ٹیکنوکریٹ


\"1-yasir-pirzada\" پڑھا لکھا آدمی بڑا کائیاں ہوتا ہے ، وہ لوگوں کو اس خوبصورتی سے گمراہ کرتا ہےکہ  سادہ لوح عوام سمجھتے ہیں کہ وہ اُن کا سب سے بڑا خیر خواہ ہے ، ان پڑھ لوگوں کو اپنی مرضی کے اعداد و شمار پیش کرکے اور اُن کے سامنے چنندہ مثالیں رکھ کر ایسی تصویر کشی کرتا ہے کہ لوگ نہ صرف  اُس کی عقل و دانش کے قائل ہو جاتے ہیں بلکہ  اس کے نظریات سے بھی اتفاق کرنے لگتے ہیں ۔ میں ایک ڈاکٹر صاحب کو جانتا ہوں ، وہ بھی ایسے ہی پڑھے لکھے ہیں ، پی ایچ ڈی کی ڈگر ی انہوں نے داب رکھی ہے ، سائنس اور ٹیکنالوجی کا درس دیتے ہیں ، پاکستان کے حالات پر کڑھتے ہیں اور ہمارے گوناں گوں مسائل کے حل کے لئے تڑپتے رہتے ہیں ۔ اُن کی ایسی ہی تڑپ نے ایک ڈکٹیٹر کو بے حد متاثر کیا سو اُس نے ڈاکٹر صاحب کو ایک وزارت عنایت کر دی ۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر کی حمایت کے عوض وزارت قبول کرنے کا سودا برا نہیں تھا سو ڈاکٹر صاحب کی بیش بہا ڈگریاں بھی  اُس میں رکاوٹ نہ بن سکیں اور انہوں عوام کے وسیع تر مفاد میں وزارت کا طوق گلے میں پہن لیا ۔ تاہم جب سے یہ ’’فحش جمہوریت ‘ ‘ آئی ہے ڈاکٹر صاحب جیسے قابل اور گوہر نایاب کو کوئی پوچھتا ہی نہیں ، بھلا یہ بھی کوئی نظام ہے جس میں ڈاکٹر صاحب جیسا سونے میں تولنے لائق  آدمی دہائیاں دیتا پھرے کہ خدا را مجھ سے کام لو اور اُس کی آواز پر کوئی کان ہی نہ دھرے ،اسی لئے ڈاکٹر صاحب اس ’’فاحشہ  جمہوریت ‘ ‘ کے خلاف ہیں ، آپ خلوص دل سے سمجھتے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت اس ملک کے لئے زہر قاتل ہے ، پاکستان میں صدارتی نظام ہونا چاہیے جہاں ٹیکنوکریٹس کی حکومت ہو ، ملک کا ہر دلعزیز صدر تمام محکموں میں اُن لوگوں کو سربراہ مقرر کرے جو اس شعبے کے بہترین لوگ ہوں ، یہ لوگ ہر قسم کی سیاسی آلائشوں سے پاک ہوں اور اُ ن کا کام اپنے اپنے محکموں میں انقلابی تبدیلیاں برپا کرکے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا ہو ، چونکہ پارلیمانی نظام میں محکمے کے سربراہان ’’انگوٹھا چھاپ ، نالائق اور کرپٹ وزرا  ‘ ‘  ہوتے ہیں اس لئے یہ ترقی صرف صدارتی نظام میں ممکن ہے جہاں  صرف اُن جیسے ٹیکنوکریٹس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔

  ڈاکٹر صاحب اور ان جیسے دیگر پڑھے لکھے دانشوروں کی باتیں اس قدر خوشنما لگتی ہیں کہ اچھا بھلا آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بات تو ٹھیک ہے ، ایک شعبے  کا سربراہ اسی کو ہونا چاہئے جو اُس شعبے کا سب سے بہترین شخص ہو، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ تعلیم کا وزیر وہ بن جائے جس نے کبھی یونیورسٹی کی شکل ہی نہ دیکھی ہو اور تمام پروفیسر اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں ، صحت کی وزارت اس کے پاس ہو جسے ایم بی بی ایس کا مخفف ہی معلوم نہ ہو اور وہ لوگوں کی صحت سے متعلق کلیدی فیصلے کرتا پھرے ۔اپنے اِن زریں خیالات میں وزن پیدا کرنے کے لئے یہ لوگ جاپان ، کوریا اور سنگاپور جیسے ممالک کی مثالیں دے کر کہتے ہیں کہ ان ملکوں نے بھی اسی طرح ٹیکنوکریٹس کے ذریعے ترقی کی تو ہم کیوں نہیں کر سکتے ! صدارتی نظام کا خواب بھی بھلا معلوم ہوتا ہے ، ایک شخص جسے پورا ملک منتخب کرے وہی حقیقتا عوام کا نمائندہ ہو سکتا ہے ، پارلیمانی نظام کی تو نمائندگی ہی ڈھکوسلہ ہے ۔ یہ باتیں چونکہ پڑھے لوگ نہایت سنجیدگی سے کرتے ہیں اورعوام  چونکہ اپنے گھمبیر مسائل کی وجہ سے غیر مطمئن رہتے ہیں اس لئے اکثر تھوڑے تھوڑے عرصے بعد ملک میں صدارتی نظام اور ٹیکنو کریٹس کی حکومت کا غلغلہ اٹھتا رہتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب اور اُن جیسے دانشوروں کا یہ مقدمہ اس قدر کمزور بنیادوں پر ہے کہ اِن باتوں کا جواب دیتے ہوئے بھی شرم آتی ہےلیکن  ہمارے پڑھے لکھے دانشوروں نے چونکہ قوم کو گمراہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اس لئے ہمیں بھی گاہے بگاہے ان کے فلسفہ جمہوریت کا پیٹ چاک کرتے رہنا چاہئے۔

  پہلی بات تو یہ ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی نظام دونوں ہی جمہوریت میں قبول ہیں ، دونوں میں عوام کی نمائندگی کی جاتی ہے ، دونوں میں چیک اینڈ بیلنس کا اپنا اپنا سسٹم ہے ، دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کس ملک کو اِن میں سے کون سا نظام ’’سوٹ ‘ ‘ کرتا ہے ۔جن ممالک میں لسانی ، علاقائی گروہ بڑی تعداد میں موجود ہوں جیسا کہ بھارت اور پاکستان میں تووہاں اگر آپ صدارتی نظام نافذ کر دیں گے تو صدر ہمیشہ اکثریتی صوبے کا منتخب ہوگا ۔ یہ پارلیمانی نظام میں ہی ممکن ہے جہاں مختلف علاقائی اور لسانی سیاسی جماعتیں بھی اپنے اثرو رسوخ کے تحت مخلوط حکومتوں میں شامل ہوکر چھوٹے صوبے کا وزیر اعظم منتخب کروالیتی ہیں ، بھارت اور پاکستان میں بارہا ایسا ہوا ہے ، صدارتی نظام میں جہاں ایک ہی شخص پورے ملک میں انتخاب لڑے گا ایسا ممکن ہی نہیں ۔اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوگا یہ جاننے کے لئے ڈاکٹر صاحب کی طرح پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے کی ضرورت نہیں ، ہم یہ تجربہ کرکے بھگت چکے ہیں ، عملا تمام مارشل لا صدارتی نظام ہی ہوتے ہیں ، ان میں ہم نے جو حاصل کیا اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ، ملک تڑوا بیٹھے ، اب اور کیا چاہتے ہیں !

 دوسری بات کہ کیا قابل شخص کو عوام کا حکمران ہونا چاہئے یا ایسے شخص کو جو عوام کی رائے میں ان کا حکمران ہونے کا اہل ہو؟ ویسے تو یہ بحث یونانیوں کے دور سے شروع ہوئی تھی اور آج سے تقریبا ہزار سال پہلے دنیا نے یہ طے کر کیا تھا کہ جسے عوام حق حکمرانی دیں گے وہی مسند پر بیٹھنے کا اہل سمجھا جائے ۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ سائنس کے استاد ہیں اس لئے ممکن ہے انہوں نے تاریخ کی یہ بحث نہ پڑھی ہو ، لیکن کوئی بات نہیں ، اسے مزید آسان بناتے ہیں ۔ فرض کر لیں کہ ٹیکنوکریٹ ہی ہر شعبے میں تعینات ہونے چاہئیں ، اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ان ٹیکنوکریٹس کا انتخاب کیسے ہوگا ؟ کیا یہ بھی الیکشن جیت کر آئیں گے ؟ اگر ہاں ، تو بات تو پھر وہیں آ گئی جو ہمارے دانشوروں کو قبول نہیں ، انتخاب لڑنے کو تو یہ تیار ہی نہیں ، کون ان بھوکے ننگے عوام سے ووٹ لے ، بھلا مجھ ایسے پڑھے لکھے کا ووٹ کسی ان پڑھ مزدور کے برابر کیسے ہو سکتا ہے ؟ سو اگر یہ منظور نہیں تو پھر ایک ہی طریقہ بچتا ہے کہ کوئی امتحان رکھ لیا جائے ، جو شخص مخصوص قابلیت کے ساتھ امتحان پاس کرکے آئے اسے ایک کٹھن تربیت اور طویل تجربہ دینے کے بعد اس کے شعبے میں سربراہ مقرر کر دیا جائے ۔ تو دست بستہ گزارش ہے کہ سول سروس کے امتحان کی شکل میں یہ نظام پہلے ہی ملک میں رائج ہے ، تو کیا فرماتے ہیں علمائے کرام بیچ اس مسئلے کے ! دراصل مسئلہ یہ ہے کہ جس ٹیکنوکریٹ کی ڈاکٹر صاحب یا اُ ن کے بعض احباب بار بار دہائی دیتے ہیں اُس سے مراد وہ خود ہیں ، اس کے لئے انہیں کوئی امتحان پاس کرنے کی ضرورت نہیں ، بس ایک ’’خیر اندیش ڈکٹیٹر ‘ ‘ ہو جو ان کا ہاتھ پکڑ کر تعلیم کے شعبے کا سربراہ مقرر کر دے ، رہے جاہل عوام تو وہ جہنم میں جائیں ، انہیں کیا پتہ کہ ان کے مفاد میں کیا ہے !ویسے ٹیکنوکریٹ کی حکومت کا تجربہ بھی اس ملک میں ہو چکا ، شوکت عزیز سے بڑا ٹیکنوکریٹ کوئی نہیں تھا اور موصوف ڈکٹیٹر کے وزیر اعظم تھے، باقی تاریخ ہے ۔

تیسری اور آخری بات کہ بقول ڈاکٹر صاحب، جاپان ، کوریا اور سنگا پور نے بھی اسی طرح ٹیکنو کریٹس کے بل بوتے پر ترقی کی تو ہم کیوں نہیں کر سکتے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر صاحب کو یہ بات کس نے بتائی ہے کیونکہ ان مما لک میں ٹیکنو کریٹس کی حکومتیں نہیں ، رہی بات کہ انہوں نے کیسے ترقی کی اور ہمارا ان سے مقابلہ کیسے ہو،یہ بات پھر کبھی !

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 208 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

2 thoughts on “ٹیکنوکریٹ

  • 18/08/2016 at 12:20 pm
    Permalink

    ڈاکٹر صاحب کے علم اور صلاحیتوں میں تو کوئی کلام نہیں مگر یہ ٹیکنو کریسی؟ جمہوریت مصالحت کی راہ دکهاتی ہے. اس میں ہر گروپ،جماعت یا مفاد اپنے اهداف کی طرف بتدریج بڑہتے ہیں اور سب کو شرکت کا احساس ہوتا ہے. یہی اس کی خوبی ہے.

  • 19/08/2016 at 4:39 am
    Permalink

    Jamhoiriyat ka bazaar-e-husun

Comments are closed.