نریندر مودی کے الزامات ۔۔۔۔ برصغیر میں تصادم کا نیا باب


کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کے راستے پر گامزن ہیں۔ کل وزیراعظم پاکستان نے یوم آزادی \"edit\"کے موقع پر اس دن کو کشمیر کی آزادی سے منسوب کیا تھا۔ آج بھارت کے یوم آزادی پر خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کو دہشتگرد ریاست قرار دیتے ہوئے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کیسا ہمسایہ ملک ہے جہاں دہشتگردوں کے گن گائے جاتے ہیں اور ان کی کامیابی پر جشن مناتے ہیں۔ نریندر مودی جمعہ کو کشمیر کے مسئلہ پر منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں بھارتی اپوزیشن کی طرف سے کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بھارت اب بلوچستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے مظالم پر عالمی توجہ مبذول کروائے گا۔ انہوں نے بھارتی وزارت خارجہ کو ہدایت کی کہ وہ آزاد کشمیر اور بلوچستان کے دوسرے ممالک میں لوگوں سے رابطے کریں اور پاکستان کے ان علاقوں میں ہونے والے مظالم کے خلاف ان کی رائے کو سامنے لائیں۔ آج لال قلعہ سے اپنی حکومت کی کارکردگی کے اعلانات کرنے علاوہ، ان کی جذباتی تقریر کا زیادہ زور پاکستان پر الزام تراشی کرنے پر تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں نے حمایت کرنے پر ان کا اور بھارتی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پر ان کا شکر گزار ہوں۔

بھارتی وزیراعظم کی تقریر مقبوضہ کشمیر میں جاری ہڑتال اور 5 ہفتوں سے نافذ کوفیو کے تناظر میں تھی۔ وہ اس خالص کشمیری تحریک کو پاکستان کی سازش اور پرامن مظاہرین کو دہشتگرد قرار دینے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ تاہم اس قسم کے جذباتی اور بے بنیاد دعوؤں سے ملک میں آباد بعض لوگوں کو تو ضرور گمراہ کیا جا سکتا ہے یا یہ تاثر دیا جا سکتا ہے کہ ملک جن سنگین خطرات سے دوچار ہے، اس کی ذمہ داری ان کی اپنی حکومت پر عائد نہیں ہوتی بلکہ ہمسایہ ملک اس میں ملوث ہے۔ اس سے زیادہ ان بلند بانگ اعلانات سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں ضرور پاکستان کے جہادی گروہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس طرح کشمیری عوام کی جہدوجہد کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔ پاکستان کی حکومت اس تجربہ سے کافی سبق سیکھ چکی ہے۔ اس کے علاوہ دہشتگردی کی موجودہ صورتحال میں پاکستانی حکومت اور اس کے ادارے کسی ہمسایہ ملک میں تخریبی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ بعض نیم سیاسی مذہبی جہادی گروہ ضرور پاکستان میں بیٹھ کر بھارت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض لیڈروں پر ماضی میں بھارتی کشمیر اور بھارت کے علاقوں میں تخریبی کارروائیاں کرنے کے الزامات بھی عائد ہیں۔ ان الزامات کو البتہ عدالتوں میں ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ پاکستان اس بارے میں بھارت کو مورد الزام ٹھہراتا ہے کہ اس نے مناسب شواہد فراہم نہیں کئے جبکہ بھارت دہشتگردوں کی سرپرستی کا نعرہ لگاتے ہوئے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

یہ بات بھی دور از قیاس نہیں ہے کہ بھارت حافظ سعید یا مولانا مسعود اظہر جیسے کرداروں کی پروپیگنڈا ویلیو سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا خواہش مند ہے۔ اس کے پاس ان کے خلاف ایسے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر کسی عدالت میں انہیں دہشتگرد قرار دلوایا جا سکے۔ دوسری طرف پاکستان کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ یہ لوگ اور ان کی تنظیمیں بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان اپنے طور پر نہ تو ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی کر سکا ہے اور نہ ہی انہیں ملک میں مراکز قائم کرنے اور بھارت دشمن پروپیگنڈا کرنے سے باز رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جب بھی کوئی تحریک شروع ہوتی ہے تو یہی بدنام زمانہ مذہبی گروہ ریلیوں اور جلسوں کا اہتمام کرتے ہیں، بھارتی پرچم نذر آتش کرتے ہیں اور بھارت مخالف آتشیں بیان جاری کرتے ہیں۔

یہ حقیقت کہ ان میں اکثر گروہ کسی نہ کسی صورت میں انتہا پسندی اور مذہبی شدت پسندی کی حمایت کرتے رہے ہیں ، القاعدہ یا طالبان کے ساتھ ان کے روابط رہے ہیں یا وہ بھارت میں ہونے والے متعدد حملوں میں نامزد ہوئے ہیں ۔۔۔۔ پاکستان کے موقف اور پوزیشن کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اسی لئے سیاست اور ادارہ جاتی تعلقات کی نزاکتوں سے نابلد عام پاکستانی یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ پاکستان ان ناپسندیدہ گروہوں کو برداشت کر کے کیوں اپنی سفارتی پوزیشن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ جبکہ بعض تجزیہ نگار اور مبصر یہ واضح کرتے ہیں کہ ایسے گروہوں کو مسلح اداروں کی درپردہ حمایت حاصل ہے تاکہ ملک کی سیاسی حکومت کے مقابلے میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کےلئے انہیں حسب ضرورت استعمال کیا جا سکے۔ یہ سراغ لگائے بغیر کہ یہ گروہ کس حد تک ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے کنٹرول میں ہیں اور پاک فوج کس وقت سیاسی جمہوری حکومت کے مقابلے میں اپنی رائے منوانے کےلئے، کب کون سا ہتھکنڈہ اختیار کرنا ضروری سمجھتی ہے ۔۔۔۔۔۔ اب یہ جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اس وقت دہشتگردوں کے خلاف جنگ کے معاملہ پر چہار طرف سے گھرا ہوا ہے۔ اسے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کےلئے اپنی حکمت عملی میں ڈرامائی تبدیلی کرنے کی ضرورت ہو گی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دو وجوہ کی بنا پر پاکستان پر الزام تراشی کرنے اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا علی الاعلان اعتراف کرنے کا حوصلہ ہوا ہے۔ ان میں ایک وجہ تو یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ امریکہ اور افغانستان اپنی مجبوریوں اور ضرورتوں کے تحت پاکستان پر اسی قسم کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اس لئے اس آواز میں اپنی آواز ملا کر کم از کم دنیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی عوام کو باور کروایا جا سکتا ہے کہ خرابی نئی دہلی میں نہیں ہے بلکہ اسلام آباد کی انسانیت دشمن پالیسیوں میں ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان اس بارے میں ابھی تک خاموش رہو اور تبدیلی کا انتظار کرو جیسی پرانی اور نقصان دہ حکمت عملی پر کاربند ہے۔ اسی لئے نہ افغانستان میں دراندازی کے الزامات کا کوئی جواب سامنے آتا ہے اور نہ بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرنے کے لئے کوئی سفارتی سرگرمی دکھائی جاتی ہے۔ حالانکہ بھارتی الزام غلط ہونے کے باوجود بعض عالمی حلقوں میں صرف اس وجہ سے پذیرائی پا سکتے ہیں کہ پاکستان کا ماضی کا ریکارڈ اور افغانستان میں طالبان کی حمایت کے حوالے سے حکمت عملی پر عالمی سپر پاور اور دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے حلیف امریکہ کی طرف سے مسلسل الزام تراشی ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان کو اب اس صورتحال سے پیدا ہونے والے اندیشوں کا احساس کرنے اور پالیسی تبدیل کر کے یہ تاثر زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان داخلی سیاست یا عالمی سفارتی ضرورتوں کے تحت کسی بھی سطح پر کسی قسم کے شدت پسند گروہوں سے تعاون و تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کرنے، افغانستان کی طرف سے طالبان جنگجوؤں کو پناہ دینے، بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردوں کی اعانت کرنے اور ملک کے اندر حکومت اور فوج سے برسر پیکار دہشتگرد گروہوں کے مقابلہ کرنے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ صورتحال اس حد تک پیچیدہ اور گمبھیر ہو چکی ہے کہ نریندر مودی اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ہی نہیں بلکہ بلوچستان میں مداخلت کی بات بڑے دھڑلے سے کر رہے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی طرف سے برس ہا برس سے دنیا بھر میں کشمیریوں اور بلوچ رہنماؤں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور جو لوگ ان کی مرضی کے مطابق کام کرنے پر تیار ہوں، انہیں وسائل فراہم کرنے اور پاکستان کے خلاف مہم جوئی کےلئے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم اپنی وزارت خارجہ کو یہ کام منظم کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ اس پر نہ پاکستان کے دوست ، نہ حلیف اور نہ اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے آتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس پاکستان جب بلوچستان میں بھارتی مداخلت، تخریب کاری میں بھارتی ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے یا بھارتی جاسوس پکڑے جانے کی بات کرتا ہے، تب بھی کوئی پاکستان کی بات غور سے سننے اور مدد کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اس صورتحال کو بعض مبصر پاکستان کی سفارتی تنہائی کا نام دیتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز اس خیال کو مسترد کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھی بتانے سے قاصر ہیں کہ کوئٹہ سانحہ جیسے دہشتگردی کے واقعہ میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کی بات کرنے کے بعد کیوں پاکستان کے موقف کو پذیرائی نصیب نہیں ہوتی۔

اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ بھارتی وزیراعظم اور حکومت کے دیگر اراکین کا پاکستان کے خلاف غم و غصہ دراصل مقبوضہ کشمیر میں عوامی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکامی پر بدحواسی کا اظہار ہے۔ یہ بھی بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی طرف سے حق خود اختیاری کےلئے چلائی جانے والی تحریک کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دہشتگردی سے ستائی ہوئی دنیا تحریک آزادی اور مسلح تشدد میں فرق کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ ایسے میں کشمیریوں کے ساتھ دوستی نبھانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ انہیں تشدد کا راستہ ترک کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ کشمیریوں کی اکثریت پرامن طریقے سے تحریک چلاتی ہے لیکن بعض گروہ ہتھیار بند ہو کر اس تحریک کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے گروہوں کے لیڈروں کو کھلم کھلا اپنی سرگرمیوں کی اجازت دے کر پاکستان ایک ایسی پالیسی پر کاربند ہے جو اس کے اپنے اور کشمیری عوام کے مفادات کےخلاف ہے۔

تاہم اس حوالے سے پاکستان کی بعض پالیسیوں پر تنقید کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ کشمیر میں بھارتی حکمت عملی درست ہے یا اس کی افواج مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہو رہیں۔ بھارت، سکیورٹی فورسز کے اقدامات کو کالے قوانین کے ذریعے جائز قرار دینے کی کوشش ضرور کرتا ہے لیکن بھارتی عدالتوں میں بھی افسپا AFSPA جیسے قوانین کو مسترد کیا جا چکا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ان قوانین کی آڑ میں سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کا پردہ فاش کرتی رہتی ہیں۔ ماضی میں متعدد عالمی تنظیموں اور اداروں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف لرزہ خیز حقائق جمع کئے ہیں۔ موجودہ تحریک کے دوران بھی بھارتی فورسز نے جن 60 نوجوانوں کو شہید کیا ہے، وہ سارے نہتے اور نوعمر تھے اور آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے یا جلوس نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

بھارتی وزیراعظم کی کم ہمتی اور بزدلی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 15 اگست کی تقریر میں پاکستان پر تو ہر قسم کی الزام تراشی کی ہے لیکن 94 منٹ کی اس جوشیلی تقریر میں 5 ہفتوں سے کشمیر میں جاری جدوجہد کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ پاکستان پر بے سروپا الزامات عائد کرنے سے کشمیر کی گلیوں میں بہنے والے خون کو چھپایا نہیں جا سکتا، نہ ہی قربانیاں رائیگاں جا سکتی ہیں۔ کیونکہ کشمیر کے باشندے اپنے بنیادی انسانی حق کےلئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت کے حکمرانوں کو یہ آواز سنائی نہیں دیتی۔ جمہوریت اور انسانیت کا پرچار صرف تقریروں اور دعوؤں کی حد تک ہے۔

نریندر مودی اور ان کی حکومت کشمیر کے مسئلہ پر نہ پاکستان سے بات کرنے پر راضی ہے اور نہ کشمیری لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ تصادم اور الزام تراشی سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس خطہ میں امن کےلئے آپ کو انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا ہو گی جنہیں آپ دہشتگردی پر جشن منانے والا کہہ رہے ہیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ بولنے سے پہلے تولنا ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی سوچ لینا چاہئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1008 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali