آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی


\"razaمیں جب بھی رب کا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں تو سب سے پہلے اس بات کا شکر گزار ہوتا ہوں کہ اس بےنیاز ذات نے مجھے پاکستان جیسے عظیم ملک میں پیدا کیا۔ پاکستان وہ خوبصورت باغ ہے جس میں پھولوں کی تعریف تب ہوتی ہے جب وہ مرجھا جائیں۔ ہم ان بے ہودہ اقوام کی طرح نہیں جو مرجھائے ہوئے پھولوں کی قدر نہیں کرتیں۔ ہم تو پودا لگاتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ مر کے دائمی حیات پائے۔

ارے صاحب یہ چھوٹی موٹی اقوام کو کیا پتہ کہ زندگی تو موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ یہ بےوقوف اسی زندگی میں جینا چاہتے ہیں۔ اسی لئے تو میں شکرگزار ہوں بنانے والے کا کہ اس نے مجھے زندگی کی قدر کرنے والے احمقوں کے درمیان پیدا کرنے کی بجائے، مردے پالنے والی عظیم قوم کا حصہ بنایا۔

دنیا کی گھٹیا اقوام اپنے بچوں کو علم سے متعارف کرانے میں مصروف ہیں، جب کہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ہم تو نو مولود بچے کے کان میں، چند الفاظ کی مدد سے دنیا کا تمام علم منتقل کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں تعلیمی اداروں اور نظام تعلیم پہ پیسے خرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ شکر ہے کہیں میں کسی دوسرے ملک میں پیدا نہیں ہو گیا، ورنہ میری زندگی کا ایک حصہ اس غیر ضروری تعلیم کے حصول پہ ضائع ہو جاتا۔

اب ان جاہل اقوام عالم کو کون سمجھائے کہ بھئیا ہم جو پیسےتعلیم جیسی فضول خرچی نہ کر کے بچاتے ہیں، ہم ان پیسوں کو انسانیت کا مستقبل سنوارنے پہ خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً ہم دور تک مار کرنے والے یا لمبے فاصلے تک سفر کرنے والے میزائل بنا رہے ہیں۔ اب اگر یہ چھوٹے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مقصد ہندوستان پہ بم برسانا ہے، تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ ارے گدھو ہم تو یہ میزائل اس لئے بنا رہے ہیں کہ جب ہماری پہنچ مریخ تک ہو جائےگی، تو سپاہ سالار اعظم اس راکٹ پہ بیٹھ کہ مریخ کا سفر کریں گے اور ہمارے لئے سوئی کا تحفہ لائیں گے تاکہ ہم سلائی کا ہنر سیکھ سکیں۔

جہاں تک بات ہے ترقی کی تو ہم پچھلے 35 برس میں تمام اقوام عالم کو پیٹھ دکھا چکے ہیں۔ دیکھئے نا صاحب، یہ بےوقوف آبادی کنٹرول کرنے کے لئے گولیاں اور کنڈم (condom) بنا رہے ہیں۔ ایک گولی صرف ایک انسان کی پیدائش میں مخل ہوتی ہے۔ جب کہ ہمارے بنائے ہوئے طریقے سے ایک وار میں آبادی میں سینکڑوں افراد کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

جب بات ترقی کی ہو تو جناب ہمارے اسلامی بم کا ذکر تو لازم ہے۔ آخر میرا عظیم وطن اسلام کا قلعہ ہے۔ گو کہ ہم شاہی قلعے کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہیں، لیکن اسلام ہم نے ہی بچانا ہے۔ اسی مقصدکی خاطر ہم نے اسلامی بم بنایا ہے۔

جاہل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شائد وہ ایٹمی ہتھیار جو ہم نے دوسرے ملکوں میں چوریاں کر کے بنایا ہے، اس کو ہم اسلامی بم کہتے ہیں۔ لیکن انہیں نہیں پتہ کہ ہمارا اسلامی بم ایٹمی ہتھیار سے ذیادہ مہلک ہے۔ آپ ہماری ترقی کی داد دینے پہ مجبور ہو جائیں گے جب آپ کو پتہ چلے گا کہ ہمارے ہتھیار کی کتنی ورائٹیز ہیں۔ اتنی قسم کی تو walls والے آئس کریم نہیں بناتے جتنی طرح کے ہم نے بم بنالئےہیں۔ اور جناب ہر اسلامی بم کا برینڈ مختلف ہے، مولانا فضل الرحمٰن، حافظ سعید، مولانا سمیع الحق، مولانا شیرانی، ملا عمر وغیرہ وغیرہ۔ ویسے جس بم کا ذکر میں نے آخر میں کیا ہے وہ چل چکا ہے۔

