دو قومی نظریہ کے تضادات


بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا قیام پاکستان کی خاطر دو قومی نظریے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر بخوبی استعمال کیا گیا یا پھر یہ ہمیشہ کے لیے ایک طے شدہ حتمی اصول ہے۔ اگر یہ ہمیشہ رہنے والا اصول ہے تو کیا اس کی بنیاد پر ہم پاکستانی مذہبی اقلیتوں کو بھی اس کی بنیاد پر تحریک چلانے کی اجازت دیں گے یا پھر ان مذہبی اقلیتوں کی پاکستان میں گنجائش رکھی جا سکتی ہے۔  اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ تفصیل میں جاتے ہیں۔

ایک پاکستانی کے لیے دو قومی نظریہ وہی ہے جو مطالعہ پاکستان کی درسی کتب میں لکھا ہوا ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ \"Irfanاس نظریے پر کیا علمی اور کلامی مباحث ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے ہم نے بھی اس مضمون میں دو قومی نظریے کی وہی تعریف لی ہے جو مطالعہ پاکستان کی ایک درسی کتاب، مطالعہ پاکستان برائے ڈگری کلاسز، مرتب حافظ اشفاق احمد کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ یہ تعریف قائد اعظم محمد علی جناح کے الفاظ میں یہ ہے:

\”قومیت کی جو بھی تعریف کی جائے مسلمان اس تعریف کی رو سے ایک الگ قوم ہیں۔ لہذا اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ان کی اپنی الگ مملکت ہو، جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی بسر کر سکیں۔ ہندو اور مسلم ہر چیز میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہم اپنے مذہب، اپنی تہذیب و ثقافت، اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنے طرزِ تعمیر، فن موسیقی، اپنے اصول و قوانین، اپنی معاشرت اور اپنے لباس غرض کہ ہر اعتبار سے مختلف ہیں۔\” (23 مارچ 1940 مطالعہ پاکستان برائے ڈگری کلاسز، حافظ اشفاق احمد(

دو قومی نظریے کا ایک تاریخی اور ایک نظریاتی تناظر ہے۔ تاریخی تناظر میں یہ ایک ردعمل کا نتیجہ ہے لیکن یہاں، اس مضمون میں اس نظریے کے نظریاتی تناظر میں بات کی جا رہی ہے، یہ اس لیے کہ یہ نظریہ ان تاریخی عوامل سے ماوراء کر کے پڑھایا جاتا ہے جو اس کی تشکیل کا سبب بنے تھے ۔اسے بطور ایک سماجی سیاسی اصول کے پڑھایا جاتا ہے۔ اس کو بطورِ اصول خود قائد اعظم نے ہی پیش کر دیا تھا۔ ملاحظہ کیجیے قائداعظم کا یہ ارشاد جو انہوں نے 8 مارچ 1944 کو مسلم علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

\”پاکستان کے مطالبے کا محرک کیا تھا؟ اور مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ مملکت کی وجہ کیا تھی؟ تقسیمِ ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ ہندوؤں کی تنگ نظری ہے نہ انگریزوں کی چال، یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔\”

\"jinnah\" نقطہ اختلاف یہ ہے کہ پاکستان کا بننا اگر برصغیر کے اُس وقت کے سیاسی اور سماجی مسائل اور عوامل کی وجہ سے کسی درجے میں ضروری ہو بھی گیا تھا تو اس کے لیے دو قومی نظریہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مطلوبہ ریاست ویسے بھی مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے تجویز کی گئی تھی۔ ان علاقوں کے لیے خود مختاری کے حصول کا مطالبہ، خواہ الگ ریاست کے تحت ہی ہو، بذاتِ خود کافی جواز تھا۔ لیکن جب دو قومی نظریے کا سیاسی ورژن ایجاد کیا گیا تو اس نے عظیم تضادات کو جنم دیا اور ان تضادات نے ہمارے سماج کو ایک مخمصے کا شکار کر دیا ۔

پہلی بات یہ کہ کیا یہ نظریہ متحدہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے لیے تھا یا صرف مسلم اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں کے لیے؟ مسلم اقلیت جو ہندوستان میں رہ گئی، جس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے نام پر یہ نظریہ سیاسی طور پر وجود پذیر ہوا تھا، اور جس اقلیت کے بارے میں یہ باور کرایا گیا تھا کہ ان کی مذھبی اور تہذیبی شناخت کو ہندو اکثریت سے خطرہ درپیش تھا،اور جس مسلم اقلیت نے حقیقتا اس نظریہ کو ووٹ دے کر مسلم لیگ کو کامیاب کرایا تھا، اور پاکستان کا قیام ممکن ہو سکا تھا، ان کے مبینہ مسائل کے لیے اس نظریہ میں کیا حل دیا گیا تھا؟

درحقیت مسلم اکثریتی علاقوں کے مسلمانون کو ان مسائل کا سامنا نہیں تھا جو مسلم اقلیت کو ہندوستانی علاقوں میں درپش تھے یا باور کروائے\"liaqat گئے تھے۔ مسلمان تو ان علاقوں میں خود اکثریت میں تھے، اور حکومت کے مسلم نمائندے ہی حکومت کیا کرتے تھے۔ جب کہ ہندو یہاں اقلیت میں تھے۔ تہذیبی غلبے کے اثر کا خطرہ اگر کسی کو تھا بھی تو غیر مسلم اقلیت کو مسلم اکثریت سے ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سوائے بنگال کے، ان مسلم اکثریتی علاقوں کے مسلمان، مسلم لیگ کی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ یہ علاقے آخر وقت تک مسلم لیگ کی تحریک میں پوری طرح شامل نہیں ہوئے۔ اسی لیے وہ تقسیم کے انتخابی عمل میں بھی پوری طرح شامل نہ تھے۔ یہ اس لیے کہ ساری تگ و دو کرنے کے بعد بھی 1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ کو بنگال اور سندھ سے تو مکمل حمایت مل گئی تھی، البتہ پنجاب میں اسے کل مسلم سیٹوں کا صرف 87.2 فیصد ملا تھا، جب کہ کل مسلم ووٹ کا 67.3 فیصد حاصل کر پائی تھی۔ جب کہ صوبہ سرحد(خیبر پختون خواہ) نے مسلم لیگ کے خلاف ووٹ دیا تھا، اگرچہ مذہب کے نام پر سب سے زیادہ اسی صوبے سے ووٹ مانگے گئے تھے، رہا بلوچستان تو ان انتخابات میں وہ شامل ہی نہ تھا۔ تو کیا یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ بنگال، سندھ اور آدھے پنجاب کے فیصلے کو سب کا فیصلہ قرار دے دیا گیا تھا؟

دو قومی نظریہ ایک ایسا انتخابی نعرہ تھا، جسے ہر طبقے کو اس کے پسندیدہ ذائقے اور رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ ہندوستان کی مسلم اقلیت کو یہ بتایا گیا کہ الگ ملک ہوگا تو مسلمانوں کا مذھبی، اور ثقافتی تشخص محفوظ رہے گا ورنہ ہندوستان کی ہندو اکثریت میں ضم ہو کر کھو جائے گا۔ لیکن یہ پتّا، مسلم اکثریتی علاقوں کے مسلمانوں کے ہاں نہیں چل سکتا تھا، کیونکہ ان کے مذھب اور تہذیب کو غیر مسلم اقلیت سے کوئی خطرہ نہ تھا۔ چنانچہ، ان کو یہ بتایا گیا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد، جمہوریت کے نظام کی وجہ سے سیاست اور حکومت میں مسلمان اقلیت میں رہ جائیں گے، یہاں کے لوگ بھی ہندو اکثریت کے دست نگر بن جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کا الگ ملک ہو تاکہ وہ اس میں آزادی سے حکومت کر سکیں۔ تیسری طرف، مذھبی طبقے کو ساتھ ملانے کے لیے انہیں تاثر دیا گیا کہ یہ درحقیقت اسلامی ریاست کا قیام عمل لایا جا رہا ہے، جس سے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلافت کی سیٹ جو ابھی کچھ عرصہ ہوا خالی ہو گئی تھی، اور جس کی بحالی مسلمان علماء اور عوام کا بڑا خواب تھا، اسے پُر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، نئی ریاست اسلامی ریاست ہوگی، جس میں اسلام نافذ ہوگا اور قرونِ اولی کی یاد تازہ ہو جائے گی۔

