تزویراتی کھیل ختم کئے جائیں


\"Wajidدنیا میں ریاست اور اس کے شہریوں کے آپس میں تعلق کے متعلق دو قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ کہتا ہے کہ ریاست ایک مقصد ہے، جس کے حصول اور حفاظت کے لئے شہری ایک ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس دوسرے نظریے کے مطابق مقصد شہری ہیں اور ریاست ایک ذریعہ ہے۔ یعنی کہ شہریوں کی سماجی، معاشی، معاشرتی  اور سیاسی ترقی ہی کسی ریاست کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔

دیکھا جائے تو دوسرا نظریہ جاندار نظر آتا ہے، کیونکہ ریاست بنانے کا بنیادی مقصد ہی اس کے شہریوں کی فلاح و بہبود ہے۔ ان کی ترقی اور ان کو ایک بہتر معیار زندگی مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی ریاست اپنے شہریوں کو بہتر معیار زندگی مہیا نہیں کر سکتی، اور ان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق نہیں دے سکتی تو ایسی ریاست کے خلاف اپنے ہی شہری علم بغاوت بلند کرتے ہیں۔ اور نتیجتاً کسی دوسری ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اگر تو ریاست کو شہریوں کے ان حقوق کا ادراک ہوگا، تو وہ بغیر کسی چوں چرا کے ان کے آگے سر تسلیم خم کر دے گی۔ اس کے بر عکس اگر ریاست کے لئے شہریوں کے حقوق کوئی وقعت نہیں رکھتے، تو پھر شہریوں کے زبان بند کئے جائیں گے۔ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

شہری اگر دب جاتے ہیں تو ان کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان کو پہلے درجے کے شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ریاست کے محافظین کو ان کے متعلق یہ کڑکا لگا رہتا ہے کہ وہ کب دوبارہ علم بغاوت بلند کریں گے، اور اپنے حق کی بات کرکے ریاست کے وجود کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائیں گے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کے خلاف نہیں ہوتی۔ جو لوگ یا گروہ اپنی زبانیں بند رکھ سکتے ہیں، اپنے حقوق کی بات نہیں کرتے، ریاست کے کرتا دھرتاؤں پر تنقید نہیں کرتے اور جو کچھ ان کے پاس ہو اس پر شکر بجا لاتے ہیں۔ وہ ریاست کے وفادار شہری ہوتے ہیں۔ دوسرے لوگ یا گروہ جو یہ سب نہ کر سکتے ہوں، باغی یا غدار بن جاتے ہیں۔

ریاست نہ کبھی مقدس گائے تھی اور نہ رہے گی۔ اس کا وجود مستقل نہیں ہے۔ اس کی سرحدیں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ تو کوئی بھی ریاست اگر اپنے ہی شہریوں کے خلاف توپ و تفنگ کا استعمال کر رہی ہے تو اس کو یاد ر کرنا چاہیئے کہ وہ خود کیسے وجود میں آئی تھی؟ کیا اس نے بھی اپنی مدر سٹیٹ کے خلاف اپنے حقوق کے لئے علم بغاوت بلند نہیں کی تھی؟ کیا اس ریاست کے حصول کے لئے قربانیاں نہیں دی گئی تھی؟ اگر دی گئی تھی تو مقصد کیا تھا؟

اگر مقصد صرف ریاست بنانا تھا تو پھر تو سب شہریوں پر کسی بھی قیمت پر اس کی حفاظت کرنا فرض ہے۔ لیکن اگر ریاست اس لئے بنایا گیا تھا کہ یہاں پر ایک خاص گروہ، نسل، قوم یا فرقے کے لوگ آزاد ہوں گے۔ اپنے عقائد کی مطابق زندگی گزاریں گے۔ ان کو سب بنیادی حقوق مہیا ہوں گے۔ اور ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے سب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ تو پھر اگر ریاست ان مقاصد سے روگردانی کرے اور طاقت کے استعمال سے اپنے شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھے، تو شہریوں کو حق ہے کہ وہ ایسی ریاست کے خلاف علم بغاوت بلند کرے۔ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائے یا کسی دوسری ریاست کے قیام کا مطالبہ کرے۔

پاکستان کی مثال بھی ان ریاستوں کی طرح ہے جن کے لئے مقصد شہری نہیں ریاست ہوتی ہے۔ یہاں پر شہری ہمیشہ سے اسی مقصد کے وسیع تر مفاد میں قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ اس کی بقا کی جنگ میں شہری ہی سب سے زیادہ خون کے نذرانے پیش کرتے آئے ہیں۔ کیونکہ بطور ریاست ہمیشہ پاکستان کو اپنی بقا سے متعلق خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ کبھی بتایا جاتا ہے کہ دشمن اندرونی ہے۔ جس کو بنیاد بنا کر مختلف شہریوں کو غداری کے تاج پہنائے جاتے ہیں۔ ان کو قید کیا جاتا ہے۔ جلا وطن کیا جاتا ہے، اور اگر خوف باقی رہے تو قتل بھی کیا جاتا ہے۔ باچا خان، صمد خان، جی ایم سید، بزنجو اور اکبر بگٹی انہی غداروں اور وطن فروشوں میں سے چند نام ہیں۔

کبھی بیرونی عناصر اور ایجنسیوں کا نام لیا جاتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ان بیرونی عناصر کو سوائے ہمارے وجود کے ختم کرنے کے دنیا میں کوئی دوسرا کام نہیں ہے؟ یہ کبھی ہمارے بچوں کو مار کر ہمارے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں۔ اور کبھی ہمارے ہسپتالوں، مسجدوں، امام بارگاہوں، گرجا گھروں اور پارکوں میں دھماکے کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن خدا بھلا کرے ہمارے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظین کا، پاکستان قائم رہے گا چاہے اس کے شہری رہیں یا نہ رہیں۔ جیسے مشرقی پاکستان میں یحیی خان اور اس کے سپہ سالاروں کو بنگال کی زمین چاہئے تھی بنگالی نہیں۔ اسی طرح آج بھی زمین ہی قیمتی ہے زمین والے نہیں۔

اسی زمین کی حفاظت کے لئے ہمارے شیر دل جوان کبھی کمیونسٹوں کا قلع قمع کرنے کے لئے افغانستان پہنچ جاتے ہیں۔ تو کبھی ہمارے قصاب انڈیا میں اپنے مبارک قدم رکھ دیتے ہیں۔ تاہم اپنی سر زمین کی حفاظت کے لئے دوسروں کے گھروں کو ستر سال تک جلا کر بھی اگر ہم محفوظ نہیں تو کچھ تو گڑبڑ ہے۔

میرے خیال میں گڑ بڑ ریاست کے نقطہ نظر میں ہے۔ پاکستان کو بحیثیت ریاست ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعلان کرنا پڑے گا کہ اس کے لئے یہ  سر زمیں ہی اہم ہے یا اس پہ بسنے والے بے بس اور لا چار عوام بھی کوئی اہمیت رکھتے ہیں؟ اگر سر زمین زیادہ اہم قرار پاتی ہے تو عوام ہمیشہ کی طرح اپنے جگر گوشوں کے خون سے اس کی آبیاری کرتے رہیں گے، پٹتے رہیں گے، روتے رہیں گے۔ اور لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

اگر عوام بھی اہم ہیں تو خدارا را، موساد یا افغانستان کا نام نہ لیا جائے۔ اپنی گریبان میں جھانکا جائے۔ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے۔ شہریوں کے لب سینے سے گریز کیا جائے۔ اپنے حافظوں اور قصابوں کو دوسروں کے گھروں کو آگ لگانے سے منع کیا جائے۔ اپنی تزویراتی گہرائی کی سوچ کو ختم کیا جائے۔ جن قوم پرستوں کو غداری کے تمغے عنایت کیے گئے ہیں وہ واپس لئے جائیں۔ اور تمام ناراض گروہوں کی ناراضگی دور کی جائے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو جو لاشیں بلوچ اور پشتون آج اٹھا رہے ہیں، تو وہ یہ کہنے اور الزام لگانے میں بجا ہوں گے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں