ایک مزاح نگار کا کھاتہ سوئز بینک میں۔۔۔


\"muhammad\”حضرات! میں کسی مجبوری اور دباؤ کے بغیر اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ سویٹزر لینڈ کے ایک بینک میں میرا اکاؤنٹ موجود ہےآپ اس بات کو نہیں مانتے تو نہ مانیئے ۔ میری بیوی بھی پہلے اس بات کو نہیں مانتی تھی ۔ اب نہ صرف اس بات کو مان رہی ہے بلکہ مجھے بھی ماننے لگی\”۔

مجتبی حسین جنہیں ادبی خدمات کی بنا پہ ہندوستان نے بڑے سویلین اعزاز پادمہ شری سے نوازا گیا، اردو ادب میں اس طنز و مزاح نگار کا مقام محفوظ ہو چکا ہے۔ انگریزی، جاپانی، ہندی اور دیگر کئی زبانوں میں انکی تحریروں کا ترجمہ ہوا۔ انکے تعارف کی مزید جانچ انکی ویب سائٹ سے ہو سکتی ہے جسکے بارے میں مصنف کافی پر مسرت ملکیت کے دعویدار ہوئے ہیں۔ انکی ایک تحریر\” \” سوئز بینک میں کھاتہ ہمارا\” بڑی مقبول ہے۔ اس میں انکا انداز بھی نمایاں ہے اور ایک پیغام بھی بیان کرتے نظر آئے۔ اسے لکھتے ہو ئے مجتبی صاحب نہ گھبرائے ، نہ ہچکچائے بے دھڑک اپنی حیثیت کو رقم کیا او راس بحث کا حصہ بن گئے جس کا قصہ ہمارے ہاں زبان زد عام ہے یعنی \”سویٹزر لینڈ کے بینک\” کا موضوع جناب نے سوئزر لینڈ کی اصل وجہ شہرت کا کامیاب تعاقب کیا، اور پھر جو آزمایا اسے منکشف کیا کہ انکے تجربے میں اس سویزر لینڈ کے خطے کی قدرتی مناظر سے زیادہ پہچان وہاں موجود بینکوں میں دولت کےانبار ہیں اسکی جادوئی خوبصورتی کے تزکرے اور اس صحت افزا مقام پہ جانے کا فائد ہ رومانوی و جسمانی صحت کے علاوہ جو ہوتا ہے وہ یہ کہ بینکوں کا دورہ کیجیئے حسب استطاعت جمع کرائیے گھومیئے اور پھر چھوڑ یں فکر کل کی اور دیکھیں لکشمی دیوی کا لطف و کرم کیا ہوتا ہے۔لوگ جو آپ سے زرا ہٹ کے چلتے تھے کہ نجانے کب روپے کی آزمائیش واسطے قرض کے ڈال دے، وہ سب بغل گیر ہونے کے درپے ہو جائیں گے۔ وہاں کے دولت کدوں کا سحرہے کہ لوگ مجبور ہیں یا مشکور ،بس بچھے جاتے ہیں، جن سے نسبت ہو وہ رشتے داری کا خواب دیکھتے ہیں۔ اب یہ \”اکاؤنٹ ہولڈرز\” اس عوامی پزیرائی کو پاؤن تلے روندنے سے تو رہے بھئی اگر مسئلہ عوامی ہوتا تو لوگ کھاتہ داروں کی اتنی قدر کرتے ۔\” مجتبی حسین\” صاحب کو ہی دیکھ لیجیئے جنہیں اپنی مالی حالت کی خوب خبر تھی اور دنیا انکی اس حیثیت کو پہچانتی تھی تبھی منہ بچا کے لوگ پاس سے گزر جاتے کہ ایک ادیب سے ہمیں کیا حاصل۔۔۔ یکا یک سویزر لینڈ کا نام نام سے جڑا دن پھر گئے بلکہ\” دن چڑھ گئے\” ۔۔۔۔

