امید کے چراغ


وطن عزیز میں یوم آزادی اک بار پھر انتہائی جوش و خروش اور قومی یک جہتی کے جذبے سے منایا گیا۔ اندرون اور بیرون ملک محب وطن پاکستانیوں نے نہ صرف سوشل، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کیا بلکہ سکول، کالجز، دفاتر اور عوامی مراکز میں جمع ہو کرمختلف تقاریب کا اہتمام کر کے اپنی زندہ دلی کا ثبوت دیا۔ اعدادوشمار کے مطابق اس سال جشن آزادی منانے کے لئے کی گئی خریداری نے پچھلے تمام برسوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے جو کہ بہت خوش آئند بات ہے اور اس سے پاکستانی قوم کا اپنے وطن کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔

یوم آزادی اک طرف ہمیں قیام پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ہمارے اسلاف نے اس ملک کی بنیادوں کو اپنے لہو سے مضبوط کیا تھا تا کہ انکی آنے والی نسلیں اطمینان و سکون سے زندگی بسر کر سکیں تو دوسری طرف ہمارے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے کہ جس مقصد کے لئے ہم نے یہ ملک بنایا تھا اس مقصد میں ہم نے کہاں تک کامیابی حاصل کی ہے۔دنیا میں اپنے آپ کو اک زندہ اور آبرومند قوم بنانے کے لئے خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ ہمیںوطن عزیز کو درپیش مسائل اور ان کو حل کرنے کے اقدامات کا تنقیدی جائزہ لینا بھی ضروری ہے تا کہ ہم اپنی منزل سے بھٹک نہ جائیں۔

کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کا معیار پرکھنے کے لئے کچھ پیمانے مقرر کیئے جاتے ہیں جن میں غربت کا خاتمہ، باعزت روزگار کی فراہمی، مذہبی رواداری، باعزت بین الاقوامی تشخص، عوام الناس کا ذہنی سکون، تعلیمی اور طبی سہولیات کا حصول،صاف شفاف سیاسی نظام اور جرائم کا خاتمہ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اگر وطن عزیز کو مندرجہ بالا پیمانوں پر پرکھا جائے تو بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہم نے کسی بھی میدان میں کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں کی بلکہ ہم جہاں سے چلے تھے آج بھی وہاں ہی کھڑے ہیں۔

 کھلے دل اور وسیع نظر کے ساتھ ہم پاکستان کا دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ موازنہ کریں تو حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود ہم ترقی کے سفر میں باقی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ اگر مبالغہ نہ کیا جائے تو قیام پاکستان سے لے کر آج تک غربت کے خاتمے میں بہت معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ صرف چند بڑے شہروں میں معیار زندگی بہتر ہوا ہے ورنہ آج بھی سندھ میں پینے کا پانی میسر نہیں ہے باقی سہولیات تو دور کی باتیں ہیں۔ پنجاب، گلگت بلتتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چند بڑے شہروں کے علاوہ دیہی علاقوں میں لوگ آج بھی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر ہم حقائق سے نگاہیں دوچار کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر لوگوں کے پاس پینے کے لئے پانی اور کھانے کے لئے مناسب خوراک میسر نہیں تو تعلیمی اور طبی سہولیات کے بارے میں بات کرنا ہی فضول ہو گا۔

مذہبی رواداری کی بات اگر کی جائے تو ہر گزرتے دن کے ساتھ مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہاں بات صرف مسلم اور غیر مسلم کی نہیں کی جا رہی بلکہ مسلمان ہی مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔ مذہب کے نام پر اور مذہب کی آڑ لے کر قتل و غارت کی جا رہی ہے کیونکہ ہر مسلمان کا اپنا علیحدہ اسلام ہے جس کی رو سے اسے باقی سب لوگ کافر نظر آتے ہیں۔ اس شدت پسندی کی ترویج میں چند بیرونی عناصر بھی شامل ہیں جو اپنے مکروہ مقاصد کے حصول کے لئے اس آگ کو بھڑکنے میں مدد دیتے ہیں۔

آئے دن کی قتل و غارت ، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے، اندھا دھند فائرنگ،اور بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح نے عوام الناس کا ذہنی سکون تباہ کر دیا ہے۔ اگر ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھیں تو ایک وہ وقت تھا جب دنیا کے مشہور لیڈر اور ستارے فخر سے پاکستان میں سیاحت کے لئے آتے تھے اور آج وہ وقت آ گیا ہے کی امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے کوئی ملک اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کی سرزمین پر بھیجنے کے لئے تیار نہیں ہے اور کرکٹ ٹورنامنٹس کروانے کے لئے ہمیں ہمسایہ ممالک کی گراﺅنڈز استعمال کرنی پڑ رہی ہیں۔

سیاسی صورتحال کو اگر زیر بحث لایا جائے تو سیاست کو عبادت کا درجہ دینے کی بجائے ہمارے حکمرانوں نے اسے اک کھیل بنا لیا ہے جس میں دو ٹیمیں بنائی گئی ہیں اور تمام کھلاڑیوں کی باریاں مقرر کر لی گئی ہیں۔ ایک بار حکومت میں اگر فوج آتی ہے تو اگلی بار جمہوریت بازی لے جاتی ہے اور اسی طرح یہ کھیل جاری رہتا ہے۔اس صورتحال کا مکمل ذمہ دار ہم فوج کو یا جمہوری حکمرانوں کو نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ عوام بھی اس کھیل میں پوری طرح شامل ہے۔ پہلے ہم پورے جوش و خروش سے کسی جمہوری نمائندے کو منتخب کرتے ہیں اور کچھ دن بعد اس کو ہٹانے کے لئے فوج کی طرف رجوع کر لیتے ہیں۔ جب فوج اس نمائندے کو ہٹا کر خود اقتدار میں آتی ہے تو ہم مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور کچھ دن بعد اسی فوج کی برائیاں کرنا شروع کر دیتے ہیں اور کسی جمہوری فرشتے کی آرزو کرنے لگ جاتے ہیں۔

اگر مندرجہ بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اپنا احتساب کریں تو بحیثیت مجموعی ہم ایک غیر سنجیدہ قوم نظر آتے ہیں جو مذہبی شدت پسندی، سیاسی ناپختگی اور غربت جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ غیر سنجیدگی کا لفظ استعمال کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ مندرجہ بالا مسائل کا  ذمہ دار ہم کسی فرد واحد یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کو نہیں ٹھہرا سکتے۔ حکمران جماعت کوئی بھی ہو اسے حکومت میں لے کے آنے کے ذمہ دار بحثیت قوم ہم خود ہیں۔ ہم خود اپنے مستقبل کو سنوارنا نہیں چاہتے اسی لئے چند مجبوریوں یا چند فوائد کی وجہ سے اپنے وطن کی باگ ڈور نااہل حکمرانوں کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔ہماری اس غیر سنجیدگی کے نتیجے میں اقوام عالم کی نظر میں ہمارا مقام بہت گر گیا ہے جس کا ثبوت حال میں ہی شائع ہونے والی ایک سروے رپورٹ ہے جس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ اس وقت دنیاکا دوسرا بدترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سب سے زیادہ تضحیک آمیز سوالات کا سامنا ہمیں ہی کرنا پڑتا ہے حتی کہ ملایئشیا جیسا ملک جس نے اپنی ترقی کی راہ متعین کرنے کے لئے ہر معاملے میں پاکستان سے مدد لی تھی آج وہاں جانے والے ہر پاکستانی کی سختی سے تلاشی لی جاتی ہے۔

بقول شاعر بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی کے مصداق اس کالم کا مقصد یوم آزادی کے پر مسرت موقع پر قوم کا دل دکھانا ہر گز نہیں بلکہ ان تمام باتوں کا مقصد صرف قوم کے خواب غفلت کے مرض کی تشخیص کے ساتھ ساتھ اس کی وجوہات تلاش کرنا ہے تا کہ علاج کیا جا سکے۔ پاکستان کو اللہ تعالی نے بے شمار وسائل مہیا کیے ہیں بس ان وسائل کو درست طریقے سے استعمال کرنا سیکھنا پڑے گا جو کہ بذات خود بہت طویل موضوع ہے۔ انشااللہ اگلے کالم میں مندرجہ بالا مسائل پر کچھ تجاویز بھی پیش کی جائیں گی جو کہ سورج کو روشنی دکھانے کے مصداق ہو گا مگر اپنے حصے کے چراغ جلانا ضروری ہے تا کہ امید کی کرن نظر آتی رہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انور عزیز کی دیگر تحریریں
انور عزیز کی دیگر تحریریں