17 اگست 1988۔ جب لال کمال میں کمال ہوا


\"raziصحافی کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ جس ماحول میں یا جس ذ ہنی کیفیت میں دفتر جارہا ہے واپسی پربھی کیا وہ اسی ذہنی کیفیت میں ہوگا ۔ بسا اوقات تو دفتر جانے اور گھرواپس آنے کے درمیانی وقفے میں دنیا ہی تبدیل ہو چکی ہوتی ہے۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ وہ بہت اداس تھکا ہارا بوجھل قدموں کے ساتھ دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ معمول کے مطابق اپنا کام شروع کرتا ہے پھر اسی دوران کوئی ایسی خبر اس تک پہنچتی ہے کہ وہ اپنی تھکاوٹ، اپنا بوجھل پن سب کچھ بھول کر اس خبر میں گم ہو جاتا ہے اور خبر میں ایسا گم ہوتا ہے کہ پھر اسے اپنے گردوپیش کی بھی خبرنہیں رہتی۔ اس کے بعد وہ جب دفتر سے رخصت ہوتا ہے تو بہت پرجوش ہوتا ہے ۔ کوئی مسرت آمیز خبر ،کوئی امید کی کیفیت اس کی تمام تھکاوٹ دور کر چکی ہوتی ہے۔ وہ معمول سے زیادہ کام کرنے کے باوجود تازہ دم ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات معاملات اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ صحافت سے وابستہ افراد کےلئے یہ ایک معمول کی بات ہے۔ وہ روزانہ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں اوراب تو صحافت اتنی تیز رفتار ہوچکی ہے کہ دن میں کئی کئی مرتبہ انہیں مختلف کیفیات سے گزرنا پڑتا ہے کبھی ہنستے ہنستے رونا اور اگلے ہی لمحے روتے روتے ہنسنا پڑتا ہے۔ لیکن میں جس زمانے کی بات کر رہا ہوں وہ اطلاعات تک رسائی کا زمانہ نہیں تھا۔ خبریں سامنے بھی ہوتی تھیں تو انہیں چھپا لیا جاتا تھا۔ عوام بہت سی چیزوں سے بے خبر رہتی تھی۔ عوام ہی نہیں باخبر صحافی بھی درحقیقت بے خبر ہی ہوتے تھے اوربے خبر ہونے کے باوجود باخبر ہونے کا دعوی کرتے تھے۔ آج کے لوگوں کےلئے ممکن ہے کہ یہ حیرت کی باتیں ہوں لیکن جو لوگ اس عہد ضیاع میں صحافت کے ساتھ منسلک رہے ان کے لئے ان باتوں میں حیرت کا کوئی سامان نہیں۔

\"zia\"17اگست بدھ کادن اور3محرم الحرام ۔ ۔ یہ 28 سال پرانی بات ہے لیکن مجھے سب کچھ اس طرح یاد ہے کہ جیسے 28 منٹ پہلے کا واقعہ ہو۔ دن وہ معمول کا تھا لیکن مجھ سمیت کسی کو بھی پونے چاربجے تک یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ دن کتنا غیرمعمولی اور کس قدر تاریخی اہمیت کاحامل ہے۔ روزنامہ قومی آواز کے دفتر میں کام جاری تھا۔ میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے میں ادارتی صفحہ بنوا چکا تھا اور شاید اگلے روز کے مضامین تیار کر رہا تھا کہ چاربجے کے لگ بھگ رانا اکرم خالد تیزی سے رپورٹنگ روم سے باہرآئے اورہمیں خبر سنائی کہ لودھراں کے قریب بستی لال کمال میں کمال ہوگیا ہے، ایک طیارہ وہاں گر کر تباہ ہوا ہے اور لودھراں کے نامہ نگار باقررضوی کاخیال ہے کہ جنرل ضیا الحق بھی اسی طیارے میں سوارتھا۔ اب تو بریکنگ نیوز مذاق بن کررہ گئی ہے لیکن اس زمانے میں ایسی ہی خبروں کو بریکنگ نیوز سمجھا جاتا تھا۔ نذرعباس بلوچ بھی ہمارے ساتھ ہوتے تھے وہ بھی رپورٹنگ روم سے باہر آئے اور نعرے لگاتے ہوئے مجھے گلے لگا لیا۔ نیوز ایڈیٹر کی کرسی پر موجود اسلم جاوید بھی” مر گیا ، مر گیا “کہتے ہوئے ہمارے ساتھ آن ملے۔ ”نہیں مرا ہو گا، نہیں مرا ہو گا‘ نیوز روم میں ایک اورآواز سنائی دی۔ وہ ہرمرتبہ بچ جاتا ہے ۔ پہلے تصدیق تو کرلو پھرخوشیاں منانا“۔ یہ رفعت عباس کی آوازتھی جو آج سرائیکی شاعری کا ایک معتبر نام ہے ۔ رفعت عباس اس زمانے میں ہمارے ساتھ قومی آواز میں ہی کام کرتے تھے۔ ہاں خبر کی تصدیق تو کرنی چاہیے۔ ہم تیزی سے ایڈیٹر کے کمرے کی جانب روانہ ہوئے۔ ایثار راعی وہاں معمول کے کاموں میں مصروف تھے۔ نامہ نگارسے دوبارہ رابطے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ لودھراں اور بہاولپور کا پورے ملک کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے۔ اب خبر کی تصدیق کےلئے مختلف ذرائع سے رابطے کیے جانے لگے۔ کچھ ہی دیر میں معلوم ہوا کہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر سمیت انتظامیہ اورپولیس کے تمام افسران کا ہنگامی اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ ہمارا شک یقین میں بدلنے لگا۔ سب کے چہروں پر اطمینان کی کیفیت نمایاں ہونے لگی۔ پھر راعی صاحب نے یہ خبر دی کہ سول ایوی ایشن سے منسلک ان کا ایک دوست ہنگامی طورپر لودھراں روانہ ہوگیا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک اور ذریعے سے معلوم ہوا کہ ملتان سے فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیاں تیزی سے بہاولپور کی جانب روانہ ہو گئی ہیں۔ یہ سب اشارے بتارہے تھے کہ ہمیں واقعی خوش ہونا چاہیے۔ ہم سب صرف اپنے اطمینان کی خاطر خبر کی فوری تصدیق چاہتے تھے۔ ورنہ اخبار کو تو ابھی خبر کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اخبار کی کاپی تو رات ایک بجے جانا تھی اوراس وقت تک تو تفصیلات آ ہی جاتیں۔ جیسے جیسے حادثے کی تصدیق ہو رہی تھی دفتر میں قہقہے بڑھتے جا رہے تھے۔ آج سوچتا ہوں کہ کسی کی موت پر اس طرح خوش ہونا یا قہقہے لگانا کوئی اچھی بات تو نہیں ۔ ہم نے اس وقت بھی سوچا تھا کہ کیا ہمیں کسی کی موت پر اس طرح ہنسنا چاہیے لیکن ہماری اس وقت کی کیفیت کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جس نے وہ عہد پرآشوب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ جس نے اس دور میں سیاسی کارکنوں پرتشدد دیکھا ہو،پھانسیاں اور کوڑے دیکھے ہوں۔ جلاوطنیاں دیکھی ہوں۔ سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کو خودسوزی کرتے اور” شمع ہررنگ میں جلتی ہے سحرہونے تک “کی \"zia\"عملی مثال بنتے دیکھا ہو۔ انہیں اس موت پر ایسے ہی خوش ہونا چاہتے تھا ایسے ہی مبارکیں دینی چاہیے تھیں اوراسی طرح نم آنکھوں کے ساتھ ایک دوسرے کے گلے لگنا چاہیے تھا۔ مارشل لا دور میں مجھ سمیت صحافت کے ساتھ منسلک ہونے والوں ،خفیہ ایجنسیوں کے تعاقب اوردھمکیوں کا سامنا کرنےوالوں، فوجی افسروں سے اخبارات کی کاپیاں چیک کرانے والوں، چیکنگ کے بعد دور پھینکی گئی کاپی اوراس سے اکھڑ جانے والی خبروں کو لرزتے کانپتے جمع کرنے والوں اور خوف وہراس کے عالم میں کالم اور مضامین لکھنے والوں کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے ان کے سر سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو جیسے انہیں نئی زندگی ملی ہو یا جیسے انہوں نے نیا جنم لیا ہو۔ اسی دوران رانا اکرم خالد کو فوٹوگرافر شہزاد انور کے ساتھ جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ اس کوریج کےلئے انہیں گاڑی معروف سیاسی رہنما ولایت حسین گردیزی نے فراہم کی تھی۔ اسی دوران ایثار راعی صاحب نے نثار عثمانی صاحب سے خبر کی تصدیق کرلی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد پی ٹی وی پر قرآن پاک کی مسلسل تلاوت شروع ہوگئی۔ ہم سب ٹی وی کے گرد یوں جمع ہوگئے کہ جیسے پہلی بار تلاوت سن رہے ہوں۔ اس دوران اگر کوئی بات بھی کرتا تو میں اسے سختی سے جھاڑ دیتا تھا کہ خاموشی سے تلاوت سنو۔ اسی دوران میں نے سائیکل اٹھائی اور حسن آرکیڈ پہنچ گیا کہ اس زمانے میں بریکنگ نیوز شاکرحسین شاکر تک پہنچانا میری ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ پی ٹی وی پر تلاوت شروع ہونے کے بعد شاکرسمیت بہت سے لوگ شکوک وشبہات کا شکارتھے کہ اس زمانے میں کسی بڑے حادثے کے موقع پر یہ تلاوت ہی خبر کا پہلا اشارہ ہوتی تھی۔ کتاب نگرکا کچھ عرصہ پہلے ہی افتتاح ہواتھا شاکر نے فوراً دکان چھوڑی اور میرے ساتھ میرے دفتر ہی آ گیا کہ اب باقی خبریں تو اسے اخبار کے دفتر سے ہی ملنا تھیں۔ معلوم ہوا کہ دفتر میں کوئی جیالا پہلے ہی مٹھائی منگوا چکا ہے اور ہمارے ایک خوش نویس مولوی صدیق صاحب مٹھائی منگوانے پر غم وغصے کا اظہار کررہے تھے اوراس کو برابھلا کہہ رہے تھے۔ بعد کے دنوں میں انہوں نے بدلہ یوں لیا کہ جہاں بھی ضیاءالحق کا نام آتا تھا وہ اس کے ساتھ شہید کا لفظ خود لکھ دیتے تھے اور پھرشہید کی تشریح کے لئے مجھے اس حادثے کے فوراً بعد دو کالم تحریر کرنا پڑے ایک کاعنوان تھا ”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے،اوردوسرا کالم ضیاءالحق کے ساتھ لقمہ اجل بننے والے بریگیڈیئر صدیق سالک کے بارے میں تھااور صدیق سالک کی کتاب کے نام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے اس کالم کاعنوان رکھا تھا ”بریگیڈیئر صدیق سالک ”ہمہ یاراں دوزخ“ ۔ پھر غلام اسحاق خان ”طیارہ پٹ گیا“ کی خبر کے ساتھ ٹیلی ویژن سکرین پر نمودارہوئے۔ میں تیزی سے تقریر کے نوٹس لینے میں محو تھا کہ کسی نے اچانک میرے کندھے پر ہاتھ رکھا مڑ کردیکھا تو میرے سکول کے زمانے کا دوست ظفراقبال مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ سامنے موجود تھا۔ ”میں تمہیں بتانے آیا ہوں کہ ضیا الحق مر گیا مٹھائی تم نے کھلانی ہے شرط میں جیت گیا ہوں۔ مجھے یاد آیا کہ ظفر کے ساتھ یہ شرط تو میں نے 1979ءمیں لگائی تھی کہ ہم میں سے جو بھی جنرل ضیاءکی موت کی خبر سنائے گا دوسرا اسے مٹھائی کھلائے گا۔ اس وقت ہم دونوں نویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ “کیسی عجیب بات ہے کہ خبر سب سے پہلے مجھے معلوم ہوئی اور شرط ظفراقبال جیت گیا۔ آج یہ مضمون لکھنے بیٹھا تو احساس ہوا کہ ہماری سب خوشیاں شاید عارضی ہی ہوتی ہیں۔ جیت ہمارے سامنے بھی ہو تو ہمارے مقدر میں نہیں ہوتی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں