیں اپنا وطن چھوڑنا پڑے گا؟


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

پچھلی صدی نظریات کی صدی تھی۔ صنعتی انقلاب کے بعد کالونیل ازم اور بادشاہت کی راکھ سے نئی عمارتیں بنانے کے لیے کئی نظریاتِ سلطنت ابھرے۔
کہیں کمیونزم نظر آیا، کہیں سوشل ازم، کہیں مذہب بنیاد بنا اور کہیں سیاست میں آزادی اظہار اور اقتصادیات میں آزاد معیشت پر چلنے کا فیصلہ ہوا۔
نظر یہی آ رہا ہے کہ جہاں افراد کو آزادی ملی اور قانون اس آزادی کا محافظ بنا وہی ملک کامیاب رہے۔
ورنہ سوویت یونین سے لے کر سپین تک اور ایران سے لے کر اسرائیل تک نظریات میں شدت برتنے اور آزادی سلب کرنے والے ملک ناکام نظر آتے ہیں۔ جرمنی اور چین بھی اسی وقت اپنے شہریوں کی زندگی بہتر کر پائے جب انہوں نے انتہاپسندانہ نظریات کو یکسر ترک کیا۔ چین میں معیشت اب فری مارکیٹ والی ہے، گو کہ سیاست ابھی کمیونسٹ دور ہی کی چل رہی ہے۔ وہ انتہاپسندی سے وسط کی طرف پلٹے ہیں۔
جو ملک انتہاپسندی کی طرف گئے ہیں، خواہ وہ مذہبی انتہاپسندی ہو یا معاشی انتہاپسندی یا سیاسی انتہاپسندی، وہ تباہ و برباد ہوئے ہیں۔
جن ملکوں کے شہری اس حد تک مجبور ہو جائیں کہ انہیں زندگی بہتر بنانے کے لیے اپنی جنم بھومی چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آئے، وہ ملک کیسے ترقی کر سکتے ہیں؟
اور عام طور پر وہی شہری ملک چھوڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو معاشی طور پر یا علمی طور پر معاشرے میں نمایاں ہوں۔ اپنے معاشرے کی یہ بالائی کھونے کے بعد ملک کے کڑاہے میں باقی پھر لگا ہوا دودھ ہی بچتا ہے جو جذبات کے وقتی ابال سے کبھی کسی ایک طرف لگ جاتا ہے اور کبھی کسی دوسری طرف۔
اہل ہنر کو وطن میں ہی رہنے دو۔ ورنہ پھر سب شامیوں اور افغانوں کی طرح در در کی ٹھوکریں کھاؤ گے۔ یہ اہل ہنر اسی وقت وطن میں رہیں گے جب یہاں امن اور قانون کی حکمرانی ہو گی۔ بدقسمتی سے کوئی بھی قانون کی حکمرانی نہیں چاہتا ہے۔ کسی کو پولیس کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں، اور کوئی اپنے ڈنڈ دکھا کر قانون سے بالاتر ہو جاتا ہے۔
ادارے بنیں گے، اپنی متعین شدہ حدود میں کام کریں گے، تو پھر ہی ملک ترقی کرے گا۔ پھر ہی لوگ روزگار اور زندگی کے لیے ملک سے باہر جانے کی بجائے اس ملک کا رخ کریں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar