ممتاز قادری رہائی تحریک


mujahid aliگورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی رہائی کے لئے ملک میں متعدد مذہبی تنظیموں نے ایک تحریک منظم کی ہے۔ اس تحریک نے آج لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور حکومت سے ممتاز قادری کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل دسمبر میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ممتاز قادری کی طرف سے سزائے موت پر نظر ثانی کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ اس درخواست میں بھی ممتاز قادری نے موت کی سزا ملتوی کرنے کی استدعا کی تھی۔ اس دوران مجرم کی طرف سے صدر پاکستان کو رحم کی درخواست بھی بھجوائی گئی ہے۔ خبروں کے مطابق اس درخواست میں ممتاز قادری نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے اس لئے اس پر رحم کیا جائے اور اس کی سزا معاف کر دی جائے۔ گویا حبّ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں دیوانہ ہو کر اس شخص کی جان لینے والا شخص جس کی حفاظت پر اسے مامور کیا گیا تھا، اب اپنی موت قریب دیکھ کر اسی عشق سے انکاری ہے جو توہین رسالت پر جان لینے یا جان قربان کرنے کا متقاضی ہے۔ اس کے باوجود سیاسی مقاصد کے لئے لوگوں کو گمراہ کرنے والے مذہبی لیڈر اس شخص کی بزدلی اور بے مقصد ارتکاب جرم کی حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے، اس کی بنیاد پر اپنی دکانداری چمکانے میں مصروف ہیں۔

سپریم کورٹ نے 7 اکتوبر 2015 کو ممتاز قادری کو سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے الزام میں پاکستان پینل کوڈ اور دہشت گردی کی دفعہ 7 کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ملک کا توہین مذہب کا قانون بھی دوسرے قوانین کی طرح ہے اور ایک جمہوری نظام میں کسی بھی قانون پر تنقید کرنا اور اسے تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار ہر شہری کا حق ہے۔ اگرچہ ممتاز قادری نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کی سلمان تاثیر سے کوئی دشمنی نہیں تھی بلکہ اس نے صرف اس لئے اسے قتل کیا تھا کیونکہ اس کے خیال میں وہ توہین مذہب کے مرتکب ہوئے تھے۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ممتاز قادری اور اس کے وکیل عدالت میں کوئی ایسا ثبوت پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے جس سے یہ ثابت ہو کہ سلمان تاثیر توہین مذہب کے مرتکب ہوئے تھے۔ ممتاز قادری نے گمراہ کن غلط فہمی کے نتیجے میں ایک بے گناہ شخص کو قتل کر دیا۔ اگر وہ واقعی ایک سادہ لوح مسلمان ہے جو صرف عشق رسول میں جذبات کی رو میں بہہ گیا تھا تو اس وضاحت کے بعد اسے اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگنی چاہئے تھی اور عدالت کی دی ہوئی سزا کو کفارہ کے طور پر قبول کر لینا چاہئے تھا۔ اس کے برعکس اب وہ ایک عام انسان کی طرح موت سے بچنے کے لئے ہر طرح کا ہتھکنڈہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قومی منظر نامہ پر چونکہ ملک کے اکثریتی مسلک کے نمائندوں کو خاص پذیرائی نہیں ملتی اور انہیں خود کو بڑی طاقت کے طور پر منوانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ نہیں آتا، اس لئے اب وہ ممتاز قادری کے معاملہ کو لے کر لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے اور حکومت کے سامنے اپنی قوت اور اہمیت منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو نہ تو ممتاز قادری درحقیقت حب رسول میں اس قدر دیوانہ ہو چکا ہے کہ بخوشی اس مقصد کے لئے اپنی جان دینے پر آمادہ ہو بلکہ اپنے قول اور فعل میں صریحاً تضاد کا شکار ہے …. عین اسی طرح رہائی تحریک چلانے والے مذہبی گروہ اور لیڈر بھی اسلام کی خدمت یا رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرمت کے نقطہ نظر سے لوگوں کو گمراہ کر کے سڑکوں پر جمع کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ اگر واقعی وہ ان مقاصد میں سچے ہوتے تو انہیں بھی ممتاز قادری کی غلطی کو تسلیم کر کے اس کے گناہوں کی معافی کے لئے دعا کرنی چاہئے تھی، اور لوگوں کو مشتعل کرنے اور حکومت وقت کو دھمکیاں دے کر اپنے عقیدہ اور موقف کی جگ ہنسائی کا موجب نہیں بننا چاہئے تھا۔ اسلام ایک پاکیزہ اور منظم معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کسی فرد یا گروہ کو انتشار پیدا کرنے اور اشتعال انگیزی عام کرنے کا حق نہیں دیتا۔ نہ ہی اسلام کسی ایک شخص کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی و منشا کے مطابق قرآن و سنت کی تفہیم کو عام کرنے کے لئے قتل جیسے بھیانک جرم کا مرتکب ہو۔ اس بنیادی اور اہم نکتہ پر فکری اور فقہی مکالمہ کئے بغیر اگر کوئی بھی مذہبی لیڈر یا گروہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے سزا یافتہ مجرم کی رہائی کے لئے مہم جوئی کی کوشش کرتا ہے تو وہ معاشرے میں انارکی پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جسے اسلامی نظام میں کسی صورت قبول نہیں کیا جاتا۔

سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کیس کا فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ملک میں مختلف مسالک اور عقائد آباد ہیں۔ اس لئے کسی ایک گروہ یا شخص کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے عقیدہ کی من پسند توجیہہ و تشریح کر کے اسے نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ حق صرف ملک کی وفاقی شریعت کورٹ ، سپریم کورٹ کے شریعت اپیل بنچ یا اسلامی نظریاتی کونسل کو حاصل ہے۔ یہ تینوں ادارے ملک کے آئین کے تحت قائم ہیں اور ملک کے تمام سیاسی و مذہبی گروہوں کا اس دستور پر اتفاق بھی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے میں بنیادی اور اہم نکات اٹھائے گئے ہیں:

الف) ان حالات میں کیا ملزم کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کا فیصلہ نافذ کرنے کے لئے اقدام کر سکے۔ خاص طور سے جبکہ وہ ایلیٹ فورس کا ملازم تھا اور مقتول گورنر کی حفاظت پر مامور تھا۔

ب) اگر ہر شخص کو من پسند تشریح اور اس کے مطابق فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو کیا اس سے معاشرے میں خوف و ہراس نہیں پھیل جائے گا۔

ج) جیسا کہ مشاہدہ میں بھی آتا ہے کیا کسی فرد یا گروہ کو حقائق جانے بغیر ہی فیصلہ صادر کرنے اور لوگوں کو مارنے کا حق دیا جا سکتا ہے۔

یہ تینوں نکات بے حد اہم ہیں۔ ملک کی جو مذہبی تنظیمیں اس وقت ممتاز قادری کی رہائی کے لئے لوگوں کو بھڑکانے اور ملک میں یک طرفہ مذہبی شدت پسندی کو عام کرنے کی علم بردار بنی ہوئی ہیں، انہیں سب سے پہلے ان سوالات کے جواب تلاش کرنے چاہئیں۔ ممتاز قادری نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا ہے جس کے بارے میں وہ خود یہ ثابت کرنے سے قاصر ہے کہ اس نے توہین مذہب یا رسالت کی تھی۔ اس صورت میں شرمندگی اور شرمساری کا اظہار کرنے کی بجائے سینہ زوری اور غنڈہ گردی نما زبردستی کو اسلام اور عقیدہ کا نام دینا نہ صرف ان علما و فضلا کی جہالت اور مفاد پرستی کا پول کھولتا ہے بلکہ یہ لوگ دنیا بھر میں پاکستان ، اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔

خاص طور سے ملک میں دہشت گردی کی صورتحال اور اس حوالے سے مذہبی انتہا پسندی کے اندیشوں اور خطرات کے پیش نظر یہ طرز عمل مسترد کرنا ضروری ہے۔ بریلوی مکتب فکر کے لوگ عام طور سے دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور اپنی تقریروں میں دوسرے مسالک پر اس قسم کی گمراہ کن مذہبی تفہیم عام کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اب وہ خود دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزا پانے والے ایک شخص کی حمایت میں اجتماعات کر کے اور حکومت کو دھمکیاں دے کر دراصل اسی مزاج ، رویہ اور مذہبی چلن کو عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں اختلاف رائے برداشت کرنے کو گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ جمہوری ضرورتوں اور سماجی امن و امان کے نقطہ نظر سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی انتہا پسندی کا تعلق کسی ایک فرقہ یا مسلک سے نہیں ہے۔ جو لوگ اور گروہ بھی مذہبی تفہیم کی بنیاد پر اپنے موقف کو صائب قرار دیتے ہوئے، اسے دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کریں گے، وہ شدت پسند قرار پائیں گے۔ اس طرز عمل اور سوچ کی وجہ سے ہی دہشت گرد جنم لیتے ہیں۔ اگر سلمان تاثیر کے قاتل کو صرف اس لئے معافی ملنی چاہئے کہ اس نے اپنی سمجھ کے مطابق توہین مذہب میں ملوث ایک شخص کو قتل کیا تھا تو خودکش حملہ کرنے والے اور بم دھماکوں میں معصوم شہریوں اور نہتے طالب علموں کو مارنے والے اور ان کے سرپرست بھی یہی موقف اختیار کریں گے۔ وہ لوگ بھی دوسروں کو اسی بنیاد پر ہلاک کرنے کے درپے ہیں کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق یہ سارے لوگ گمراہ اور واجب القتل ہیں۔

ابھی باچا خان یونیورسٹی میں بہنے والے نوجوانوں کے خون کی مہک تازہ ہے۔ ملک میں ایسے گروہ بدستور توانا اور سرگرم ہیں جو ایک قرآن کی اپنی اپنی علیحدہ تفہیم کو اصل اور حقیقی قرار دیتے ہوئے قتل و غارتگری پر مصر ہیں۔ یہ علّت پاکستان یا مسلمان ملکوں تک محدود نہیں ہے۔ اپنا اپنا اسلام نافذ کرنے والے یہ لوگ دنیا بھر میں خوں ریزی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ان حالات میں کسی مذہبی گروہ کو ایک مسلّمہ قاتل کے خلاف عوامی تحریک چلانے کا نہ حق حاصل ہے اور نہ اس کی اجازت دینی چاہئے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali