بابا جان کی نااہلی …جیت کس کی؟


وہ ایک نوجوان تھا وہ کچھ اچھا کرنا چاہتا تھا جو سب سے مختلف اور ہو سب کےلیٔے ہو۔ اس نے اپنے معاشرے میں سب کےلیٔے انصاف \"aliمانگا اور اور سب کے لیٔے  برابر کا حق مانگا ۔ اس نے معاشرے کے رواج اور مروجہ  دستور   سے اختلاف کیا اور اس نے پوچھا  کہ چند لوگ سب کے مقدر کا فیصلہ کیوں کرتے ہیں ، ان فیصلوں میں سب لوگ شامل کیوں نہیں ہوتے۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا  اس کے ساتھ صرف چند ہی لوگ کھڑے   تھے    کیونکہ باقی سب لوگوں نے کہا کہ یہی ہمارا مقدر کہ ہمارے فیصلے لوگ کریں اور ہم صرف ان پر عمل کریں۔ اس  اکیلے نوجوان نے  ہمت نہ ہاری ایسے ہر فیصلے کی مخا لفت کی  اور مزاحمت کی جو صرف چند لوگوں نے اپنے حق میں کیا گیاتھا۔   ایک ایسے ہی فیصلے کی مخالفت میں اس کو جیل میں ڈال کر تشدد کیا گیا تاکہ اس کو ڈرا کر اسے چپ کروایا جا سکے۔  وہ چپ تو نہ رہا  البتہ اس واقعہ  نے اس اکیلے نوجوان کو ہزاروں کا مجموعہ دے  دیا کیونکہ  اس کی بے گناہی اور سچائی اس کی طاقت بن گئی  تھی۔   یہ ہے  ہنزہ میں جنم لینے والی باباجان کی کہانی۔

ہنزہ ایک عام سا  دور دراز کا علاقہ  نہیں جہاں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہوں، تعلیم کا فقدان ہو اور لوگ دنیا و مافیا سے بے خبر ہوں۔ ہنزہ  میں شرح خواندگی پاکستان میں سب سے اونچی ہے۔ آج ہنزہ کے لوگ ہنزہ میں کم ہنزہ سے باہر زیادہ آباد ہیں جس میں ملک کے ہر شہر کے علاوہ دنیا بھر میں  ان  کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ لوگ پاکستان کے دوسرے لوگوں کی طرح غیر قانونی طور پر  بیرون ملک نہیں جاتے بلکہ اپنی پیشہورانہ مہارت اور صلاحیتوں کی وجہ سے بلاۓ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اپنی مادری زبان بروشاسکی کو نہیں بھولتے اور اپنی موسیقی پر ہی تھرکتے ہیں۔ ہنزہ کے نوجوان کوہ پیمائی سے لیکر، موسیقی، آرٹ ، فنون لظیفہ ، مکس مارشل آرٹ  اور فن سپاہ گری میں اپنا لوہا منواچکے ہیں۔  ہنزہ اب آہستہ آہستہ ایک سلیکان وادی کی شکل اختیار کر رہی ہے جہاں سے دنیا بھر کےلیٔے سوفٹ وئیر کا کام ہوتا ہے۔ ہنزہ کی خواتین اب بطور ترکھان اور راج کے کاریگر کے طور پر  کام کرتی ہیں جو کہیں اور نہیں ہوتا ۔

لیکن دوسری طرف ہنزہ سیاسی  طور پر انتہائی نظر انداز علاقہ رہا ہے جہاں سرکاری سکول نہ ہونے کے برابر اور سرکاری ہسپتال صرف \"Babaچند گاؤں تک محدود ہیں۔  پورے ہنزہ میں جو اب ایک ضلع بن چکا ہے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی صرف  ایک نشست ہے ۔ اس کمی کو پورا کرنے کےلیٔے یہاں کے میر کو گورنر اس کی بیگم کو خواتین کی مخصوص نشست پر ممبر قانون ساز اسمبلی   چنا گیا ہے اور اب ان کے صاحبزادے کو عام نشست پر منتخب کروانے کی کوششیں جاری ہیں جس میں  دیگر اقدامات کے علاوہ بابا جان  نام کے نوجوان کی انتخا بات  مین نااہلی شامل ہے۔ ہنزہ کے پڑھے لکھے نوجوان اس طرح کے حکومتی اور غیر حکومتی اقدامات سے انتہائی مایوس ہیں اور اس کا مظہر بابا جان کو ملنے والی وہ حمایت ہے جس سے حکومت اور اس کے  حاشیہ بردار اور پریشان ہیں۔

بابا جان کی سیاسی وابستگی پاکستان کے بائیں بازو کی سیاسی جماعت پاکستان ورکرز پارٹی   سے ہے جو ملک بھر میں ایک سوشلسٹ سماج کی حامی ہے اور ملک بھر میں ایک ایسا نظام چاہتی ہے جس میں محنت کش طبقات کو ان کا حق ملےجہاں  خواتین، اقلیتوں، مزدوروں اور، چھوٹی قومیتوں کا استحصال نہ ہو۔ اس پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر گزشتہ انتخابات میں بابا جان دوسرے نمبر پر رہے جبکہ میر غضنفر علی خان  کامیاب قرار پاۓ تھے جس کے بعد میں گورنر منتخب ہونے پر اب ضمنی انتخابات میں  دوسرے نمر پر آنے والے امید وار کی نااہلی خود ہی مقتدر حلقوں کی نیت کا مظہر ہے۔   گلگت بلتستان کی عدلیہ کے اس فیصلے سے کچھ ہو نہ ہو عدلیہ پر عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔

بابا جان اور اس کے دیگر سولہ ساتھیوں نے ایک قدرتی آفت کے نتیجے میں میں متاثر ہونے والے لوگوں کے حق میں احتجاج کیا تھا اور اس سلسلے کے ایک احتجاجی جلوس پر  گولی چلی جس کے نتیجے میں ایک باپ اور اسکا بیٹا ہلاک ہوۓ تھے جس کا الزام بابا جان اور اس کے سولہ ساتھیوں پر لگا جبکہ گولی چلانے والے پولیس اہلکاروں کو ترقیاں دیکر انعامات سے نوازا گیا۔  ان سولہ ملزمان میں قراقرم نیشنل موؤمنٹ کے کامریڈ افتخار  کیساتھ ایسے نوجوان بھی ہیں جو اپنے خاندانوں کے واحد سہارا ہیں۔  ان نوجوانوں کی بے گناہی کا اعتراف پورے ہنزہ کے لوگ کرتے ہیں جن میں اس واقعے میں جان بحق ہونے والے باپ بیٹے کے لواحقین بھی شامل ہیں مگر کوئی ان کو گناہگار سمجھتا ہے ہے تو وہ گلگت بلتستان کی عدلیہ  کے ججوں کا ایک ٹولہ ہے وگرنہ کئی جج بھی اس فیصلے سے اختلاف رکھتے ہیں جس کا انھوں نے اپنے اختلافی راۓ میں اظہار بھی کیا جو اس فیصلے کا حصہ ہے۔

بابا جان کا یہ کیس عدالتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے  ایک مقامی وکیل نذیر ایڈوکیٹ اپنی ذاتی دلچسپی سے بغیر کسی\"Baba مالی منافعت کے لڑ رہے ہیں۔ ان کے پاس گلگت بلتستان   کی سپریم اپیلیٹ کورٹ کے لائسنس نہ ہونے پر وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے علاقائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ کے نام پر مقدمے کی پیروی اپنے ذاتی خرچے پرکرتے رہے ہیں ۔  پاکستان ورکرز پارٹی جس کے صدر مشہور قانون دان عابد حسین منٹو ہیں  جس  نے حیدر آباد سازش کیس سمیت بہت سارے غداری کے مقدمے لڑ کر پاکستان کی عدالتی تاریخ  اپنا نام امر کردیا  مگر باباجان کے کیس میں کبھی پیش نہ ہوۓ۔  باباجان کے رہائی کے لیٔےاسلام آباد میں  بلائی گئی ایک کانفرنس میں میرےذاتی طور پر پوچھے گیٔے ایک سوال پر  نشست صدارت پر بیٹھے انھوں نے کہا کہ اس  تک بابا جان کے کیس کی فائیل  بھی نہیں پہنچی ہے۔   لیکن دوسری طرف پاکستان ورکرز پارٹی نے ملک اور بیرون ملک  بابا جان کے  نام کے بینر لگا لگا کر اپنے منجن بیچنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔

بابا جان کو انتخابات میں حصہ لینے دیا جاتا تو کیا ہوتا؟ زیادہ سے زیادہ وہ ایک ایسی قانون ساز اسمبلی کا ممبر ہوتا جس کے اپنے اختیارات کسی میونسپل کارپوریشن سے زیادہ نہیں۔ وہ بھی اسمبلی کے دیگر ممبران کی طرح  ہاتھ میں کچھ  نہ ہوتے ہوۓ عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا اور اپنی مقبولیت صرف چند مہینوں میں کھو دیتا۔ زیادہ سے زیادہ دو چار جذباتی تقاریر کرتا اوردل کی  بھڑاس نکال کر خاموش ہوجاتا۔  مگر ان کو نااہل قرار دیکر اب باباجان کو ایک تحریک بنا دیا گیا ہے جو اب ہر نو جوان کی تحریک ہے۔ اب لوگ عدالتوں پر اعتماد نہیں کرتے نہ حکومت پر اور نہ اس کی ایجنسیوں پر کیونکہ انھوں نے بے قصور باباجان  اور اس کے سولہ ساتھیوں کو نا انصافی بھگتتے دیکھا  ہے۔ اب ایک اور کاسہ لیس  گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں آۓگا جو بات تو ترقیاتی فنڈ کی کرے گا ااور فکر اپنی جیب کی ۔ اس سے گلگت بلتستان کے عوام بالعموم اور ہنزہ   کے نوجوان بالخصوص  اس ڈھکوسلہ سسٹم سے مذید مایوس ہونگے اور اگلی بار بات انتخاب کی نہیں انقلاب کی ہوگی۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 155 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

2 thoughts on “بابا جان کی نااہلی …جیت کس کی؟

  • 17/08/2016 at 7:12 pm
    Permalink

    بابا جان کی پارٹی کا نام عوامی ورکرز پارٹی ہے۔
    منٹو صاحب کو فائل اس کے بعد مل گئی تھی لیکن پاکستان کے وکیل وہاں پیش نہیں ہو کتے۔
    نزیر ایڈووکیٹ کی ہم جتنی بھی تعریف کریں کم ہے، اپکا شکریہ کہ اپ نے ان کا اچھے الفاظ میں زکر کیا۔
    شکریہ آپکے خیالات کا بھی

  • 18/08/2016 at 6:26 pm
    Permalink

    عوامی ورکرز پارٹی کا نام سہواً پاکستان ورکرز پارٹی لکھا گیا ہے جس پر معزرت۔
    میرا مقصد اس کالم میں کسی پر تنقید یا کسی کی توصیف نہیں بلکہ میں نے کوشش کی ہے کہ حقیقت حال اپنی معلومات کی روشنی میں بتا دوں ۔
    دیگر حصول انصاف اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جو باباجان کے کیس میں سامنے آۓ ہیں پاکستان کے وکلاء کا گلگت بلتستان کی عدالتوں میں پش نہ ہونا بھی ایک انکشاف ہے جس پر ایک مکالمے کی ضرورت ہے جو میں عوامی ورکرز پارٹی کی سیاسی زمہ داری سمجھتا ہوں کہ وہ اس کا آغاز کرے۔ جب جج پاکستان سے جاسکتے ہوں، بیوروکریسی جاسکتی ہو تو کیا وکلاء کا نہ جانا انصاف کی فراہمی یا حصول انصاف کے مروجہ اور متفقہ معیارات کے منافی نہیں؟
    اگر عوامی ورکرز پارٹیاس کیس کو لیکر اپنی بنیادی زمہ داریوں سے عہدہ برا نہ ہو سکی تو آج جو نوجوان ایک بہتر مستقبل کے خوب لیکر اس پارٹی کے جھنڈے کو تھامے ہوۓ ہیں شایٔد مایوس ہوں گے۔

Comments are closed.