یوم آزادی اور دل کے نہاں خانے میں چھپا سوال


\"mujahidپاکستان کے باسیوں کو 69 واں یوم آزادی مبارک ہو۔ قوموں کی تاریخ میں چھ یا سات دہائیاں زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔ لیکن جو ش و جذبہ سے حاصل کئے گئے کسی ملک میں اس مدت کے دوران ایسی بنیاد ضرور استوار کی جا سکتی ہے جس پر کسی عالیشان عمارت کی تعمیر کی جا سکے۔ وہ اصول ضرور وضع کر لئے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر اس خطہ زمین پر آباد سب لوگ ایک دوسرے کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے، احترام اور قبولیت کے رویہ سے روشن مستقبل کی جانب قدم اٹھا سکیں۔ اس قسم کے سفر کی متعدد مثالیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ ہمارے ساتھ ہی سفر کا آغاز کرنے والے اسرائیل کی مثال سب سے نمایاں اور چشم کشا ہے۔ دشمنوں اور جنگوں میں گھرے اس ملک نے کم آبادی ، محدود رقبے اور لاتعداد مشکلات کے باوجود اپنے لئے راستہ ہموار کیا۔ یہاں اسرائیل کی سیاست یا فلسطینی باشندوں کے ساتھ اس کے طرز عمل سے بحث نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ صرف یہ بتانا مطلوب ہے کہ منزل مقصود پانے کی خواہشمند قومیں تمام دشواریوں کے باوجود نہ حوصلہ ہارتی ہیں اور نہ شکست ان کا مقدر بنتی ہے۔ پاکستان اور اس کے باشندے یہ دعویٰ کرنے سے قاصر ہیں۔ 14 اگست کو ضرور عمارتیں روشن ہوں گی، گزشتہ ایک ماہ سے ملک کے کوچے کوچے میں سبز ہلالی پرچم آویزاں ہو رہے ہیں اور کل سب گرمجوشی سے ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دیں گے۔ لیکن یہ سوال ہر دل کے نہاں خانے میں موجود ہو گا کہ کیا ہم مبارک دینے یا وصول کرنے کے لائق ہیں۔

یہ سوال یوم آزادی کے ہنگام میں دل و جاں کے اندر خواہ جس قدر گہرا دبا لیا جائے، اس کی چبھن اور کاٹ اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ ہم اسے نظر انداز کرنے کیلئے پھیپھڑوں میں ہوا بھر کے پوری قوت سے زندہ باد کا نعرہ لگا سکتے ہیں۔ محرومی کے احساس کو جھٹکنے کےلئے بے لباس بچوں کے ہاتھ میں سبز جھنڈیاں پکڑا کر اپنے جھونپڑوں کے باہر مسکرانے کا ناٹک کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ گھروں کو روشنی اور صنعتوں کا پہیہ چلانے کےلئے خواہ بجلی دستیاب نہ ہو لیکن آج کے دن ہر کوچہ و دیوار کو روشن کر کے دل کی ویرانی اور آنکھوں کے اندھیرے کو دور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہم بندوق اور بم اٹھا کر گھروں کو ویران اور شہروں کو اجاڑنے والوں کو فراموش کرنے کےلئے اپنی فتح کے ترانے گا سکتے ہیں۔ ناکامیوں کو بھولنے کےلئے مستقبل کی کامیابیوں کے دعوے کر سکتے ہیں، خواب دیکھ سکتے ہیں یعنی مسلسل سراب کے پیچھے بھاگ سکتے ہیں۔ لیکن یہ سارے جتن کرنے کے باوجود 14 اگست کی رات بھیگنے کے ساتھ جب قمقموں کی روشنی مدھم پڑنے لگے گی تو ہمارے دل کے زخم ہمارے چہروں پر عیاں ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اور ہم اپنی تمام محرومیوں ، ناامیدیوں ، مایوسیوں اور ناکامیوں کے ساتھ ازسر نو ایک ایسے دائرے کے سفر پر روانہ ہو جائیں گے جو ہمیں کبھی کسی منزل تک نہیں پہنچا پائے گا۔

