مقامی کہانی الیگزینڈر کی زبانی (3)


\"jamshedالیگزینڈر اپنے مقالے میں برصغیر کے دو  اہم فلسفیانہ دبستان متعارف کراتا ہے  لیکن  وہ ان   کے تعارف سے قبل  سنسکرت زُبان کا تعارف ضروری سمجھتا ہے  ۔ وہ کہتا ہے کہ یہ  زبان مقامی فلسفے  کی زُبان ہونے کے ساتھ ساتھ  (پشتو اور تامل  کے علاوہ ) برصغیر میں بولی جانے والی تقریباً  تمام زبانوں کی ماں ہے ۔اگرچہ  ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ سنسکرت ہندوں کی زُبان ہے  مگر  زبان مذاہب سے نہیں  تہذیب اور معاشرت  سے جنم لیتی ہے   ۔سنسکرت سے ہمارا تعلق انتہائی گہرا ہے کیونکہ یہ زُبان ہماری  ماں بولیوں (سندھی ، سرائیکی ، پنجابی ، ہندکو وغیرہ ) کی  ماں  بولی ہے۔

’’دنیا کی تمام زبانیں حادثاتی ہیں ارادی نہیں ہیں؛ لیکن سنسکرت کا بغور مطالعہ یہ ثابت کر تا ہے کہ یہ زبان بیک وقت حادثاتی بھی ہے اور ارادی بھی ۔ اپنے توازن اور اشتقاقیا تی ترکیب میں یہ بلا شبہ عربی سے بھی بڑی زبان ہے۔ اس زبان کے بغور مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اسکی صرفی اور نحوی بنیادیں منطقی و ریاضیاتی  اصولوں پر رکھی گئی ہیں اور یہ سب ایسے    ماہر ین نے کیا ہے جو علم صوتیات، صوتی حلاوت و ہم آہنگی ،  ترنم  اور اس سے پیدا ہو نے والے گہرے  نفسیاتی و شعوری  اثرات کا گہر ا علم رکھتے تھے ۔۔ ایسا علم جو شاید کسی اور تہذیب کو نصیب نہیں ہوا۔۔۔

اس زبان کے اشتقاقیاتی،  استخراجی و ماخذی اصول اس حد تک سائنسی ہیں کہ ایک لفظ کو جاننے سے ہم اس لفظ کے پورے کنبے سے واقف ہو سکتے ہیں۔ سنسکر ت پر عبور حاصل کرنے کی راہ میں اس زبان کا تلفظ حائل ہو تا ہے، جو خاص طور پہ کسی یورپین کے لئے بہت مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلسل مشق سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے اور پھر اس  کا حلاوتی آہنگ اور ترنم ہی سحر طاری کردینے کے لئے کافی ہے‘‘۔

عصرحاضر میں یونانی و ہندی فلسفے کو انڈو  یورپین ثقافتی ورثہ (Indo-European cultural heritage)  کہا جاتا ہے کیونکہ  سنسکرت  جہاں ہماری ماں بولیوں کی ماں بولی ہے وہاں   وہ ایک ایسی زُبان بھی ہے جو  ہند، ایران  اور یورپ کو ملاتی ہے ۔ اس زبان کے خاندان میں   فارسی کے علاوہ انگریزی اور یورپ میں بولی جانے والی   زُبانیں شامل ہیں ۔

مقامی فلسفیانہ دبستان متعارف کرانے سے قبل  الیگزینڈر ایک بار پھر اُن  مغربی محققین   کی بددیانتی سے خبردار کرتا ہے جو  ہندوستان کو سامراج کی اندھی آنکھ سے دیکھتے ہیں  :

’’حال ہی میں میرے ہم وطن مغربی  محققین  نے مقامی فلسفے  کے با رے میں مغرب کو  آگہی دینے  کی کوشش کی ہے اور وہ اس بات کا دعوی بھی کر تے ہیں کہ یہ معلومات انہوں نے ماہرین  سے حاصل کی ہیں  لیکن ایسا نہیں ہے۔ مغربی  محققین  کا یہ چلن  انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ وہ  معلومات لینے کے لئے نا خواندہ لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں  ۔یہ بالکل  ایسے  ہے جیسے  کوئی  ریل گاڑی  کے ڈرائیور سے نیوٹن کے قوانین حر کت پو چھے  اور پھر وہ جو کچھ بتائے اُس پر اعتماد کرکے بلا تصدیق  لوگوں کو قائل کرنا شروع کر           دے ‘‘۔

مغربی علما کو  متعصب  محققین سے خبر دار کرنے  کے بعد  وہ بتاتا ہے :

’’ فکری اعتبار   سے، مقامی  فلسفہ  دو  دبستانوں  میں منقسم ہے : ایک ویدانگ اور دوسر ے نیا درشن۔ ان میں سے ویدانگ کے ماننے والے  راسخ العقیدہ اور قدیم ترین فکری روایات  کے امین ہیں اسی لئے ہم سب سے پہلے ان کا تذکرہ کریں گے اور اس سلسلے میں ہم ان کے اصل شا ستروں کے تراجم پر انحصار کر یں گے جنہیں ویدانگ کہا جاتا ہے۔ یورپ میں اس کتاب کو غلطی سے ویدام کہا گیا ہے۔ ویدانگ چار ہزار سال  پہلے کے  فلسفی بیاس منی  کی مابعدالطبیعاتی فکر کا نچوڑہے اور اسے سب سے پہلے سریدر سوامی  نے ترتیب دیکر پیش کیا تھا۔اس وقت  دکن، مالابار اور ساحلی علاقوں کے لوگ ویدانگ فلسفے  پر یقین رکھتے ہیں‘‘ ۔

وایدانگ کا اسلوب  مکالماتی ہے ۔ الیگزینڈر اپنے مقالے میں  طویل مکالمات شامل کرتا ہے     لیکن ہم یہاں  چنیدہ مکالمات  پیش کریں گے     تا کہ  قارئین ہزاروں سال قبل  کے مقامی  فلسفیانہ مباحث کا ذائقہ چکھ سکیں ۔ درج ذیل مکالمہ نرود اور برہما  (بالترتیب )   دانش   اور بُرہانی عقل  (argumentative mind) کے مابین ہے  ۔

’’نرود:   تم خدا ہو۔ کہا جاتا کہ تم نے دنیا تخلیق کی ۔ میں یہ تخلیق دیکھ کر حیران ہوں اور خواہش رکھتا ہوں کہ مجھے  دنیا کی تخلیق کے بارے میں بتایا جائے ۔

برہما:   دھوکہ مت کھاؤ! یہ مت سمجھو کہ میں دنیا کا خالق ہوں اور کسی اعلی ترین محرک اول (Prime Mover) کے سہارے کے بغیر میں نے اس دنیا کو تخلیق کیا ہے۔ محرک اول  تمام اسباب کا سبب ہے۔ مجھے صر ف اسکی مشیت کا ظہور ہوں۔میں وہ انش  ہوں جو اسکے ابدی افعال کا ”کچھ“ حصہ سر انجام دینے آیا ہے۔

نرود:  ہم خد ا کے بارے میں کیا سوچ سکتے ہیں  یا ہمیں کیا سو چنا چاہیے؟

برہما:  غیر مادی وجود جو وجود رکھنے کے لئے وجود کا بھی محتاج نہیں ۔  سب جاننے والا اور ہر جگہ مو جود  رہنے والا ہے۔

نرود: خدا نے دنیا   کیسے تخلیق کی؟

برہما: محبت ازل سے خدا کا طریق ہے۔ محبت کی تین مختلف اقسام ہیں: تخلیقی، حفاظت کر نیوالی اور فنا کردینے والی۔ ۔۔خدا کی محبت طاقت پیدا کرتی ہے اور ایک خاص مقام پر مادہ  تخلیق کرتے ہو ئے کائنات کی تخلیق کا تانا بانا بُنتی ہے۔ تعمیر اور تخریب کے باہمی عمل سے خودکارحر کت وجود میں آتی ہے۔\"01pic\"

 خودکا ر حرکت تین قسم کی ہے: لچکدار حرکت، نا موافق  اور جمود (Inertia)۔ نا موافق حرکت  آکاش پیدا کرتی ہے  یہ  نہ نظر آنیوالی لطیف حرکت ہے۔ محسوس باللمس عناصر نے آگ  تخلیق کی  ہے اور پھر پانی مٹی کی تخلیق عمل میں آئی ہے۔ آکاش اوپر معلق ہے، ہوا ماحول  (Atmosphere) بنانے میں مصروف ہے۔ پانی درجہ حرارت  برقرار رکھتا ہے  اور اس طرح تاریکی(لاعلمی) کے پردے سے پھو ٹتی  حیات کا تنوع عقل کو ورطہ  حیر ت میں ڈال دیتا ہے۔  اسی عمل سے سات آسمان اور سات دنیائیں وجود میں آئی ہیں اور اسوقت تک قائم ہیں جب تک کہ تحلیل ہوکر دوبارہ اپنے ماخذ (خُدا ) میں ضم نہیں ہو جاتیں۔

زمین کے بعد سبزہ جوشِ  حیات  سے اگتا ہے ،  پھر انسان کو قوت فکر (intellect)  عطا ہوتی  ہے،  وہ جانداروں کو حواس خمسہ کا تحفہ ملتا ہے  لیکن انسان کو قوت مدرکہ اور شعور  کے سہارے تمام جانداروں پر سبقت دی جاتی ہے۔ تمام مخلوق     جو ڑوں میں پیدا کی گئی  ہے تاکہ  پھل پھو ل سکے۔

نرود:      وقت کیا ہے؟

برہما:    وقت ازل سے خدا کیساتھ تھا۔ لیکن انسان وقت کو حرکت  اور تبدیلی کی وجہ سے پہچان پاتا ہے۔ وقت غیر مادی ہے، لیکن مادہ اس کے اشاروں پر ناچتا ہے۔شعو ر کو وقت کی جہتوں کا احساس اعلی منازل پر ہو گا‘‘۔

یہ  مکالمات   مکالمات ِ افلاطون  سے ہزاروں سال قدیم     مگر عمیق ہیں ۔ لگتا ہے خُدا کے لئے  ’محرک اولیٰ ‘ کا تصور یونان سے قبل  یہاں موجود تھا۔ بیاس منی  دنیا کی مرحلہ وار تخلیق کا قائل ہے  جس سے وہ تخلیق کا   انقلابی  نہیں ارتقائی  فلسفہ پیش کرنے والا (شاید پہلا)  مفکر قرار پاسکتا ہے ۔  بیاس منی    جوش حیات  کا وہ تصور ہزاروں سال پہلے پیش کرتا ہے جسے بیسویں صدی کا  فرانسیسی فلسفی  برگسان  (1859-1941)  ’وفورِ حیات‘(élan vital)  کہتا ہے ۔

مغرب میں  ہستی اور وقت پر فلسفیانہ مباحث یونانی دور کے   بیسویں صدی میں شروع ہوئے ہیں ۔ مثال کے طور پر  بیسویں صدی کا جرمن مفکر ہیڈاگر  (1889-1976) اپنی کتاب ’ہستی اور وقت ‘ (Being & Time) میں کہتا ہے کہ ہر شے اپنے پس منظر سے پہچانی جاتی ہے ، ہستی کا پس منظر وقت ہے لیکن   وقت کا پس منظر کیا ہے ؟ اس کا جواب بیسویں صدی کے فلسفی  کے پاس نہیں  ہے لیکن  ہزاروں بر س قبل بیاس منی  کہہ رہا ہے کہ وقت کا پس منظر حرکت   اور تبدیلی ہے ۔ مزید یہ  کہ وہ عہد ِ عتیق  میں وقت کی نامعلوم جہتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کی خبر انسان کو آگے چل کر ہوگی  ۔ معاصر طبیعات آج زمان (time) کی نامعلوم جہتوں  سے پردہ اٹھا رہی ہے ۔

