اگر تلورنہ رہے تو….


Bilal Ghauriپنجاب کا ضلع رحیم یار خان تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔قیام پاکستان سے پہلے یہ ضلع ریاست بہاولپور کا حصہ تھا اور اس کا نام ”نوشہرہ “ہو اکرتا تھا۔چونکہ نوشہرہ ضلع پشاور کے ایک قصبے کا بھی نام تھا(جسے اب خیبر پختونخوا میں ضلع بنا دیا گیا ہے)اس لیئے 1883ءمیں نواب صادق خان چہارم نے اس علاقے کو اپنے بیٹے ولی عہد شہزادے رحیم یار خان سے معنون کر دیا۔چونکہ رحیم یار خان کا شمار گرم مرطوب علاقے میں ہوتا ہے اس لیئے یہ ضلع سائیبریا سے ہجرت کرنے والے پرندوں کی آماجگاہ رہا ہے ۔1970ءسے پہلے کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ یہ علاقہ پرندوں کا مسکن ہونے کے ناتے عربوں کی دلچسپی کا مرکز بن جائے گا۔عرب اپنی حسن پرستی اور شوقین مزاجی کے باعث کھجور ،زیتون ،شہد اور تلور کے دلدادہ رہے ہیں ۔کھجور ،زیتون اور شہد تو اب بھی وہاں باکثرت دستیاب ہے مگر مسلسل شکار کے باعث تلور بتدریج ناپید ہوتا چلا گیا تو نئی شکار گاہوں کی تلاش شروع ہوئی ۔ایران اور افغانستان کی صورت میں عرب شہزادوں کو بہترین شکار گاہیں میسر تھیں مگر افغانستان پر روسی حملے اور ایران میں شاہ ایران کے اقتدار کے خاتمے کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی تو بھارتی ریاست راجھستان اور پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی طرف توجہ مبذول ہوئی ۔راجھستان میں تلور کی دستیابی بھی کم تھی اور اس پر مستہزاد یہ کہ جے پور ،نیو دہلی اور ممبئی میں وسیع پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا اور یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ بھارت کو شکار گاہ میں تبدیل نہ کیا جائے ۔راجھستان ہائیکورٹ نے 1978-79میں غیر ملکیوں کے شکار پر پابندی کا فیصلہ صادر کیا جس پر تاحال عملدرآمد ہو رہا ہے۔چنانچہ اس کے بعد رحیم یار خان ،اس سے ملحق سندھ کے بعض علاقے اور بلوچستان میں ضلع چاغی میں عرب مہمانوں کی قطار اندر قطار آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔عرب شہزادوں کو باقاعدہ شکار گاہیں الاٹ ہونے لگیں ،نایاب پرندوں کے شکار کے لیئے خصوصی پرمٹ ملنے لگے اور اس کے بدلے میں شکار کے لیئے آنے والے عرب مہمانوں نے سڑکیں بنوا دیں ،مسجدیں تعمیر کروا دیں ۔
جب عرب مہمان اپنے چارٹرڈ طیاروں میں لاﺅ لشکر کے ساتھ آتے تو ان کی خدمت پر مامورمقامی افراد کی چاندی ہو جاتی ۔میں بہت سے ایسے افراد سے واقف ہوں جو ان عرب مہمانوں کی نوازشات کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے بڑے سرمایہ کار بن گئے ۔ان میں ایک معروف کاروباری شخصیت کا نام بھی آتا ہے جو وزیر اعظم پاکستان کے قریبی عزیز ہیں ۔انہوں نے تلور کے شکار پر پابندی عائد ہونے کے بعد رحیم ےار خان میںاحتجاجی مظاہرے کروائے ،ہڑتال کا اہتمام کیااور شکار پر پابندی ختم کروانے کے لیئے ملکی سطح پر تحریک چلوائی۔ان کی کاوشیں رنگ لائیں اور چند روز قبل سپریم کورٹ نے چیف جسٹس انو ر ظہیر جمالی کی سربراہی میں نظر ثانی درخواست پر 19اگست 2015ءکے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا جس کے تحت اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں ایک تین رُکنی بنچ نے تلور کے شکار پر پابندی عائد کر دی تھی۔ دونوں فیصلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کی سربراہی میں کام کرنے والے بنچ نے دیئے اس لیئے یہ کہنا تو محال ہے کہ کونسا فیصلہ درست تھا اور کونسا فیصلہ غلط ہے ہاں البتہ نظر ثانی درخواست کی سماعت کے دوران صوبوں اور مرکز کی وکالت کرنے والوں نے جو دلائل دیئے وہ بہت دلچسپ ہیں اور شاید معزز عدالت نے انہی دلائل سے متاثر ہو کر ہی یہ فیصلہ دیا ہے۔وفاق کی طرف سے یہ استدلال اختیار کیا گیا کہ تلور کا شکار ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے اور اگر یہ پابندی ختم نہ کی گئی تو خلیجی ممالک سے ہمارے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں ۔اس مضبوط دلیل پر مزید گرہ لگاتے ہوئے صوبہ سندھ کے وکیل نے کہا کہ تلور کے شکار پر پابندی بھارت کی خواہش ہے تاکہ ان عرب مہمانوں کو راجھستان مدعو کر کے پاکستان سے تعلقات خراب کیئے جائیں اور اپنے تعلقات استوار کیئے جائیں ۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر فاضل جج صاحبان اس طرز استدلال پر یہ اعداد و شمار طلب کر لیتے کہ بھارت کی خلیجی ممالک سے دو طرفہ تجارت کا حجم کیا ہے اور پاکستان نے تلور کے شکار کی اجازت دینے کے بعد کیا ثمرات سمیٹے ہیں ؟یہ استفسار بھی کر لیا جاتا کہ بھارت کے تجارتی ساجھے داروں میں سر فہرست کونسے ممالک ہیں اور ان سے تعلقات برقرا رکھنے میں بھارت نے کس جنس کو بنیادی ستون کی حیثیت دے رکھی ہے توخاصا افاقہ ہو سکتا تھا ۔
کچھ لوگوں نے تو تنقید کو حرز جاں اور مخالفت کو ورد زباں بنا لیا ہے حالانکہ اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا کوئی ٹھوس جواز ہے نہیں ۔ایک وقت میں بندوق بردار بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے ہمارے ملک میں آیا کرتے تھے ، بعد ازاں امریکہ نے ڈرون حملے شروع کر دیئے مگر ہم مصلحتاً خاموش رہے مگر نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ ان کی دیکھا دیکھی ،تلور جیسے پرندوں نے بھی پاکستان کو چراہ گاہ سمجھ لیا اگر ہم اب بھی بیدار نہ ہوتے اور وطن عزیز میں ہو رہی اس دراندازی پر خاموش رہتے تو ملکی وقار اور خودمختاری تو مذاق بن کر رہ جاتی۔اگر ہمارے عرب مہمان پاکستان کی خود مختاری پامال کرنے والے ان دراندازوں کا شکار کھیلتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟کیا امت مسلمہ میں اتنا بھائی چارہ بھی نہیں رہا کہ تلور ےا عرب بھائیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ہم عربوں کے حق میں ووٹ دیں ۔یہ تلور آخر ہمارا لگتا ہی کیا ہے ؟رہا شکار کا سوال ،ہم نے پورے ملک کو ہی شکار گاہ میں بدل ڈالا تو خلیجی ممالک کے دوستوں کو شکار کی سہولت فراہم کرنے میں کیا حرج ہے؟یہ تو شکار بھی ایسا ہے جس میں کوئی بندوق یا گولی استعمال نہیں ہوتی بلکہ سدھائے گئے شاہین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔شاہین جب جھپٹتا ہے اور تلور کو گردن سے دبوچ کر لاتا ہے تو نیچے منتظر شکاری اس منظر سے حظ اٹھاتا ہے اور بعد ازاں بھنے ہوئے تلور کے غیر معمولی طبی فوائد سے بھرپور توانائی پاتا ہے۔ماہرین بتاتے ہیں کہ موسم بدلتے ہی جب تلور ہجرت کرتا ہے تو یہ 4000کلومیٹر سے 7000کلومیٹر تک کی اڑان بھرنے کی طاقت رکھتا ہے اور باالعموم 300سے 500فٹ کی بلندی پر اڑتا ہے ۔اس کی بلندی پرواز اور مسلسل اڑان کی استعداد میں ہی اس کی طاقت کا جوہر پوشیدہ ہے ۔
میں نہ صرف اس فیصلے کی بھرپور تائید و حمایت کرتا ہوں بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ تلور ہمارے لیئے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔ذرا سوچیں اگر تلور نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق تلور کی نسل نہایت تیزی سے معدوم ہو رہی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 90ہزار تلور باقی ہیں ۔مجھے تو یہ پریشانی لاحق ہے کہ اگر تلور صفحہ ہستی سے مٹ گئے یا انہوں نے پاکستان کا رُخ کرنا چھوڑ دیا تو ہم اپنے معزز مہمانوں کو متبادل کے طور پرکیا پیش کریں گے اور ہماری خارجہ پالیسی کے اس اہم ستون کے منہدم ہونے کے بعد کیا ہو گا؟
(محمد بلال غوری سے www.facebook.com/b.ghauri پہ رابطہ کیا جا سکتا ہے)


Comments

FB Login Required - comments