نیویارک میں امام مسجد کا افسوسناک قتل


\"edit\"نیویارک کے علاقے کوئینز میں ایک امام مسجد اور ان کے نائب کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ 55 سالہ امام مولانا اخون جی اپنے ایک ساٹھ سالہ نائب کے ساتھ نماز پڑھا کر نیویارک کی الفرقان جامع مسجد سے گھر جا رہے تھے کہ گلی میں کسی نامعلوم شخص نے پیچھے سے ان کے سروں میں گولی ماری اور فرار ہو گیا۔ دونوں افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ انہیں اسپتال پہنچایا گیا لیکن دونوں جاں بر نہ ہو سکے۔ علاقے کے مسلمان اور امریکہ میں مسلمانوں کی تنظیم کونسل آف امریکن اسلامک یلیشنز CAIR نے اسے نفرت پر مبنی جرم قرار دیا ہے ۔ یعنی ان دونوں افراد پر ان کے عقیدہ کی وجہ سے حملہ کیا گیا ہے۔ لیکن پولیس ابھی تک حملہ کی وجہ بتانے سے قاصر ہے۔ اور اسے نفرت کی بنا پر کیا گیا حملہ بھی نہیں قرار نہیں دیتی۔

امریکہ اور یورپ میں بعض اسلامی انتہا پسند گروہوں کے دہشت گرد حملوں کی وجہ سے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں معاندانہ احساسات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والے گروہ ذیادہ متحرک ہو چکے ہیں اور ان کا لب و لہجہ بھی تند اور تلخ ہو چکا ہے۔ اس رجحان کی وجہ سے متعدد مسلمان لیڈروں اور سیاستدانوں کی طرف سے تشویش کا اظہار بھی سامنے آتا رہتا ہے۔ کیوں کہ مسلمان دہشت گردوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ میں آباد مسلمانوں کے خلاف رائے ہموار کرنے اور دنیا میں ابھرنے والی دہشت گردی کو اسلام کے پیغام یا مغرب میں آباد مسلمانوں کے ساتھ نتھی کرنے سے بین المسلکی اور بین النسلی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ مسلمان لیڈر اکثر یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور وہ قتل و غارتگری اور بے گناہوں کو مارنے سے منع کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بتانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ اسلام کے نام پر سامنے آنے والے ان دہشت گرد گروہوں کا ذیادہ تر نشانہ مسلمان ہی بن رہے ہیں ۔ اس لئے اگر مغرب کے کسی ملک میں کوئی حملہ ہوتا ہے تو اسے اسلام اور مغرب کی جنگ قرار دے کر ان ملکوں میں آباد امن پسند مسلمانوں کی زندگی اجیرن کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

مولانا اخون جی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ امن پسند تھے اور کسی کے ساتھ ان کا کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ وہ دو برس قبل ہی بنگلہ دیش سے نیویارک آئے تھے۔ پولیس اس معاملہ کے ہر پہلو سے تفتیش کررہی ہے ۔ پولیس کے بعض ذرائع نے کہا ہے کہ یہ ڈکیتی کی واردات بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس افسوسناک قتل سے غم و غصہ کا شکار مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور سے نفرت کا شاخسانہ Hate Crime ہے۔ اس کے علاوہ اس قتل کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ حادثہ کے وقت اخون جی کی جیب میں ایک ہزار ڈالر سے زائد رقم تھی لیکن اسے نہیں لوٹا گیا۔ اس کے علاوہ حملہ آور پیچھے سے آیا اور دونوں افراد کے سروں میں پیچھے سے گولی مار کر فرار ہو گیا۔ اسلامی کونسل کئیر کے نمائیندے نے الفرقان جامع مسجد میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سو فیصد مسلمان نفرت کا معاملہ ہے ۔ پولیس کو اسے اسی طرح دیکھنا ہوگا۔

جون میں اورلانڈو کے مقام پر ایک مسلمان دہشت گرد نے ہم جنس پرستوں کے ایک کلب پر حملہ کرکے 49 افراد کو ہلاک کردیا تھا، وہ خود بھی پولیس سے مقابلہ میں مارا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ پر منفی اثر مرتب ہؤا ہے۔ دو مواقع پر مختلف مساجد میں جانے والے نمازیوں پر حملہ کرکے انہیں زد و کوب کیا گیا ہے۔ مسلمان خود کو امریکہ میں غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ امام اخون جی کے قتل پر احتجاج کے لئے مسجد کے باہر اکٹھے ہونے والے سینکڑوں مسلمانوں نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس موقع پر خاص طور سے ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امید وار ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کو مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردی کا علاج تجویز کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کو خاص طور سے نشانہ بناتے ہیں ۔ انہوں نے گزشتہ برس سان برنارڈینو میں دہشت گرد حملہ کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی لگانے کی تجویز بھی دی تھی۔ اس حملہ میں دو مسلمان میاں بیوی نے داعش کے پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر معذور افراد کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا تھا۔

اسی طرح گزشتہ ماہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن میں ایک مسلمان امریکی فوجی کیپٹن ہمایوں خان کے والد خضر خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام دشمنی پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ انہیں امریکی آئین کا مطالعہ کرنا چاہئے جو تمام شہریوں کو مساوی حقوق عطا کرتا ہے۔ کیپٹن ہمایوں خان 2004 میں عراق میں ایک حملہ کے دوران اپنے ساتھیوں کی جان بچاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمایوں کی والدہ غزالہ خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اس موقع پر خاموشی اختیار کی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان عورتوں کو بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ٹرمپ کے اس رویہ پر ملک بھر میں شدید تنقید ہوئی تھی لیکن کسی قومی لیڈر کی طرف سے مسلسل ایک خاص عقیدہ اور لوگوں کے بارے میں منفی باتیں کرنے کے منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔

نیویارک میں ہونے والا قتل اسی قسم کا ایک سانحہ ہے۔ اس واقعہ سے مغرب کے مسلمانوں میں عدم تحفظ میں اضافہ ہو گا اور وہ یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ امن پسندی اور معاشروں کی تعمیر میں حصہ لینے کے باوجود ان پر ہر موقع پر تنقید بھی ہوتی ہے اور اب ان پر حملوں کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ امریکی پولیس کو جلد از جلد اس حملہ میں ملوث شخص کو گرفتار کرکے اور سزا دلوا کر، مسلمانوں کے خوف کو دور کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1008 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali