کھلے آسمان تلے کتبہ اور انتہاپسندی


\"wajahat\"میں نے آنکھ کھولی تو ماں جی بہت ضعیف ہوچکی تھیں۔ میرا باپ ماں جی کا بیٹا تھا اور تب اس عمر سے کچھ چھوٹا رہا ہو گا جس عمر میں اب میرا بیٹا ہے۔ ماں جی میں کچھ ایسا تھا جو میں نے پھر کسی ماں میں نہیں دیکھا۔ ماں جی کی آواز ختم ہوچکی تھی۔ وہ بات کرتی تھیں لیکن ان سے بہت قریب ہو کے معلوم کرنا پڑتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ میں تو ایک شرارتی گڈا تھا جو ہر وقت ماں جی کی گود میں بیٹھا رہتا تھا اور حیران ہوتا تھا کہ ماں جی کی آواز میں آواز باقی نہیں رہی۔

دوسری بات یہ کہ فضا میں ہوائی جہاز کی آواز سنائی دیتے ہی ماں جی بے ہوش ہوجاتی تھیں۔ کورامین نام کی ایک دوا تھی جس کی شیشی اٹھائے شوکت بھائی لپکتے تھے۔ یہ دوا سونگھنے سے ماں جی کو ہوش آ جاتا تھا۔ ماں جی سر پہ ہمیشہ کالی چادر اوڑھتی تھیں۔ سردی ہو یا گرمی، ماں جی گھر کے صحن میں سوتی تھیں۔ اور ایک آخری بات یہ کہ سورج ڈھلتے ہی پرندوں کے جھنڈ نامعلوم کہاں سے آڑتے ہوئے آتے اور خدا معلوم کدھر نکل جاتے تھے۔ جب یہ پرندے فضا میں نمودار ہوتے تو ماں جی کہتی تھیں \”رفعت علی پرندے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اب تم بھی واپس آ جاؤ۔\”

بچوں کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ توتلی باتیں کرنا سیکھ لیتے ہیں تو سوال بہت کرتے ہیں اور پھر انہیں بہت سی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں۔ درویش کو بھی کچھ باتیں معلوم ہو گئیں۔ رفعت علی میرے ابا کے بڑے بھائی تھے، 1930 کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ میٹرک کا امتحان انہوں نے پاس کر لیا تھا۔ فٹ بال کے کھلاڑی تھے۔ اسلامیان ہند نے قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان حاصل کر لیا تو لکیر کے دونوں طرف فسادات پھوٹ پڑے۔

یہ بحث اب بیکار ہے کہ کلکتہ میں راست اقدام کب ہوا تھا؟ بہار کے فسادات میں سردار پٹیل کا کیا ہاتھ تھا؟ یاد رہے کہ ولبھ بھائی پٹیل ہندوستان کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ تھے جیسے چوہدری نثار علی پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں۔ پنجاب میں خضر حیات کی حکومت کب ٹوٹی؟ راولپنڈی، ٹیکسلا، گوجر خان اور تلہ گنگ میں فسادات کب شروع ہوئے؟ پنجاب پولیس میں مسلمانوں کی تعداد کیا تھی اور عالمی جنگ لڑ کر واپس آنے والے تربیت یافتہ سکھ کس تعداد میں تھے؟ یہ سب تو کتابوں میں لکھا ہے میں تو آپ کو بھائی رفعت علی کے بارے میں کچھ بتا رہا تھا۔

لدھیانہ کے محلہ کریم پورہ میں رفعت علی سکھ لڑکوں کے ایک ہجوم میں اس اعتماد کے ساتھ بحث کرتے گھر کی طرف آرہے تھے جو سترہ برس کے ان نوجوانوں میں پایا جاتا ہے جنہیں معلوم نہیں ہوتا کہ عقیدے، فرقے اور سیاست کی آگ سلگ اٹھے تو جوانی کا اعتماد ایک طرف رکھ کے فوراَ گھر کا راستہ لینا چاہئے۔ بھائی رفعت علی نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ آٹھ دس سکھ لڑکوں نے انہوں ہاکیوں پر رکھ لیا۔ ہاکی کی ایک آدھ ضرب سر پر بھی لگی، زخمی ہوگئے، گھر لائے گئے اور پھر مر گئے۔ فسادات کی وجہ سے کفن دفن کے معمولات معطل ہوچکے تھے۔ بھائی رفعت علی کی لاش صحن میں چھوڑ کر سب گھر والوں کو ریلوے سٹیشن جانا پڑ گیا تاکہ پاکستان پہنچ سکیں۔

ماں جی کے گلے میں آواز پیدا کرنے والے عضلات اگست 1947 میں ختم ہو گئے تھے کیوں کہ انہیں رفعت علی پر کھل کر رونے کا موقع نہیں ملا۔ کالی چادر وہ سوگ میں پہنتی تھیں اور کھلے آسمان تلے سونے کا جواز یہ دیتی تھیں کہ رفعت کو دفن نہیں کیا، شاید وہ زندہ ہو اور گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے واپس آجائے، دستک دے گا تو میں صحن میں سو رہی ہوں فوراَ دروازہ کھول دوں گی۔ مارچ 1975 میں ماں جی کا انتقال ہونے تک رفعت علی واپس نہیں آیا تھا۔ یہ قصہ میں نہیں سناتا مگر بات یہ ہے کہ 8 اگست کی صبح کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ستر سے زیادہ رفعت علی رخصت ہوگئے اور نہیں معلوم کہ کتنی ماؤں کے گلے مستقل بیٹھ جائیں گے۔ ماتم کی کالی چادر گلی گلی میں نظر آئے گی، کھلے آسمان تلے نئے کتبے نصب ہوں گے۔ نام کچھ بھی ہو، ماؤں کے لئے ہر بیٹا رفعت علی ہوتا ہے اور بیٹے بازار میں نہیں بکتے۔

ہمارے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ کوئٹہ خود کش حملہ پاکستان چین راہداری پر کیا گیا ہے۔ ایک دوسرے رہنما نے کہا کہ حملے میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔ ایک محترم رہنما نے کہا کہ جب ہم کرپشن کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں، نیا دھماکہ ہوجاتا ہے۔ دھماکے تو اس ملک میں پچھلے 35 برس سے ہو رہے ہیں، کرپشن کے خلاف تحریک دھاندلی والے دھرنے کے بعد نمودار ہوئی ہے۔ ہمارے کچھ محترم رہنماؤں نے کہا کہ ہر طرح کے انتہا پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ توقع کے عین مطابق ان رہنماؤں کو فوراَ غدار قرار دے دیا گیا۔

ہمارے ملک میں کچھ سوالات اٹھانے کی کسی کو اجازت نہیں۔ پختونوں کی لاشیں گرائی گئیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں جنازہ اٹھانے والے شیعہ بھائیوں پر حملے کئے گئے۔ داتا صاحب لاہور سے لے کر عبداللہ شاہ غازی کراچی تک عبادت کرنے والے خون میں نہلائے گئے۔ پیپلز پارٹی کے جیالے مرے، اے این پی کے جاں نثار چن چن کر مارے گئے۔ ہزارہ بہن بھائیوں کا خون ارزاں ہوا۔ ملتان، فیصل آباد، فتح جنگ، بھکر، شکار پور، کراچی، لاہور اور چارسدہ، ہمارے ملک کے نقشے پر جہاں شہروں کے نام لکھے تھے وہاں اب لہو کے دھبے ہیں اور ہمیں یہ بتانے کی اجازت نہیں کہ جب اپنی سوچ کو صحیح اور دوسرے کی سوچ کو باطل قرار دینے کا چلن پھیل جائے تو بندوق اور بارود کا موسم اتر آتا ہے۔

خیال یہ تھا کہ ایسے کچھ جری بہادر جوان تیار کئے جائیں جو جذبے کے گھوڑے پر بیٹھ کر نقشہ بدل ڈالیں گے۔ نقشہ تو واقعی بدل گیا ہے مگر یہ نقشہ اپنے ملک کا تبدیل ہوا ہے۔ جو معصوم ہیں وہ نشانہ بن رہے ہیں، عبادت کرنے والے سے زیادہ معصوم کون ہوتا ہے۔ مون مارکیٹ میں آئس کریم کھانے والے بچوں سے زیادہ معصوم کون ہوتا ہے۔ دوسروں کی جان بچانے والے ڈاکٹر سے معصوم کون ہوتا ہے۔ ملزم کا دفاع کرنے والے وکیل سے زیادہ معصوم کون ہوتا ہے۔ دوسروں کی سوچ کو باطل قرار دینے کا چلن جائز قرار پا جائے تو معصومیت ہدف قرار پاتی ہے۔

صفوت غیور شہید کر دیا جاتا ہے، جنرل ثنا اﷲ نیازی کو شہید کیا جاتا ہے، راشد رحمٰن کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔ شبیر حسین شاہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ملالہ پر گولی چلائی جاتی ہے۔ سبین محمود کو قتل کیا جاتا ہے۔ اور واحد بلوچ واپس نہیں آتا۔ ایک بھائی نے تجویز دی ہے کہ کوئٹہ میں ہمارے بہت سے بہن بھائی مارے گئے ہیں، اب تم واحد بلوچ کی تصویر اپنے پروفائل سے ہٹا دو۔ کیا عرض کی جائے؟ کوئٹہ میں بہتر لاشے 8 اگست کو گرائے گئے ہیں، واحد بلوچ 26 جولائی سے لاپتہ ہیں لیکن ہمارے صحن میں کتبہ تو 19 اگست 1947 کو لگ گیا تھا۔ سات دہائیاں گزر گئیں، بیٹے واپس نہیں آتے توان کے کتبے کیسے ہٹا دئے جائیں۔ نام بدلتے رہتے ہیں۔ رفعت علی، حسن ناصر، نذیر عباسی، حمید بلوچ، واحد بلوچ، باز محمد کاکڑ۔

سنہ 2011 میں چنیوٹ سے نکلنے والی ایک سڑک پر سفر کرتے ہوئے داہنے ہاتھ ایک قبرستان نظر آیا۔ قطار در قطار تازہ قبریں نظر آئیں، معلوم ہوا 28 مئی 2010 کو گرائی جانے والی لاشوں کی ڈھیریاں ہیں۔ وہ پرندے یاد آئے جو ماں جی کی گود میں بیٹھ کر دیکھے تھے، پرندے شام ہوتے ہی گھروں کو لوٹ آتے ہیں، انتہا پسندی کے موسم میں مرنے والے بیٹے واپس نہیں آتے۔ انتہا پسندی کو ہم سب پہچانتے ہیں، انتہا پسندی کے خلاف ہم سب کو آواز اٹھانی چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

2 thoughts on “کھلے آسمان تلے کتبہ اور انتہاپسندی

  • 17/08/2016 at 9:18 am
    Permalink

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    رفعت علی نہیں آیا اور کوئٹہ والے بھی نہیں آنے والے جو زندہ ہیں وہ اپنی باری کے انتظار میں ہیں دیکھئے قرعہ فال کب نکلتا ہے پرندے بھی شام کو گھروں کو لوٹ آتے ہیں اور انتظار کرنے والوں کا قرب جو زندہ درگور کرتا ہے در گور ہونے والوں کی خوش قسمتی پر دلیل کا استعارہ ہے ہم بدقسمت جو انتظار کے جہنم میں ہیں
    کہ سنگ خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

  • 18/08/2016 at 11:00 am
    Permalink

    sir kya hua tha Chinot main 28may 2010 ko, plz ignore my knowledge,,,

Comments are closed.