ذکر آلو گوبھی کا، اور پھر بیاں اپنا


\"Muhammad-Ishfaq\"

ایک وقت تھا کہ پنجاب میں اگنے والے آلوؤں اور گوبھیوں کا بیشتر حصہ ہمارے گھر کھپ جایا کرتا تھا۔ وجہ اس خوش خوراکی کی یہ تھی کہ جس طرح ہم مسلمان اس بات پہ متفق نہیں ہو پائے کہ نماز میں ہاتھ باندھے جائیں یا چھوڑے جائیں، اور باندھے جائیں تو کہاں باندھے جائیں اور چھوڑے جائیں تو کس پہ چھوڑے جائیں، بالکل اسی طرح اہلِ خانہ کا کسی سبزی پہ اجماع نہیں ہو پاتا تھا۔ چونکہ ہمارے ہاں ایک وقت میں ایک ہانڈی بلکہ بسا اوقات تو تین اوقات میں ایک ہی ہانڈی کا رواج تھا لہذا اللہ بخشے امی خاموشی سے آلو گوبھی لے آیا کرتی تھیں اور ہم سب خاموشی سے کھا لیا کرتے تھے۔

لیکن اس فراوانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ میرے دل میں آلو گوبھی کے خلاف ویسے ہی معاندانہ جذبات پرورش پانے لگے جیسے بنی اسرائیل کے دل میں من و سلویٰ کے خلاف پیدا ہوئے تھے۔ یہود کی مشابہت سے بچنے کو یہ سوچ لیا کرتا کہ مجھ پہ من و سلویٰ اترتا تو اللہ میاں بھی دیکھتے کتنا شکرگزار ثابت ہوتا ہوں۔ اب اس کم بخت آلو گوبھی کے قہرخیز ملاپ پہ بندہ کتنا شکر کرے اور کتنا صبر۔ انہی دنوں یہ بھی سمجھ آئی کہ گورے کیسے آلوؤں سے تنگ آ کر دنیا فتح کرنے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ یہ خیال بھی آیا کہ ہمارے منصوبہ سازوں کو اگر چاروں صوبوں کی بجائے مجوزہ یا متوقع پانچویں صوبے کی زیادہ فکر رہتی ہے اور وہاں سے وہ تابخاکِ کاشغر جانے کی پلاننگ بھی کرتے رہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی آلو گوبھی نہ ہو۔ گویا سٹیبلشمنٹ کے توسیع پسندانہ عزائم بھی آلو گوبھی کے مرہونِ منت تھے۔ چونکہ میں پیدائشی اینٹی سٹیبلشمنٹ ہوں اس لئے اس دن علمِ بغاوت بلند کر ڈالا جب مسلسل چوتھے وقت بھی آلو گوبھی کی زیارت ہوئی۔

\"alo-gobhi\"

گھر سے یہ سوچ کر نکلا کہ اسلام نے ابھی گھر سے کھانا نہیں منگوایا ہوگا، مگر اس کی دکان پہ پہنچ کر یہ روح فرسا خبر سننے کو ملی کہ وہ روٹی کھا چکا ہے اور وہ بھی آلو گوبھی کے ساتھ۔ جذبات اس کے بھی ہوبہو وہی تھے جو میرے۔ چنانچہ ہم نے مل کر دنیا کی جملہ گوبھیوں اور تمام آلوؤں کے متعلق ناقابلِ تحریر بلکہ ناقابلِ عمل خیالات کا اظہار کیا۔ لیکن صرف خیالات سے کہاں پیٹ کی آگ بجھتی ہے، چنانچہ منہ طرف آصف و تصدق کے گھر کے کیا۔

بھابھی نے شاید میری شکل سے حالت بھانپ لی کہ دیکھتے ہی روٹی کا پوچھا۔ ”کیا پکا ہے؟“ میں نے منہ میں امنڈتا پانی نگل کر پوچھا۔
”آلو گوبھی“
بھابھی کا یہ جواب سن کر زمین و آسمان گھومتے محسوس ہوئے۔ بمشکل انہیں بتا پایا کہ آلو گوبھی نے کیسے میرا جینا حرام کر رکھا ہے۔ بھابھی نے کمال شفقت سے دلاسہ دیا، اور اندر سوئے آصف کو اٹھا لائیں۔

”اشفاق بھائی جان آلو گوبھی نہیں کھاتے، جلدی سے ان کیلئے انڈہ فرائی کریں میں پراٹھا بناتی ہوں“ یہ کمانڈ سن کر آصف نے جماہی روکتے ہوئے ایک قہر آلود نگاہ مجھ پہ ڈالی اور پھر تنہائی میسر آنے پہ میرے متعلق عین انہی عزائم کا اظہار کیا جو میرے آلو گوبھی کے متعلق تھے۔ مگر اللہ بھلا کرے، دونوں میاں بیوی کی مشترکہ کاوش سے آخر مجھے ایک شاندار لنچ کرنا نصیب ہوا۔
آج ایک طویل عرصے بعد آلو گوبھی کھانا نصیب ہوا تو یہ سب کچھ یاد آ گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں