جہاد کشمیر اور پاکستان کا المیہ


\"khalidپاکستان میں ہم نے ایک ایسا دور بھی دیکھا ہے کہ جب کشمیر میں جہاد کرنے والوں کو عام عوام ہی نہیں بلکہ ہمارے سیکیورٹی ادارے بھی سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے ،جگہ جگہ جہادی کیمپوں کی بھر مار ہوتی تھی اور مولانا فضل الرحمن خلیل ،مولانا مسعود اظہر ،حافظ محمد سعید ،قاری سیف اللہ اختر ،بخت زمین خان ،میجر مست گل ،سید صلاح الدین،الیاس کشمیری ،کمانڈر سجاد افغانی،مولانا فاروق کشمیری سمیت کئی جہادی لیڈروں کا طوطی بولتا تھا ، نوجوان طلبا جوق در جوق جہادی کیمپوں کا رخ کرتے تو ہماری ایجنسیاں اور سیکیورٹی ادارے ان نوجوانوں کی راہوں میں ”دیدہ دل فرش راہ“ کئے ہوتے تھے۔ حالات نے جب پلٹا کھایا اور جنرل پرویز مشرف نے نائن الیون کے بعد ”یو ٹرن “ لیا اور 12 جنوری 2002 کی وہ تقریر کر ڈالی جس میں انہوں نے” سب سے پہلے پاکستان “کا نعرہ لگا کر کشمیر کو آخر میں کر دیا تو ہم نے ایسے مناظر بھی بکثرت دیکھے کے ”جہاد کشمیر کے ان متوالوں “ کو پاکستان میں چھپنے کے لئے کوئی راہ نہیں ملتی تھی ،کئی” جہادی کمانڈرز“ نے بدلتے حالات میں ”جہادی جیکٹیں “ اتار کر ”درویشی چوغے“ پہننے میں عافیت سمجھی اور کئی ایسے کمانڈرز بھی ہم نے دیکھے ہیں جو کئی کئی مسلح نقاب پوشوں کے جلو س میں گھومتے اور اکڑ کر چلتے تھے ،حکومتی پالیسی بدلنے پر ایسی ”انکساری“پر اتر آئے کہ ”جہاد چھوڑ کر “ باقاعدہ ”پیر “ بن گئے اور لوگوں کے مسئلے مسائل کا حل ”تعویز گنڈوں “ میں تراشنے لگے۔جہادی جیکٹیں کیا اتری کہ ہمارے ان کمانڈوز کی تنی گردنوں کی اکڑاہٹ بھی زمین بوس ہو گئی ،سیکیورٹی ادارے جن نوجوانوں کا استقبال ”دیدہ دل فرش راہ “ کئے کرتے تھے انہیں ”مجاہدوں“ کو برسر عام ایسا ذلیل اور رسوا کیا گیا کہ ”الحفیظ الاماں “

نہ صرف ان بیچاروں کو عادی پیشہ ور مجرموں اور منشیات فروشوں کی طرح ٹریٹ کیا گیا بلکہ کئی ایک کی تو زندگیوں کا چراغ ہی گل کر دیا گیا۔اس دور میں کشمیری ٹرینڈ بوائے (کے ٹی بی) کی فہرستیں مرتب ہوئیں تو ایسے ہزاروں نوجوانوں کو اس میں شامل کیا گیا جو پنج وقتہ نمازی اور ظاہری برائیوں سے کوسوں دور تھے ،لیکن”کے ٹی بی“ میں نام شامل ہونے پر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ان پر حیات تنگ کر دی گئی ،جہادی قیادت بظاہر تو ”موجود“ تھی لیکن ان کا ”وجود“ نہ ہونے کے برابر تھا ،اللہ کے نام پر ملنے والے ”مفت “ کے کارکنوں پر ہونے والے مظالم پر آنکھیں ایسے بند تھیں جیسے اب یہ کھلنے والی نہیں ہیں ،کئی جہادی قیادت تو ایسی بھی ہم نے دیکھی ہے کہ جو دوران جہاد تو”ٹی وی“ اور فوٹو گرافی“ کو باقاعدہ ”شیطانی آلے “ قرار دیتی تھی اور ”با امر مجبوری“ ٹی وی چینل کو ”گھونگھٹ اوڑھ “ کر ” چہرہ چھپا کر اور’پشت“دکھا کر انٹر ویو دیتی تھی اور ان کی قیادت میں جمعے کے جمعے مختلف شہروں میں درجنوں ٹی وی سیٹ”شیطانی چرخے“قرار دے کر چوکوں اور چوراہوں میں توڑے جاتے تھے لیکن ”سرکاری پالیسی“ بدلنے پر انہی”جہادی کمانڈوز “ نے باقاعدہ اخبارات اور الیکٹرانک چینلز کے لئے الگ الگ میڈیا مینجر رکھ لئے اور اب یہ اسوقت تک اپنا خطاب شروع نہیں کرتے جب تک درجنوں ٹی وی چینل کے مائیک اور کیمرے سامنے موجود نہ ہوں۔

