مکالمہ: بہتر معاشرت کی ضمانت


\"sharifعلمی مکالمے کا نقطہ آغاز کیا ہونا چاہئے؟ کیا یہ درست ہوگا کہ مکالمہ جاتی نظام پر ریاست کا تسلط برقرار رہے؟ کیا یہ قابل گرفت جرم ہے کہ کوئی فرد اپنی ذاتی زندگی میں مکالمے کی آزادی کو ریاستی بالادستی سے الگ کرے؟ ایسے اور کتنے سوال ہیں جن کی گنجائش موجودہ تناظر میں ممکن نہیں۔ دنیا میں ریاست اور شہری کے درمیان ایک باہمی معاہدہ موجودہ رہتا ہے جسے حرف عام میں آئین کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے دونوں فریقین کے فرائض اور حقوق کا تعین ہوتا ہے۔ مگر زندہ تاریخ میں ایسے معاہدے ہمیشہ یکطرفہ شکل اختیار کرلیتے ہیں، اور بالآخر ریاست اور شہری کے درمیان ایک خون خرابے والی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علمی مکالمہ کسی معاشرے میں ثقافتی اور تہذیبی تنوع لانے کی بنیادی وجہ ہے۔ کسی معاشرے کی تہذیبی ارتقاء ماپنے کیلئے اس معاشرے میں موجود علمی مکالمے کی ہئیت کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔ بنیادی طور پر علمی مکالمے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک، ریاست اور شہری کے درمیان۔ دوسری، شہری اور شہری کے درمیان۔ ریاست اور شہری کے درمیان علمی مکالمے کا نقطہ آغاز نصاب ہے، جسکی بنیاد پر ریاست اپنی حاکمیت کیلئے جواز پیدا کرتی ہے۔ اس جواز کی بنیاد پر ریاستی پالیسیاں استحکام پاتی ہیں۔ ان پالیسیوں کے نفاذ کیلئے شہری کی رضامندی ضروری ہے۔ اور سب سے بڑھ کر کسی بیرونی خطرے سے نمٹنے کیلئے ریاست و شہری کا فرق مٹانے کی شعوری کوشش کیجاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف شہری کا شہری سے مکالمہ یکسر مختلف ہوتا ہے۔ جہاں تک اصول شہریت کا تعلق ہے تو ایک ریاست میں موجود دو شہری جدید دنیا کے اصول میں برابر ہوتے ہیں۔ اور شہریوں کے درمیان مکالمے کی گنجائش ریاست کی آئین فراہم کرتی ہے۔ ریاستی قوانین میں شہریوں کو یہ ضمانت دی جاتی ہے کہ بقائے باہمی کے معاملات پر مثبت اور تعمیری مکالمہ ہو۔ اور اس مکالمے کا آخری نتیجہ آئینی تبدیلی کی صورت نکلتا ہے، جو نئے تہذیبی اور عمرانی اصول لاگو کرے۔ ایسے ہی ریاست چلتی ہے، اور شہریت بھی برقرار رہتی ہے۔ جہاں تک ریاست اور شہری کے مکالمے کا سوال ہے، اس کی بنیاد پر کوئی ریاست صرف مدافعتی بیانیہ تشکیل دے سکتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف ریاست کی اندرونی توازن شہریوں کے درمیان مکالمے کی نوعیت پر برقرار رہتی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو مکالمے کیلئے امکان آئین کے پنے پر موجود معاہدہ ہی فراہم کرتی ہے۔ کیونکہ ایک طرف ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی بنیاد آئین کی دستاویز ہوتی ہے تو دوسری طرف شہری اور شہری کے درمیان بھی ریاست اسی آئینی چھتری تلے ضامن رہتی ہے۔ اب جبکہ آئین کی حیثیت بنیاد ٹھہری، تو اسی آئین پر بحث کرتے ہیں۔

جدید دنیا میں اگر کسی آئینی متن پر عملدرآمد کیلئے سب سے مضبوط اکائی موجود ہے تو وہ ایک مقتدر ریاست ہے۔ اگرچہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کیلئے پیمانے ضرور موجود ہیں، لیکن کوئی ایسا مضبوط ڈھانچہ نہیں جو ان اصول و ضوابط کی موثر عملداری کرواسکے۔ جبکہ ریاست اور شہری کا تعلق ایسا نہیں ہوتا۔ ریاست اور شہری ایک دوسرے کو فرائض اور حقوق میں ڈھونڈتے ہیں۔ دنیا میں بیشتر ریاستوں کے قوانین میں آخری اور فیصلہ کن اختیار شہری کے پاس رہتا ہے۔ اور اسی اختیار کی بنیاد وہ حق حاکمیت ہے جسکی بنیاد پر کوئی شہری ریاست کا تحفظ یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ریاست کا وجود ہی اس کیلئے خود پر حکمرانی کرنے کی ضمانت ہے۔ اور اگر وہ کسی ریاستی سرپرستی سے محروم ہوا تو کسی دوسرے نظام کے تسلط میں جائیگا، یا اس پر کوئی پرایا نظام مسلط ہوگا۔ جو کہ اس کا اپنا نہیں ہوگا۔

اسی لئے کسی ریاست میں کوئی شہری اپنے تحفظ کی اتنی گارنٹی مانگتا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ریاست اس کی اپنی ہے۔ اور اسی احساس تحفظ کی بناہ پر وہ ریاست سے اپنا لگاو برقرار رکھ سکے۔ لیکن ریاست کا تاریخی پس منظر ہمیں بتاتا ہے کہ ریاست بسا اوقات شہری کو اس لئے مایوس کردیتا ہےکہ وہ مکالمے کی آئینی گنجائش ختم کردیتا ہے۔ جس کی وجہ سے آئین شہری کیلئے وہ شکنجہ بن جاتا ہے جس سے نکلنا ناممکن رہتا ہے۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ریاست آئین کو مفید بنانے کی بجائے جبر کی علامت بنا دیتی ہے۔

سب سے پہلے آئین اپنے شہری کو مکالمے کا حق دیتی ہے۔ اس کے بعد ریاست اس مکالمے کی سرپرستی کرتی ہے۔ اور تب جا کے شہری لوازمات اور افادیت کی اساس پر آئین کی تکمیل میں پیش رفت ہوتی ہے۔ دنیا میں کسی بھی ریاست کا آئین ابتدائی شکل میں مکمل نہیں ہوتا، بلکہ یہ شہریوں کے درمیان ایک مثبت اور مکالمہ جاتی طریقے سے مکمل کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی ریاست کے آئین میں یہ خیال نہیں رکھا جاتا ہے تو اس آئین کو برقرار رکھنے کیلئے معلوم نہیں کتنے ماورائےآئین اقدامات کئے جاتے ہیں۔

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
شریف شیرانی کی دیگر تحریریں
شریف شیرانی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں