انٹرنیٹ کے دور میں سینسر شپ ماضی کا حصہ ہے


ڈاکٹر مبارک علی

\”جب سچائی کو خاموشی سے بدل دیا جاتا ہے، پهر خاموشی ایک جهوٹ ہوتی ہے\” یوگینی یوتوگینشو

\"mubarak2\"جرمنی کے ترقی پسند برٹولٹ بریخت (Bertolt Brecht d۔1956)  نے نازی آمریت کے ظلم اور ریاستی تشدد کے تجربات کو برادشت کرتے ہوئے نازی پارٹی اور اس کے کارکنوں کے خلاف ایک نظم کے ذریعے اپنی بهڑاس نکالی۔ وہ لکهتا ہے کہ ایک روز اس نے نازیوں کو وہ کتابیں جلاتے ہوئے دیکها جو ان کے نظریئے کے خلاف تهیں تو اس وقت مجهے دکھ ہوا کہ میری کوئی بهی کتاب ان میں شامل نہیں تهی۔

روائتی طور پر جابر ریاستیں، حکمران طبقے، سیاسی/مذہبی جماعتیں اور اثر و رسوخ رکهنے والی شخصیات ایسے مواد کو چهاپنے پر پابندی عائد کروائے رکهتے تهے جو مواد ان کے اپنے نظریات و اعتقادات کے خلاف ہوتے تهے۔ تاریخ کے ابتدائی زمانے میں کتابوں کی چهاپ ایک حد تک محدود تهی اور اس وجہ سے ایسی کتابوں پر پابندی لگانا زیادہ آسان تها جو اونچی حیثیت والے مفاد پرست طبقے کے خلاف ہوتی تهیں۔

صورتحال اس وقت تیزی سے تبدیل ہوئی جب چهاپنے والی مشینیں اور چهاپا خانے ایجاد ہوئے اور ان کی تعداد بڑهتی چلی گئی تو ریاست اور ان کی ایجنسیوں کے لئے کتب کا پهیلاو روکنا مشکل ہو گیا۔ ایسے موقع پر ایک کوشش کی گئی مخصوص ادب پر پابندی لگانے کی جو قدامت پسند روایات و اقدار کے خلاف تها اور وجہ یہ بتائی جاتی تهی کہ اس مواد سے موجودہ صورت حال میں لاقانونیت اور فساد جنم لے گا جس کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو گا۔ کیونکہ قدامت پسند حلقے اس بات پر آمادہ نہیں تهے کی نئے خیالات کو پنپنے اور اثر کرنے کا موقع ملے تو پهر قدامت پسندوں نے پروپیگینڈا شروع کیا کہ یہ ادب و مواد ریاست کے خلاف ہے اور اس ریاست دشمن مواد کو ختم کرنا ہو گا۔

\"مارٹن

جب مارٹن لوتهر (وفات 1546) نے کیتھولک چرچ اور اس کی بدعنوانیوں کے خلاف تحریک چلائی تو اس وقت چهاپا خانوں نے اس کے افکار کے پھیلاو میں بہت مدد کی اور کلیسا اپنے تمام تر اختیارات و وسائل کے باوجود مارٹن لوتهر کے بڑهتے اور پهیلتے ہوئے اثرات کو نہیں روک سکا۔

لوتهر سے پہلے بهی کچھ لوگوں نے آواز احتجاج بلند کی مگر چهاپا خانے نہ ہونے کی وجہ سے ان کے افکار کو با آسانی دبا دیا گیا اور زیادہ لوگوں کی اکثریت تک نہیں پہنچنے کی وجہ سے وہ مقبول بهی نہ ہوسکے۔

1493 میں کلیسا نے ایک فہرست جاری کرنا شروع کر دی جس میں ان اختلافی اور بقول کلیسا \”گمراہی\” کی طرف لے جانے والی کتب پر پابندی عائد ہوتی تهی، اس فہرست کو کتابچے کی شکل میں نشر کیا جاتا جس کا نام \”انڈیکس\” رکها گیا اور ہر سال کلیسا اس میں نئی کتب اور ادیبوں کے ناموں کا اضافہ کردیتا تها کیونکہ عیسائی کیتھولک مذہب اور کلیسا کو ان سے خطرے کا اندیشہ تها۔

جب بهی کوئی نئے سمندری جہاز بندرگاہ پر آتے تهے تو کلیسا تیزی سے حرکت میں آجاتا تها اور پورے جہاز کی تلاشی اور سامان کی تلاشی ہوتی تهی اور اگر کوئی پابندی شدہ کتاب مل جاتی تو اس کو اس ہی وقت ضائع کر دیا جاتا تها۔ بعد میں عیسائی مذہب دو بڑے فرقوں میں تقسیم ہوا عیسائی کیتھولک اور عیسائی پروٹسٹنٹ اور جب پروٹسٹنٹ ممالک میں جو کتابیں چهپتی تهیں تو بهی کیتھولک کلیسا انڈیکس میں ان کتابوں کے نام شائع کرتا تها تا کہ وہ کتابیں پڑھ کر کیتھولک عیسائیوں کا عقیدہ خراب نہ ہو۔

