جناح کا پاکستان اور رانے ثنا اللہ کا فیصل آباد


رامش فاطمہ نے خالد فتح محمد کا شہرِ مدفون سے جملہ نقل کیا ہے \”انسان کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب اسے اپنے متعلق بھی سوچنا \"zafarہوتا ہے۔\”خیال آیا کہ اس دیس کی دانش اپنی تعریف، اپنی انا اور اپنی ذات کے خول سے نکلی کب تھی جو مزید اپنے متعلق سوچیں گے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس کو دیس سائنسدان مانتا ہے وہ قوم کے بچوں کو بتا رہا ہے کہ میرے پاس انڈیا کو پانچ منٹ میں نیست و نابود کرنے کا فارمولا موجود ہے۔ دن رات دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کی داستانیں ہیں۔ ادھر کا دانشور ارناب گوسوامی ہے۔ ادھر کھری باتیں ارسطو کے زبان سے صادر ہوتی ہیں۔ ادھر اودو ٹھاکرے حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹتاہے اور ادھر لال حویلیوں کے مسخرے حب الوطنی کے ٹھیکیدار ہیں۔ کوئٹہ میں سو گھرانے اجڑ گئے لیکن قوم کے سپوتوں نے بگٹی ا سٹیڈیم میں صرف اپنی رٹ ثابت کرنے کے لئے ڈھول بجائے۔ کس سے پوچھا جائے کہ آپ کی رٹ کو ہزاروں سلام، جناب والا یہ رٹ دہشت گردوں پر قائم کیجیے۔ مشکل یہ ہے کہ یہاں سیاست، اقتدار، حب الوطنی، معاشرت اور اقدار کے چشمے ایک ہی جگہ سے پھوٹتے ہیں۔اور چشمے بہانے والے کلام پر یقین نہیں رکھتے۔ وہاں سے ہٹ کرتے ہیں جہاں سے پتہ بھی نہ چلے کہ تابوت میں ہڈیوں کے ساتھ کتنے پتھر ہیں۔

طاقت سے سرچشمے نے کبھی انہیں سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر آپ انہیں سمجھتے تو رات کو ان کی لاشوں پر جشن نہ مناتے۔ یہ روایتوں سے جڑے لوگ ہیں صاحب۔ ان کے شہروں ،دیہاتوں میں کسی جوان کی موت کے بعد کم از کم بھی ایک مہینے تک لوگ اپنے گھر کی شادی بیاہ میں ڈھول شہنائی نہیں بجاتے۔ بھلے مرنے والا دشمن کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں کی روایت ہے ( اچھی بری سے ابھی بحث نہیں کہ بلا شبہ بری ہے)کہ لوگ نکاح کے بعد اور بیٹے کی پیدائش پر تین ہوائی فائر کرتے ہیں۔ کسی نوجوان کے جنازے کے بعد وہاں کے باسی یہ ہوائی فائرنگ بھی ملتوی کر دیتے ہیں۔بلوچستان میں رہنے والا ہر باشندہ چاہے وہ پشتون ہو، بلوچ ہو، پنجابی ہو، سرائیکی ہو، ہزارہ ہو اس روایت سے واقف ہے اور اس کا پالن کرتا ہے۔ مگر صاحب لوگ نے ترانے بجائے، ڈھول پیٹے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہاں ہمارا سکہ چلتا ہے۔ بے شک چلتا ہے صاحب۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ ہی کا سکہ چلتا ہے۔ ہم نہ بھی مانیں تو آپ منوا لیں گے مگر ہماری لاشوں پر ہم سے ناچنے کی توقع تو نہ رکھیں۔ دشمن ہماری گھات میں ہے اور ہم شادیانے بجانے سے فارغ نہیں۔ بجائیے لیکن کم ازکم کوئٹہ میں تو نہ بجائیں۔ ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے۔ آزادی ایک عظیم نعمت ہے۔ لیکن جان لینا چاہیے کہ آزادی ایک الگ چیز ہے اورچودہ اگست کی رات کی بھنگڑا ایک الگ چیز۔ ہماری خاک پر خون ناحق کے بہنے سے شکووں کا ایک کونپل پھوٹا ہے۔اسے انکار اور وحشت کا ببول نہ بنائیے۔ اس دیس کے باسی اس مٹی کی محبت میں رچے ہیں۔ گھر ، زمین اور ریت بجری کا نام نہیں ہے۔ گھر محبت کے رشتوں سے سجی اس جھونپڑی کو بھی کہتے ہیںجہاں کے باسی ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔پیار میں مگر زبردستی نہیں کی جاتی صاحب۔ اپنے لہجے کو شہد بنانا پڑتا ہے۔ اپنا نوالہ آدھا کر کے بھائی منہ میں ڈالا جاتا ہے۔

کل رات محترم عثمان قاضی، محترمہ زینب ڈار کی شاخ فکر سے پھوٹا، زینب ڈارڈائریکشن، عثمان قاضی کی پس پردہ آواز، حفیظ چاچڑ کی پروڈکشن اور حسن معراج کے مکالموں سے سجابھگت سنگھ پر بنایا اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ڈرامے کی تھیم یہ تھی کہ بھگت سنگھ آج کے دور میں واپس اپنے دیس آتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ یہاں آزادی کے بعد کیا صورت حال ہے۔ پہلے سین میں حسن معراج کا لکھا مکالمہ ملاحظہ کیجیے۔

بھگت سنگھ فیصل آباد کے بنگہ میں آتا ہے تو اس کی ملاقات ایک کسان سے ہوتی ہے۔ کسان پوچھتا ہے کہاں سے آئے ہو صاحب؟ بھگت سنگھ کہتا ہے یہ چھوڑو۔ یہ بتاو کہ یہ میرا لائل پور ہے؟کسان تھوڑی دیر سوچتا ہے۔ پھر مسکرا کر کہتا ہے۔ او صاحب لائل پور کا مجھے نہیں پتہ۔ یہ را نے ثنا اللہ کا فیصل آباد ہے۔

بھگت سنگھ کو کردار نگاری سے سراہنے والوں کے لئے اس سے زیادہ کیا بات اہم ہو سکتی ہے کہ بھگت اس دھرتی کا بیٹا تھا۔ یہ اس مٹی کی محبت ہی تھی جس نے ان کو بھگت کو سراہنے کی شہ دی۔ اشفاق اللہ خان نے اتر پردیش کے شاجہان پور میں جنم لیا تھا۔ بھگت سنگھ نے پاکستان کے لائل پور میں جنم لیا تھا۔آزادی کی محبت دونوں میں سانجھی تھی۔اشفاق اللہ خان اور بھگت سنگھ کے طریقہ کار سے اختلاف کی بالکل گنجائش بالکل موجود ہے۔ دیکھیے کہ گاندھی جی کو بھگت سنگھ سے اختلاف تھا جبکہ محمد علی جناح نے اسے آزادی کا سپاہی قرار دیا۔ اقلیم کے نقشے میں نقطہ نظر سے اتفاق اور اختلاف کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے مگر اپنے بیٹوں کو پرایا نہیں کیا جاتا۔

بھگت سنگھ پر ڈرامے میں ایک اور سین آتا ہے۔بھگت کسان سے کہتاہے۔ یہ تو لائل پور تھا۔ کسان کہتا ہے صاحب۔ ہمیں لائل پور کا نہیں پتہ یہ میرے پاکستان کا خوبصورت شہر فیصل آباد ہے۔ بھگت حیران ہو کر پاکستان کا نام دہراتا ہے۔ اور پھر پوچھتا ہے۔ یہ پاکستان تو جناح صاحب کے لیگ کا مطالبہ نہیں تھا؟ کسان کہتا ہے۔ ہم کیا جانےں صاحب!کس کا مطالبہ تھا اور کس کی ضد؟

 گزشتہ سات دھائیوں میں اس خطے کا جغرافیہ دو بار بدلا ہے۔نقشے آفاقی نہیں ہوتے۔ حق کے لئے آواز اٹھانے والا، بھوکے بھائی کے لئے نوالے کا مطالبہ کرنے والا غدار نہیں ہوتا۔دکھ کی گھڑی میں ڈھول نہیں پیٹے جاتے۔ آنسو پونچھے جاتے ہیں۔بے کسوں کے مطالبے کو اپنی ضد کی بھینٹ نہ چڑھایئے۔جناح کے پاکستان کو خراسان نامی سلطنت کے آرزومندوں کا مسکن نہ بنایئے۔ چودہ اگست ہر برس آتا ہے۔ شہنائیاں بجتی ہیں۔ اس بار دئیے جلانے کا موسم تھا۔بنگہ اب بھگت سنگھ کے لائل پور میں نہیں ہے رانے ثنا اللہ کے فیصل آباد میں ہے صاحب۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 169 posts and counting.See all posts by zafarullah

2 thoughts on “جناح کا پاکستان اور رانے ثنا اللہ کا فیصل آباد

  • 15/08/2016 at 8:45 am
    Permalink

    Great view

  • 15/08/2016 at 10:44 pm
    Permalink

    ایکلیز اٹھ کر باہر جاتا ہے اور ہیکٹر کی لاش ان کے والد کے حوالے کرتے ہوئے پوچھتا ہے۔ ہمارے ہاں شہزادے کی موت پر 12 دن غم مناتے ہیں اِدھر کیا رواج ہے۔ پریام کہتا ہے کہ اِدھر بھی یہی رواج ہےاور امید بھری نظروں سے اپنے بیٹے کے قاتل کی جانب دیکھتا ہے۔ اتنے میں ایکلیز کی آواز آتی ہے،،،شہزادہ ہونے کے ناطے ہیکٹر کو یہ اعزاز ملنا چاہیے ،،،اور وہ پریام سے بارہ دن تک ٹروائے پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
    ہمارے “ایکلیز “اپنے لوگوں کی 72 لاشیں دفنا کر فارغ ہی ہوئے تھے ،،، کہ بگٹی اسٹیڈیم میں جشن منانے پہنچ گئے۔ کیا ستم ظریفی ہے۔

Comments are closed.