پاکستان کا اولمپکس


اورجس وقت پوری دنیا کی نظریں اولمپکس پر لگی ہیں، اُسی وقت پاکستان میں بھی اولمپکس کی دوڑ جاری ہے۔

\"????????????????\"

ایک طرف سندھ کے نوجوان وزیر کھیل، سندھ کے بالکل نئے وزیراعلیٰ کا گول روکنے میں کاماب نہیں ہوتے بلکہ ساتھ ہی دوسرے صوبوں کے وزرائ کو فٹنس چیلنج بھی دے دیتے ہیں۔

اور

 پھر اس کے ساتھ ہی بیانات کی دوڑ کے مقابلے، تجزیوں کے گہرے سوئمنگ پولوں میں ڈائیو، خیالات کی لانگ جمپ ، اپنی ذمہ داریوں کے وزن کا دوسرے کی ذمہ داریوں کے وزن سے موازنہ، اور ایک نا ختم  ہونے والے اولمپکس کا آغاز ہو چکا ہے۔

اور اس سے بھی مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں میڈل بھی خود ہی لینا ہے، اوراپنے حریف کے بھی سارے میڈل خود ہی رکھ لینے ہیں۔

اللہ ہی جانےہم کب اپنی ذاتی نمودونمائش سے نکل کر اجتماعی معاملات کی بات کرنا شروع کریں گے۔

کیا کسی ایک نے بھی اس بات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ 4 سال بعد ہونے والے دنیا کے اہم ترین مقابلے میں اس بار کتنے پاکستانی حصہ لے رہےہیں؟؟اور ان میں سے کس کو حکومت نے تیار کر کے بھیجا ہے؟ اورپاکستان کے تمام صوبوں میں ٹیلنٹ کی کیا صورتحال ہے؟ کیا واقعی ہمارے پاس لوگ ہی نہیں جو انٹرنیشنل لیول پر مقابلہ کر سکیں؟ یا اس میں حکومت کی کوتاہیاں زیادہ ہیں؟

سال میں ایک اسپورٹس فیسٹول کروا کراگر آپ سمجھتے ہیں، کہ آپ نے ذمہ داری کو پورا کر دیا ہے، تو آپ کو سوچنا ہو گا۔اوراپنی ترجیحات کی سمت کو درست کرنا ہوگا۔

اگرایتھوپیا جیسا ملک پوائنٹس ٹیبل پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟

اگراس ملک کے نوجوانوں کی درست سمت میں رہنمائی کر دی جائے،ان کے لئے مستقل اور پائیدار بنیادوں پرپالیسزبنا دی جائیں، اور ان کے ٹیلنٹ کو صیحح جگہ پر استعمال کر لیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ اس ملک کے نوجوان بھی دوسرے ممالک کہ طرح اصل اولمپکس میں اس پاک وطن کا پرچم لہرا سکتے ہیں۔

ضرورت صرف درست نیت اور وقت پر صیحح فیصلوں کے کرنے کی ہے،نہ کہ ایک دوسرے کو فضول قسم کے چیلنج دے کروقت ضائع کرنےکی۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

راشد محمود خان کی دیگر تحریریں
راشد محمود خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں