قائد اعظم سیکولر پاکستان نہیں چاہتے تھے


\"husnain سیکولر ملک بنانا کسی کا مقصد نہیں تھا۔ نہ گاندھی جی کا نہ قائد اعظم کا۔ قائد اعظم سیدھا سیدھا مسلمانوں کے لیے الگ ملک چاہتے تھے۔ ایک ایسا ملک جس میں انہیں ترقی کرنے کا موقع مل سکے، سیاسی طور پر وہ مضبوط ہوں اور امن اور سکون سے بغیر کسی بیرونی خطرے کے رہ سکیں۔ گاندھی ایسا ملک چاہتے تھے جس میں تمام مذاہب کے لوگ مل کر رہ سکیں۔ جس میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ ہو، نہ ہی وہ سیکولر تھے اور نہ ہی وہ سیکولر لوگوں کے راہنما تھے۔ ایک سے زیادہ مواقع پر انہوں نے یقین دلایا کہ ان کا مقصد کوئی ہندو ریاست بنانا ہرگز نہیں ہے، وہ ایک ایسا وطن چاہتے ہیں جس میں برداشت ہو، تحمل ہو اور سب مل کر رہیں۔ لیکن گاندھی بہرحال ایک ہندو تھے۔

یہ دونوں راہنما اپنے اپنے مذاہب کے کچھ خاص شدت پسند نمائندے نہیں تھے۔ قائد اعظم کی بات کریں تو جن علمائے کرام نے ان کی مخالفت کی، اسی وجہ سے کی کہ اس زمانے کے مسلمان فریم میں ان کی تصویر ٹھیک سے بیٹھتی نہیں تھی۔ وہ انگریزی ملبوسات استعمال کرتے تھے، بیسیوں جدید فیشن کے سوٹ ان کے پاس تھے، ڈی ٹیچ ایبل کالر والی قیمتی شرٹس وہ پہنتے تھے، ایک ٹائی کبھی دوبارہ استعمال نہیں کرتے تھے، کلین شیو رہتے تھے، پانچ وقت کی نماز مسجد میں جا کر نہیں پڑھتے تھے، باقاعدہ عالم دین نہیں تھے، گوروں کے ساتھ انہیں کی طرح اٹھتے بیٹھتے تھے، انہیں کی عادتیں بھی زیادہ تر ان میں تھیں۔ ایک مذہبی راہنما کیسے ایک مغربی حلیہ رکھنے والے مسلمان کی راہ نمائی قبول کر سکتا ہے اور وہ بھی اس ملک کے تصور کے لیے جو بہرحال مسلمانوں کے عالمی تشخص کو تھوڑا محدود کر دیتا ہو۔ مسلمان آج تک کی گئی ہر تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں جو پوری دنیا میں موجود ہے، تو کیسے وہ اپنے آپ کو ایک ملک میں محدود کر سکتے تھے؟ جن علماء نے قیام پاکستان یا قائد اعظم کی مخالفت کی ان کے سامنے ایسی اور بہت سی دوسری وجوہات تھیں۔ دوسری طرف ہندو تھے، آل انڈیا مسلم لیگ نامی جماعت کے قیام کے بعد ظاہری بات ہے ہندوؤں کی اس میں گنجائش ہی نہیں تھی، وہ جماعت صرف مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تھی۔ اور قائد اعظم صرف مسلمانوں کے راہنما تھے۔

گاندھی جی کو دیکھتے ہیں تو وہ اپنے حلیے سے ایک روائتی ہندو سادھو نظر آتے ہیں۔ گھٹا ہوا سر، دھان پان سا جسم، دو چادریں لپیٹی ہوئی، نرے سبزی خور اور ہر وقت اس ٹینشن میں مبتلا کہ کسی طرح ہندوؤں میں سے ذات پات کا فرق ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے جتنی بھی تحریکیں چلائیں ان میں مسلمانوں کی دلچسپی کا کوئی خاص معاملہ نہ تھا۔ معاشرے میں جتنی اصلاح کی کوششیں وہ کرتے رہے وہ سب بھی زیادہ تر ہندوؤں کے مسائل سامنے رکھ کر انہوں نے کیں۔ تو اس دور کے مسلمان جن کے سامنے دو بڑے لیڈر تھے اور جن میں سے ایک حلیے اور ترجیحات سے نرا ہندو ہی لگتا تھا، ظاہری بات ہے قائد اعظم کے ساتھ اکٹھے ہونے تھے۔ مسئلہ ایک اور تھا؛ گاندھی جی کو بھی ہندوؤں میں خالص ہندو نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ایک انسان جو ہندو ہو کر ان کے بنیادی عقائد کو نہیں مانے گا، چھوت چھات کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا یا ستی کی رسم ختم کرنے کی کوشش کرے گا یا بیوہ ہندو عورتوں کی دوسری شادی کے لیے بات کرے گا، اس کو ہندو کیسے بخشیں گے؟ ان پر بہت سے قاتلانہ حملے اس وجہ سے بھی ہوئے۔ گاندھی جی ویسے بھی کسی روائتی دین کے بجائے روحانیت کا پرچار زیادہ کرتے تھے، چھتیس برس کی عمر کے بعد جنسی فعل سے بھی پرہیز کرنے لگے تھے، پھر آخری دور میں ان کی ساری عمر کا یہ پرہیز ان کے گلے بھی پڑا، جنس سے بھاگتے بھاگتے وہ بہرحال اس کے اسیر ہوئے اور تزکیہ نفس کے لیے عجیب و غریب تجربے کیے، آبھا اور منو گاندھی نامی دو لڑکیاں اس دور میں ان کے بہت قریب رہیں جنہیں وہ اپنی لاٹھی کہتے تھے۔ یہ سب تجربے بہرحال ہندو مذہب کی حدود کے اندر اور باہر کھیلنے کے مترادف تھے اور روائتی مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔ تو وہ مسلمانوں کو لاکھ یقین دلاتے کہ کانگریس سب کی جماعت ہے، ایک عام سیدھے سادھے مسلمان نے یہ بات نہیں ماننی تھی۔

یہ دونوں راہنما چوں کہ اپنے اپنے مذاہب کے شدت پسند پیروکار نہیں تھے اس لیے ان کے نزدیک مذہب کی اہمیت بھی اس لیے تھی کہ یہ ان کی قوم کو اکٹھا رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا تھا۔ قائد اعظم مسلمانوں کو سیاسی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتے تھے، اس کے لیے وہ شروع سے کوشش بھی کرتے رہے۔ کانگریس میں شمولیت کے بعد بھی اگر دیکھیں تو ان کو ایک مسلمان رہنما ہی مانا جاتا تھا، ان کی زیادہ تر جدوجہد بھی مسلمانوں کے لیے رہی، وہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی بھی رہے تو بہرحال ایک فریق کے طور پر، بحیثیت مسلمان رہے۔ انہوں نے کئی بار کوشش کی کہ آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے اس وقت کی حکومت سے مسلمانوں کو بہتر سیاسی حقوق دلوا سکیں، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر جب لگاتار کئی کوششوں کے بعد مسلمانوں کو برصغیر کی سیاست اور معیشت میں واضح مقام نہ دلا سکے تو انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ گاندھی جی بظاہر ہندو مذہب کی بات نہیں کرتے تھے، کانگریس کے راہنما تھے، سیکولر ہندوستان کی بات کرتے تھے لیکن، کانگریس کے بڑے راہنماؤں کے نام دیکھیں تو 1930 کے آس پاس ان میں سے ایک دو کے علاوہ سب ہندو تھے۔ بال گنگا دھر تلک، گوپال کرشن گوکھلے، موہن داس کرم چند گاندھی، سی آر داس، سردار ولبھ بھائی پٹیل، راجندر پرشاد، سبھاش چندر بوس، راج گوپال اچاریہ یہ سب ہندو ہی تھے، کچھ بنیاد پرست تھے، کچھ نہیں تھے لیکن غالب تھے اور ہندو تھے۔ مسلمان برطانیہ کے زیر سایہ رہتے ہوئے اپنے مذہب کے پابند رہ سکتے تھے لیکن اگر وہ کانگریس کی اکثریتی حکومت میں آ جاتے تو شاید انہیں مذہبی آزادی بھی نہ مل پاتی، مسلم لیگ میں ایک سوچ یہ بھی پائی جاتی تھی۔

اگر 1930 کے بعد دیکھیں تو برصغیر کی سیاست میں مذہب کا عنصر کامیابی سے شامل ہو چکا تھا، اور فیصلہ کن تھا۔ 1857 میں غدر کے بعد برطانوی حکومت کی ترجیحات نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں جو دراڑیں ڈالی تھیں، یہ اس کا عقلی نتیجہ تھا۔ قائد اعظم جتنے بھی سیکولر تھے، اپنی ذات کی حد تک تھے، گاندھی جتنے بھی روحانیات کے پرچارک تھے، اپنی ذات کی حد تک تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد حالات کا سرسری مطالعہ بھی یہ دکھا سکتا ہے کہ ہندوستان کی آزادی اور تقسیم ممکن ہی صرف اسی صورت میں تھی کہ عوام کسی بھی ایک نکتے پر اکٹھے ہوں، اور وہ نکتہ مذہب سے بہتر بہرحال کوئی نہیں تھا۔ 1937 کے بعد قائد اعظم کی تقریروں میں مسلمانوں کے ملک کا مطالبہ بارہا دیکھا جا سکتا ہے، کانگریس آہستہ آہستہ خود بھی اس کونے میں پہنچ چکی تھی جہاں وہ ہندوؤں کی نمائندہ جماعت کہلائی جاتی تھی۔ تو یہ تقسیم دو مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اپنے اپنے ملک کے حصول کی تقسیم تھی۔

ایک معاملہ اور رہ جاتا ہے۔ قائد اعظم کی ان تقاریر کا معاملہ جن کی بنیاد پر ہم پاکستان کا سیکولر مفروضہ پیش کرتے ہیں۔ وہ تقریریں صرف قائد اعظم کے اپنے مزاج کو ظاہر کرتی تھیں۔ قائد اعظم دل سے چاہتے تھے کہ ایسا ہو جائے اور ملک میں کوئی اقلیت ڈری سہمی نہ رہے۔ ایسا کیوں نہ ہو سکا، یہ بعد کی کہانی ہے۔

پاکستان بے شک اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ خدا کا شکر کہ ہمیں آزادی ملی۔ اپنا ملک ملا۔ ہم نے اس کے ساتھ بہت تجربے کر لیے۔ نقصان بھی اٹھایا۔ بہت کچھ ساتھ ساتھ سیکھا۔ اب شاید ہم اس قدر سیکھ چکے ہیں کہ مزید تجربوں کی گنجائش ہمیں نظر نہیں آتی۔ نظریاتی بحثوں کی گنجائش بھی نہیں۔ اب صرف عمل کا وقت ہے۔ کام کرنے کا وقت ہے۔ محبت بانٹنے کا وقت ہے۔ دنیا سے محبت اس وقت ایسے غائب ہوتی جا رہی ہے جیسے کیبل کے آنے پر ٹی وی کا انٹینا غائب ہوا ہے۔ ہمیں انفرادی سطح پر اپنے ان بھائیوں کی محرومی کو ختم کرنا ہے جو ہم سے کسی بھی وجہ سے ناراض ہیں۔ وہ سندھ میں ہیں، خیبر پختون خواہ میں ہیں، فاٹا میں ہیں، گلگت بلتستان میں ہیں، اپر پنجاب میں ہیں، جنوبی پنجاب میں ہیں یا بلوچستان میں ہیں، ایک فرد کی نفرت دوسرا فرد تب ہی ختم کر سکتا ہے اگر نیت محبت کی ہو، امن کی ہو اور سکون سے مل کر رہنے کی ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 457 posts and counting.See all posts by husnain