یہ دن گزر جائے گا تو ذوق و شوق سے خریدے ہوئے قومی پرچم کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کا حصہ بن جائیں گے اور ہم تجاہل عارفانہ کے ساتھ اپنی بدبختی کو خوش قسمتی کا نام دے کر پھر سے زندگی کی ظالم چکی کا پاٹ بن جائیں گے۔ مقصد میں ناکامی کے بارے میں سوال کو مسترد کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہ خود کو درست ثابت کرنے کےلئے کوئی نہ کوئی عذر یا بہانہ تراش کر ذمہ داری سے گریز کا راستہ نکال لیں گے۔ ’’میں تو مزدور ہوں ، ہمارا سیاسی کاموں سے کیا لینا‘‘۔ ’’میں کوئی لیڈر تھوڑی ہوں۔ یہ سوچنا تو لیڈروں کا کام ہے‘‘۔ ’’بھئی یہ زندگی تو ایسے ہی چلتی ہے۔ اب ہر بات میں آپ ایک فرد کو تو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے‘‘۔ ’’یہ سب سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے‘‘۔ ’’ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے اس ملک کو تباہی کے راستے پر لگا دیا ہے۔ بس اب اللہ ہی مدد کرنے والا ہے‘‘۔

ایسے میں ہم یہ نہیں سوچیں گے کہ اگر اس ناکامی میں ہمارا عمل دخل نہیں ہے تو ہم عذر خواہی کیوں کر رہے ہیں۔ اگر اللہ ہی نے سارے معاملات ٹھیک کرنے ہیں تو توکل سے گھر بیٹھ کر من و سلویٰ اور کامیابی کا انتظار کرنے کی بجائے ہم اپنی اپنی جگہ پر دوڑ بھاگ میں کیوں لگے ہیں۔ کیا واقعی ہماری ناکامیوں کے ذمہ دار وہ سب دوسرے ہیں، جن تک میری اور آپ کی دسترس نہیں ہے یا قوم کی کشتی میں سوراخ کرنے والے ہاتھوں میں میرا اور آپ کا ہاتھ بھی شامل ہے۔ یہ شاید الجھی ہوئی مشکل باتیں ہیں۔ انہیں آسان کر کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جو نعرے ہم لگا رہے ہیں ، جس خوشی و مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ کیا اس کا کوئی جواز موجود ہے۔ کیا ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کےلئے جھنڈے لہرانا ، منہ رنگنا ، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی چنگھاڑ سے شہریوں کی زندگی اجیرن کرنا اور یکجہتی اور اتحاد کے کھوکھلے نعرے بلند کرنا ۔۔۔۔ یہی کافی ہے یا اس کےلئے تاریخ کوئی دوسرا طریقہ بھی تجویز کرتی ہے۔

ہم خوش ہیں کہ اس ملک نے زندگی کی 69 بہاریں دیکھ لی ہیں، یہ جانے بغیر کہ اس دھرتی کے رہنے والوں پر ہر بہار نئی خزاں کا پیغام لے کر آئی ہے۔ ہر خزاں کے آنے پر ہم نے مرجھائی ہوئی کونپلوں کو آنے والی بہار کا پیامبر سمجھا ہے لیکن وہ بہار اس ملک کے عوام کی قسمت میں وارد نہیں ہوتی۔ کیونکہ بہاریں سمیٹنے والے انہیں اپنے محلوں ، حویلیوں اور جاگیروں میں قید کر لیتے ہیں اور نعرے لگانے والے ، جھنڈے اٹھانے والے اور چراغ روشن کرنے والوں کی قسمت میں صرف کانٹے اور ببول ۔۔۔ خزاں اور اداسی ، مایوسی اور پریشانی ، ناکامی اور ہزیمت ہی آتی ہے۔ پھر ایک آواز بلند ہوتی ہے کہ ’’میں یہ بہاریں ان سنگلاخ بلند دیواروں سے آزاد کرواؤں گا۔ میں محروم و محصور لوگوں کی مجبوریوں کی زنجیریں کاٹ دوں گا ۔میں انصاف عام کروں گا ۔۔۔۔۔۔ اب قلعہ بند مفاد پرست چوکنے ہو جائیں‘‘۔ محلوں کی دیواریں مزید بلند ہو جاتی ہیں۔ لوگ مزید محصور ہو جاتے ہیں۔ اس زنداں خانے میں جس سے باہر نکلنے کا کوئی دروازہ نہیں ہے۔ صرف آوازیں آتی ہیں جو آزادی کا دروازہ پاٹنے کا وعدہ کرتی ہیں اور پھر دھیرے دھیرے کسی شور میں گم ہو جاتی ہیں۔ محل مضبوط اور وسیع ہو جاتے ہیں۔ جھونپڑیوں پر پڑی چھتوں سے چند مزید سرکنڈے سرکا لئے جاتے ہیں۔ ان کے باسیوں کو دھوپ ، بارش اور ہر موسم کی سختی کا مزہ چکھانے کےلئے۔ پیاس بجھانے سے پہلے پیاس بڑھانے کےلئے۔ سناٹے سے پہلے ایک بلند آہنگ آواز کے انتظار میں شدت پیدا کرنے کےلئے۔

بات بدستور الجھ رہی ہے۔ اسے مزید آسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دھماکہ اور 70 لاشیں۔ خون ، انسانوں کے ٹکڑے اور بربادی کے آثار ۔۔۔۔۔ دھماکے سے بھی پرشور آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ وہ جو پاس کے گھر میں رہتا ہے۔ وہ جو کام نہیں کرتا۔ وہ جو دشمن کا ایجنٹ ہے۔ وہ جو گمراہ ہے۔ وہ جس کو استحصالی قوتوں نے ناراض کر دیا ہے۔ سامراج مردہ باد ۔۔۔ دشمن مردہ باد ۔۔۔۔۔ آؤ اب جشن منائیں۔ یوم آزادی آیا ہے۔ ان ستر گھروں کا کیا جن کے جیون کے سہارے ایک خودکش بمبار کے ہاتھوں راہی عدم ہوئے ۔۔۔۔۔ یہ تو روز کا کام ہے۔ یہ وقت تو قوموں پر آتا رہتا ہے۔ ایک دھماکے ، ایک سانحے اور المیے کےلئے قوم کے یوم آزادی کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔ ہم جشن منا لیں تو تخریب کاروں کا سراغ بھی لگائیں گے۔

بلکہ گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ اس بارے میں کام شروع ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کہ دہشتگردوں کو اس قسم کی خوں ریزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ گویا یہ سارے حادثے سرکاری پرمٹ سے سرانجام پاتے ہیں۔ اور قومی اسمبلی کے لائق فائق اراکین نے قرار دیا ہے کہ یہ سب ایجنسیوں کا کیا دھرا ہے۔ وہ اپنا کام نہیں کرتیں۔ اور آپ سے کس نے کہا ہے کہ امریکہ کی لڑائی لڑیں ۔۔۔۔۔۔ یہ سب اسی کا شاخسانہ ہے۔ آرمی چیف اپنی جگہ برہم ہیں۔ یہ سب قومی ایکشن پلان پر عمل نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ اور یہ جو ہر بے ڈھنگا قومی مسائل پر رائے زنی کرتا ہے، اسی وجہ سے دہشتگردوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔

ورق پلٹا جائے۔ وزیراعظم کو سنا جائے۔ وہ 50 برس کا منصوبہ لے کر آئے ہیں۔ قوم کی تقدیر بدلنے کی نوید دے رہے ہیں۔ بتا رہے ہیں کہ باقی سب آپ کے دشمن ہیں۔ ان سب نے مل کر قوم کی ترقی کے اس پہیے کو روکا ہے جو بڑی مشکل سے 1999 میں رواں کر دیا گیا تھا۔ اب تین برس میں جنت کا راستہ تلاش کر لیا گیا ہے۔ بس اس بہشت تک قوم کو پہنچانے کےلئے 2018 میں ووٹ دینے کی مہربانی کرنا ہو گی۔ پھر نہ لوڈ شیڈنگ ہو گی۔ نہ بھوک اور احتیاج۔ اور یہ چھوٹے صوبوں کے بارے میں تو آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔ برادر چین نے گوادر کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ اقتصادی راہداری خزانوں کا منہ کھولنے والی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پھر کسی کو گلہ نہیں رہے گا۔ بلوچستان والے بھی نہال ہو جائیں گے۔