اس تحریر کو پڑھ کے خیال آتا ہے کہ ہمارے ہاں جو سویز اور دیگر بینکوں سے رقم واپسی کا مطالبہ اکثر اٹھایا جاتا ہے۔ تو اسکے پورا نہ کرنے میں جو جواز ہے وہ یہی ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنی شفاف ساکھ کو اپنے ہاتھوں گھونٹ ماریں کیا اپنی شہرت اور قدر افزائی کا تا بوت بنائیں خود اپنے ہاتھوں سے، اپنے بے لگام اسپ رعب کی باگ عوام کو تھما دیں۔۔۔ اگر نظر بد لگ گئی اثاثے کو، یا مہربان قسمت روٹھ گئی بھرم ٹوٹنے پہ اور من میں بسا \”سفید پوش چور\” بھاگ نکلا تو ساتھ ہتھیانے کے حربے بھی گئے۔۔۔ بس اسی اندیشے کے ڈر سے ہمارے ملک کے رضا کار رقم واپسی کی چٹھی نہیں لکھتے ورنہ جمہوری حکومتوں میں کیا نہیں ہوتا اور یہ تو چھوٹا سا کام ہے۔ آمروں کے دھیان میں یہ بات اس لیئے نہ آئی کہ کہیں لوگ انکی نیتوں پہ شک نہ کریں کہ لو جی جبری اور آمرانہ حرکتیں شرعؑ کر دی ہیں۔ الغرض ہر طرز حکومت سویزر لینڈ اور مغرب میں واقع دیگر \”مقدر بدل\” بینکوں سے محتاط ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ضرورت سے زیادہ پیسہ جوڑنے یا کمانے کی لگن در حقیقت وہاں کے بینکوں کا پیٹ بھرنا ہے وگرنہ جہاں میں اتنی لالچ کہاں جتنی تنقیدی تجزیوں میں پیش ہوتی ہے

مزکورہ تحریر کی خراب بات یہ ہے کہ ہمارا منہ چڑاتی ہے وجہ اردو زبان ہے، مجتبی حسین یا بر صغیر سے مصنف کی نسبت، بات کچھ اپنی اپنی سی لگتی ہے ورنہ محض \”لکھائی کی مشق\” سمجھ کے نطروں سے اوجھل کر دیتے۔ اسی اپنائیت نے راغب کیا اس نا چیز کو مخاطب کر کے، کہ؛

قلم میں اتنی ہمت ہے تو کوئی جواب تو دو۔۔۔\"HY30MUJTABA_HUSSAI_1414053f\"

روشنائی کی ضرورت کاہے کی یہاں حرف حرف روشن ہے

نہیں دیتے جواب مطلب پکڑے گئے ہو،،

شاید تم ہی ہو بلکہ تم بھی ہو،،

ہیں ناں،،

ارے گھبراؤ نہیں ۔۔

شاباش لکھو تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا،،،

کمال ہے بھئی اتنی سی بات پہ پریشان ہو،،

ارے میرا یقین کرو۔۔

دیکھو اس سے پہلے بھی تو یہ سب ہوتا رہا،، کیا ہوا؟

تمہیں بھی کچھ نہیں ہو گا۔۔

مو صوف لکھتے کیا ہیں اس \”شہرہ آفاق\” خطے کے بارے میں، زرا انہی کی زبانی اس تحریر کا ایک پیرا گراف ملا حظہ ہو اور جانیئے کہ ہم اور مجتبی حسیں کا مضمون \” سویز بینک میں کھاتہ ہمارا\” صرف رشتہ اردو میں منسلک ہیں یا کچھ اور بھی سانجھ ہے۔۔ فیصلہ آپ کے ذمہ

\” میں نے کہا\’\’ بیگم! کان کھول کر سن لو۔ یہ پہاڑ اور قدرتی مناظر، سب بہانے بنانے کی باتیں ہیں۔آج تک کوئی سویٹزر لینڈ میں صرف پہاڑ دیکھنے کے لیئے نہیں گیا۔ پہاڑ کی آڑ میں وہ کچھ اور کرنے جاتا ہے۔ سویٹزر لینڈ کے پہاڑ اس لیئے اچھے لگتے ہیں کہ ان کے دامن میں سویٹذر لینڈ کے وہ مشہور و معروف بینک ہیں جن میں پیسہ جمع کراؤ تو پیسہ جمع کرانے والے کی بیوی تک کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں اس کے شوہر کا پیسہ جمع ہے۔ ایک ساحب کہ رہے تھے کہ بعض صورتوں میں خود بینک انتظامیہ کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ اسکے بینک کس کا کتنا پیسہ جمع ہے۔ ان بینکوں کو وہاں سے ہٹا لو تو سویٹزر لینڈ کے قدرتی منا ظر اور پہاروں کی ساری خوبصورتی دھری کی دھری رہ جائے ۔سچ تو یہ ہے کہ جس نے پہلگام،گلمرگ اور پیر پنجال کے پہاڑ دیکھے ہیں اسے سویئٹزر لینڈ کے پہاڑ کیا پسند آئیںگے۔ رہی برف کی بات تو اسے تو روز ہم ریفریجریٹر میں دیکھتے ہیں۔ اب بتاؤ سویٹزر لینڈ میں باقی کیا رہ جاتا ہے۔ ہاں کسی زمانے میں یہاں کی گھڑیاں مشہور تھیں۔ اب جاپان نے انکی ایسی تیسی کر دی ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ گھڑی سازی کے معاملہ میں ہر ملک کا ایک وقت ہوتا ہے۔ سویٹزر لینڈ کی گھڑی اب ٹل چکی ہے۔\”

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “ایک مزاح نگار کا کھاتہ سوئز بینک میں۔۔۔

Comments are closed.