اگرہم   ہستی کا پس منظر وقت اور وقت کا پس منظر حرکت کو مان  کر حرکت پر  یونانی فلسفی زینو (490-430 ق م ) کے تضادات (paradoxes)  کا اطلاق کریں تو کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟

  زینو نے حرکت  اور کثرت کو ریاضیاتی بنیادوں پر واہمہ قرار دیا تھا ۔ زینو  کا حرکت اور کثرت پر وار اس قدر کاری تھا کہ بیسویں صدی تک برٹرینڈ رسل  اور  وائٹ ہیڈ  جیسے ریاضی دان بھی اس کا حل تلاش نہیں کرسکے ۔ رسل نے تو یہ کہہ کر  اس موضوع پر سوچنا ترک کردیا تھا کہ  زینو ناقابلِ پیمائش حد تک  لطیف اور گہرا  ہے ۔

اگر حرکت واہمہ ہے تو پھر  وقت بھی واہمہ ہے کیونکہ وقت کا پس منظر حرکت ہے اور حرکت نہ ہوتو وقت قائم  نہیں رہ سکتا  ۔ اگر ہستی کا پس منظر وقت ہے  اور وقت  حرکت /تبدیلی کے پس منظر کے  بغیر  قائم نہیں رہ سکتا تو حرکت کے واہمہ قرار پانے سے ہستی بھی خود بخود  واہمہ قرار پاتی ہے۔

بیاس منی  کے  مکالمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ  ہستی اور وقت پر  یہ فلسفیانہ مباحث  ہندوستان میں  یونان سے ہزاروں برس پہلے ہورہی تھیں  اور  یہ سب (زینو کے تضادات کے تناظر میں دیکھا جائے  تو ) اوہامی نہیں   عین سائنسی و ریاضیاتی ہے ۔اگر اوہامی ہوتا تو رسل ،  وائٹ ہیڈ اور آئن سٹائن  جیسے لوگ اس پر کبھی غور ہی نہ کرتے ۔  (اس موضوع میں دل چسپی رکھنے والے ہیڈاگر کی متذکرہ بالا کتاب کے علاوہ   Space from Zeno to Einstein  کا مطالعہ کریں )۔

ہندوستان میں ان مباحث کی شروعات کی ایک   دلیل یہ بھی ہے کہ یونانی فلسفی   پیارو  (360-270 ق م ) سکندرِ اعظم کےساتھ ہندوستان آیا ،   مقامی  فلسفیوں سے (جنہیں انسائیکلو پیڈیا  برٹانیکا  ہندوستانی فقیر کہتا ہے)  تشکک  کا تحفہ لے کر یونان پہنچا  اور مغرب میں فلسفہ تشکیک (scepticism)  کا باپ کہلایا ۔  یہ امر قابلِ  فکر ہے  کہ  جس  فلسفے کو  ہندوستانی ہونے کے ناطے بیرونی حملہ آوروں نے اوہام پرستی کہا  وہ مغرب میں پہنچا تو   تنقیدی فکر کا پہلا زینہ قرار پایا ۔ اہلِ علم جانتے ہیں فلسفہ تشکیک کے بغیر مغرب کو سائنسی و فکری عروج کبھی نصیب نہ ہوتا۔

ویدانگ کے بعد  الیگزینڈر  نیادرشن کا تعارف کراتا ہے ۔ نیا درشن  نامی فلسفیانہ دبستان  کی بنیاد گوتم  کے افکار پر ہے   جو بیاس منی سے بعض معاملات پر  فکری اختلاف رکھتا ہے ۔

(جاری ہے )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں