آم پھلوں کا بادشاہ کیسے بنا؟


آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے۔ حالانکہ پھلوں میں سیب بھِی شامل ہے جس کی مدد سے آپ ڈاکٹروں کو اور دیگر آفت جاں عناصر کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں، انگور بھی شامل ہیں جن کے خاندان کی مداحت میں شعرا نے دیوان کے دیوان لکھ ڈالے ہیں، تربوز بھی ہے جن سے آپ گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں پہلے نہر میں بے تحاشا واٹر بال کھیل سکتے ہیں، اور پھر اسے دو ٹکڑے کر کے وہیں نہر کنارے بیٹھ کر کھا بھِی سکتے ہیں، اور کھانے کے بعد اس کو ہیلمٹ کی جگہ پہن کر سکون سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھر بھی جا سکتے ہیں۔ آلو بخارا بھی ہے جس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ماورا النہر سے آیا ہے اور اِدھر برصغیر میں اُدھر ماورا النہر سے آنے والے کسی بھی بخاری کو بادشاہ یا پیر بنانے میں لوگ ایک منٹ نہیں لگاتے ہیں۔ ان سب صفتوں والے پھلوں کی موجودگی میں پھر آم پھلوں کا بادشاہ کیسے بنا؟

صاحبو بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ تمام پھلوں کا اکٹھ ہوا۔ انہوں نے سوچا کہ ہر جنس کا بادشاہ ہوتا ہے۔ پرندوں کا بادشاہ عقاب ہے، جانوروں کا بادشاہ شیر ہے، دانشوروں کا بادشاہ الو ہے، تو پھلوں کا بادشاہ بھی ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے اخروٹ نے بادشاہت کا دعوی کیا۔ کہنے لگا کہ نہ صرف میری شکل دماغ جیسی ہے، بلکہ میری دانش تو ایسی مشہور ہے کہ کسی بھی عالی دماغ شخص کو پختون علاقوں میں اخروٹ کہہ کر اس کی عزت بڑھائی جاتی ہے۔

اس پر تربوز آگے بڑھا۔ کہنے لگا کہ اخروٹ کی کیا حیثیت ہے۔ کسی کے سر پر گرے تو اس کے سر پر گومڑ بھِی ٹھیک طرح سے نہ پڑے گا۔ مجھے دیکھو، اگر میں درخت پر اخروٹ کی مانند لگا ہوتا تو جس کے سر پر گرتا، وہ پھر کبھی نہ اٹھ سکتا۔ پھر کمال یہ ہے کہ ریگستان میں جہاں پانی کا نشان نہ ہو، وہاں بھی مجھ میں میٹھے پانی کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ کھیلنے کھانے پہننے ہر تفریح کے کام آتا ہوں۔

اسی بارے میں: ۔  اگر سورن سنگھ کا نام پانامہ پیپرز میں ہوتا۔۔۔  

تس پر سیب حقارت سے بولا کہ میاں تربوز، تمہارے نصیب میں درخت کہاں۔ تم تو لوگوں کے پیروں میں پڑے ہوتے ہو۔ درخت پر تو ہم جیسے عالی شان رہتے ہیں۔ اور ہمارا علم و فضل ایسا بیان کیا جاتا ہے، کہ کسی انسان کے سر پر گر جائیں تو فزکس کے تین چار قوانین تو وہ وہیں بیٹھے بیٹھے گھڑ لیتا ہے۔ خود سوچو، کہ جس پھل کی ضرب کی ہی اتنی تاثیر ہو، وہ خود کتنا علم رکھتا ہو گا۔ اور خواص ہمارے ایسے ہیں کہ مشہور ہے کہ روز کا ایک سیب کھا لو تو ڈاکٹر نزدیک نہیں آئے گا۔

اس پر انگور مسکرایا۔ کہنے لگا کہ میاں سیب، اگر روز کی ایک گوبھی کھا لو تو ڈاکٹر کے علاوہ کوئی دوسرا شخص بھی نزدیک نہیں آئے گا۔ یہ بھلا کیا خاصیت ہوئی؟ اور جہاں تک نیوٹن کی طرف تم اشارہ کر رہے ہو، تو ہر عقل رکھنے والے شخص کی مانند اسے تو سیب ذات اتنی بری لگی تھی کہ اسی سیب کو واپس اٹھا کر اسی شدت سے درخت پر دے مارا تھا جو کہ اس کے سر پر گرا تھا۔ اس سے اسے عمل ردعمل والے قوانین بنانے کا خیال آیا۔ بادشاہ تو ہم ہیں۔  کوئی خام صورت میں بھی انگور کا رس پی لے تو جھوم اٹھے۔ اور کیسا ہی عالی دماغ کیوں نہ ہو، اگر وہ تخمیر شدہ حالت میں انگور کا رس پی لے، تو بس اس کا دماغ اس کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے، اور وہاں انگور کا رس ہی راج کرتا ہے۔ خود ہی انصاف سے کہو کہ یہ تاب یہ مجال یہ طاقت ہے کسے؟

اس پر آم خندہ زن ہوا۔ کہنے لگا کہ صاحبو، کبھی سنا ہے کہ کسی نے کچا اخروٹ، سیب، تربوز یا انگور کھایا ہو؟ ہمیں دیکھو۔ ابھی بچپنے کے دن ہی ہوتے ہیں کہ لوگ لذیذ اچار اور چٹنی بناتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں۔ ہم کچھ بڑے ہوتے ہیں اور دھانی چولا پہنتے ہیں تو دور دور سے بچے آ کر درخت پر چڑھتے ہیں کہ ان کو آم نصیب ہو، اور اپنی جان کے علاوہ اپنی ٹانگ کی بھی پروا نہیں کرتے کہ ٹوٹتی ہے تو بلا سے ٹوٹے مگر آم تو کھانے کو ملے۔ پھر چاہے پلپلا کر کے کھاؤ، چاہے قاشیں کاٹ کر کھا لو، چاہے مربے بنا لو، شیرینی ہر صورت میں ایسی کہ اس کے بعد کوئی بھی دوجا پھل کھاؤ تو پھیکا ہی لگے گا۔ ہمارے علاوہ اور کون بادشاہت کا حقدار ہو سکتا ہے؟

اسی بارے میں: ۔  جذبات سے کام لیا جائے یا حکمت عملی سے؟

اس پر تمام حاضرین نے قائل ہو کر اثبات میں سر ہلایا۔ ابھی وہ سر ہلا ہی رہے تھے کہ اخروٹ بولا کہ میاں آم، جانوروں کا بادشاہ شیر اس لیے ہوتا ہے کہ وہ دلاوری کی مثال ٹھہرا ہے، سر پھرا ہو تو ہاتھی کو بھی خاطر میں نہ لائے اور گینڈے سے بھی ٹکرا جائے۔ پرندوں کا بادشاہ عقاب ہوتا ہے کہ ہر پرندے سے تیز رفتار اور خونخوار ہے۔ پرندے تو پرندے، چوپایوں کو بھی اٹھا کر چیر پھاڑ ڈالے اور کچا ہی چبا جائے۔ دانشوروں کا بادشاہ الو ہے کہ کسی سے بھِی لڑ پڑے تو وہ الو سے نہیں جیت پائے گا۔ تم میں ایسی کیا بات ہے کہ تمہیں لڑاکا مانیں؟ ہمیں دیکھو۔ ہمارا خول توڑنے کی کوشش میں تو لوگ اپنے دانت تڑوا بیٹھتے ہیں۔ بادشاہ تو ہم ہیں۔

اس پر تمام حاضرین نے اخروٹ کی بات سے اتفاق کیا اور طے یہ ہوا کہ پہلے آم اپنی شجاعت ثابت کرے اور کسی ظالم و جابر بادشاہ سے لڑ کر اس کو نیست و نابود کرے اور اگر آم اپنے حریف بادشاہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے تو اسے بادشاہ مان لیا جائے گا۔

کہتے ہیں کہ پھلوں کی یہ میٹنگ سترہ اگست 1988 کو ہوئی تھی اور آج سبھی آم کو پھلوں کا بادشاہ مانتے ہیں۔ Aug 17, 2016 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 732 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “آم پھلوں کا بادشاہ کیسے بنا؟

  • 17-08-2016 at 3:32 pm
    Permalink

    میں جنرل صاحب شہید کا فین ہوں مگر آپ کی تحریر کو فل انجوائے کیا ہے۔۔۔اعلیٰ تحریر

Comments are closed.