قانون کی عملداری اور عدلیہ پر حملے


\"edit\" دو ہفتے قبل اندرون سندھ سے کراچی آتے ہوئے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکن واحد بلوچ کو راستے سے دو سفید پوش افراد نے حراست میں لے لیا تھا۔ بعد میں پولیس نے یہ کہہ کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کردیا تھا کہ انہیں انٹیلی جنس ایجنسی نے اٹھایا ہے اس لئے پولیس نہ تو مقدمہ درج کرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی مدد کرسکتی ہے۔ آج ہی کو ئٹہ میں شریعت کورٹ کے جج ظہور شاہ وانی کو ٹارگٹ کرکے ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا ہے۔ اس حملہ میں جج کی گاڑی محفوظ رہی لیکن ان کے اسکاڈ میں شامل پولیس کی گاڑی زد میں آگئی اور 14 افراد زخمی ہوگئے۔ یہ دونوں واقعات لاقانونیت کا شاخسانہ ہیں۔ دونوں جرائم کا تدارک ضروری ہے۔

آج کوئٹہ میں حملہ سوموار کو وکلا پر ہونے والے حملہ کے 3روز بعد کیا گیا ہے۔ 8 جولائی کو کوئٹہ میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ بعد میں جب ان کے رفقا اور اعزہ ان کی میت وصول کرنے سول اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں جمع تھے تو ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ کرکے ستر سے زائد لوگوں کی جان لے لی۔ ان میں 55 کے لگ بھگ وکیل شامل تھے۔ آج کے حملہ سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ دہشت گرد خاص طور سے عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ملک بھر میں اس سانحہ کا درد محسوس کیا گیا ہے اور قومی اسمبلی میں مختلف پارٹیوں نے اسے انٹیلی جنس کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔

دوسری طرف یہی ایجنسیاں کسی قانونی اختیار کے بغیر اس ملک کے شہریوں کو اٹھا لیتی ہیں اور انہیں کسی عدالت میں پیش بھی نہیں کیا جاتا۔ یعنی جن ایجنسیوں کو دہشت گردوں کا سراغ لگا کر، ناخوشگوار اور افسوسناک دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لئے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کرنی چاہئیں ، وہ قومی مفاد اور سلامتی کی من پسند تشریح کی آڑ میں انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے شہریوں کو غائب کردیتی ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے یا بعض انتہائی صورتوں میں جان سے مار دیا جاتا ہے۔ مسنگ پرسنز Missing Persons کا معاملہ کئی برس سے عدالتوں کے سامنے ہے لیکن اعلی عدالتیں بھی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ان لاقانونی ہتھکنڈوں کو ختم کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اگر ریاست اور اس کے ادارے خود قانون کا احترام نہیں کریں گے اور خود کو اس سے بالا سمجھتے ہوئے اقدام کرتے رہیں گے تو وہ ان نان اسٹیٹ ایکٹرز کو کس طرح قانون کی پاسداری پر مجبور کرسکیں گے جن کا ماٹو ہی ریاست کے آئین اور قانون کو مسترد کرنا ہے۔

کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے اور واحد بلوچ کے اہل خاندان نے اس ظلم کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔ اہل خاندان اور انسانی حقوق کمیشن تمام تر کوششوں کے باوجود واحد بلوچ کا سراغ لگانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ کمیشن کے نمائندے اسد اقبال بٹ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ واحد بلوچ کا پتہ لگانے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مطالبہ کرنے کے لئے متعلقہ حکام کو متعدد خط روانہ کئے گئے ہیں لیکن یہ سارے خط واپس وصول ہوجاتے ہیں کیوں کہ کوئی سرکاری اتھارٹی اس شکایت کو سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس دوران سندھ ہائی کورٹ میں واحد بلوچ کے غائب ہوجانے کے حوالے سے ایک پیٹیشن دائر کی گئی ہے ، جس کی سماعت 15 اگست کو ہوگی۔

واحد بلوچ ایک عام شہری ہیں۔ وہ ٹیلی فون آپریٹر کے طور پر سول اسپتال کراچی میں کام کرتے ہیں۔ فارغ اوقات میں نادار بچوں کی تعلیم کے لئے کام کرتے ہیں اور غائب ہونے سے پہلے ایک لائیبریری قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ وہ انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اگر انہوں نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو انہیں مروجہ طریقہ کے مطابق کسی قانون کے تحت گرفتار کرکے ان کا معاملہ عدالت میں انصاف کے لئے پیش کیا جانا چاہئے۔ لیکن ان کے خلاف ایجنسیوں نے جو غیر قانونی کارروائی کی ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ نہ تو اس ملک کے قانون مؤثر ہیں اور نہ ان کو نافذ کروانے والے ان پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ایجنسیوں کی حمایت میں جیسی بھی خوشنما تقریریں کریں ، اس ملک میں قانون کی عملداری کی ضمانت فراہم نہیں ہو سکتی۔

حکومت قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی بات کرتی ہے۔ اس منصوبے میں اب یہ شق بھی شامل ہونی چاہئے کہ کوئی سرکاری ادارہ کسی قانونی اتھارٹی کے بغیر کسی شہری کو غائب نہیں کرسکتا۔ ایسے جرم میں ملوث ہونے والوں کے خلاف بھی انہی قوانین کے تحت کارروائی ہونی چاہئے جو دہشت گردوں پر لاگو کئے جاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 931 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali