لادین ممالک کی فہرست میں چین پہلے نمبر پر آ گیا


\"ansa\"جدید دنیا میں آج بھی مذہب کوایک اہم عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔ مذہب کوئی بھی ہو۔ اس کے ماننےیا نہ ماننے والے ہر ملک میں موجود ہیں بس کہیں مذہب پر سختی سے عمل کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے تو کہیں لادین لوگوں کی اکثریت ہے۔

کچھ ممالک میں توحکومتوں نے ہی مذہب کے خلاف قوانین نافذ کیے ہیں جن کی بدولت مذہب کی طرف لوگوں کا رجحان کم ہوا ہے۔ امریکہ کی ہی مثال لے لیں۔ 2014 کے سروے کے مطابق یہاں چونتیس سال کےعرصے میں نصف سے زیادہ لوگ مذہب اور خدا سے دور ہو گئے۔ پانچ فیصد امریکی شہری ایسے ہیں جنہوں نے کبھی عبادت کی ہی نہیں۔

برطانوی اخبار’ انڈیپنڈنٹ ‘ نے دنیا کے بہت سے ممالک میں آباد لادین افراد کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار شائع کئے ہیں جن کے مطابق چین میں سب سے زیادہ افراد ایسے ہیں جو خدا پر یقین نہیں رکھتے۔

صرف اتنا ہی نہیں چینی آبادی کا نصف حصہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو پہلے خدا کے وجود پر ایمان رکھتے تھے لیکن اب ایسا نہیں۔ چالیس فیصد چینی شہریوں کا رجحان مادہ پرستی پر ہے۔

جاپان میں بھی زیادہ تر لوگ لادین ہیں۔ جاپانی جزیروں پر رہنے والے30سے 39 فیصدلوگ کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک کوئی خالق حقیقی نہیں۔

رپورٹ میں جاپانی مذہب کا تاریخی حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہاں دیکھے ان دیکھے خداؤں کوماننے کے بجائےجاپانی مذہب کی روایات اپنےقدیم ماضی کے گرد گھومتی ہیں تاہم اس کو لادینیت کے بجائے روحانی مذاہب کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

امریکہ میں بھی عیسائیت کا رجحان کم ہوتا نظر آرہا ہے۔ ناروے میں37فیصد لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں جبکہ 39 فیصد اس نظریئے کے مخالف ہیں۔

ایسے ممالک جہاں دین کا تصور انتہائی کم ہے، ان میںجمہوریہ چیک کا نمبر تیسرا ہے،یہاں 30 سے 39 فیصد لوگوں کا کوئی مذہب نہیں۔ پہلے کبھی یہاں عیسائیت عام تھی تاہم اس کی حکومت کی طرف سے حوصلہ شکنی کی گئی۔

رومانوی سرزمین، فرانس پر بسنے والے مقامی باشندوں کا پانچ فیصد حصہ لادین ہے۔ چین کی طرح فرانسیسی حدودکے اندر مذہبی اداروں کی طاقت کو کم کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے۔

1789 ء میں فرانسیسی انقلاب آنے سے قبل، یہاں عیسائیت کوسرکاری مذہب کا درجہ حاصل تھا۔ انقلاب کے بعد عیسائیت کو حکومت سے علیحدہ کردیا گیا۔ بعد ازاں1905 میں ایسا قانون تشکیل دیا گیا جس نے چرچ اور ریاست کو علیحدہ کر دیا۔

اس کے برعکس ،برطانیہ میں ریاست کا سربراہ بھی وہی مانا جاتا ہے جو چرچ کا سربراہ ہوتا ہے۔

آسٹریلیا میں دس سے انیس فیصد لوگ کسی خدا پر یقین نہیں رکھتے جس کی حیران کن وجہ شاید سیکولر حکومت کی مضبوط روایات ہیں جبکہ اکثریت عیسائیت کو مانتی ہے۔ 1788 میں یہاں پہلےایک قانونی فریم ورک تعمیر کیا گیا جس کے تحت مذہبی مساوات اجاگر کیا گیا۔ ہر ایک کو اس کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا اختیاردینے کے ساتھ تحفظ کی ضمانت بھی دی گئی تھی۔

شمالی یورپ کے جزیرے ، آئس لینڈ پر بسنے والےدس سے انیس فیصد لوگ بھی کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے۔  اگرچہ آ ج یہاں کی اکثریت کا ایمان عیسائیت پر ہےاور کچھ لوگوں کا رجحان لوک مذاہب پر بھی ہے مگر آئس لینڈ کا شماران ممالک میں ہے جہاں سرے سے کسی مذہب کی پیروی نہیں کی جاتی۔

واضح رہے1550 میں یہاں کیتھولک فرقے کو کالعدم قرار دیا گیا تھا جبکہ 1974 میں مذہبی آزادی یہاں قانونی حق بن گیا تھا۔

(بشکریہ: مدیحہ بتول)

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں