ہندوستانی کشمیر سے ایک مکتوب


\"iftikharکشمیر کی فطری تخلیق اور اس کا محل وقوع فلسفیانہ طرز پر ہے اور جغرافیائی اعتبار سے شام و سحر شرق سے غرب اور جنوب سے شمال روح افزا اور صحت بخش ہوائیں آوارہ پھرا کرتی ہیں ـ آسمان و چرخ نیلی فام، بادل و سحاب دودھ سے دھلے اجلے اجلے، مٹی عدن کی بو کا آمیزہ اور گیتی لالہ و صنوبر کی آماجگاہ ـ شاعرانہ تخیلات اس کی تصویر کشی نہیں کرسکتے؛ کیوں کہ تمام تخیلات سے فزوں تر ہیں وہ نظارے ـ ان تمام فطری حسن اور فقید المثال کشش کے باوجود یہ گیتئ عدن مفسدانہ سازشوں کے تحت جل، سلگ اور کراہ رہی ہے ـ گجرات میں چند دلتوں پر کیا ظلم ہوا کہ مودی دامن صبر ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے اور درد و سوزش میں مبتلا ہوگئے، خدا جانے یہ کس نوع کی سرگرانی تھی کہ جسے چانکیہ اور اشوک کے عہد سے ہی شدرھ (نجس العین) کہا گیا اور خود چانکیہ نے \”چانکیہ نیتی\” میں اوچھی نگاہوں سے دیکھا ہے، اسے بھائی کہہ کر دل کی خلش مٹائی حتیٰ کہ اپنی گردن بھی ان شدرھ کے دفاع میں پیش کردی اور جو جنت تھا اسے جہنم زار بنتے دیکھ کر بھی کبیدہ خاطر نہ ہوا جا سکا اور 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے خطاب میں ایک لفظ بھی کشمیر مسئلہ نہ کہا، انقلاب احوال بہت دور کا پتہ دیتے ہیں ـ

کل جماعتی میٹنگ میں صرف مذمتی قرار داد کے سوا کوئی اور دوسری تجویز قابل قبول نہ ہوسکی؛ بلکہ غیظ مزید مشتعل ہوا اور کہا گیا کہ \”مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں \” یہ درست ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ اور سنجیدگی اختیار نہیں کی جا سکتی، تاہم جو کشمیری قید بلا جرم ہیں ان کے تئیں مرکز اور ریاستی حکومت کو سنجیدگی اور سمجھوتہ اپنانا لازمی ہوگا؛ کیوں کہ طلوع سحر میں ظلمت شب کی اطلاع غیر منطقی استدلال ہے ـ بالعموم ٹمٹماتے چراغ کی لو کو ہوا نہیں دی جاتی؛ بلکہ فانوس بن کر اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور یہ ذمہ داری اس وقت مزید دو آتشہ ہوجاتی ہے جب ذمہ دار ہونے کا دعوی بھی ہوـ یقینا مرکزی قیادت مسئلہ کشمیر کے متعلق بدگمانیوں اور احتمالات میں غلطاں ہے مگر شبہات کے بجائے تصدیقات و تیقن کو لازماً اختیار کرنا ہوگا اور ایسی کیفیات پیدا کرنا ہوں گی کہ برہان وانی کے خون کی چھینٹوں سے جو لاکھوں برہان وانی پیدا ہوچکے ہیں انہیں امن کی بحالی، انصاف کے قیام، خاطی افسران کی سزا اور بقائے باہمی کیلئے باور کرانا ضروری ہوگا، جنگجوئی اور عسکریت ناانصافیوں کا ردعمل ہے ـ اور پھر کیوں نہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ کرفیو، فائرنگ اور پیلٹ گن کی تباہ کاری کے باوجود لاکھوں عوام بے خوف ہو کر برہان وانی کے جنازے کو کاندھا دے رہے ہیں اور پھول مالا بھی چڑھا رہے ہیں ـ مرکزی قیادت اس فہم و زعم میں ہو کہ مسئلہ کشمیر کا حل\” پیلٹ گن \”ہے تو یہ بھول ہوگی، دو ہزار سے زائد افراد اس کے شکار ہوگئے؛ لیکن کیا وزارت داخلہ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ ان کے احتجاج و ریلیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے؟

ملک بشمول جملہ ریاست جشن آزادی کی سترہویں تقریب کے مسرت آگیں احساسات میں مخمور ہے تو ریاست کشمیر خون، آگ، لہو، بربادیوں اور بربریت کے چہلم کے غم و ماتم میں نوحہ گر اور گریہ کناں ہے، کل جماعتی میٹنگ بھی ہو رہی ہے مگر نشستن، گفتن اور برخاستن کے سوا کچھ بھی نہ ہوسکا ہے، وزیر اعظم تو کل بھی آرایس ایس کے ترجمان تھے اور آج بھی ہیں اور بغیر ناگپور کی اجازت کے دم بھی نہیں مار سکتے، انہیں جب بولنا چاہیے تھا تو چپ شاہ کا روزہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور جب بولنا نہیں چاہیے تھا تو بے محل اور بے محابا بول بھی پڑتے ہیں جب بہار میں نہیں بولنا چاہیے تھا تو آئے دن بہار دورہ کرتے اور خوب بولتے تھے اور جب خوب بولنے کے عوض میں بھاجپا بہار کے اقتدار سے کنارہ کش ہوگئی تو سر دھنتے رہ گئے ـ مودی کی بے محل سخن سرائی سے امام رازی نے \”لصوت الحمیر \” کی جو تفسیر بیان کی ہے اور جن نکات کی وضاحت کی ہے وہ یکلخت ذہن میں تازہ ہوجاتی ہے اور تباینات بھی سررشتہ سے مضبوط ہوئے جاتے ہیں کہ آخرش الحاد و مایوسی کا ان خطوط سے مضبوط ترین رشتہ کیوں استوار ہے، یہ چیستاں بھی مفہوم ہوا جاتا ہے کہ یہ ہنگامہ خیزی کیوں برپا کی جا رہی ہے؟ خون کی ندیاں بہائی گئیں اور بہانا بھی قسمت تھی؛ کیونکہ کشمیر کی قسمت ہی کچھ ایسی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی خون کے فوارے پھوٹ پڑتے ہیں ـ آزادی کے معاً بعد جس طرح سے کشمیر اور کشمیریوں کیساتھ دورخی پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں اور مرکزی قیادت جس شک کی نگاہ سے دیکھتی آئی ہے وہ کم از کم اس عظیم جمہوریت کے حامل ملک بھارت کیلئے زیب نہیں دیتا؛ بلکہ ان کے ساتھ مفاہمت، سنجیدگی اختیار کرنا ہوگی اور حریت اور علیحدگی پسند جماعت کو نقطہ جمہوریت پر متفق کرانا ہوگا ـ

انگریز وائسرائے نے جب 30 جون 1947 کو لیگی اور کانگریسی لیڈروں سردار پٹیل، جواہر لال وغیرہ کو باستثنائے مولانا آزاد تقسیم کا نظریہ قبول کرلینے پر آمادہ کرلیا تو جگہ جگہ تشدد اور خون ریزی کا لامتناہی سلسلہ اٹھ کھڑا ہوا بہار، بنگال، مہاراشٹر، دکن اور پنجاب میں ہزارہا ہزار افراد تہہ تیغ کردیئے گئے اور مزعومات کو یقینی بنا کر ایک فرقہ دوسرے فرقہ پر ہاتھ اٹھانا کارِ خیر سمجھ بیٹھا حتی کہ صرف پنجاب میں اتنی خونریزی کی گئی کہ محض 11 سے 20 اگست 1947 تک گلی، سڑک؛ بلکہ جالندھر، انبالہ اور چنڈی گڑھ اسٹیشن کے ریلوے ٹریک انسانی لاشوں سے بھر گئے حتیٰ کہ چیل کتے نے بھی ان لاشوں کو منھ لگانے کے قابل نہ سمجھا، الغرض جن افکار کے تحت اتنی ہولناک تباہی اور کشت و خون کی گئی تھی، بدلتے وقت کے ساتھ ان سے قطع تعلق کرلینا چاہئے؛ کیوں کہ اب اس ملک میں اتنی سکت اور طاقت نہیں کہ 1947 جیسی ہولناکی، سفاکی اور درندگی کو برداشت کرسکے ـ کشمیر بالخصوص وادی میں برسراقتدار طبقہ ماضی دہرانے کا خواہاں ہے تو شاید خوف ہے کہ کہیں خطہ میں ایٹمی جنگ اور عسکری حملہ نہ شروع ہوجائے؛ کیوں کہ جس طرح بھارتی حکمراں کہتے ہیں مقبوضہ کشمیر بھی بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے تو اسی طرح لیاقت علی سے نواز شریف تک کے حکمراں یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں کہ بھارت کے دور پٹھان کوٹ تک کا علاقہ پاکستان کا ہی حصہ ہے، جب دونوں طرف یہ دعوے ہوں اور حکمراں اس کیلئے پابند عہد بھی ہوں تو لازماً عوام اس کشاکش میں الجھے گی، ذہنی توانائی بجائے تعمیرات میں تخریب، احتجاج اور مظاہرے میں خرچ ہوگی اور کشمیر کی موجودہ صورتحال اسی کی عکاس ہےـ

مودی کہتے ہیں \”کشمیر ہمارا ہے \” لیکن کبھی کشمیر کے رستے زخموں پر پٹی رکھی ہے؟ فضاؤں میں بارود کے سمیات کو \”بھارتی ویروں \” نے گھول دیا، دھواں، آگ بارود اور پھر کراہتی انسانوں کی لاشیں اور چیختے بچوں کی \”صدائے بے نوا \” موجودہ کشمیر کی قسمت بن گئی ہے ـ کیا مودی کو ان گرتی ہوئی لاشیں اور بچوں کی \”صدائے بے نوا \” پر فکر مند نہیں ہونا چاہیے؟ یقیناً ان سوالات کے جواب مشکل ہی نہیں؛ بلکہ ناممکن ہے؛ کیوں کہ چانکیہ نے ایک ہزار سال قبل مسیح ہی اعلان کردیا تھا \” راج گدی اور سنہاسن (اقتدار و حکومت) ہر کسی کو نہیں ملتا جسے ملا ہے اسے اس کی حفاظت کرنی چاہیے اور برہما (پنڈت) کے وچن ( حکم و وعظ) کا پالن( تعمیل) کرنا چاہیے \” مودی جانتے ہیں اور ناگپور بھی جانتا ہے کہ حکومت بس ایک بار ہی ملی ہے پھر اقتدار ایک خواب ہوگا جس کے لئے از سرنو نئے ہتھکنڈے آزمانے ہوں گے ـ جب \”کشمیر ہمارا ہے \” تو کشمیر میں احتجاج،مظاہرے اور پیلٹ گن کی تباہ کاری جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ گویا کشمیر ہمارا ہے؛ لیکن کشمیری ہمارے نہیں ہیں تو بھلا پی ڈی پی کی حمایت کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ یہاں وہی چانکیہ فراست کار فرما ہے جسے ہر انصاف پسند قوم ممنوع سمجھتی ہے ـ جب فطرت مسخ ہوکر اپنے عناصر خمسہ اور خمیر کی عنصریت کا اشارہ دیتے ہوں تو متضاد کیفیات یکلخت رونما ہونے لگتی ہیں اور یہ بدیہی ہے کہ جو قوم بزدل اور محکوم؛ بلکہ ہمیشہ دست نگر رہی ہو وہ مقتدر ہو کر بھی اپنی ماہیت اور جبلت سے رشتہ منقطع نہیں کرسکتی ـ ملک کے دوسرے مقامات اور متعدد بیانات میں یہی توضیح کی گئی ہے کہ کشمیر کا بچہ بچہ بھارت کو اطمینان اور یقین کی نگاہوں سے نہیں دیکھتا، تاہم کبھی اس کی وضاحت محسوس نہیں کی گئی کہ کشمیری قوم کیساتھ کیا کیا ناانصافیاں ہو رہی ہیں؛ بلکہ اسے مطعون قرار دے کر ملک دشمن کہا گیا انہیں بنیادی ڈھانچوں سے ہمیشہ عمداً دور رکھا گیا نتیجتاً کشت و خون اور بغاوت کے نئے ابواب رقم ہوتے رہے ہیں ـ سوال اب بھی ہے کہ مین اسٹریم اور ملکی ترقیاتی خطوط سے کشمیری نوجوان کیوں بھٹکا؟ برہان وانی کیوں پیدا ہوا؟ بچہ بچہ کے ہاتھوں میں پیلٹ گن کے جواب میں پتھر کیوں ہیں؟ اور پھر یہ کیسی دلیری ہے کہ اپنی کارستانیوں کو الزامات کے پردے میں یہ کہہ کر چھپانے کی لاحاصل سعی کی جارہی ہے کہ \” پاکستان دہشت گردی سے متأثر ہے \” اور پھر جواباً معصوموں کا ناطقہ کیوں بند کردیا گیا؟ اس کا جواب نہیں مل سکتا؛ کیوں کہ اپنی مسخ شدہ ماہیت اور عنصریت کا بے دریغ مظاہرہ کیا جارہا ہےـ جب تک سنجیدگی اور اپنی عنصریت سے بالاتر ہوکر کشمیری عوام کے تئیں فکر مند نہ ہوا جائے گا، نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، اور مین اسٹریم سے نہیں جوڑا جائے گا نیز اپنے زرخرید صحافتی میڈیا ہاؤس کے ذریعہ لاف گزینی اور شطحیات سے گریز نہیں کیا جائے گا، حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے ـ کشمیریوں نے تو نماز عشق کی تیاری کرلی ہے روز اپنے گرم گرم لہو سے وضو کر کے اقامت و امامت کیلئے انتھک جد وجہد جاری رکھی ہے؛ کیوں کہ اسے حیات سرمدی اور فیضان محبت بلا رہا ہے اور اس جنت نشان سے بڑھ کر جنت، حوروغلماں فرش راہ ہیں ـ

جس وقت یہ تحریر سپرد قرطاس کر رہا ہوں ٹھیک صبح کے دس بجے ہیں، چاروں طرف قومی و ملکی گیت سماعت سے ٹکرا رہے ہیں، بچے آزادی کی خوشی میں مسکراتے اور ہنستے ہوئے صف بہ صف اپنے اپنے اسکول جارہے ہیں انہیں \”کل \” کی مسرتوں کا یقین ہے، لال قلعہ کی فصیل سے عوام کو مودی اپنی \”بھاشن \” سے نواز رہے ہیں، خود ساختہ نعرہ \”ستر سال – یاد کرو قربانی \” اخبارات کی زینت بن کر دلوں کو 69 ستر سال قبل کی شہادتیں اور تباہ کاریاں یاد دلا رہا ہے، ملک کے چپہ چپہ میں جشن آزادی منایا جا رہا ہے؛ لیکن ان تمام خوشیوں اور مسرتوں کےباوجود میرادل زخمی ہے، میرا جگر پاش پاش ہے اور میرا کلیجہ لہولہان ہے، پورا ملک آزادی کے نشہ میں مخمور ہے کیا پیر و جواں کیا خواتین کیا بچے سبھی ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں؛ لیکن اسی آزاد ملک میں ایسی ریاست کشمیر بھی ہے جو کرفیو میں محصور ہوکر آزادی اور آزادی کے جشن سے کوسوں ہے؛ بلکہ وہاں خون، فغاں، درد، چیخ، آنسو اور ہونٹوں پر آزادی کے شکوے ہیں! اس شورش، طوفان، یرغمال، لہو اور چیخ و پکار کا حل جلد تلاش کرلینا چاہئے ورنہ تاریخ کشمیر کو \”گورستان زندہ \” کےنام سے یاد کرے گی ـ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
افتخار رحمانی کی دیگر تحریریں
افتخار رحمانی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں