ہیپی برتھ ڈے پاکستان


\"1-yasir-pirzada\"ایک بات کبھی سمجھ نہیں آئی۔ یہ کون لوگ ہیں جو ہر برس جشن آزادی مناتے ہیں، گھروں میں جھنڈیاں لگاتے ہیں، پرچم لہراتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں، سڑکوں پر نکلتے ہیں، بازار اور گلیاں سجاتے ہیں، بچوں کے لئے بیجز اور سٹیکرز خریدتے ہیں۔۔۔۔۔یہ کون لوگ ہیں؟ ان لوگوں کو تو اس ملک کو گالیاں دینی چاہئیں، یہ تو لوئر مڈل کلاس کے لوگ ہیں جنہیں قدم قدم پر اس ملک میں دھکے کھانے پڑتے ہیں، تھانوں کچہریوں میں رُسوا ہونا پڑتا ہے، دو ٹکے کی نوکری کے لئے سفارشیں ڈھونڈنی پڑتی ہیں، روٹی کمانے کے لئے خون جلانا پڑتا ہے، بچوں کی فیس بھرنے کے لئے پیٹ کاٹنا پڑتا ہے، بیمار ہو جائیں تو دوا خرید نے سے گھر کا بجٹ تباہ ہو جاتا ہے، شادی بیاہ پر ملنا ملانا ہو تو سال پہلے کمیٹی ڈال کے بیٹھ جاتے ہیں، بارش کے دنوں میں جن کے محلوں میں گھٹنوں تک پانی کھڑا رہتا ہے، بجلی کا بل غلط آجائے تو اسے ٹھیک کروانا ان بیچاروں کے لئے عذاب بن جاتا ہے، کسی سرکاری محکمے میں ان مڈل کلاسیوں کی کوئی شنوائی نہیں، کوئی تھانیدار انہیں کھڑے کھڑے ذلیل کردے تو ان کے پاس منہ نیچے کرکے اس ذلت کو برداشت کرنے کے کوئی چارہ نہیں ہوتا، علاقے کا کوئی لفنگا انہیں ستائے تو اِن مسکینوں کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے، ان کی پہنچ علاقے کے کونسلر سے آگے نہیں ہوتی، یہ وہ سفید پوش ہیں جو مہمان کو صاف ستھری بیٹھک میں چائے تو پیش کرتے ہیں مگر ان کی موٹر سائیکل اکثر راستے میں پٹرول ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔لیکن ان باتوں کے باوجود ہر سال آزادی کا جشن منانے میں جو طبقہ پیش پیش ہوتا ہے وہ اِس ملک کے یہی مڈل یا لوئر مڈل کلاس لوگ ہیں، عجیب بات ہے !

دوسر ی طرف اُس طبقے کے لوگ ہیں جو دس بیس سال پہلےتک ٹوٹی ہوئی موٹر سائیکل پر پھرتے تھے اور پھٹے ہوئے جوتے پہنتے تھے جبکہ آج ان کے پاس کئی کنال کے بنگلے ہیں جن میں چھ چھ گاڑیاں کھڑی ہیں، بالی کے جوتے پہنتے اور بربری کا سوٹ، ایک پاؤں امریکہ میں ہوتا ہے اور دوسرا یورپ میں، کئی فیکٹریوں کے مالک ہیں، ان کے بچے باہر کی یونیورسٹیوں میں پڑھتےہیں، ان کی بیویاں لاکھوں روپوں کے جوڑے اور کروڑوں روپوں کے زیورات پہنتی ہیں، روزانہ ہزاروں روپوں کی ہوٹلنگ کی جاتی ہے، ان لوگوں نے جو کمایا اسی ملک سے کمایا، مگر اس کے باوجود ان کے منہ سے کبھی شکر کا کلمہ نہیں نکلتا، ہمیشہ ملک کے لئے گالیاں ہی نکلتی ہیں، جس محفل میں بیٹھتے ہیں ملک کی برائیاں شروع کر دیتے ہیں، اس طبقے میں یوم آزادی منانے کا فیشن نہیں ہے، ملک کی سالگرہ کے موقع پر بھی یہ لوگ پاکستان کو صلواتیں سنانے سے باز نہیں آتے، ان کے خیال میں اِن کی تمام کامیابیاں اِن کی ذات کی مرہون منت ہیں جبکہ زندگی میں اگر کبھی انہیں ناکامی کامنہ دیکھنا پڑا ہے تو اس کی وجہ یہ منحوس ملک اور اس کا مکروہ سسٹم ہے۔

اس خوشحال طبقے کے اندر البتہ ایک اور طبقہ بھی موجود ہے جو اِس ملک کی خرابیوں پر حقیقتا کڑھتا ہے، ان کا دل چاہتا ہے کہ پاکستان بھی باہر کے ملکوں کی طرح خوشحال ہو، یہاں بھی وہی فلاحی نظام رائج ہو جو مغرب کے بعض ممالک میں رائج ہے، یہاں بھی تمام لوگوں کو عزت کی روٹی ملے، کسی کو جائز کام کے لئے خوار نہ ہونا پڑے، ہر کام ایک سلیقے سے ہو، تھانے کچہریاں ایک سسٹم کے تحت کام کریں، قانون کی حکمرانی ہو، ملک میں امن و امان ہو، کسی کا بچہ بم دھماکے کی بھینٹ نہ چڑھ جائے، کسی کی شوہر ٹارگٹ کلنگ میں نہ مارا جائے، کسی کا کڑیل بیٹا لا پتہ افراد کی فہرست میں شامل نہ ہو جائے، کوئی غریب بھوکا نہ سوئے، کسی عورت کی بے حرمتی نہ ہو، کسی لڑکی کے بالوں میں گھر بیٹھے اس لئے چاندی نہ آ جائے کہ وہ غریب ہے اورکوئی نوجوان محض اس لئے بیروزگار نہ رہے کہ اس کی کوئی سفارش نہیں۔۔۔۔۔۔بلاشبہ یہ تمام خواہشیں ایک دکھ اور کرب کا اظہار ہیں، ہر محب وطن کے دل کی آواز ہے، اس پر بھلا کسی کو کیا کوئی اعتراض ہو سکتا ہے! مسئلہ وہا ں آتا ہے جہاں ہم دن رات اس ملک کو تولتاڑتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کو تیار نہیں، ڈسپلن کے فقدان کا رونا تو روتے ہیں مگر ٹریفک کے اشارے پر کھڑے ہونے کے روادار نہیں، خالص دودھ تو مانگتے ہیں مگر اپنا مال دو نمبر بیچتے ہیں، سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت زار پر حکومت کے لتے تو لیتے ہیں مگر ٹیکس دینے کو تیار نہیں، علاقے میں چوری ہو جائے تو اسے ریاست کی ناکامی قرار دیتے ہیں مگر قانون کے مطابق کرائے داروں کے کوائف تھانے میں جمع کروانے کی زحمت نہیں کرتے، سرکار کی نوکری کرتے ہیں تمام مراعات ٹھوک کر لیتے ہیں مگر کام ایک دھیلے کا نہیں کرتے۔۔۔۔۔گویا ہم چاہتے ضرور ہیں کہ ملک ٹھیک ہو جائے مگر ہماری ذمہ دار ی البتہ کوئی نہیں !

آج پاکستان کا یوم آزادی ہے گویا’’ ہیپی برتھ ڈے ‘ ‘ ہے، سالگرہ کے موقع پر تو ظالم سے ظالم باپ بھی اپنے بیٹے کو چاہے وہ کتنا ہی نالائق کیوں نہ ہو، اسے برا بھلا نہیں کہتا۔مگر ہمارے خوشحال طبقے کے بعض لوگ جنہیں اس ملک نے عزت، دولت، شہرت سب کچھ دیا (گو اِنہیں اس بات کا زعم ہے کہ اِس سب کے وہ حقدار تھے اور دراصل یہ اُن کی قابلیت تھی جس کی وجہ سے وہ اِس مقام تک پہنچے ) بدلے میں اس ملک کو ذرا سی بھی عزت دینے کو تیار نہیں۔ ٹھیک ہے کہ اس ملک میں ہزار خرابیاں ہیں، نا اہل حکومتیں مسلط رہی ہیں، ڈکٹیٹرز نے اقتدار پر قبضہ کئے رکھا ہے، بہترین منتظم کے دعوے داروں نے آج تک ملک کو ڈھنگ کا ایک سسٹم بنا کر نہیں دیا، دہشت گردی کے سائے اب بھی موجود ہیں۔۔۔۔ مگر کیا ان سب باتوں کے ذمہ دار یہی اشرافیہ نہیں جو بڑھ چڑھ کر ملک کو گالیاں دیتی ہے، یہ وہی اشرافیہ ہے جو جشن آزادی منانے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بندہ ان سے پوچھے کیا آپ خود دودھ کے دھلے ہو، کیا آپ میں کوئی خرابی نہیں، کیا آپ آسمان سے نازل ہوئے، کیا آپ نے فرشتوں سے ٹیوشن پڑھی ہے، کیا آپ ولی اللہ ہو۔۔۔۔۔اپنی ذات میں تو انہیں کوئی خرابی نظر نہیں آتی البتہ پاکستان کی برائیاں بیان کرنے میں انہیں ید طولی حاصل ہے۔ جس لڑکی سے ہمیں پیار ہو جائے اس کے کتے کے نخرے اٹھانے میں بھی ہمیں مزا آتا ہے مگر ملک کو ہم 14 اگست والے دن بھی نہیں بخشتے اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ملک کی خرابیاں بیان کرنے کا مقصد انہیں ٹھیک کرنا ہے، ہمیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیئں۔ بالکل درست۔ مگر سال بھر میں کم از کم ایک دن تو اس ملک کو بخش دو۔ ہم بھی سارا سال اس ملک میں کیڑے نکالتے ہیں، اس کی بدصورتی پر ماتم کرتے ہیں، مقصد یہی ہوتا ہے کہ حالات میں بہتری کی کوئی سبیل نکالی جائے۔ لیکن 14 اگست تو پاکستان کا ہیپی برتھ ڈے ہے، یہ ایک دن اس ملک کو معاف کردیں، اس دن اپنا وہ محدب عدسہ جیب میں ڈال لیں جسے سارا سال آپ آنکھ سے لگا کر ملک کی تصویر کشی کرتےہیں۔ یہ ملک اگر اتنا ہی برا ہوتا تو تو اسے چھوڑ کر جانے والے کبھی پلٹ کر واپس نہ آتے مگر نہ جانے کیا بات ہے، کینیڈا کی امیگریشن لینے کے باوجود دل یہی اٹکا رہتا ہے، سال بھی دو مرتبہ چکر بھی لگاتے ہیں، یہاں گھر بھی بناتے ہیں اور اس گلی میں جا کر سگریٹ بھی پیتے ہیں جہاں پل بڑھ کر جوان ہوئے تھے۔ ہیپی برتھ ڈے پاکستان۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 233 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “ہیپی برتھ ڈے پاکستان

  • 15/08/2016 at 10:59 am
    Permalink

    بہترین۔
    پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں آزادی کی قدر ہے۔ مانا مسائل ہیں اور اکثر مسائل کی وجہ بھی ہم خود ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم پاکستان کو ہی برا کہیں یا لعن طعن کریں۔

    یہ پڑھا لکھا اپرکلاس طبقہ سوشل میڈیا پر بڑے دھڑلے سے یہ نعرہ لگاتا ہے کہ برائی کو برا کہو مجرم کو نہیں۔ مجرم کی اصلاح کرو۔ ان حالات کو ختم کرو جن کی بنا پر فرد نے جرم کیا۔ تسلیم بالکل تسلیم
    جناب من یہی اصول پاکستان کے لیے بھی اپنائیں۔ برائیوں کو برا کہیں ان کے سدباب کی کوشش کریں پاکستان کے پیچھے کیوں پڑ جاتے ہیں۔ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسے کیوں کاٹنے لگتے ہیں؟

Comments are closed.