روشن فکری و آزاد خیالی کے ابتدائی زمانے میں فرانسیسی فلسفیوں، دانشوروں اور ادیبوں نے کتابیں لکهنا اور چهاپنا شروع کی جن کا مقصد کیتھولک کلیسا کی بدعنوانیوں، مذہبی انتہاپسندی، فرقہ واریت اور حکومتی نااہلی و غلطیوں کی شدید مذمت کرنا تها مگر جب یہ سب مواد حکومت کی جانب سے سینسر ہوا اور اس پر پابندی لگی تو اس کی شہرت اور مانگ میں مزید اضافہ ہوا تو اس کتابوں کی طلب کو پورا کرنے کی خاطر چهاپا خانوں نے غیر قانونی طور پر ان کتابوں کو چهاپنا شروع کیا اور دکانداروں نے چوری چهپے بیچنا شروع کردیا اور بعض کتب تو فرانس سے باہر چهپ کر اسمگلنگ کے ذریعے واپس لا کر بیچی جاتی تهیں۔

جب نپولین فرانس میں برسر اقتدار آیا تو اس نے سختی سے سینسر شپ قوانین کو لاگو کیا۔ تمام تنقیدی اخبارات و رسالوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے نتیجے میں فرانس میں چهپنے والے مواد کی تعداد بہت کم ہو گئی۔ اس پرانی پالیسی کو نپولین کی شکست کے بعد بهی یورپی لیڈران کی جانب سے جاری رکها گیا جو چاہتے تهے کہ پرانے نظام کو واپس بحال کر دیا جائے اور نئے خیالات پر غلبہ حاصل کر کے ان کو قابو میں کیا جائے۔

میٹرنش (وفات 1859) آسٹریلوی وائس چانسلر نے *Carlsbad Decrees* کو 1819 میں جاری کیا، جس میں اس نے ان تمام کتابوں پر پابندی لگا دی جن کے اندر لبرل اور جدید خیالات کا اظہار کیا گیا تها۔ اس نے انتظامیہ کو بهی پابند کیا کہ درسگاہوں اور دانشگاہوں میں بھی طالب علموں پر نظر رکھی جائے کہ وہ کیسی کتابیں پڑهتے ہیں، وہ فرانسسی انقلاب کے تمام آثار مٹانا چاہتا تها تاکہ پرانے طرز حکمرانی کو بحال کیا جاسکے۔

\"ashrafسینسرشپ کی پالیسی کو صرف ریاستی اداروں کی جانب سے ہی نہیں بلکہ اکثر مذہبی اور قدامت پسند پارٹیاں بهی اداروں سے رابطے کر کے استعمال کرتی ہیں تاکہ ان کے نزدیک فحش اور بے ہودہ مواد پر پابندی لگوائی جا سکے۔

سعادت حسن منٹو اور ان کے افسانوں کو بهی مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کا سامنا رہا یہاں تک ان کے مواد پر پابندی لگانے کی خاطر عدالتوں تک میں مقدمے دائر کئے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب نصابی کتب میں ان کے چند افسانے چهاپے گئے تو ان میں سے بهی قابل اعتراض مواد کو ایڈٹ کر کے مٹا دیا گیا۔

ایک الگ مثال سینسرشپ کی مولانا اشرف علی تهانوی(وفات 1943) کے نظریہ سے بهی ملتی ہے جنہوں نے اپنی کتاب بہشتی زیور میں ایک طویل فہرست لکهی ہے جس میں کافی کتابوں، افسانوں اور رومانوی شاعری مجموعوں کے نام شامل میں جو ان کے نزدیک نوجوان لڑکیوں کے لئے پڑهنا حرام ہیں۔

مولانا اشرف علی تهانوی کے نزدیک کنواری لڑکیوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ سورہ یوسف کی تلاوت کریں۔ مولانا کا ماننا تها کہ جدیدیت کا عمل مسلمان معاشرے کے لئے نقصاندہ ہے۔

\"beheshtiتاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ قدامت پسند قوتوں نے نئے اور جدید خیالات و نظریات کو روکنے کی پوری کوشش کی مگر وہ اس میں بری طرح ناکام رہے کیونکہ معاشرہ ایک مسلسل تبدیلی سے گزر رہا ہوتا ہے اور نئے و جدید خیالات وقت و زمانے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جنم لیتے ہیں۔

آج کے موجودہ زمانے میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت سینسر شپ کے تمام طریقوں کو بیکار اور بے معنی کر دیا ہے۔

انٹرنیٹ، فیس بک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا نے تمام سرحدیں توڑ دی ہیں اور یہ سب کچھ عام عوام کی دسترس میں آگیا ہے۔

سینسرشپ اب ماضی کا حصہ ہے جس کا آج اور مستقبل سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ ایک تیزی سے آنے والا بدلاؤ ہے جس نے فنی مہارت، جدید و تخلیقی علوم کے پرچار کی راہیں ہموار کی ہیں اور ان کو لوگوں کی پہنچ تک باآسانی منتقل کردیا ہے۔

_________________

یہ آرٹیکل ڈان اخبار، 05 اکتوبر 2014 میں شائع ہوا اور اسے \’ہم سب\’ کے لئے حمزہ بلوچ نے ترجمہ کیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “انٹرنیٹ کے دور میں سینسر شپ ماضی کا حصہ ہے

  • 31/08/2016 at 9:11 pm
    Permalink

    ب ایک باپ اپنی بیٹی یا بیٹے کو مناسب لباس کا انتخاب کرنے کا کہتا ہے تو یہ بھی سینسر شپ کی ہی ایک قسم ہے لیکن درست سمت میں.

    آپ کسی معاشرے کو سینسر شپ کے بغیر درست سمت میں چلاہی نہیں سکتے کہ اس کے بنا معاشرہ صرف بھانت بھانت کے افکار کا ایک ہجوم بن کر رہ جائے گا. سینسر شپ غلط نہیں اس کا غلط استعمال غلط ہے اور ڈاکٹر صاحب کو یہ پہلو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے تھا.

Comments are closed.