شکر ہے اس ذات پاک کا جس نے مجھے وفاداروں کی دھرتی پہ پیدا کیا۔ ارے ہماری وفاداری کی مثالوں سے انسانیت کی تاریخ رقم کی جائے گی۔ ہم ایک دفعہ عہد وفا کرلیں تو کوئی طاقت ہمیں بےوفائی پہ مجبور نہیں کر سکتی۔ دیکھئے نا ہم نے عالمی دہشتگردوں سے وفا کا وعدہ کیا تھا، اس لئے آج تک ہم ہر اسامہ بن لادن کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہم ہر دہشت گرد کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ ارے جناب جب بات وفاداری کی ہو تو اس سے بہتر کیا مثال ہوگی کہ جب ہم نے 1977 میں جہالت کو گلےلگایا تو ایساکہ آج تک ہم اپنے بچوں کی جان کی قربانی تو دے رہے ہیں، لیکن جہالت کا دامن ہم نے نہیں چھوڑا۔ میں یقین کےساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر عظیم پاکستانی قوم وفاداری کا ثبوت نہ دیتی تو جہالت بے چاری تو اب تک مر چکی ہوتی۔

خیر صاحب وفاداری تو جہالت پہ بھی ختم ہے کہ اس نے اپنے آبائی سحرا کو خیرباد کہہ کے، پاکستان میں مستقل رہائش رکھ لی ہے۔

توجناب اب جب میں نے خدا کا شکر ادا کر دیا ہے، تو آئے آپ کو پاکستان کی سیر پہ لے چلوں۔

ایک پاکستانی صاحب موت کے بعد دوزخ میں بھیج دئے گئے۔ داخلے کے وقت محافظ فرشتے نے بتایا کہ دوزخ میں 6 دن سزا ملے گی لیکن ساتویں دن دوزخ کے رہائشی دنیا میں رہنے والے اپنے دوستوں رشتہ داروں سے ٹیلیفون پہ بات کر سکتے ہیں۔

پہلی چھٹی والے دن پاکستانی جہنمی نے اپنے امریکہ میں رہائش پزیر دوست کو فون کیا۔ 10  منٹ بات کی اور 150  روپے بل ادا کیا۔

اگلے ہفتے ان صاحب نے انگلینڈ میں رہنے والے رشتہ داروں کو فون کیا۔ 10  منٹ بات کی اور200  روپے بل ادا کیا۔

پھر ایک دن گھر کی یاد آئی اور انجناب نے پاکستان فون کیا۔ 10 منٹ بات کی اور جب بل دیکھا تو صرف اڑھائی روپے۔ فرشتے سے پوچھا کہ جناب پاکستان کال اتنی سستی کیوں ہے؟

فرشتےنےجواب دیا \”جہنم سےجہنم لوکل کال ہے۔\”

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
رضا علی کی دیگر تحریریں
رضا علی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

2 thoughts on “آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

  • 17/08/2016 at 9:22 am
    Permalink

    حالانکہ مندرجات دکھی کرنے والے ہیں، لیکن تلخ آئینہ ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے یہ سب برا لگتا ہے، لیکن لکھاری کی کاوش بری نہیں۔

    لکھاری کے لیے یہی دعا ہے کہ اللہ پاکستان کے حالات بہتر کردے اور ہمیں من حیث القوم شعور دے تاکہ یہی صاحب حقیقی پرمسرت پاکستان کی بھی سیر ہمیں کروا سکیں۔

  • 17/08/2016 at 12:32 pm
    Permalink

    پکی تحریر میں چھپا ہوا دکھ محسوس کیا جاسکتا ہے، خدا کرے کہ ہمارے ملک سے منافرت ، منافقت اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور یہ مادروطن پھر سے امن و اشتی ، مہر و اخوت کا گلستان بن جائے. ملکزادہ منظور کیا خوب کہا ہے !
    آج ہر لمحے کے ہاتھوں میں ہے سنگ ء بےحسی
    اپنا غم کہنے سے پہلے دیر تک سوچا کرو

Comments are closed.