منٹو کے کردار تبلیغی جماعت کی پناہ میں، مگر عورتیں؟


\"saleemایک دوست کے نانا سے ملاقات ہوئی۔ مختصر سا تعارف ہوا۔ گزشتہ کئی برس سے نانا نے اپنی زندگی تبلیغی جماعت کو دے رکھی ہے۔ دورے پر ہوتے ہیں یا رائیونڈ مرکز۔ میں کسی ایسے شخص کو زندگی میں پہلی بار ملا تھا جس نے پوری زندگی تبلیغی جماعت کے لئے وقف کر رکھی ہو۔ میرے دوست کو علم تھا کہ اس ملاقات نے انسانوں کی رنگا رنگی اور تنوع کے بارے میں میری حدوں کو تھوڑا اور ٹیسٹ کیا ہو گا۔ نانا کے چلے جانے کے بعد تعارف کچھ مزید ہوا۔ تقسیم کے وقت نانا نے ہندوستان سے ہجرت کی۔ بڑا شوق تھا نئے وطن کا۔ جب اپنے آبائی وطن سے نکلے تو اپنے ساتھ تین بیٹیاں اور ایک بیوی تھی۔ جب اپنے نئے وطن پاکستان پہنچے تو صرف ایک بیٹی اور ایک بیوی ساتھ تھی۔ دونوں بڑی بیٹیوں کو اغواء اور ریپ کے ڈر سے زہر کھلا کر مارنا پڑا۔ وہ دس اور تیرہ سال کی تھیں۔ تیسری کے ساتھ بھی ایسے ہی سلوک کا سوچا مگر بیوی آڑے آئی۔ اس نے کہا یہ تو صرف سات سال کی ہے۔ نانا نے ارادہ بدل دیا۔ اس کے علاوہ اس نے کیا کہا میں کچھ سن یا سمجھ نہ سکا۔ مجھے کچھ یاد نہیں۔ میں مکمل طور پر سن تھا۔

جب یہ واقعہ، میرا مطلب ہے دوست کے نانا کو ملنے کا واقعہ، پیش آیا میں یونیورسٹی میں تھا۔ ذرا سوچیں میرے  لئے ایسے شخص سے بالمشافہ ملنا ہی ایک ناقابل فراموش واقعہ تھا تو جس کے ساتھ یہ بیتی ہے اس کا حال کیا ہو گا۔ یہ کوئی اکیلی کہانی نہیں ہے اس طرح کی لاکھوں کہانیاں بارڈر کے دونوں طرف بکھری ہوئی ہیں۔ کہانیاں کہنا غلط ہے واقعات کہنا چاہیئے۔ کوئی ایک سال پہلے \”تھیٹر والے\” نے ایک زبردست کوشش کی۔ انہوں نے تقسیم کی سو کہانیاں اکٹھی کیں۔ اس کام کے لئے وہ پاکستان بھر میں ایسے لوگوں سے ملے جنہوں نے تقسیم دیکھی تھی اور ابھی حیات تھے۔ انہوں نے ان تمام سچی کہانیوں کو ایک شاندار تھیٹر کی صورت میں بن دیا۔ یہ تھیٹر پاکستان اور امریکہ میں پیش کیا گیا۔ ہر جگہ ہی لوگ بے پناہ روئے۔ بہت سوں کو اپنا کتھارسس کرنے کا ایک موقع ملا گیا تھا۔

اس واقعہ نے میرے لئے منٹو کے افسانوں کی تاثیر بدل دی۔ \”کھول دو\” کے سراج دین کا اپنی بیٹی سکینہ، جو ہندوستان سے نئے ملک پاکستان آتے ہوئے راستے میں کھو گئی تھی، کے لئے چیختے پھرنا سمجھ آتا ہے۔ امرتا پریتم کا وارث شاہ کو پکار پکار کر کہنا \”اٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب؛ اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب\” بھی نظم سے کچھ بڑھ کے لگتی ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے عظیم المناک سانحہ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ \”حقیقت افسانے سے زیادہ حیران کن ہوتی ہے\”، والے محاورے کا اطلاق مںٹو کے افسانوں اور امرتا پریتم کی نظموں پر بھی ہوتا ہے۔

ہندوستان کی تقسیم اور ہجرت کا سانحہ لاکھوں لوگوں کو اپنے جگر کے ٹکڑوں کے قتل، اغواء اور ریپ جیسے گہرے گھاؤ دے گیا۔ لاکھوں لوگوں کے ان زخموں نے کبھی مرہم نہ دیکھی۔ سائیکالوجیکل سپورٹ ممکن تھی نہ اس کی فراہمی زیر غور۔ وقت جوں جوں گزرا گھاؤ گہرے ہوتے گئے۔ عزت نفس، آزادی، خوشحالی، انصاف اور تحفظ جیسے اعلیٰ مقاصد جن کے لئے یہ تقسیم اور ہجرت کی صعوبتیں برداشت کی تھیں کہیں نظر نہ آئیں۔ اتنی بڑی قربانی کو رائیگاں جاتے دیکھ کر محرومی اور بے بسی کا احساس اور بڑھتا گیا۔ کوئی راستہ میسر نہ تھا غم بھلانے کا۔ دکھوں کے علاوہ اضافہ صرف مذہبی رجہان میں ہوا۔ بہت سوں کے لئے عبادات میں ڈوب جانے ہی کی آپشن بچی تھی۔ منٹو کے ان زندہ اور حقیقی کرداروں نے تبلیغی جماعت کا بظاہر بے ضرر ٹھکانا اپنا مسکن بنا لیا۔ عورتوں کا کیا بنا ہو گا، انہیں تو یہ سہولت بھی میسر نہ تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 182 posts and counting.See all posts by salim-malik