دراصل علماء کے طبقے کی یہ نفسیات ہے کہ وہ ہر کام کو جب تک مذھبی رنگ نہ دے دیں، خود اپنے اندر اور اپنے پیروکاروں میں کوئی \"maulana_azad\"تحریک پیدا نہیں کرسکتے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو لوگ بھی یہی اعتراض کرتے ہیں کہ مولوی صاحب دنیا کے چکرمیں پڑ گئے ہیں۔ اس لیے بھی وہ دنیا کے ہر معاملے کو بھی جب تک دین بنا کر پیش نہ کریں کچھ کر نہیں سکتے ۔ ان میں یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ اگر نیت درست کر لی جائے تو ہر دنیاوی کام بھی دینی بن جاتا ہے۔ لیکن مولوی صاحب صرف یہی نہیں کرتے کہ نیت درست کر کے دنیاوی کام کو دینی بنا لیں بلکہ وہ اس کو عین دین ہی بنا دیتے ہیں، ایسا وہ اصولی طور پر تو نہیں لیکن عملی طور پر کر گزرتے ہیں۔ آپ دو قومی نظریہ یا پاکستان کے وجود پر سوال اٹھا کر اس کا تجربہ کر سکتے ہیں کہ یہاں کیفیت سیاسی اختلاف کی نہیں رہتی بلکہ ایمانی مسئلہ کی طرح برتی جاتی ہے۔

علماء کے طبقے کے پاس اس تحریک میں شمولیت کی ایک مضبوط وجہ اور بھی تھی، اور وہ تھی سیاسی اسلام یا غلبہ اسلام کا تصور۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ متحدہ ہندوستان میں جمہوریت کے رہتے وہ کبھی اسلام کو سیاسی طور پر نافذ نہیں کر پائیں گے۔ اس مخصوص دینی ذہن کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہوتا کہ اسے دین پر عمل کی اجازت ہے۔ اس مخصوص مذھبی ذہن کو اگر شخصی قانون کے تحت اسلامی قوانین کے مطابق اپنے معاملات طے کرنے کی آزادی بھی مل ہو، تو بھی اس کا مطمح نظر اقتدار ہوتا ہے۔ ان کی مخصوص دینی تعبیر ان کو مجبور کرتی ہے کہ اسلام کا سیاسی غلبہ قائم کریں۔ یہ اس کو ایک دینی مطالبہ سمجھتے ہیں۔ مسلم لیگ نے جب ان کو اسلامی ریاست کے قیام کا خواب دکھایا تو یہ دینی جوش و جذبے کے ساتھ اس میں شامل ہوگئے لیکن جمعیت علمائے ہند کی غالب تعداد نے مسلم لیگ پر بھروسہ نہ کیا اور کانگریس کی حامی رہی۔

یہاں سے تحریکِ پاکستان دینی اور روحانی دائرے میں داخل گئی۔ حسبِ توفیق اور حسبِ منشاء الہام اور خواب بھی ان طبقے کو آنے لگے جن میں انہوں نے مغربی لبادے میں لپٹے لبرل قسم کے مسلمانوں کوتقدیس کے تانے بانے سے بُنے سبز چغے بھی پہنا دیئے۔ اس سلسلے میں ایک پوری دیو مالا تشکیل پا چکی ہے۔ دو قومی نظریہ اور تحریک پاکستان سیاسی نظریے سے بڑھ کر عقیدے جیسی تقدیس حاصل کر گئے، جس سے اختلاف کرنا اسلام سے اختلاف کرنے کے مترادف بنا دیا گیا۔

چوتھی طرف، لبرل، سیکولر اورغیرمسلم اقلیتوں کو یہ باورکرایا گیا کہ پاکستان میں ملائیت\"Azam-Mohammad-Ali-Jinnah-a-photo-taken-on-the-occasion-of-his-visit-to-London-which-has-Liaquat-Ali-Khan.\" (Theocracy) نہیں ہوگی، تمام شہری بلا امتیازِمذھب برابر سمجھے جائیں گے۔ \’وقت سے ساتھ سیاسی طور پر ہندو، ہندو نہیں رہیں گے، اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے\’۔ چنانچہ یہ لبرل اور سیکولر طبقات بھی اس تحریک میں دامے درمے سخنے شامل ہو گئے۔

بدقسمتی دیکھیے کہ جس وقت دنیا شعوری بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فیڈریشن اور کنفیڈریشن کی ارتقائی منازل طے کررہی تھی ، ہندوستان کے رہنما انہیں تقسیم اور علیحدگی کا سبق پڑھا رہے تھے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں نے 1776 میں ساتھ مل کر رہنے کا معاہدہ کیا اور پهر وہ دنیا کا ایک طاقتور ترین ملک بن گئے ہیں۔ یورپ کے 28 ممالک نے مذھب اور مسلکی بنیادوں پر ہونے والی صدیوں کی طویل باہمی جنگوں سے سبق سیکھ کر یورپین یونین کی بِنا ڈالی۔ اسی طرح دنیا کے دیگر سیاسی بالغ ممالک بھی باہمی تعاون سے رواداری سے رہنا سیکھ گئے، امریکہ اور کینیڈا کی مثال ہمارے سامنے ہے، لیکن ہندوستان کے باشندے مذھب اور ثقافت کے نام پر ایک زمین، ایک تاریخ، ایک بڑی مشترکہ زبان (اردو اور ہندی)، ایک ادب، ایک جیسے فنون لطیفہ کے وارث ہو کر بھی ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیئے گئے۔ ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ یکساں اور متخالف اقدار کا میزانیہ بنایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہماری مشترکہ یکساں اقدار اتنی زیادہ ہیں کہ مختلف یا متضاد اقدار بے ضرر بلکہ اختلاف حسن کا باعث ہیں۔ مگر سیاست دانوں کے سیاسی مفادات اور تعصبات، فرقہ باز مولویوں کی طرح ہمیں اتفاق سے زیادہ اختلاف کے پہلو نمایاں کر کے دکھاتے رہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ برصغیر کبھی ایک سیاسی وحدت نہین رہا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس کے مختلف علاقے مختلف بادشاہوں اور راجاؤں کے زیرِ انتظام ہو کر بھی کبھی مختلف ممالک نہیں بن گئے تھے۔ مختلف علاقوں کے باشندے بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے، ان کی رشتہ داریاں برصغیر کے مختلف حصوں میں موجود ہوتی تھیں۔ تقسیمِ ہند کا ایک بہت بڑا نقصان ان رشتہ داریوں کا ٹوٹ جانا تھا جس نے ان گنت جذباتی المیوں کو جنم دیا۔

دو قومی نظریہ کو اگر یونہی بطورِ اصول پڑھایا جاتا رہے تو پھر یہ نظریہ صرف ہندو اور مسلم تک محدود رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ مستقبل\"Jinnah-with-Cabinet-Mission_thumb[1]\" میں جب دیگر غیر مسلم اقلیتیں قابلِ لحاظ آبادی کی حامل ہو جائیں گئی تو یہ وہ اسی دو قومی نظریہ کے اصول پر پاکستان کی مسلم اکثریت سے علیحدگی کا مطالبہ بھی کر سکتی ہیں۔ ہمار ےپاس ان کو انکار کرنے کا کیا اخلاقی جواز ہو گا؟ جب کہ ان کے پاس پاکستانی معاشرے میں ان کے ساتھ روا رکھی گئی مذھبی، تہذیبی اور سیاسی ناانصافی اور امتیازی سلوک برتے جانے کا اخلاقی جواز بھی موجود ہے۔

دو قومی نظریہ علیحدگی اور غلبہ کی نفسیات سے تشکیل پایا ہوا نظریہ ہے۔ دو قومی نظریہ کا مطلب ہے کہ دو قومیں اگر ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو انہیں علیحدہ بھی ہوجانا چاہیے۔ اس نظریہ سے اسلام کے بارے میں یہ تاثر قائم ہوتا ہےکہ اس میں پر امن بقائے باہمی کا عنصر موجود نہیں۔ اسی نظریے کو لے کر مسلمان جب دوسرے غیر مسلم ممالک میں جاتے ہیں تو یہ نظریہ ان سے تقاضا کرتا ہے کہ دوسروں سے علیحدہ، اپنی الگ کمیونٹی بنا کر رہیں، تاکہ غالب تہذیب کا اثر ان پر نہ آ جائے، مزید یہ کہ وہ غلبے کی کوشش میں بھی لگے رہیں، کیونکہ اسلام مغلوب ہونے کے لیے نہیں، غلبے کے لیے آیا ہے۔ کیا اس نظریے کے ساتھ مسلمانوں کو دنیا میں قبول کیا جا سکتا ہے؟

لیکن عملاً ہو یہ رہا ہے کہ مسلمان کثیر القومی معاشروں میں جا کر اس علیحدگی پسند نظریے کو چھوڑ کر بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ لیکن اس نظریے کی تعلیم بہرحال وہ بیج ضرور مہیا کر دیتی ہے جس کو علیحدگی پسند مذھبی ذہن بہت آسانی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

ایک اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان سے باہر جہاں پاکستانی اور ہندوستانی افراد باہم اکٹھا ہوتے ہیں، تو وہاں سب سے زیادہ اور سب سے جلدی دوستیاں انہیں دو ممالک کے لوگوں میں ہو جاتی ہیں۔ مشترکہ رنگ، نسل، زبان ، تاریخ، ادب، موسیقی، مزاج، کھانے، حتی کے ایک جیسی حسِ مزاح ان کو ایسے ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں جیسے دو بچھڑے ہوئے رشتہ دار ملتے ہیں۔

دو قومی نظریہ اسلام کو قومیت بنا دیتا ہے جس سے قومی تعصب جنم لیتا ہے۔ یہ بات اسلام کی سپرٹ کے خلاف ہے جو سراسر دعوت پر \"Madanمبنی ہے۔ دو قومی نظریہ دراصل اس نفسیات کو تقویت دیتا ہے کہ اگر آپ دوسروں پر غالب نہیں آ سکتے تو ان سے علیحدہ ہو کر حکومت کرنے کا نشہ پورا کریں۔ یہی وجہ ہے جب تک مسلمان ہندوستان میں حکمران رہے انہیں دو قومی نظریے کا خیال نہیں آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ تہذیبی غلبے، یا مذہبی غلبے کا نہیں سیاسی غلبے کا تھا۔ حالانکہ مسلم حکم رانوں کی حکومت کے دوران بھی تہذیبی طور پر ہندو ہی غالب تھے۔ بلکہ ان کی تہذیب نے تو اتنا اثر کیا تھا کہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے دینِ الہی ایجاد کر ڈالا تھا اور اس میں بہت سے ہندووانہ رسوم و رواج کو شامل کر لیا تھا، ہندو عورتوں سے شادیاں کی تھیں، ہندوؤں کی طرف داری بہت بڑھ گئی تھی، لیکن تب بھی مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے تہذیبی اور مذھبی غلبے کے ڈر سے الگ خطہ زمین میں اپنی شناخت محفوظ بنا لینے کا خیال نہیں آیا۔

دو قومی نظریہ کی غلبے کی نفسیات کے اثر سے پاکستان کے مسلمانوں کی یہ نفسیات بن گئی کہ پاکستانی مسلمان غیر مسلم کے کے ساتھ صرف حاکم اور محکوم کے رشتے میں ہی رہ سکتے ہیں۔ جدید قومی ریاستوں اور نظریہ پاکستان میں یہی تنازع ہے۔ جدید قومی ریاستوں میں سب شہری بلا امتیاز مذھب نسل وغیرہ برابر سمجھے جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں مسلمانوں کو دینے والے اور غیر مسلموں کو لینے والے کی پوزیشن پر کھڑا کر دییا گیا ہے۔ جدید قومی ریاست میں کوئی لینے والا اور کوئی دینے والا نہیں ہوتا بلکہ سب برابر کے حق دار ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے مسلمان کے لیے یہ باور مشکل ہوتا ہے۔

یہ دو قومی نظریے کی علیحدگی پسندی ہی ہے جس نے ہمارے معاشرے میں تقسیم در تقسیم کی بنیاد رکھ دی۔ مشرقی پاکستان اسی وجہ سے علیحدہ ہوا کہ اسے مغربی پنجاب کے سیاسی غلبے سے شکوہ تھا، ہمارے معاشرے نے تحمل اور رواداری سے عدم برداشت کی طرف معکوس سفر کیا اسی وجہ سے کیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں نہ صرف بین المذاھب اجنبیت بڑھتی جا رہی ہے بلکہ بین المسالک بڑھتی اجنبیت بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔

غور کرنے کی بات یہ کہ قائد اعظم کو قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ہی یہ کیوں کہنا پڑا کہ تمام غیر مسلم بھی اپنی اپنی عبادت گاہوں

\"A

میں جانے کو آزاد ہیں اور وقت کے ساتھ سیاسی طور پر ہندو ہندو نہیں رہے اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا؟ اس لیے کہ قائد اعظم کو احساس ہو گیا تھا کہ مذھب کے نام پرجس قومیت کی بنیاد انہوں نے رکھی ہے وہ اب بیک فائر کرے گی ۔غیر مسلم اقلیتوں کو پاکستان میں خود سے علیحدہ سمجھا جائے گا اور اپ دیکھیے کہ ایسا سمجھا گیا۔ یہی علاقے تھے جہاں غالب مختلف مذاھب اور قومیتوں کے لوگ امن سے رہتے تھے۔ ایسے بزرگ ابھی زندہ ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ موجودہ پاکستان کے خصوصًا شہری اور نیم شہری علاقوں میں مختلف قومیتوں کے لوگ سب امن و امان سے رہتے تھے۔ ان کا باہمی تعامل عام لوگوں کی طرح اچھائی اور برائی کا تناسب لیے ہوئے تھا۔ مذھب کے ناما پر امتیازی سلوک کے واقعات کا تناسب بہت کم تھا۔ لیکن دیکھا جا سکتا ہے کہ علیحدگی کی یہ نفسیات جو دو قومی نظریہ سے پروان چڑھی اس نے کس طرح غیر مسلم اقلیتوں کے لیے ہمارے سماجی رویے بدل کر رکھ دیئے ہیں اور وہ خود کو اسی معاشرے میں پہلے وقتوں کے مقابل ےمیں بہت اجنبی محسوس کرنے لگے۔ قائد اعظم کا وزیر قانون ہندو اور وزیرِ خارجہ احمدی ہو سکتا تھا لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔

علامہ اقبال نے قومیت کی روحانی یا ایمانی بنیاد کو اصل قرار دیا تھا، لیکن تضاد یہ ہے کہ اس روحانی قومیت کے اظہار کے لیے بھی مخصوص جغرافیہ کی ضرورت محسوس کی گئی، جس میں چند خاص علاقے کے مسلمان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کی بنیاد آج بھی جغرافیہ ہی ہے۔ پاکستان ہو یا ہندوستان مختلف قومیتوں کے افراد آج بھی پاکستانی اور ہندوستان ہی کہلاتے ہیں، بلکہ دیگر اقوام کی شہریت حاصل کرنا باعث فخر ٹھہرا ہے۔

دو قومی نظریہ ایک پیراڈاکس ہے۔ یہ ایک کثیر القومی سماج سے یک قومی نظریے کی بنیاد پر کٹا اور پھر ایک نسبتاً چھوٹی سطح پر ایک یک قومی معاشرہ تشکیل دینے کی بجائے پھر ایک کثیر القومی سماج ہی تشکیل دے بیٹھا۔ عملاً اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ دو قومی نظریہ اپنی معنویت میں ایک غلط خیال پر قائم تھا اور ہے۔

جس رام راج اور شدھی وغیرہ کی تحریکوں سے ڈرا کر پاکستان بنایا گیا تھا وہ کسی درجے میں حقیقت تو تھیں، لیکن درحقیقت وہ ایسی خوفناک حقیقت نہیں تھی جیسی باور کرائی گئی تھی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں رام راج نہیں بلکہ سیکیولرازم نافذ ہوا۔

دو قومی نظریے کا ایک اور نقصان یہ ہوا کہ اس نے ہندوستان اور پاکستان کے مذھبی ذہن کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیا۔ پاکستانی مذھبی ذہن کے لیے سیکولرازم کفر کے نظام کے برابر ہے، جب کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے یہ رحمت ہے۔ وہاں کے علماء سیکولرازم کے حامی ہیں یہ بات پاکستان کے کے مذھبی ذہن کو عجیب لگتی ہے۔

دو قومی نظریے سے جنم لینا والا نظریہ پاکستان طالبان اور اسلام کا نفاذ چاہنے والی عناصر کو ان کے نفاذِ اسلام کے مطالبے کا جواز مہیا کرتا ہے۔ پھر ان میں سے کوئی مولانا عبد العزیز کی طرح کسی لائبریری پر قبضہ کر کے اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کر بیٹھتا ہے تو کوئی جمہوری عمل کی سست روی اور منافقت سے تنگ آ کر ہتھیار اٹھا کر اسلام کے بزور نفاذ کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

قائد اعظم نے ایک مذھبی ریاست قائم کی جب کہ زمانہ جدید قومی ریاست کے دور میں داخل ہو گیا تھا۔ اس کا درست ادراک مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابو الکلام آزاد وغیرہ کو ہو گیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے درست وقت پر درست موقف اختیار کیا، اور وہ ہندوستان کے کثیر القومی سماج میں سیکیولرازم کے تحت مذھبی حقوق کے تحفظ کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت رہنے پر راضی ہو گئے۔ درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قائد اعظم کو بھی اس کا احساس تھا۔ اس کا واضح ادراک ان کی 11 اگست کی تقریر میں نظر آتا ہے، جس میں وہ پاکستان کو ایک کثیر القومی جدید ریاست کی صورت میں ہی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن انہوں نے تحریک پاکستان میں مذھب کے پتّے کو البتہ خوب استعمال کیا کیونکہ برصغیر کی سیاست میں سب سے کامیاب یہی حربہ ہو سکتا تھا۔ لیکن قائد اعظم اس کو لے کر چلنا نہیں چاہتے تھے اسی لیے جیسے ہی اس نظریہ کی سیاسی ضرورت پوری ہو گئی، انہوں نے ایک بالغ نظر اور آگاہ سیاست دان کی طرح جدید قومی ریاست کی ہی بات کی۔ وہ اسلام کے آفاقی اور اخلاقی اقدار تک ہی اسلام برتنا چاہتے نظر آتے ہیں۔

تقسیم ہند میں جلد بازی برتی گئی، جس کے نتیجے میں بھونڈی قسم کی تقسیم عمل میں آئی۔ جس نے تاریخ انسانی کے عظیم المیے کو جنم دیا۔

\"An

مسلم لیگ کو اس المیے کے برپا ہونے کا پورا اندازہ تھا۔ قائد اعظم نے اس خدشے کا اظہار 21 مئی 1947 کو ڈون کومب ول کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ ویسے بھی راست اقدام یعنی ڈائریکٹ ایکشن ڈے پر ہونے والے فسادات جس میں 4000 لوگ مارے گئے تھے اور ایک لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے تھے، اس سے بھی مسلم لیگ کو اندازہ تھا کہ اگر یوم راست اقدام پر تقسیم کے مطالبہ کرنے پر اگر اتنے قتل ہو گئے تھے تو تقسیم کے اعلان پر تو قیامت ٹوٹنی ہی تھی۔ گویا کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ نے تقسیمِ ہند کو اس انسانی المیے جو وسیع پیمانے پر قتل و غارت، عصمت دری، نقل مکانی اور اس سے پیدا ہونے والے جذباتی اور نفسیاتی المیے کی صورت میں سامنے آیا، اور جس کے اثرات دو قوموں کے ایک دوسرے کے ساتھ نفرت کے احساس کی صورت میں نسلوں کو منتقل ہوتے چلے آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کی ایک دوسرے کے ساتھ جنگوں، ایک دوسرے کے ہاں بدامنی پیدا کرنے کے لیے دھماکوں، ایک دوسرے کے ہاں باغی عناصر کی پشت پناہی وغیرہ کی صورت میں سامنے آیا ہے، اس سب کا احساس کرتے ہوئے بھی تقسیم کو گوارا کر لیا۔ تقسیم اور وہ بھی ایک جلد باز تقسیم کی اتنی ضرورت کیا تھی؟ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نے سوچ سمجھ کر قیام پاکستان کے جلد قیام کی خاطر اتنی انسانی جانوں کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔ تقسیمِ ہند کے دوران مختلف اندازوں کے مطابق 2 سے 5 لاکھ لوگ مارے گئے۔ اتنے لوگ متحدہ ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات میں دو تین صدیوں میں بھی مارے نہ جاتے۔ گویا جس قتل و غارت سے بچنے کے لیے ملک بنایا گیا اسی قتل و غارت گری کا صدیوں کا کوٹا پہلے پورا کر لیا گیا۔ اور یہ سب جانتے بوجھتے ہونے دیا گیا!

 اس پر مستزاد یہ کہ مارے جانے والے لوگوں کے جان و مال کی اس بے دردی سے کیے جانے والے ضیاع کو شھادت کا لیبل لگا کر مسلم لیگ کو بری الذمہ قرار دے دیا گیا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ شھادت مسلط نہیں کی جاتی۔ یہ جانیں اپنی خوشی اور مرضی سے نہیں دی گئیں تھیں۔ یہ لوگ تو جینا چاہتے تھے۔ لیکن ان کو مرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ پھر ان کا انصاف بھی کبھی نہیں کیا گیا۔ ان کے اصل مجرموں کو پکڑنے کی بجائے، ایسے ہی مزید المیے پیدا کرنے کے لیے دونوں اپنا ملک تن من دھن سب کچھ قربان کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کے لوگ مرنے کے لیے پیدا کیے جا رہے ہیں، یہ اگر جینے کے لیے پیدا ہوتے تو جینے کا سامان کرتے مگر ان کی تمام تگ و دو کا حاصل ایک دوسرے کی موت کا سامان خریدنا ہے۔ یہ اس دو قومی نظریہ کا حتمی نتیجہ نکلا ہے۔

۔(نوٹ: خیال رہے کہ اس مضمون میں پاکستان کے قیام کے جواز یا عدم جواز پر بات نہیں کی گئی ہے۔ پاکستان کا بننا دو قومی نظریے کے بغیر بھی ممکن تھا۔ یہ مضمون دو قومی نظرے کے تجزیے پر مشتمل ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا دو قومی نظریہ قیام پاکستان کے لیے ایک وقتی ضرورت تھی یا یہ ہمیشہ کے لیے ایک اصول کے طور پر لیا جانا چاہیے)۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

2 thoughts on “دو قومی نظریہ کے تضادات

  • 17/08/2016 at 1:06 pm
    Permalink

    دو قومی نظریہ کی بحث میں یہ بات شدت سے ابھرتی نظر ہوئی نظر آتی ہے ایک تو وسطی ہند جو اب بھارت کا حصہ ہے میں رہنے والے مسلمان گو بقیہ علاقوں کے مسلمانوں سے زیادہ پڑھے لکھے تھے لیکن انتہائی بے وقوف، عاقبت ناشناس اور مستقبل کے تقاضوں سے بے بہرہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے بڑے شد و مد سے دو قومی نظریہ اور تقسیم کی حمایت پر منتج ہونے والے دیگر اقدامات کی حق میں تحریک برپا کی۔
    ایک دوسری بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ عوام کو جھوٹے اور بے بنیاد نعروں کے پیچھے لگا کر بے وقوف بنانا زیادہ مشکل کام نہی ہے۔ اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اوریا مقبول جان صاحب و دیگر کا جمہوریت کے خلاف موقف درست ہے۔

  • 17/08/2016 at 10:43 pm
    Permalink

    عوام کو مذھب اور قومیت کے نام پر بے وقوف بنانا واقعی مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں عوام کو ایجوکیٹ کرنا چاہیے نہ کہ ان کی سادہ لوحی سے کھیلنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم کے ساتھ تجربات کا عمل جاری رہے۔ آمریت تو اور بھی بری ہے جو سوچنے سمجھنے کا عمل شروع ہونے ہی نہیں دیتی۔ مسئلے کا حل اوریا صاحب کا حل نئیں۔ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ آمر درست فیصلے کرے گا۔ عوام کو باشعور بنانے کا عمل جمہوریت ہی ئے اسے جاری رہنا چاہیے۔

Comments are closed.