جنرل پرویز مشرف کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی ،کیانی کے بعد ’مرد مجاہد ‘ جنرل راحیل شریف نے نام نہاد جہادیوں پر عرصہ حیات ایسا تنگ اور دہشت گردی کے عفریت کے خلاف اتنی شدت سے ”ضرب عضب “ شروع کیا کہ پوری قوم عش عش کر اٹھی ،اب امید کی جارہی تھی کہ ”نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری “اور پاک سرزمین دوبارہ ”جہاد کے فلک شگاف “نعروں کی گونج سے محروم ہی رہے گی اور کشمیر کی آزادی بھی شائد قصہ پارینہ ہی رہے گی۔کشمیر میں جاری ”جدوجہد آزادی کی تحریک“ ہلکی پھلکی موسیقی کے طور پر چلتی رہے گی اور ہندوستان سے تجارت اور دوستی کی خواہش مندہماری حکومت کشمیر کی آزادی پر ایک آدھ بیان جاری کر کے اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا لے گی۔

90کی دہائی میں آزادی کشمیر کے ہیرو بخت زمین خان کا اب کوئی اتا پتا نہیں کہ وہ کہاں ہیں ؟ قاری سیف اللہ اختر بھی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں نام آنے کے بعد منظر سے غائب ہیں ،ان کے بارے میں یہ بھی پتا نہیں کہ وہ زندہ ہیں ؟مر گئے ہیں یا مار دیئے گئے ہیں ؟کارگل کے ہیرو میجر مست گل کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ؟کوئی خبر نہیں۔کمانڈر الیاس کاشمیری کوڈرون حملے میں مار کر ہم امریکہ کے آگے سرخرو ہو چکے ہیں۔کمانڈر سجاد افغانی بھارتی حراست میں مارے جا چکے۔بھارتی طیارے کے اغوا کے بدلے رہائی پانے والے مولانا مسعود اظہر ممبئی اور پھر پٹھانکوٹ حملوں کے بعد زیر زمین ”حفاظتی حصار“ میں اپنی زندگی کے بقیہ دن گزار رہے ہیں۔جہاد کشمیر کا ایک بڑا نام مولانا فضل الرحمن خلیل آج کل دفاع پاکستان کونسل میں متحرک اور ’پاک چین اقتصادی راہداری کونسل ‘کے محافظ بنے ہوئے اور اکثر و بیشتر مختلف ٹی وی چینل پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید ”فلاح انسانیت فاو ¿نڈیشن “ چلا رہے تھے ،اب ایک دم پھر آزادی کشمیر کا پھریرا ملک بھر میں لہرا رہے ہیں ،مولانا فاروق کشمیری کا بھی کوئی پتا نہیں ہے کہ وہ کون سا مدرسہ چلا رہے ہیں ،جبکہ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اسلام آباد ،لاہور اور مظفر آباد میں پائے جاتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پہلے کی طرح اب بھی جاری تھے لیکن ہماری مذہبی جماعتیں”دم سادھے “ دیگر دھندوں میں ملوث تھیں ،کہ اچانک خبر آئی کہ بھارتی فوج نے حزب المجاہدین کے 22سالہ کمانڈر برہان مظفر وانی کو اس کے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا ،بس پھر کیا تھا پورے مقبوضہ کشمیر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ،تادم تحریر برہان وانی کی شہادت کے بعد اب تک100سے زائد نہتے کشمیری شہید جبکہ 8000ہزار سے زائد کشمیری زخمی ہو چکے ہیں۔برہان وانی کی شہادت کے بعد پاکستان میں بھی ایک مرتبہ پھر گلی کوچوں میں آزادی کشمیر کے نعرے گونج رہے ہیں ،مبینہ طور پر سرکاری پالیسی بدلنے کے بعد اپنی بلوں میں گھسنے والے ہمارے جہادی ایک بار پھر میدان میں خم ٹھونک کر آ چکے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشمیر سے ہماری جذباتی وابستگی ہے ،ہم کسی صورت بھی بحیثیت قوم کشمیری عوام پر بھارتی تسلط نہیں دیکھ سکتے ،ہم کشمیر کی آزادی کے لئے بھارتی فوج سے لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں ،ہزاروں مسلمان والدین ایسے ہیں جو کشمیر کی آزادی کے لئے اپنے لخت جگر قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ،لاکھوں نوجوان کشمیری بہنوں کی عصمت دری کا بدلہ لینے کے لئے سروں پر کفن باندھ کر اب بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں جانے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں۔دوسری طرف برہانی وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں زور پکڑتی ہوئی”تحریک آزادی اور ”کشمیر بنے گا پاکستان “ کے پر جوش نعروں نے مودی حکومت کے نہ صرف اوسان خطا کئے ہیں بلکہ کشمیر یوں کاقابض بھارتی فوج کے تمام تر مظالم سہنے کے باوجود ”پاکستانی پرچم “ کو ہاتھوں میں تھام کر ”کشمیر بنے گا پاکستان “ کے نعرے لگانا اور شہید ہونے والے اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی میتوں کے گرد پاکستانی پرچم کا کفن دینا مودی سرکار کو کسی صورت بھی ہضم نہیں ہو رہا۔

حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی قابض فوج کے ہاتھوں ہونے والی شہادت نے صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں” آزادی کشمیر “ کی تحریک میں نئی روح پھونک دی ہے اور لگتا ہے کہ ایک بار پھر ہماری سرکاری پالیسی نے یو ٹرن لے لیا ہے ،پاکستانی عوام کی کشمیر سے” جذباتی وابستگی“کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ،اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کو بھارتی فوج کے ظلم و جبر سے نجات دلانے کے لئے ہزاروں پاکستانی نوجوانوں نے خوشی خوشی نہ صرف”جام شہادت“ نوش کیا بلکہ اسی” جذبہ جہاد “ کے تحت جب پاکستان میں”جہاد کشمیر“ ہمارے ”حساس اداروں “ کا من پسند مشغلہ تھا ،تب ہزاروں نوجوان ”ہندو کی مرمت“ کے لئے ٹریننگ کیمپوں میں اپنی جوانیاں کھپاتے رہے ،لیکن جیسے ہی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ”جہاد کشمیر “ پر پالیسی بدلی ’کل کے مجاہد ‘ دہشت گردقرار پائے اور آج بھی پاکستانی جیلوں میں سینکڑوں ایسے نوجوان ’پابند سلاسل‘ ہیں جو ’کے ٹی بی‘ (کشمیر ٹرینڈ بوائے)کی فہرستوں میں نام آنے کی بنیاد پر ”جرم محبت“ اور” جذبہ جہاد“ کی سزا کاٹ رہے ہیں ،لیکن ان حالات میں کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔مجھے لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر کشمیر پر ہماری ”سرکاری پالیسی “ تبدیل ہو رہی ہے ،ایک مرتبہ پھر جہادی کیمپ آباد ہونے والے ہیں،ایک مرتبہ پھر’لبیک لبیک ،الٰھم لبیک“سبیلنا سبیلنا ، الجہاد الجہاد‘کے نعرے اس پاک سرزمین پر گونج رہے ہیں ،تو کیا ہمارے یہ آج کے جہادی جو ”سرکاری پالیسی “ کی تبدیلی پر کمر کس کر میدان میں نکلے ہیں ،کیا اگر کل کو پھر یہ پالیسی یو ٹرن لیتی ہے تو کیا یہ آج نعرے لگانے والے اور کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا جذبہ لے کر میدان میں نکلنے والوں کو پھر تنہا چھوڑ دیں گے ؟ کیاکل ”کشمیر ٹرینڈ بوائے “ کی فہرستیں مرتب کرکے ہزاروں نوجوانوں کی جوانیاں جیلوں کی نذر کرنے والے آج نعرے اور جوانیاں لٹانے کا عہد کرنے والوں کے ساتھ بھی تو ایسا سلوک نہیں کریں گے ؟ ہماری جہادی اور مذہبی قیادت خصوصا سینیٹرسراج الحق ،حافظ سعید،مولانا محمد احمد لدھیانوی اور مولانا فضل الرحمن خلیل کو ایک بار پھر ”جہاد کشمیر “کا جھنڈا اٹھانے سے پہلے اس سوال پر ضرور سوچنا ہو گا ورنہ قوم انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور انہیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ گنڈاسوں اور چہروں پر باندھے ڈھاٹوں سے تعویز گنڈوں اور درویشی چوغوں کے سفر میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

خالد شہزاد فاروقی کی دیگر تحریریں
خالد شہزاد فاروقی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “جہاد کشمیر اور پاکستان کا المیہ

  • 17/08/2016 at 4:44 pm
    Permalink

    Allah ka shuker hai wo ahmakana daur khatam hua aur jehad k naam per bachon ko marwana ruk gaya. jitna chahay glamorize kerlo bhai lekin un he bewaqofion ka bhugtan hum bhugat rahay hain. Kashmir k naam per khoob ullo banaya poori dunya k bachon ko

Comments are closed.