مگر حضور وہ تو بات کرنے کا حق مانگتے ہیں۔ وہ اپنے مسائل کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔ وہ فیصلوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔ اپنی دھرتی کے وسائل پر دسترس چاہتے ہیں۔ ان کی بات بھی سن لی جائے۔ یہ آوازیں اٹھتی ہیں تو انہیں احترام بھی دیا جائے۔ ان سے مسائل پیدا نہیں ہوتے بلکہ انہیں حل کرنے کا راستہ نکلتا ہے۔ دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ نہ چہرہ دکھائی دیتا ہے نہ آواز آتی ہے۔ بندوق کی سنگین سینے پر تانے وہ مکین کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کہا تھا آواز مت نکالو۔ یہاں بولنا منع ہے۔

مگر وہاں تو میلہ لگا ہے۔ راولپنڈی سے وزیراعظم ہاؤس فتح کرنے کےلئے ایک جم غفیر روانہ ہوتا ہے۔ یہ احتساب ریلی ہے۔ یہ چوروں اچکوں کو کیفر کردار تک پہنچانے والے لوگوں کا قافلہ ہے۔ یہ تو رات بارہ بجے سڑکوں پر آزادی کا جشن منائیں گے۔ لیکن ان کے لیڈر کی بات بھی سن لو۔ یہ جشن فضول ہے۔ یہ خوشیاں اس وقت منانا جب قوم کی دولت لوٹنے والوں سے حساب لو گے۔ میں ان ڈاکوؤں کو عوام کے کٹہرے میں لاؤں گا۔ یہ سارے قوم کا دھن لوٹنے والے اچکے ہیں۔ بس اب یوم انصاف آیا چاہتا ہے۔

مگر ادھر سے آواز آتی ہے کہ قوم نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ یہ سب جھوٹے اور غیر مہذب لوگ ہیں۔ یہ کنٹینر کی سیاست کرتے ہیں۔ گالی دیتے ہیں، بہتان لگاتے ہیں۔ سیاست تو عبادت ہے۔ ہم مصروف عبادت ہیں۔ آؤ ہم سب عبادت کریں۔ اس قوم کی بیڑی کو کنارے لگائیں۔ سب کو زور لگانا چاہئے۔ سب مل کر کوشش کریں۔

مل کر ۔۔۔۔۔۔۔ کس کے ساتھ۔ ہمارا تو عقیدہ الگ ہے۔ ہم تو دوسری زبان بولتے ہیں۔ تم تو نظریہ پاکستان کے دشمن ہو۔ وہ کیا ہے۔ ہاں پاکستان کا نظریہ کیا ہے؟ لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کس نے کہا۔ تم قائد کے فرمان دیکھو۔ نہ تم 11 اگست کی تقریر غور سے پڑھو۔ تم لبرل ہو۔ تم لادین ہو۔ ہمارا تمہارا کیا رشتہ۔مگر ہم ایک ہی ملک میں رہتے ہیں۔ اس سے ہماری تقدیر جڑی ہے۔ ہمارا مرنا جینا اکٹھا ہے۔

نہ ایسے نہیں ہو سکتا۔ یہ سب تو پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیں گے۔ ان کو روکنا ہو گا۔ چپ ہو جاؤ۔ تم چپ ہو جاؤ۔ بولنے دو۔ تم دشمنوں کے ایجنٹ ہو۔ ایجنٹ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ اسی لئے اس ملک کا بیڑہ غرق ہوا ہے۔

آؤ یوم آزادی منائیں۔ یہ دن منا لیں تو دشمنوں سے بھی نمٹ لیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 983 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali